مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
321. مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ لَهُ أَظَلَّهُ اللَّهُ تَحْتَ ظِلِّ عَرْشِهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ أَلَا ظِلُّهُ.
جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی یا اسے معاف کر دیا اللہ اسے اپنے عرش تلے سایہ دے گا جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا
حدیث نمبر: 461
461 - وَبِهِ نا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، نا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، نا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ , عَنْ أَبِي الْيَسَرِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ لَهُ أَظَلَّهُ اللَّهُ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ»
سیدنا ابوالیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی تنگدست کو مہلت دی یا اسے معاف کر دیا اللہ اسے اپنا سایہ نصیب فرمائے گا جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 461]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أحمد: 3/427، شعب الايمان: 10735، دارمي: 2588» عبدالملک بن عمیر مدلس کا عنعنہ ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 462
462 - وأنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ، نا الْقَاضِي أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ نا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، نا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، أنا حَنْظَلَةُ بْنُ عَمْرٍو الزُّرَقِيُّ، عَنْ أَبِي حَزْرَةَ، أَخْبَرَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، وَكَانَ لِلْوَلِيدِ صُحْبَةٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" خَرَجْتُ مَعَ أَبِي وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ وَإِذْ أَلْقَى الرَّجُلُ يَقُولُ: أَيْ عَمِّ عَرَفْتُ أَنَّهُ مِنْ صَحَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَحِبَنَا شَيْخٌ أَوْ كَمَا قَالَ، وَمَعَهُ عَبْدٌ لَهُ يَحْمِلُ صُحُفًا فَقَالَ لَهُ أَبِي: كَيْفٍ أَصْبَحْتَ يَا عَمِّ؟، قَالَ: بِخَيْرٍ. قَالَ أَبِي: أَرَى فِي وَجْهِكَ سَفْعَةً مِنْ غَضَبٍ، قَالَ: أَجَلْ، كَانَ لِي عَلَى فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ دَيْنٌ فَجِئْتُ أَبْتَغِيهِ فَسَلَّمْتُ عَلَى الْبَابِ فَخَرَجَ وَلِيدٌ مِنَ الْبَيْتِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: هُوَ فِي الْبَيْتِ فَنَادَيْتُ اخْرُجْ إِلَيَّ يَا فُلَانُ، فَخَرَجَ إِلَيَّ، فَقُلْتُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ سَلَّمْتُ عَلَيْكَ فَلَمْ تَخْرُجَ وَلَمْ تُجِبْنِي؟، قَالَ: وَالَّذِي لَا إِلَهُ إِلَّا هُوَ مَا عِنْدِي، وَلَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أَكْذِبَكَ وَأَعِدَكَ فَأُخْلِفَكَ قُلْتُ: آللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهُ إِلَّا هُوَ؟، قَالَ: نَعَمْ، آللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهُ إِلَّا هُوَ، قَالَ: فَأَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسَمِعْتُهُ بِأُذُنِي وَوَعَاهُ الْقَلْبُ وَهُوَ يَقُولُ: «مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ عَنْهُ أَظَلَّهُ اللَّهُ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ» قَالَ: فَمَحَوْتُ عَنْهُ الْكِتَابَ. قَالَ عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ: فَإِذَا عَلَيْهِ بُرْدَةٌ وَنَمِرَةٌ وَعَلَى غُلَامِهِ مِثْلُ ذَلِكَ، قَالَ: فَقُلْتُ أَيْ عَمِّ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُعْطِيَ غُلَامَكَ هَذِهِ النَّمِرَةَ وَتَأْخُذَ الْبُرْدَةَ فَيَكُونُ عَلَيْكَ بُرْدَانِ وَعَلَيْهِ نَمِرَةٌ؟، قَالَ: فَأَقْبَلَ عَلَى أَبِي فَقَالَ:" ابْنُكَ؟، قَالَ: نَعَمْ، فَمَسَحَ عَلَى رَأْسِي وَقَالَ: بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ، أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ وَاكْسُوهُمْ مِمَّا تَكْتَسُونَ» يَا ابْنَ أَخِي ذَهَابُ مَتَاعِ الدُّنْيَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ مِنِّي مَتَاعَ الْآخِرَةِ" قُلْتُ لِأَبِي: أَبَتَاهُ مَنْ هَذَا؟، قَالَ:" هَذَا أَبُو الْيَسَرِ بْنُ عَمْرٍو
عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں اور ولید بن عبادہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل تھی، (عبادہ نے) کہا: میں اپنے والد کے ہمراہ نکلا اس وقت میں نوجوان لڑکا تھا، (ہمیں) ایک آدمی ملا، وہ (ولید) کہنے لگے: چچا جان! میں نے آپ کو پہچان لیا ہے، آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابه میں سے ہیں۔ یوں ہمیں ایک بزرگ کی صحبت مل گئی، اس بزرگ کے ساتھ اس کا غلام بھی تھا جو ایک رجسٹر اٹھائے ہوئے تھا، میرے والد نے اس سے کہا: چچا جان! آپ کی صبح کیسی ہوئی؟ اس نے کہا: خیریت کے ساتھ، میرے والد نے کہا: میں آپ کے چہرے پر غصے کے آثار دیکھ رہا ہوں، اس نے کہا: ہاں، فلاں بن فلاں کے ذمہ کچھ قرض تھا، میں اس کی تلاش میں گیا، میں نے اس کے دروازے پر سلام بلایا تو گھر سے ایک چھوٹا بچہ نکلا، میں نے اس سے پوچھا: تو اس نے کہا کہ وہ گھر ہی میں ہے، چنانچہ میں نے آواز دی کہ اے فلاں! باہر میری طرف نکل، تو وہ میری طرف نکل آیا۔ میں نے کہا: تجھے اس بات پر کس نے ابھارا کہ میں نے تجھے سلام بلایا لیکن نہ تو باہر نکلا اور نہ مجھے جواب دیا؟ اس نے کہا: اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں، میرے پاس (رقم) نہ تھی اور بے شک میں اس بات سے ڈرا کہ آپ سے جھوٹ بولوں اور وعدہ کروں تو خلاف ورزی کروں۔ میں نے کہا کہ کیا (واقعی) اللہ کی قسم، جس کے سوا کوئی معبود نہیں؟ اس نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ (ابوالیسر) کہنے لگے: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گواہی دیتا ہوں، میرے کانوں نے آپ کو یہ فرماتے سنا اور دل نے اسے یاد رکھا کہ: ”جس نے کسی تنگدست کو مہلت دی یا اسے معاف کر دیا تو اللہ اسے اس دن سایہ دے گا جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔“ کہتے ہیں: اس لیے میں نے اس سے وہ دستاویز مٹا دی۔ عبادہ بن ولید کہتے ہیں ان (ابوالیسر) پر ایک دھاری دار چادر تھی اور ایک کڑھائی والی کملی تھی اور ان کے غلام پر بھی اسی طرح کا لباس تھا۔ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: چچا جان! آپ کو اس بات سے کس نے روکا کہ آپ یہ کڑھائی والی کملی اپنے غلام کو دے دیتے اور (اس سے) دھاری دار چادر لے لیتے تاکہ آپ پر دو دھاری دار چادر ہو جاتیں اور اس پر دو کڑھائی والی کملیاں ہو جاتیں؟ کہتے ہیں کہ وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور (میرے والد سے) کہا: یہ تیرا بیٹا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو انہوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا: اللہ تجھے برکت دے، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”ان (غلاموں) کو ویسا ہی کھلاؤ جیسا خود کھاتے ہو اور ویسا ہی پہناؤ جیسا خود پہنتے ہو۔“ میرے بھتیجے! متاع دنیا کا چلے جانا مجھے اس بات سے زیادہ عزیز ہے کہ وہ مجھ سے متاع آخرت لے لے۔ میں نے اپنے والد سے کہا: ابوجی! یہ (بزرگ) کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ ابوالیسر بن عمرو ہیں۔ [مسند الشهاب/حدیث: 462]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم: 3006، 3007، وابن ماجه: 2419، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5044، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2237، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2630»
وضاحت: تشریح: -
دیکھئے حدیث نمبر 458 کی تشریح۔
دیکھئے حدیث نمبر 458 کی تشریح۔
الحكم على الحديث:
صحيح
322. مَنْ كَانَ ذَا لِسَانَيْنِ فِي الدُّنْيَا جَعَلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِسَانَانِ مِنْ نَارٍ
جو شخص دنیا میں دو زبانوں والا ہوگا اس کے لیے قیامت کے دن آگ کی دو زبانیں بنائی جائیں گی
حدیث نمبر: 463
463 - حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ صِلَةُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ الْبَغْدَادِيُّ أبنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَيُّوبَ بْنِ مَاسِيٍّ الْبَزَّارُ بِبَغْدَادَ، ح وَأَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ فِرَاسٍ، فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَعْرُوفُ بِبُكَيْرٍ الْحَدَّادُ قَالَا: ثنا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ ذَا لِسَانَيْنِ فِي الدُّنْيَا جُعِلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِسَانَانِ مِنْ نَارٍ» وَفِي حَدِيثِ ابْنِ فِرَاسٍ: «جَعَلَ اللَّهُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِسَانَيْنِ مِنْ نَارٍ»
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص دنیا میں دو زبانوں والا ہوگا اس کے لیے قیامت کے دن آگ کی دو زبانیں بنائی جائیں گی۔“ ابن خیر رحمہ اللہ نے اس کی حدیث میں کہا: «اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے لیے آگ کی دو زبانیں بنائے گا۔» [مسند الشهاب/حدیث: 463]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابويعلي: 2771، الزهد لهناد رقم: 1137، الصمت لابن ابي الدنيا: 282» حسن بصری مدلس کا عنعنہ اور اسماعیل بن مسلم الملکی ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
323. مَنْ نَظَرَ فِي كِتَابِ أَخِيهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ فَكَأَنَّمَا يَنْظُرُ فِي النَّارِ
جس نے اپنے بھائی کی کتاب (یا تحریر) میں اس کی اجازت کے بغیر نظر ڈالی تو گویا وہ آگ میں نظر ڈال رہا ہے
حدیث نمبر: 464
464 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَفْصِ بْنِ الْوَصِيِّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا أَبُو الْمِقْدَامِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ نَظَرَ فِي كِتَابِ أَخِيهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ فَكَأَنَّمَا يَنْظُرُ فِي النَّارِ» مُخْتَصَرٌ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے بھائی کی کتاب (یا تحریر) میں اس کی اجازت کے بغیر نظر ڈالی تو گویا وہ آگ میں نظر ڈال رہا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 464]
تخریج الحدیث: إسناده ضعيف، ابومقدام ہشام بن زیاد متروک ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
324. مَنْ كَانَ آمِرًا بِمَعْرُوفٍ فَلْيَكُنْ أَمْرُهُ ذَلِكَ بِمَعْرُوفٍ
جو شخص کسی نیکی کا حکم دے تو اس کا اپنا معاملہ بھی اچھا ہوتا چاہیے
حدیث نمبر: 465
465 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَنْبَارِيِّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْمِسْوَرِ ثنا أَبُو عَمْرٍو مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَالِكٍ الْحَضْرَمِيِّ , عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ آمِرًا بِمَعْرُوفٍ فَلْيَكُنْ أَمْرُهُ ذَلِكَ بِمَعْرُوفٍ»
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی نیکی کا حکم دے تو اس کا اپنا معاملہ بھی اچھا ہونا چاہیے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 465]
تخریج الحدیث: إسناده ضعیف، بقیہ بن ولید مدلس کا عنعنہ ہے، اسحاق بن مالک کی توثیق نہیں ملی جبکہ ابوعمر و مقدام بن داود مجروح ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعیف
325. مَنْ أَخْلَصَ لِلَّهِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا ظَهَرَتْ يَنَابِيعُ الْحِكْمَةِ مِنْ قَلْبِهِ عَلَى لِسَانِهِ
جس نے چالیس صبح اللہ کے لیے خالص کر لیں اس کی زبان پر اس کے دل سے حکمت کے چشمے جاری ہوں گے
حدیث نمبر: 466
466 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ يَحْيَى بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَذَنِيُّ ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَذَنِيُّ، قَالَ: قَالَ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ فِيلٍ الْإِمَامُ بِأَنْطَاكِيَةَ، ثنا عَامِرُ بْنُ سَيَّارٍ، ثنا سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخْلَصَ لِلَّهِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا ظَهَرَتْ يَنَابِيعُ الْحِكْمَةِ مِنْ قَلْبِهِ عَلَى لِسَانِهِ» كَأَنَّهُ يُرِيدُ بِذَلِكَ: مَنْ يَحْضُرُ الْعِشَاءَ وَالْفَجْرَ فِي جَمَاعَةٍ، وَمَنْ حَضَرَهُمَا أَرْبَعِينَ يَوْمًا يُدْرِكُ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى كُتِبَ لَهُ بَرَاءَتَانِ بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ، وَبَرَاءَةٌ مِنَ النِّفَاقِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے چالیس صبح اللہ کے لیے خالص کر لیں اس کی زبان پر اس کے دل سے حکمت کے چشمے جاری ہوں گے۔“ گویا آپ صلی اللہ کی مراد وہ شخص ہے جو (چالیس دن) عشاء اور فجر کی جماعت میں حاضر ہوتا ہے۔ ”اور جس شخص نے چالیس دن ان دونوں نمازوں کو تکبیر اولیٰ کے ساتھ پالیا اس کے لیے دو خلاصیاں ہیں: ک آدمی، اس کے لیے دو خلاصیاں ہیں، جن میں سے ایک خلاصی آگ سے ہے اور ایک خلاصی نفاق سے ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 466]
تخریج الحدیث: إسناده ضیعف جدا، سوار بن مصعب متروک ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضیعف جدا
326. مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ
جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے ہمسائے کی عزت کرے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے
حدیث نمبر: 467
467 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے ہمسائے کی عزت کرے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 467]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6018، 6136، 6138، 6475، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 47، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5154، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2500، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3971، والطبراني فى «الصغير» برقم: 740، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14839، 16760، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7741»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 468
468 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، ثنا ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، هُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ»
سیدنا ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے ہمسائے سے حسن سلوک کرے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 468]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري: 6019، ومسلم: 48، وابن ماجه: 3672، ومالك فى «الموطأ» برقم: 1635، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1967، 1968، والحميدي فى «مسنده» برقم: 585، 586، وأحمد فى «مسنده» برقم: 16632»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 469
469 - أنا أَبُو ذَرٍّ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدٍ الْهَرَوِيُّ بِمَكَّةَ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمُّويَهِ السَّرَخْسِيُّ، بِهَرَاةَ وَأَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِي بِبَلْخَ وَأَبُو الْقَاسِمِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمَكِّيِّ الْكُشْمَيْهِنِيُّ بِهَا قَالُوا: أنا الْفَرَبْرِيُّ، قَالَ: أنا الْبُخَارِيُّ، نا قُتَيْبَةُ، نا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے ہمسائے کو تکلیف نہ دے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 469]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6018، 6136، 6138، 6475، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 47، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5154، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2500، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3971، والطبراني فى «الصغير» برقم: 740، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14839، 16760، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7741»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 470
470 - وأنا أَبُو مُحَمَّدٍ التُّجِيبِيُّ، نا ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا الصَّاغَانِيُّ، نا أَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ، نا عَمَّارٌ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے ہمسائے کو تکلیف نہ دے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 470]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6018، 6136، 6138، 6475، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 47، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5154، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2500، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3971، والطبراني فى «الصغير» برقم: 740، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14839، 16760، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7741»
الحكم على الحديث:
صحيح