مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
331. مَنْ طَلَبَ عِلْمًا فَأَدْرَكَهُ كُتِبَ لَهُ كِفْلَانِ مِنَ الْأَجْرِ، وَمَنْ طَلَبَ عِلْمًا وَلَمْ يُدْرِكْهُ كُتِبَ لَهُ كِفْلٌ مِنَ الْأَجْرِ
جو شخص علم طلب کرے اور اسے پالے اس کے لیے دگنا اجر لکھا جاتا ہے اور جو علم طلب کرے اور اسے پا نہ سکے اس کے لیے ایک گنا اجر لکھا جاتا ہے
حدیث نمبر: 481
481 - أَخْبَرَنَا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ أَبِي غَسَّانَ الْفَارِسِيُّ، أبنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ، بأَصْبَهَانَ، ثنا أَبُو عَمْرٍو أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمَدِينِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارةَ الرَّازِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ الرَّحَبِيُّ، مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ طَلَبَ عِلْمًا فَأَدْرَكَهُ كُتِبَ لَهُ كِفْلَانِ مِنَ الْأَجْرِ، وَمَنْ طَلَبَ عِلْمًا فَلَمْ يُدْرِكْهُ كُتِبَ لَهُ كِفْلٌ مِنَ الْأَجْرِ»
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص علم طلب کرے اور اسے پائے اس کے لیے دگنا اجر لکھا جاتا ہے اور جو علم طلب کرے اور اسے نہ پا سکے اس کے لیے ایک گنا اجر لکھا جاتا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 481]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقى: 10/ 230، ودارمي: 335» یزید بن ربیعہ سخت ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا
332. مَنْ سَمَّعَ النَّاسَ بِعَمَلِهِ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ سَامِعَ خَلْقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَحَقَّرَهُ وَصَغَّرَهُ
جس شخص نے لوگوں کو اپنا عمل دکھایا اللہ قیامت کے دن اس کے اس عمل کو اپنی مخلوق کے کانوں تک پہنچا دے گا اور اسے حقیر اور ذلیل کر کے رکھ دے گا
حدیث نمبر: 482
482 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْمُعَدِّلُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ أَبِي عُبَيْدَةَ فَذَكَرُوا الرِّيَاءَ فَقَالَ شَيْخٌ يُكْنَى أَبَا يَزِيدَ , سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ سَمَّعَ النَّاسَ بِعَمَلِهِ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ سَامِعَ خَلْقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَحَقَّرَهُ وَصَغَّرَهُ»
عمرو بن مرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابوعبیدہ کے پاس بیٹھے تھے تو لوگوں نے ریاکاری کا ذکر چھیڑ دیا۔ ایک بزرگ جن کی کنیت ابویزید تھی، کہنے لگے: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جس شخص نے لوگوں کو اپنا عمل دکھایا اللہ قیامت کے دن اس کے اس عمل کو اپنی مخلوق کے کانوں تک پہنچا دے گا اور اسے حقیر اور ذلیل کر کے رکھ دے گا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 482]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه الزهد لابن المبارك: 141، وأحمد 2122، وشعب الايمان: 6402»
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 483
483 - أنا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَوْلَانِيُّ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْمُهَنْدِسِ، نا أَبُو بِشْرٍ الدُّولَابِيُّ، نا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، نا حَجَّاجُ، قَالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: نا رَجُلٌ، فِي بَيْتِ أَبِي عُبَيْدَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يُحَدِّثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَهُ، لَيْسَ فِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
عمرو بن مرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں ابوعبیدہ کے گھر میں ایک شخص نے حدیث بیان کی کہ اس نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے حدیث بیان کرتے سنا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور۔۔۔۔۔۔ انہوں نے یہ حدیث بیان کی، اس میں «يوم القيامة» (قیامت کے دن) کے الفاظ نہیں تھے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 483]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه أحمد 162/2، شعب الايمان: 6403»
وضاحت: تشریح: -
اس حدیث میں ریا کاری کے خوفناک انجام سے آگاہ کیا گیا ہے۔ ریا کاری کا مطلب ہے کہ انسان اس نیت اور ارادے سے اللہ تعالیٰ ٰ کی عبادت کرے کہ لوگوں میں اس کی نیکی کا چرچا ہو، اسے کوئی مالی منفعت ملے یا لوگوں میں اس کا مقام بلند ہو، یا کم از کم لوگ اس کی تعریف کریں۔ احادیث میں ریا کاری کو شرک اصغر کہا گیا ہے، سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم مسیح دجال کا تذکرہ کر رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس بات کی خبر نہ دوں جو میرے نزدیک تمہارے لیے مسیح دجال سے بھی زیادہ خطر ناک ہے؟“ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ پوشیدہ شرک ہے کہ ایک شخص نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو نماز کو خوب اچھی طرح ادا کرتا ہے، ایسا وہ صرف کسی آدمی کے دیکھنے کی وجہ سے کرتا ہے (ورنہ نہیں)۔“ [ابن ماجه 4204، وسنده حسن]
دوسری حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک مجھے تمہارے بارے میں جس چیز کا سب سے زیادہ ڈر ہے وہ شرک اصغر ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! شرک اصغر کیا ہے؟ فرمایا: ”ریا کاری، روز قیامت جب لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا تو اللہ (ریا کار) لوگوں سے فرمائے گا: جاؤ ان لوگوں کی طرف چلے جاؤ جن کو تم دنیا میں اپنے اعمال دکھلایا کرتے تھے پھر دیکھو کہ کیا تمہیں ان کے پاس کوئی بدلہ ملتا ہے۔“ [أحمد: 5/ 428، وسنده حسن]
ایک اور حدیث ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ٰ تمام لوگوں کو قیامت کے دن، جس کے آنے میں کوئی شک نہیں، جمع کرے گا تو ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ جس شخص نے جو کام اللہ کے لیے کیا تھا اور اس میں کسی اور کو اللہ کا ساجھی ٹھہرایا تھا تو وہ اپنے اس عمل کا ثواب اس سے مانگے کیونکہ اللہ اپنے شریکوں سے بے نیاز ہے۔ [ترمذي: 3154، وسنده حسن]
ریا کاری کی مذمت کے سلسلے میں ہماری کتاب ”نیکیوں کو برباد کرنے والے اعمال“ صفحہ 58تا 69ملاحظہ کیجیے۔
اس حدیث میں ریا کاری کے خوفناک انجام سے آگاہ کیا گیا ہے۔ ریا کاری کا مطلب ہے کہ انسان اس نیت اور ارادے سے اللہ تعالیٰ ٰ کی عبادت کرے کہ لوگوں میں اس کی نیکی کا چرچا ہو، اسے کوئی مالی منفعت ملے یا لوگوں میں اس کا مقام بلند ہو، یا کم از کم لوگ اس کی تعریف کریں۔ احادیث میں ریا کاری کو شرک اصغر کہا گیا ہے، سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم مسیح دجال کا تذکرہ کر رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس بات کی خبر نہ دوں جو میرے نزدیک تمہارے لیے مسیح دجال سے بھی زیادہ خطر ناک ہے؟“ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ پوشیدہ شرک ہے کہ ایک شخص نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو نماز کو خوب اچھی طرح ادا کرتا ہے، ایسا وہ صرف کسی آدمی کے دیکھنے کی وجہ سے کرتا ہے (ورنہ نہیں)۔“ [ابن ماجه 4204، وسنده حسن]
دوسری حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک مجھے تمہارے بارے میں جس چیز کا سب سے زیادہ ڈر ہے وہ شرک اصغر ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! شرک اصغر کیا ہے؟ فرمایا: ”ریا کاری، روز قیامت جب لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا تو اللہ (ریا کار) لوگوں سے فرمائے گا: جاؤ ان لوگوں کی طرف چلے جاؤ جن کو تم دنیا میں اپنے اعمال دکھلایا کرتے تھے پھر دیکھو کہ کیا تمہیں ان کے پاس کوئی بدلہ ملتا ہے۔“ [أحمد: 5/ 428، وسنده حسن]
ایک اور حدیث ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ٰ تمام لوگوں کو قیامت کے دن، جس کے آنے میں کوئی شک نہیں، جمع کرے گا تو ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ جس شخص نے جو کام اللہ کے لیے کیا تھا اور اس میں کسی اور کو اللہ کا ساجھی ٹھہرایا تھا تو وہ اپنے اس عمل کا ثواب اس سے مانگے کیونکہ اللہ اپنے شریکوں سے بے نیاز ہے۔ [ترمذي: 3154، وسنده حسن]
ریا کاری کی مذمت کے سلسلے میں ہماری کتاب ”نیکیوں کو برباد کرنے والے اعمال“ صفحہ 58تا 69ملاحظہ کیجیے۔
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
333. مَنْ طَلَبَ عَمَلَ الدُّنْيَا بِعَمَلِ الْآخِرَةِ فَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ
جس نے آخرت کے کام کے بدلے میں دنیا کا کام طلب کیا تو آخرت میں اس کے لیے کوئی حصہ نہ ہوگا
حدیث نمبر: 484
484 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمَّادٍ أَبُو بَكْرٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُعْتَمِرٌ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ , عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ طَلَبَ عَمَلَ الدُّنْيَا بِعَمَلِ الْآخِرَةِ فَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ»
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے آخرت کے کام کے بدلے میں دنیا کا کام طلب کیا تو آخرت میں اس کے لیے کوئی حصہ نہ ہوگا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 484]
تخریج الحدیث: إسناده ضعیف، سفیان ثوری مدلس کا عنعنہ ہے۔
وضاحت: فائدہ: -
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت کو عزت و سر بلندی (اللہ کی) نصرت اور اقتدار کی بشارت دے دو، پس ان میں سے جس کسی نے آخرت کا کام دنیا کے لیے کیا تو آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔“ [أحمد: 5/ 134، وسنده حسن]
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت کو عزت و سر بلندی (اللہ کی) نصرت اور اقتدار کی بشارت دے دو، پس ان میں سے جس کسی نے آخرت کا کام دنیا کے لیے کیا تو آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔“ [أحمد: 5/ 134، وسنده حسن]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعیف
334. مَنْ أُولِيَ مَعْرُوفًا فَلَمْ يَجِدْ جَزَاءً إِلَّا الثَّنَاءَ فَقَدْ شَكَرَهُ، وَمَنْ كَتَمَهُ فَقَدْ كَفَرَهُ
جس شخص کے ساتھ کوئی نیکی کی گئی اور اس نے (اپنے محسن کی) مدح وثنا کے علاوہ کوئی بدلہ نہ دیا تو بلاشبہ اس نے اس کا شکر ادا کر دیا اور جس نے اس (محسن کے احسان) کوچھپایا تو بلاشبہ اس نے ناشکری کی
حدیث نمبر: 485
485 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الشَّاهِدُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ نُفَيْلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أُولِيَ مَعْرُوفًا فَلَمْ يَجِدْ إِلَّا الثَّنَاءَ فَقَدْ شَكَرَهُ، وَمَنْ كَتَمَهُ فَقَدْ كَفَرَهُ»
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے ساتھ کوئی نیکی کی گئی اور اس نے (اپنے محسن کی) مدح و ثنا کے علاوہ کوئی بدلہ نہ دیا تو بلاشبہ اس نے اس کا شکر ادا کر دیا اور جس نے اس (محسن کے احسان) کو چھپایا تو بلاشبہ اس نے ناشکری کی۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 485]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3415، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4813، 4814، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2034، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12155» شرحبيل بن سعد جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 486
486 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ، نا أَبُو الْحَسَنِ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا النَّيْسَابُورِيُّ أنا الْقَاسِمُ بْنُ لَيْثِ بْنِ مَسْرُورٍ أَبُو صَالِحٍ الرَّاسِبِيُّ، نا مُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، نا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أُولِيَ خَيْرًا فَلْيَجْزِ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يَقْدِرْ عَلَى ذَلِكَ فَلْيُثْنِ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَقَدْ كَفَرَهُ»
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے ساتھ کوئی نیکی کی گئی تو اسے چاہیے کہ اس کا بدلہ دے اور جو اس (بدلہ دینے) پر قادر نہ ہو تو اسے چاہیے کہ اس (اپنے محسن) کی مدح و ثنا کرے اور جو ایسا نہ کرے تو بلاشبہ اس نے ناشکری کی۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 486]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه شعب الايمان: 8689»
وضاحت: سلامی تعلیمات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ بندہ اپنے محسن کو ہمیشہ یاد رکھے اور اس کے احسان کا بدلہ دینے کی ہر ممکن کوشش کرے۔ اگر بدلے میں کچھ دینے کے لیے نہ نکلے تو کم از کم اپنے محسن کے لیے زبان سے اچھے کلمات ہی ادا کر دے۔ اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے دعا کرے، اس کی پیٹھ پیچھے اس کی تعریف کرے، اور اگر مناسب سمجھے تو لوگوں کے سامنے اس کا احسان بھی بیان کر دے۔ اب جو شخص اتنا بھی نہ کر سکے تو اس نے کسی کے احسان کا کیا بدلہ دیتا ہے؟ ایسے شخص کو نا شکرا اور احسان فراموش نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے؟
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
335. مَنْ أُولِيَ مَعْرُوفًا فَلْيُكَافِئْ بِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَلْيَذْكُرْهُ فَإِنْ ذَكَرَهُ فَقَدْ شَكَرَهُ
جس کے ساتھ کوئی نیکی کی گئی تو اسے چاہیے کہ اس کا بدلہ دے اگر وہ اس کی طاقت نہ رکھے تو اس (نیکی یا محسن) کا ذکر کرے پھر اگر اس نے اس کا ذکر کیا تو بلاشبہ اس نے اس کا شکر ادا کر دیا
حدیث نمبر: 487
487 - أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ وَصِلَةُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ الْبَغْدَادِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَيُّوبَ بْنِ مَاسِيُّ الْمَتُّوثِيُّ الْبَزَّارُ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَجِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ فِرَاسٍ، بِمَكَّةَ حَرَسَهَا اللَّهُ تَعَالَى أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَهْلٍ الْمَعْرُوفُ بِبُكَيْرٍ الْحَدَّادُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَجِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أُولِيَ مَعْرُوفًا فَلْيُكَافِئْ بِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَلْيَذْكُرْهُ فَإِنْ ذَكَرَهُ فَقَدْ شَكَرَهُ، وَمَنْ تَشَبَّعَ بِمَا لَمْ يَكُنْ فَهُوَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ» وَفِي رِوَايَةِ الْمَالِينِيِّ وَابْنِ فِرَاسٍ: بِمَا لَمْ يَنَلْ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے ساتھ کوئی نیکی کی گئی تو اسے چاہیے کہ اس کا بدلہ دے اگر وہ اس کی طاقت نہ رکھے تو اس (نیکی یا محسن) کا ذکر کرے پھر اگر اس نے اس کا ذکر کیا تو بلاشبہ اس نے اس کا شکر ادا کر دیا اور جس نے ایسی چیز کے ساتھ تصنع اور بناوٹ ظاہر کی جو اس کے پاس نہیں تھی تو وہ جھوٹ کا جوڑا زیب تن کرنے والے کی مانند ہے۔“ اور مالینی اور ابن خراس رحمہما اللہ کی روایت میں «بما لم ينل» (ایسی چیز کے ساتھ جسے وہ نہیں پہنچا) کے الفاظ ہیں۔ [مسند الشهاب/حدیث: 487]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه المعجم الاوسط: 2463، وشعب الايمان: 8692» ، ابن ابی الاخضر ضعیف ہے۔ اس میں ایک اور علت بھی ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
336. مَنْ أَوْلَى رَجُلًا مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ مَعْرُوفًا فِي الدُّنْيَا فَلَمْ يَقْدِرْ أَنْ يُكَافِئَهُ كَافَأْتُهُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
جس نے بنو عبدالمطلب کے کسی فرد کے ساتھ دنیا میں نیکی کی اور وہ (دنیا میں) اس کا بدلہ دینے پر قادر نہ ہوسکا تو قیامت کے دن میں اس کی طرف سے اس کا بدلہ دوں گا
حدیث نمبر: 488
488 - ثنا أَبُو الْقَاسِمِ، مَكِّيُّ بْنُ نَظِيفٍ الزَّجَّاجُ، أبنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ الْخُزَاعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ الْعَدَوِيُّ، ثنا وُرَيْزَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْغَسَّانِيُّ الطَّرَابُلُسِيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَوْلَى رَجُلًا مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ مَعْرُوفًا فِي الدُّنْيَا فَلَمْ يَقْدِرْ أَنْ يُكَافِئَهُ كَافَأْتُهُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بنو عبدالمطلب کے کسی فرد کے ساتھ دنیا میں نیکی کی اور وہ (دنیا میں) اس کا بدلہ دینے پر قادر نہ ہوسکا تو قیامت کے دن میں اس کی طرف سے اس کا بدلہ دوں گا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 488]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه حلية الأولياء: 10/ 434» عمرو بن کثیر اور جعفر بن عمران مجہول ہیں۔ دیکھئے: «علل الحديث لابن ابي حاتم: 4/ 46»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
337. مَنْ رَأَى عَوْرَةً فَسَتَرَهَا كَانَ كَمَنْ أَحْيَا مَوْءُودَةً مِنْ قَبْرِهَا
جس نے (کسی مسلمان میں) کوئی عیب دیکھا پھر اس پر پردہ ڈال دیا تو اس نے گویا زندہ درگور کی ہوئی بچی کو اس کی قبر سے نکال کر زندہ کر دیا
حدیث نمبر: 489
489 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ بْنِ النَّحَّاسِ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَشِيطٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ , عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ رَأَى عَوْرَةً فَسَتَرَهَا كَانَ كَمَنْ أَحْيَا مَوْءُودَةً مِنْ قَبْرِهَا»
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے (کسی مسلمان میں) کوئی عیب دیکھا پھر اس پر پردہ ڈال دیا تو اس نے گویا زندہ درگور کی ہوئی بچی کو اس کی قبر سے نکال کر زندہ کر دیا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 489]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه أبو داود: 4891، والادب المفرد: 758، والطيالسي: 1098، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 517، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 8254»
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 490
490 - وأنا أَبُو مُحَمَّدٍ، نا ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا ابْنُ الصَّاغَانِيِّ، هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَشِيطٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قِيلَ لَهُ: إِنَّ لَنَا جِيرَانًا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ فَلَا نَرْفَعُهُمْ؟، قَالَ: لَا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ رَأَى عَوْرَةً فَسَتَرَهَا. الْحَدِيثُ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ ان سے کہا گیا: ہمارے کچھ ہمسائے ہیں جو شراب پیتے ہیں کیا ہم انہیں اٹھا کر (پولیس کے) حوالے کر دیں؟ انہوں نے کہا: نہیں، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جس نے (کسی مسلمان میں) کوئی عیب دیکھا پھر اس پر پردہ ڈال دیا۔۔۔۔۔۔ الحدیث۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 490]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه ابن الاعرابي: 2438، وأبو داود: 4892، وأحمد: 4/ 147»
الحكم على الحديث:
إسناده حسن