Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
402. اشْفَعُوا تُؤْجَرُوا
تم سفارش کرو تمہیں اجر دیا جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 621
621 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُقْرِئُ، نا أَبُو الْحَسَنِ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ نا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، نا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَهُ مُخْتَصَرًا وَفِيهِ: «اشْفَعُوا وَلْتُؤْجَرُوا»
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں اور انہوں نے اختصار کے ساتھ اسے ذکر کیا اور اس میں ہے کہ سفارش کرو تمہیں ضرور اجر دیا جائے گا۔ [مسند الشهاب/حدیث: 621]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه ترمذي: 2672، وأحمد فى «مسنده» برقم: 19893، والحميدي فى «مسنده» برقم: 789، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 7296، والبزار فى «مسنده» برقم: 3181»
وضاحت: تشریح: -
ان احادیث میں سفارش کرنے کا حکم فرمایا گیا ہے اور اس عمل کو حصول ثواب کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ٰ کا فرمان ہے:
﴿مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا وَمَن يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُن لَّهُ كِفْلٌ مِّنْهَا وَكَانَ اللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيتًا﴾ ‎(النساء: 85)
جو کوئی اچھی سفارش کرے گا اس کے لیے اس میں سے ایک حصہ ہوگا اور جو کوئی بری سفارش کرے گا اس کے لیے اس میں سے ایک بوجھ ہوگا اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔
اس آیت کریمہ سے استدلال کرتے ہوئے علماء کرام نے سفارش کی دو قسمیں بیان کی ہیں:
شفاعت حسنہ (اچھی سفارش):
دین و دنیا کے بھلے کاموں میں کسی کی سفارش کرنا جس سے لوگوں کو فائدہ ملے اور کسی کا نقصان نہ ہونے پائے۔
شفاعت سیئہ (بری سفارش):
۔معصیت و گناہ کے کاموں میں سفارش کرنا یا بدعت کے رواج دینے میں سفارش کرنا دوسروں پر ظلم ڈھانے اور کسی حق دار کا حق مارنے کے سلسلے میں کسی کی سفارش کرنا۔
اول الذکر سفارش مستحب ہے اور اس پر اجر و ثواب ہے جبکہ موخر الذکر سفارش حرام ہے اور اس پر گناہ ہے۔ سفارش کے فضائل اور احکام کے سلسلے میں شہزادہ نائف بن ممدوح آل سعود کی ایک عمدہ تالیف ہے جس کا سفارش کرو اجر و ثواب پاؤ کے نام سے اردو ترجمہ بھی چھپ چکا ہے، اہل ذوق کے لیے مفید ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
403. سَافِرُوا تَصِحُّوا وَتَغْنَمُوا
سفر کیا کر و صحت مند رہوگے اور غنیمتیں حاصل کرو گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 622
622 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمَيْمُونِ الْكَاتِبُ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُظَفَّرِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَدَّادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَافِرُوا تَصِحُّوا وَتَغْنَمُوا»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر کیا کرو صحت مند رہو گے اور غنیمتیں حاصل کرو گے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 622]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه المعجم الاوسط: 7400، والكامل: 7/ 400، وتاريخ مدينة السلام: 12/ 125» محمد بن عبدالرحمن بن رداد ضعیف ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 623
623 - أنا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو مُسْلِمٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِهْرَانَ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زُهَيْرِ بْنِ الْفَضْلِ، نا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الرَّدَّادِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَهُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔۔۔۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔ [مسند الشهاب/حدیث: 623]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه المعجم الاوسط: 7400، والكامل: 7/ 400، وتاريخ مدينة السلام: 12/ 125» محمد بن عبدالرحمن بن رداد ضعیف ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
404. يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَسَكِّنُوا وَلَا تُنَفِّرُوا
آسانی کرو سختی نہ کرو، اطمینان دلاونفرت نہ پھیلاؤ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 624
624 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الصَّفَّارُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَاصِمٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ , عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَسَكِّنُوا وَلَا تُنَفِّرُوا»
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آسانی کرو سختی نہ کرو، اطمینان دلاؤ نفرت نہ پھیلاؤ۔ [مسند الشهاب/حدیث: 624]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري: 6125، ومسلم: 1734، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12527، 13377، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 2199، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 4172، والبزار فى «مسنده» برقم: 7376»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 625
625 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُوسَى السِّمْسَارُ بِدِمَشْقَ، أبنا أَبُو زَيْدٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرَبْرِيُّ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ , عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا»
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آسانی کرو سختی نہ کرو، خوشخبری دو نفرت نہ پھیلاؤ۔ [مسند الشهاب/حدیث: 625]
تخریج الحدیث: «صحيح، و أخرجه البخاري 65، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2092، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6392، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4214، بدون ترقيم، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2718، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 20474، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12917»
وضاحت: تشریح: -
مطلب یہ ہے کہ وعظ ونصیحت اور دعوت و تذکیر کی عام مجلسوں میں دین کی ایسی باتیں بیان کی جائیں جن سے لوگوں کے اندر دین کی ترغیب پیدا ہو، اسی طرح دین کی تشریح و توضیح میں بھی اس پہلو کو مد نظر رکھا جائے، علاوہ ازیں اسلوب بیان بھی نفرت دلانے والا نہ ہو بلکہ قریب کرنے والا ہو اس میں گویا دعوت و تبلیغ کی حکمت بیان کی گئی ہے جسے داعیان دین کے لیے ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ [رياض الصالحين: 541/1]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
405. قَارِبُوا وَسَدِّدُوا
میانہ روی اختیار کرو اور سید ھے سیدھے رہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 626
626 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ السُّكَّرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ، قَالَ: ثنا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَارِبُوا وَسَدِّدُوا، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَنْ يُنَجِّيَهُ الْعَمَلُ» فَقِيلَ: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: «وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میانہ روی اختیار کرو اور سیدھے سیدھے رہو کیونکہ تم میں سے کسی کو اس کا عمل ہرگز نجات نہیں دلا سکے گا۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! اور آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا: اور مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 626]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5673، 6463، 7235، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2816، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4201، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 4816، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7323، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 2294»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 627
627 - أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَاجِّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، نا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَدِّدُوا وَقَارِبُوا» مُخْتَصَرٌ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میانہ روی اختیار کرو اور سیدھے سیدھے رہو۔ یہ حدیث مختصر ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 627]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5673، 6463، 7235، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2816، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4201، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 4816، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7323، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 2294»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 628
628 - وأنا أَبُو مُحَمَّدٍ التُّجِيبِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاصِحُ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جُمُعَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَدِّدُوا وَقَارِبُوا، وَأَبْشِرُوا» مُخْتَصَرٌ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میانہ روی اختیار کرو اور سیدھے سیدھے رہو اور خوشخبری دو۔ یہ حدیث مختصر ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 628]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6467، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2818، والحميدي فى «مسنده» برقم: 173، 183، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24707»
وضاحت: تشریح: -
مطلب یہ ہے کہ دین میں میانہ روی اور اعتدال کا راستہ اختیار کرو، افراط و تفریط سے بچو کیونکہ اگر افراط و تفریط اپناؤ گے تو منزل مقصود تک بھی نہ پہنچ پاؤ گے لہٰذا حتی المقدور راہ اعتدال پر ہی چلو، اگر اس پر کلی طور پر نہیں چل سکتے تو کم از کم یہ کوشش کرو کہ اس کے قریب قریب رہو۔ یعنی ہر حال میں طریقہ نبوی ہی کو سامنے رکھو، اسی کو اپناؤ گے تو کامیابی ملے گی، ادھر ادھر مت دیکھو ورنہ بدعات و خرافات میں پڑ کر فرائض سے بھی ہاتھ دھو بیٹھو گے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
406. زُرْ غِبًّا تَزْدَدْ حُبًّا
وقتاً فوقتاً (اپنے مسلمان بھائی کی) زیارت کیا کر محبت میں اضافہ ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 629
629 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْمُعَدِّلُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ زُرْ غِبًّا تَزْدَدَ حُبًّا»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوہریرہ! وقتاً فوقتاً (اپنے مسلمان بھائی کی) زیارت کیا کرو محبت میں اضافہ ہو گا۔ [مسند الشهاب/حدیث: 629]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، وأخرجه طيالسي: 2658، والمعجم الاوسط: 5641، وشعب الايمان: 8008» طلحہ بن عمر و متروک ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 630
630 - وأنا أَبُو مُحَمَّدٍ التُّجِيبِيُّ، أنا ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا الْحَارِثُ هُوَ ابْنُ أَبِي أُسَامَةَ، نا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ
ایک دوسری سند سے بھی طلحہ بن عمرو رحمہ اللہ سے ان کی سند کے ساتھ اسی طرح مروی ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 630]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، وأخرجه طيالسي: 2658، والمعجم الاوسط: 5641، وشعب الايمان: 8008» طلحہ بن عمر و متروک ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں