🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
863. كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ
آدمی کے گناہ گار ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ جن کی خوراک کا ذمہ دار ہے انہیں ضائع کر دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1411
1411 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا ابْنُ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ»
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے گناہ گار ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ جن کی خوراک کا ذمہ دار ہے انہیں ضائع کر دے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1411]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 996، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4240، 4241، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1520، 8600، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1692، والحميدي فى «مسنده» برقم: 610، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 2395، وأحمد فى «مسنده» برقم: 6606»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1412
1412 - أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْبَزَّازُ، أنا ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ فَهْدٍ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ الْقَسْمَلِيُّ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَفَى بِالْمَرْءِ..» وَذَكَرَهُ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کو یہی کافی ہے۔۔۔۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1412]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 996، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4240، 4241، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1520، 8600، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1692، والحميدي فى «مسنده» برقم: 610، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 2395، وأحمد فى «مسنده» برقم: 6606»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1413
1413 - أَنَاهُ هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ بُنْدَارٍ، نا أَبُو عَرُوبَةَ، نا أَبُو كُرَيْبٍ، نا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي شَيْبَةَ، نا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَعُولُ»
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: آدمی کے گناہ گار ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ جن کی کفالت کرتا ہے انہیں ضائع کر دے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1413]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 996، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4240، 4241، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1520، 8600، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1692، والحميدي فى «مسنده» برقم: 610، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 2395، وأحمد فى «مسنده» برقم: 6606»
وضاحت: تشریح: -
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ انسان کے ذمہ جن افراد کی کفالت ہے ان کا خرچ اور ضروریات پوری کرنا اس پر واجب ہیں۔ اس کے واجب ہونے کی دلیل یہ ہے کہ انسان ترک واجب پر ہی گناہگار ہوتا ہے اور انسان اپنے اہل وعیال، اولاد، اپنے غلاموں کا کفیل ہوتا ہے، ان کی روزی، خرچ اور ان کی ضروریات پوری کرنا اس پر واجب ہے۔ اسی طرح ہر ذی روح کی غذا کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ نے انسان کو بنایا ہے۔ جو بھی انسان کے تحت ہو اس کی غذا کا ذمہ دار اسے بنایا گیا ہے اگر ادا نہ کرے گا تو سزا یاب ہوگا۔
حدیث میں آتا ہے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نے بلی کو بھوکا مار دیا تھا نہ تو اسے کھلاتی تھی اور نہ اسے پلاتی تھی اور نہ ہی اسے جھوڑتی تھی کہ وہ زمین ا سے اپنا رزق کھا لے اس کی پاداش میں اس عورت کو دوزخ میں بھیجا گیا۔ [بخاري: 3482، كتاب احاديث الانبياء، مسلم: 2282، تفهيم الاسلام: 2/ 507]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
864. كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يَقُولَ فِي أَخِيهِ مَا هُوَ فِيهِ
آدمی کے گناہ گار ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے بھائی کے بارے میں وہ بات کہے جو اس میں پائی جاتی ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1414
1414 - أنا لَبِيبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، بِثَغْرِ طَرَابُلْسِ الشَّامِ، أَخْبَرَنِي مَوْلَايَ أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ حَيْدَرَةَ، بِثَغْرِ طَرَابُلْسَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَبَحِّ الْكِنْدِيُّ، نا أَبُو أَحْمَدَ زَكَرِيَّا بْنُ دُوَيْدٍ، نا حُمَيْدُ بْنُ بَتْرَوَيْهِ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: «كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يَقُولَ فِي أَخِيهِ مَا هُوَ فِيهِ، فَمَنْ قَالَ فِي أَخِيهِ مَا هُوَ فِيهِ فَقَدِ اغْتَابَهُ، وَمَنْ قَالَ فِيهِ مَا لَيْسَ فِيهِ فَقَدْ أَكَلَ لَحْمَهُ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: آدمی کے گناہ گار ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے بھائی کے بارے میں وہ بات کہے جو اس میں پائی جاتی ہو، پس جس نے اپنے بھائی کے بارے میں وہ بات کہی جو اس میں پائی جاتی تھی تو بلاشبہ اس نے اس (بھائی) کی غیبت کی اور جس نے اس (بھائی) کے بارے میں ایسی بات کہی جو اس میں نہیں تھی تو بلاشبہ اس نے اس (بھائی) کا گوشت کھایا۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1414]
تخریج الحدیث: إسناده ضعيف جدا، زکریا بن دوید متروک ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
865. كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ
آدمی کے گناہ گار ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کر دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1415
1415 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْبَزَّازُ، ثنا ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا أَبِي الْعَلَاءُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا هِلَالُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَفَى بِالْمَرْءِ مِنَ الْكَذِبِ أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ»
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے گناہ گار ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کر دے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1415]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن الاعرابي: 2396، حاكم: 2/ 20»
بلال بن عمر ضعیف ہے، اس میں اور بھی علتیں ہیں۔ «السلسلة الضعيفة: 2234»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1416
1416 - وَأَخْبَرَنَا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أبنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ بُنْدَارٍ، ثنا أَبُو عَرُوبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ خَبِيبٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ»
حفص بن عاصم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے گناہ گار ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کر دے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1416]
تخریج الحدیث: «مرسل، مسلم: 5، المقدمة، بزار: 8201»
اسے حفص بن عاصم تابعی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
وضاحت: فائدہ: -
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے گناہ گار ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کر دے۔ [مسلم: 5 المقد مة أبو داود: 4992، وسنده صحيح]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
866. كَفَى بِالْمَرْءِ سَعَادَةً أَنْ يُوثَقَ بِهِ فِي أَمْرِ دِينِهِ وَدُنْيَاهُ
آدمی کے سعادت مند ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کے دینی اور دنیاوی کام میں اس پر بھروسا کیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1417
1417 - وَجَدْتُ بِخَطِّ أَبِي مُحَمَّدٍ عَبْدِ الْغَنِيِّ بْنِ سَعِيدٍ: ثنا يُوسُفُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا هَارُونُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ زِيَادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ زَيْدٍ الْعَمِّيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَفَى بِالْمَرْءِ سَعَادَةً أَنْ يُوثَقَ بِهِ فِي أَمْرِ دِينِهِ وَدُنْيَاهُ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے سعادت مند ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کے دینی اور دنیاوی کام میں اس پر بھروسہ کیا جائے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1417]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، الكامل لابن عدي: 6/ 493»
عبدالرحيم بن زید العمی متروک اور اس کا والد ضعیف ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
867. رُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ
بعض اوقات جس شخص کو حدیث پہنچائی جاتی ہے وہ (براہ راست) سننے والے سے زیادہ یادر کھنے والا ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1418
1418 - أَخْبَرَنَا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ بُنْدَارٍ، ثنا أَبُو عَرُوبَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِمِنًى: «رُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ»
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور اس وقت آپ منیٰ میں تھے: بعض اوقات جس شخص کو حدیث پہنچائی جاتی ہے وہ (براہ راست) سننے والے سے زیادہ یاد رکھنے والا ہوتا ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1418]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1741، 3197، 4406، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1679، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2952، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1947، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1520، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 233، والطبراني فى «الصغير» برقم: 427، وأحمد فى «مسنده» برقم: 20713، 20714»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1419
1419 - وأنا أَبُو مُحَمَّدٍ التُّجِيبِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ يَعْنِي ابْنَ فِرَاسٍ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا أَبُو عُبَيْدٍ، نا حَجَّاجٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَذَكَرْتُهُ مُخْتَصَرًا
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔ . . . اور میں نے اسے مختصر بیان کیا ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1419]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 66، 68، 69، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2657، 2658، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 232، وأحمد فى «مسنده» برقم: 4240، والحميدي فى «مسنده» برقم: 88، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5126»
عبدالرحمٰن بن عبد الله بن مسعود مدلس کا عنعہ ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1420
1420 - وَأَنَاهُ الْحَسَنُ بْنُ فِرَاسٍ الْمَكِّيُّ بِمَكَّةَ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ هُوَ الْمَكِّيُّ، نا حَجَّاجٌ، نا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ
یہ روایت ایک دوسری سند سے بھی سماک بن حرب سے ان کی سند کے ساتھ اسی طرح مروی ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1420]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 66، 68، 69، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2657، 2658، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 232، وأحمد فى «مسنده» برقم: 4240، والحميدي فى «مسنده» برقم: 88، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5126»
عبدالرحمٰن بن عبد الله بن مسعود مدلس کا عنعہ ہے۔
وضاحت: تشریح: -
ان احادیث میں حدیث نبوی کی تبلیغ و تعلیم کا حکم فرمایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص براہ راست کسی سے کوئی صحیح حدیث سنے تو اسے چاہیے کہ اس حدیث کو جلد از جلد دوسرے لوگوں تک پہنچا دے کیونکہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جن کو آگے حدیث پہنچائی جاتی ہے وہ پہنچانے والوں سے زیادہ یاد رکھنے والے اور مسائل اخذ کرنے والے ہوتے ہیں۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں