مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
868. رُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ
بعض اوقات حامل فقہ ایسا بھی ہوتا ہے جو اپنے سے بڑھ کر فقیہ تک پہنچا دیتا ہے
حدیث نمبر: 1421
1421 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، أبنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ فِرَاسٍ، أبنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْحِمْصِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَهُوَ ابْنُ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْخَيْفِ مِنْ مِنًى فَقَالَ: «نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا، ثُمَّ أَدَّاهَا إِلَى مَنْ لَمْ يَسْمَعْهَا، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَا فِقْهَ لَهُ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ» وَذَكَرَ الْحَدِيثَ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں خیف کے مقام پر کھڑے ہو کر فرمایا: ”اللہ اس بندے کو تروتازہ رکھے جس نے میری بات سن کر محفوظ کر لی پھر اسے ان تک پہنچا دیا جنہوں نے اسے نہیں سنا تھا بعض اوقات حامل فقہ ایسا ہوتا ہے جسے اس (حدیث) کی فقہ (سمجھ بوجھ) نہیں ہوتی اور بعض اوقات حامل فقہ ایسا بھی ہوتا ہے جو اپنے سے بڑھ کر فقیہ تک پہنچا دیتا ہے۔“ اور انہوں نے مکمل حدیث بیان کی۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1421]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 293، 294، 295، والدارمي فى «مسنده» برقم: 233، 234، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 231، وأحمد فى «مسنده» برقم: 17010»
اسحاق اور زہری مدلس راویوں کا عنعنہ ہے
اسحاق اور زہری مدلس راویوں کا عنعنہ ہے
وضاحت: فائدہ: -
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”اللہ اس شخص کو ترو تازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی حدیث سنی پھر اسے یاد کیا یہاں تک کہ اسے آگے پہنچا دیا۔ بعض اوقات حامل فقہ اپنے سے بڑھ کر فقیہ تک پہنچا دیتا ہے اور بعض اوقات حامل فقہ ایسا بھی ہوتا ہے جو در حقیقت فقیہ نہیں ہوتا۔“ [أبو داود: 3660، رمذي: 2256، صحيح]
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”اللہ اس شخص کو ترو تازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی حدیث سنی پھر اسے یاد کیا یہاں تک کہ اسے آگے پہنچا دیا۔ بعض اوقات حامل فقہ اپنے سے بڑھ کر فقیہ تک پہنچا دیتا ہے اور بعض اوقات حامل فقہ ایسا بھی ہوتا ہے جو در حقیقت فقیہ نہیں ہوتا۔“ [أبو داود: 3660، رمذي: 2256، صحيح]
869. رُبَّ حَامِلِ حِكْمَةٍ إِلَى مَنْ هُوَ لَهَا أَوْعَى مِنْهُ
بعض اوقات حامل حکمت و دانائی ایسا بھی ہوتا ہے جو اپنے سے بڑھ کر اس کو محفوظ رکھنے والے تک پہنچا دیتا ہے
حدیث نمبر: 1422
1422 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْغَزِّيُّ، أبنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْوَلِيدِ، ثنا أَبُو الْجَهْمِ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ وَاقِدٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَلْبَسٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ كَلَامِيَ لَمْ يَزِدْ فِيهِ، رُبَّ حَامِلِ حِكْمَةٍ إِلَى مَنْ هُوَ لَهَا أَوْعَى مِنْهُ، ثَلَاثٌ لَا يَغُلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُؤْمِنٍ: إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ، وَالْمُنَاصَحَةُ لِولَاةِ الْأَمْرِ، وَالِاعْتِصَامُ بِجَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مَنْ وَرَاءَهُمْ"
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اس بندے کو تروتازہ رکھے جس نے میرا کلام سنا اور اس میں (اپنی طرف سے) اضافہ نہ کیا۔ بعض اوقات حامل حکمت و دانائی ایسا بھی ہوتا ہے جو اپنے سے بڑھ کر اس کو محفوظ رکھنے والے تک پہنچا دیتا ہے۔ تین چیزوں میں مومن کا دل کبھی خیانت نہیں کرتا: اللہ کے لیے اخلاص کے ساتھ عمل کرنا، حکمرانوں کی خیر خواہی کرنا اور مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑنا کیونکہ ان کی دعوت (دعا) ان کو چاروں اطراف سے گھیر لیتی ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1422]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، وأخرجه المعجم الاوسط: 6781، تاريخ دمشق: 438/46، حلية الاولياء: 7/ 445»
وضاحت: فائدہ: -
ابان بن عثمان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ دو پہر کے وقت مروان کے پاس سے نکلے تو ہم آپس میں کہنے لگے: مروان نے اس وقت اگر انہیں بلایا ہے تو یقینا کچھ پوچھنے کے لیے ہی بلایا ہوگا چنانچہ میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور ان سے یہی سوال پوچھا: تو انہوں نے کہا: ہاں اس نے مجھے سے کچھ چیزوں کے متعلق پوچھا: تھا جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”اللہ اس شخص کو ترو تازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی حدیث سنی پھر اسے یاد کر کے آگے دوسروں کو پہنچا دیا کیونکہ بعض اوقات حامل فقہ ایسا ہوتا ہے جو درحقیقت فقیہ نہیں ہوتا اور بعض اوقات حامل فقہ ایسا بھی ہوتا ہے جو اپنے سے بڑھ کر فقیہ تک اس کو پہنچا دیتا ہے۔ تین چیزوں میں مسلمان کا دل کبھی خیانت نہیں کرتا، اللہ کے لیے اخلاص کے ساتھ عمل کرنا، حکمرانوں کی خیر خواہی کرنا اور جماعت کو لازم پکڑنا کیونکہ ان کی دعوت (دعا) ان کو چاروں اطراف سے گھیر لیتی ہے۔“ اور فرمایا: ”جس شخص کا غم ہی آخرت ہو اللہ اس کے بکھرے ہوئے کام سمیٹ دیتا ہے اور غنی اس کے دل میں رکھ دیتا ہے اور دنیا اس کے پاس ذلیل و مطیع ہو کر خود ہی آجاتی ہے اور جس کا مقصد ہی دنیا ہو اللہ اس کے کام کو بکھیر دیتا ہے اور محتاجی اس کی آنکھوں کے سامنے کر دیتا ہے اور دنیا بھی اسے اتنی ہی ملتی ہے جتنی اس کے مقدر میں لکھی گئی ہوتی ہے۔“ [أحمد: 183وسنده صحيح]
ابان بن عثمان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ دو پہر کے وقت مروان کے پاس سے نکلے تو ہم آپس میں کہنے لگے: مروان نے اس وقت اگر انہیں بلایا ہے تو یقینا کچھ پوچھنے کے لیے ہی بلایا ہوگا چنانچہ میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور ان سے یہی سوال پوچھا: تو انہوں نے کہا: ہاں اس نے مجھے سے کچھ چیزوں کے متعلق پوچھا: تھا جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”اللہ اس شخص کو ترو تازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی حدیث سنی پھر اسے یاد کر کے آگے دوسروں کو پہنچا دیا کیونکہ بعض اوقات حامل فقہ ایسا ہوتا ہے جو درحقیقت فقیہ نہیں ہوتا اور بعض اوقات حامل فقہ ایسا بھی ہوتا ہے جو اپنے سے بڑھ کر فقیہ تک اس کو پہنچا دیتا ہے۔ تین چیزوں میں مسلمان کا دل کبھی خیانت نہیں کرتا، اللہ کے لیے اخلاص کے ساتھ عمل کرنا، حکمرانوں کی خیر خواہی کرنا اور جماعت کو لازم پکڑنا کیونکہ ان کی دعوت (دعا) ان کو چاروں اطراف سے گھیر لیتی ہے۔“ اور فرمایا: ”جس شخص کا غم ہی آخرت ہو اللہ اس کے بکھرے ہوئے کام سمیٹ دیتا ہے اور غنی اس کے دل میں رکھ دیتا ہے اور دنیا اس کے پاس ذلیل و مطیع ہو کر خود ہی آجاتی ہے اور جس کا مقصد ہی دنیا ہو اللہ اس کے کام کو بکھیر دیتا ہے اور محتاجی اس کی آنکھوں کے سامنے کر دیتا ہے اور دنیا بھی اسے اتنی ہی ملتی ہے جتنی اس کے مقدر میں لکھی گئی ہوتی ہے۔“ [أحمد: 183وسنده صحيح]
870. أَلَا رُبَّ نَفْسٍ طَاعِمَةٍ نَاعِمَةٍ فِي الدُّنْيَا جَائِعَةٍ عَارِيَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
سنو! کتنی ہی جانیں ایسی ہیں جو دنیا میں تو خوب کھانے پینے والی، ناز و نعمت میں رہنے والی ہیں لیکن قیامت کے دن بھوکی ننگی ہوں گی
حدیث نمبر: 1423
1423 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ بْنِ النَّحَّاسِ، أبنا أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ جَعْفَرَ السَّعْدِيُّ، ثنا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا الْمُعَلَّى بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ الْكِنْدِيُّ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ ابْنِ الْبُجَيْرِ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَصَابَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا جُوعٌ، قَالَ فَوَضَعَ الْحَجَرَ عَلَى بَطْنِهِ، ثُمَّ قَالَ: «أَلَا وَإِنَّ رُبَّ نَفْسٍ طَاعِمَةٍ نَاعِمَةٍ فِي الدُّنْيَا جَائِعَةٍ عَارِيَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَلَا رُبَّ مُكْرِمٍ نَفْسَهُ وَهُوَ لَهَا مُهِينٌ، أَلَا رُبَّ مُهِينٌ لِنَفْسِهِ وَهُوَ لَهَا مُكْرِمٌ، أَلَا يَا رُبَّ مُتَخَوِّضٍ وَمُتَنَعِّمٍ فِيمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مَا لَهُ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى مِنْ خَلَاقٍ، أَلَا وَإِنَّ عَمَلَ الْجَنَّةِ حَزْنَةٌ بِرَبْوَةٍ، أَلَا وَإِنَّ عَمَلَ النَّارِ سَهْلَةٌ بِشَهْوَةٍ، أَلَا يَا رُبَّ شَهْوَةَ سَاعَةٍ أَوْرَثَتْ حُزْنًا طَوِيلًا»
سیدنا ابن جبیر رضی اللہ عنہ جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں، کہتے ہیں کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت بھوک لگی آپ نے اپنے پیٹ پر پتھر رکھ لیا پھر فرمایا: ”سنو! کتنی ہی جانیں ایسی ہیں جو دنیا میں تو خوب کھانے پینے والی، ناز و نعمت میں رہنے والی ہیں لیکن قیامت کے دن بھوکی ننگی ہوں گی۔ سنو! کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اپنے نفس کی عزت کرنے والے ہیں حالانکہ وہ اسے ذلیل کرنے والے ہیں۔ سنو! کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اپنے نفس کو ذلیل کرنے والے ہیں حالانکہ (حقیقت میں) وہ اس کی عزت کرنے والے ہیں۔ سنو! کتنے ہی ایسے ہیں جو ان چیزوں میں جو اللہ نے اپنے رسول کو بطور فیء عطا کی ہیں زبردستی گھسنے والے عیش وعشرت چاہنے والے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا کوئی حصہ نہیں۔ سنو! بے شک جنت کا عمل سخت اونچی مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ سنو! بے شک دوزخ کا عمل آسان لذت و شہوت کے ساتھ گھرا ہوا ہے۔ سنو! کتنی ہی ایسی خواہشات ہیں جن کی لذت ایک گھڑی کی ہے لیکن وہ لمبے عرصے کے غم کا وارث بنا دیتی ہیں۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1423]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، شعب الايمان: 1388، تاريخ دمشق: 4/123»
سعید بن سنان کندی متروک ہے۔
سعید بن سنان کندی متروک ہے۔
871. رُبَّ قَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ قِيَامِهِ إِلَّا السَّهَرُ
کتنے ہی قیام کرنے والے ایسے ہیں جنہیں سوائے رات بھر جاگنے کے کچھ نہیں ملتا
حدیث نمبر: 1424
1424 - أَخْبَرَنَا قَاضِي الْقُضَاةِ أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُفَسِّرِ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ الْقَاضِي الْمَرْوَزِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ، ثنا بَقِيَّةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى الْأَطْرَابُلْسِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رُبَّ قَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ قِيَامِهِ إِلَّا السَّهَرُ، وَرُبَّ صَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الْجُوعُ وَالْعَطَشُ»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتنے ہی قیام کرنے والے ایسے ہیں جنہیں سوائے رات بھر جاگنے کے کچھ نہیں ملتا اور کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں جنہیں ان کے روزے سے سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ نہیں ملتا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1424]
تخریج الحدیث: إسناده ضعيف، وأخرجه المعجم الكبير: 13413، بقیہ بن ولید مدلس کا عنعنہ ہے۔
حدیث نمبر: 1425
1425 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَعْرُوفُ بِابْنِ أَبِي الْعَوَّامِ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَجَّاجِ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْكَلَاعِيُّ، قَالَ: ثنا زَيْنُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «رُبَّ قَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ قِيَامِهِ السَّهَرُ، وَرُبَّ صَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ صِيَامِهِ الْجُوعُ وَالْعَطَشُ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتنے ہی قیام کرنے والے ایسے ہیں جنہیں ان کے قیام میں سے رات بھر جاگنے ہی کا حصہ ملتا ہے اور کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں جنہیں ان کے روزے میں سے بھوک اور پیاس ہی کا حصہ ملتا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1425]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1997، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3481، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1576، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2762، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1690، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8402، وأحمد فى «مسنده» برقم: 8978»
حدیث نمبر: 1426
1426 - وأنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ خَلَفٍ الْوَاسِطِيُّ، نا أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ شَاهِينَ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ، بِالْأَبْلَةِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ الْمَكِّيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رُبَّ صَائِمٍ لَيْسَ حَظُّهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الْجُوعُ وَالْعَطَشُ، وَرُبَّ قَائِمٍ لَيْسَ حَظُّهُ مِنْ قِيَامِهِ إِلَّا السَّهَرُ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں جنہیں ان کے روزے میں سے بھوک اور پیاس کے سوا کوئی حصہ نہیں ملتا اور کتنے ہی قیام کرنے والے ایسے ہیں جنہیں ان کے قیام میں سے رات بھر جاگنے کے سوا کوئی حصہ نہیں ملتا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1426]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1997، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3481، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1576، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2762، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1690، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8402، وأحمد فى «مسنده» برقم: 8978»
وضاحت: تشریح: -
جو شخص حالت روز ہ میں غیبت گالم گلوچ اور بے ہودہ گوئی سے باز نہ آئے یا افطاری میں حرام چیزوں کا استعمال کرے یا گناہوں سے باز نہ آئے تو اسے دن بھر کی بھوک کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا لہٰذا روزہ دار کو ان ممنوعہ امور سے اجتناب کرنا چاہیے پھر ایسے تہجد گزار اور قیام اللیل کا اہتمام کرنے والے جو اس میں ریاکاری کرتے ہیں یا مغضوب زمین پر نماز کا اہتمام کرتے ہیں یا فرض نمازیں باجماعت ادا نہیں کرتے انہیں رات کی بیداری کا اجر نہیں ملتا لہٰذا تہجد گزار ایسی عادات ترک کر دے جس سے اجر و ثواب اور اعمال کی قبولیت میں نقص واقع ہوتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه: 3 445]
جو شخص حالت روز ہ میں غیبت گالم گلوچ اور بے ہودہ گوئی سے باز نہ آئے یا افطاری میں حرام چیزوں کا استعمال کرے یا گناہوں سے باز نہ آئے تو اسے دن بھر کی بھوک کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا لہٰذا روزہ دار کو ان ممنوعہ امور سے اجتناب کرنا چاہیے پھر ایسے تہجد گزار اور قیام اللیل کا اہتمام کرنے والے جو اس میں ریاکاری کرتے ہیں یا مغضوب زمین پر نماز کا اہتمام کرتے ہیں یا فرض نمازیں باجماعت ادا نہیں کرتے انہیں رات کی بیداری کا اجر نہیں ملتا لہٰذا تہجد گزار ایسی عادات ترک کر دے جس سے اجر و ثواب اور اعمال کی قبولیت میں نقص واقع ہوتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه: 3 445]
872. وَرُبَّ طَاعِمٍ شَاكِرٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ صَائِمٍ صَابِرٍ
کتنے ہی کھانا کھا کر شکر ادا کرنے والے ایسے ہیں جو اجر میں روزہ رکھ کر صبر کرنے والوں سے بڑھ کر ہیں
حدیث نمبر: 1427
1427 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَعْرَابِيُّ، ثنا شَاذَانُ، ثنا الْكَامْرُوَانِيُّ، ثنا بَكْرُ بْنُ مُضَرٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «وَرُبَّ طَاعِمٍ شَاكِرٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ صَائِمٍ صَابِرٍ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”کتنے ہی کھانا کھا کر شکر ادا کرنے والے ایسے ہیں جو اجر میں روزہ رکھ کر صبر کرنے والوں سے بڑھ کر ہیں۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1427]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، ابن الاعرابي: 1734»
بشر بن ابراہیم سخت ضعیف ہے۔
بشر بن ابراہیم سخت ضعیف ہے۔
873. لَوْلَا أَنَّ السُّؤَّالَ يَكْذِبُونَ مَا قُدِّسَ مَنْ رَدَّهُمْ
اگر سائل جھوٹ نہ بولتے تو انہیں خالی ہاتھ لوٹانے والے عذاب سے کبھی محفوظ نہ رہتے
حدیث نمبر: 1428
1428 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الضِّرَابُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَرْوَانَ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ النُّعْمَانِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْقُرَشِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «لَوْلَا أَنَّ السُّؤَالَ يَكْذِبُونَ مَا قُدِّسَ مَنْ رَدَّهُمْ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر سائل جھوٹ نہ بولتے تو انہیں خالی ہاتھ لوٹانے والے عذاب سے کبھی محفوظ نہ رہتے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1428]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه شعب الايمان: 3126»
عبداللہ بن عبد الملک قرشی ضعیف ہے۔
عبداللہ بن عبد الملک قرشی ضعیف ہے۔
874. لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا
اگر تمہیں معلوم ہو جاتا جو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنتے اور زیادہ روتے
حدیث نمبر: 1429
1429 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ بْنِ النَّحَّاسِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہیں معلوم ہو جاتا جو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنستے اور زیادہ روتے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1429]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6485، 6637، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 113، 358، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2313، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 8823، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7615، 8239»
حدیث نمبر: 1430
1430 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمٌ هُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا»
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہیں معلوم ہو جاتا جو میں جانتا ہوں تو تم زیادہ روتے اور کم ہنستے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1430]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6486، ومسلم: 426 وابن ماجه: 4191، والترمذي فى «جامعه» برقم: 156، 3056، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1242، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12226»