مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
879. لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى إِلَيْهِمَا ثَالِثًا
بے شک ابن آدم کے پاس اگر مال کی (بھری ہوئی) دو وادیاں ہوں تو وہ ان کے ساتھ ضرور تیسری وادی بھی تلاش کرے گا
حدیث نمبر: 1441
1441 - أَخْبَرَنَا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ بُنْدَارٍ، ثنا أَبُو عَرُوبَةَ الْحَرَّانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا الْخَلِيلُ بْنُ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى إِلَيْهِمَا ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ»
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک ابن آدم کے پاس اگر مال کی (بھری ہوئی) دو وادیاں ہوں تو وہ ان کے ساتھ ضرور تیسری وادی بھی تلاش کرے گا اور ابن آدم کا پیٹ (قبر کی) مٹی کے علاوہ کوئی چیز نہیں بھرتی اور اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے جو توبہ کرے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1441]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم: 1048 والترمذي: 2337، وأحمد: 3/ 22»
حدیث نمبر: 1442
1442 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ، أبنا الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ، أبنا أَبُو الْعَلَاءِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْكُوفِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ التَّمِيمِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: «إِنَّا أَنْزَلْنَا الْمَالَ لِإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَلَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ لَهُ وَادِيَانِ، وَلَوْ كَانَ لَهُ وَادِيَانِ لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ إِلَيْهِمَا ثَالِثٌ، وَلَا يَمْلَأُ بَطْنَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ»
سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے فرمایا ہے کہ بے شک ہم نے نماز قائم کرانے اور زکوٰۃ دلوانے کے لیے مال نازل کیا ہے۔ اگر ابن آدم کے پاس (مال کی) ایک وادی ہو تو وہ یہی چاہے گا کہ اس کے پاس دو وادیاں ہوں اور اگر اس کے پاس دو وادیاں ہوں تو وہ یہی چاہے گا کہ اس کے ساتھ تیسری بھی ہو اور ابن آدم کا پیٹ (قبر کی) مٹی کے علاوہ کوئی چیز نہیں بھرتی اور اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے جو توبہ کرے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1442]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه أحمد:219/5، المعجم الكبير: 3304، شعب الايمان: 9800»
حدیث نمبر: 1443
1443 - وأنا أَبُو مُحَمَّدٍ التُّجِيبِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ بُهْزَادَ نا أَبُو عَوَانَةَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْبَاهِلِيُّ، نا عَارِمٌ، مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، نا أَبُو عَوَانَةَ وَاسْمُهُ الْوَضَّاحُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ، يَعْنِي مِنْ مَالِهِ لَبَغَى إِلَيْهِمَا الثَّالِثَ.» وَبَقِيَّةُ الْمَتْنِ عَلَى مَا هُوَ بِهِ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ، نَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ، قَالَ يَحْيَى: أَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ يَرْفَعُهُ: «لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا» الْحَدِيثَ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک ابن آدم کے پاس اگر دو وادیاں ہوں۔ یعنی اس کے مال کی۔ تو وہ ان کے ساتھ ضرور تیسری بھی تلاش کرے گا۔“ باقی متن وہی ہے جو دوسری حدیث کا ہے۔ اور اسے مسلم نے بھی اپنی سند کے ساتھ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ اگر ابن آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ ضرور تیسری بھی تلاش کرے گا۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1443]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم: 1048 والترمذي: 2337، وأحمد: 3/ 22»
وضاحت: تشریح: -
① مال کی محبت انسان میں فطری طور پر موجود ہے جس میں دنیا اور آخرت کی کئی مصلحتیں پوشید ہ ہیں، تاہم اس میں حد سے بڑھ جانا گمراہی کا باعث ہے۔
② مال کی حرص جائز حد سے آگے بڑھ جائے تو حق تلفی، بخل، فرائض میں کوتاہی اور اس قسم کی دوسری خرابیوں کا باعث بن جاتی ہے، اس لیے ان بداعمالیوں سے بچنے کے لیے مال کی محبت کو جائز حد سے آگے نہیں بڑھنے دنیا چاہیے۔
③ مال کی محبت کا علاج یہ ہے کہ فرض زکاۃ اور واجب اخراجات کے علاوہ بھی نیکی کی راہ میں زیادہ سے زیادہ مال خرچ کرنے کی کوشش کی جائے۔
④ مال کی ناجائز محبت سے تو بہ کرنا ضروری ہے۔
⑤ دل مٹی سے بھرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا دل زندگی بھر سیر نہیں ہوتا جب مٹی میں جائے گا اور قبر میں دفن ہوگا، تب اس کی حرص ختم ہوگی اور دل سیر ہوگا کیونکہ وہاں ثواب و عذاب کا سلسلہ شروع ہو جائے گا جس کے بعد دنیا کی طرف توجہ ممکن نہیں۔ [سنن ابن ماجه: 4895]
① مال کی محبت انسان میں فطری طور پر موجود ہے جس میں دنیا اور آخرت کی کئی مصلحتیں پوشید ہ ہیں، تاہم اس میں حد سے بڑھ جانا گمراہی کا باعث ہے۔
② مال کی حرص جائز حد سے آگے بڑھ جائے تو حق تلفی، بخل، فرائض میں کوتاہی اور اس قسم کی دوسری خرابیوں کا باعث بن جاتی ہے، اس لیے ان بداعمالیوں سے بچنے کے لیے مال کی محبت کو جائز حد سے آگے نہیں بڑھنے دنیا چاہیے۔
③ مال کی محبت کا علاج یہ ہے کہ فرض زکاۃ اور واجب اخراجات کے علاوہ بھی نیکی کی راہ میں زیادہ سے زیادہ مال خرچ کرنے کی کوشش کی جائے۔
④ مال کی ناجائز محبت سے تو بہ کرنا ضروری ہے۔
⑤ دل مٹی سے بھرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا دل زندگی بھر سیر نہیں ہوتا جب مٹی میں جائے گا اور قبر میں دفن ہوگا، تب اس کی حرص ختم ہوگی اور دل سیر ہوگا کیونکہ وہاں ثواب و عذاب کا سلسلہ شروع ہو جائے گا جس کے بعد دنیا کی طرف توجہ ممکن نہیں۔ [سنن ابن ماجه: 4895]
880. لَوْ أَنَّكُمْ تَتَوَكَّلُونَ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ
اگر واقعی تم اللہ پر اس طرح بھروسا کرو جیسے اس پر بھروسا کرنے کا حق ہے
حدیث نمبر: 1444
1444 - أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الْغَازِي، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمَوْتِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، قَالَ: ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ هُبَيْرَةَ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ أَنَّكُمْ تَتَوَكَّلُونَ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا»
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر واقعی تم اللہ پر اس طرح بھروسا کرو جیسے اس پر بھروسا کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں اس طرح رزق دے جیسے پرندوں کو رزق دیتا ہے جو صبح (اپنے گھونسلوں سے) بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو سیر ہو کر آتے ہیں۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1444]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه ترمذي: 2344، ابن ماجه: 4164، أحمد:31/1»
حدیث نمبر: 1445
1445 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ مَنْصُورُ بْنُ عَلِيٍّ الطَّرَسُوسِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى بْنِ هَارُونَ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلَفِ بْنِ قُدَيْدٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ هُبَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَوْ أَنَّكُمْ تَتَوَكَّلُونَ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ» وَذَكَرَ الْحَدِيثَ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”اگر واقعی تم اللہ پر اس طرح بھروسا کرو جیسے اس پر بھروسا کرنے کا حق ہے۔۔ . . . اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1445]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه ترمذي: 2344، ابن ماجه: 4164، أحمد:31/1»
وضاحت: تشریح: -
① پرندوں کا تو کل یہ ہے کہ وہ رزق جمع کر کے نہیں رکھتے بلکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ جس طرح اللہ نے ہمیں آج رزق دیا ہے اسی طرح کل بھی دے گا۔
② انسان عام طور پر اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے اس لیے گھبراتا ہے کہ وہ مستقبل کے بارے میں فقر و فاقہ سے ڈرتا ہے اسے یقین رکھنا چاہیے کہ جس طرح اللہ نے اسے اب رزق دیا ہے مستقبل میں بھی دے گا۔
③ توکل کا مطلب یہ نہیں کہ جائز اسباب اختیار نہ کیے جائیں۔ پرندے بھی گھونسلے چھوڑ کر نکلتے ہیں اور تلاش کر کے رزق کھاتے ہیں اسی طرح انسانوں کو حرص سے بچتے ہوئے جائز ذرائع سے رزق حاصل کرنا چاہیے۔ [سنن ابن ماجه: 5 /438]
① پرندوں کا تو کل یہ ہے کہ وہ رزق جمع کر کے نہیں رکھتے بلکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ جس طرح اللہ نے ہمیں آج رزق دیا ہے اسی طرح کل بھی دے گا۔
② انسان عام طور پر اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے اس لیے گھبراتا ہے کہ وہ مستقبل کے بارے میں فقر و فاقہ سے ڈرتا ہے اسے یقین رکھنا چاہیے کہ جس طرح اللہ نے اسے اب رزق دیا ہے مستقبل میں بھی دے گا۔
③ توکل کا مطلب یہ نہیں کہ جائز اسباب اختیار نہ کیے جائیں۔ پرندے بھی گھونسلے چھوڑ کر نکلتے ہیں اور تلاش کر کے رزق کھاتے ہیں اسی طرح انسانوں کو حرص سے بچتے ہوئے جائز ذرائع سے رزق حاصل کرنا چاہیے۔ [سنن ابن ماجه: 5 /438]
881. لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَجَاءَ اللَّهُ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ
اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ٰ (تمہاری جگہ) ایسی قوم لے آتا جو گناہ کرتی تو وہ انہیں بخشش دیتا اور جنت میں داخل کر دیتا
حدیث نمبر: 1446
1446 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْمَيْمُونِ النَّصِيبِيُّ، قَالَ: أبنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الدَّارَقُطْنِيُّ، ثنا أَبُو سُفْيَانَ دَاوُدُ بْنُ حَبِيبٍ الشَّنِيزِيُّ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَجَاءَ اللَّهُ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ (تمہاری جگہ) ایسی قوم لے آتا جو گناہ کرتی تو وہ انہیں بخشش دیتا اور جنت میں داخل کر دیتا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1446]
تخریج الحدیث: إسناده ضعيف جدا، عباد بن صہیب اور عثمان بن مقسم متروک ہیں۔
وضاحت: فائدہ: -
سیدنا ابوہریر ہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تمہیں لے جاتا اور تمہاری جگہ ایسی قوم لے آتا جو گناہ کرتے پھر اللہ سے بخشش طلب کرتے تو وہ انہیں بخش دیتا۔“ [مسلم: 2749]
سیدنا ابوہریر ہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تمہیں لے جاتا اور تمہاری جگہ ایسی قوم لے آتا جو گناہ کرتے پھر اللہ سے بخشش طلب کرتے تو وہ انہیں بخش دیتا۔“ [مسلم: 2749]
882. لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَخَشِيتُ عَلَيْكُمْ مَا هُوَ أَشَدُّ مِنْ ذَلِكَ، الْعُجْبَ الْعُجْبَ
اگر تم گناہ نہ کرتے تو مجھے تم پر اس (گناہ کے وبال) سے بھی سخت چیز کا ڈر تھا (اور وہ ہے) فخر و غرور
حدیث نمبر: 1447
1447 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَاجِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا الْحَجَبِيُّ، ثنا سَلَّامُ بْنُ أَبِي الصَّهْبَاءِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَخَشِيتُ عَلَيْكُمْ مَا هُوَ أَشَدُّ مِنْ ذَلِكَ الْعُجْبَ الْعُجْبَ»
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم گناہ نہ کرتے تو مجھے تم پر اس (گناہ کے وبال) سے بھی سخت چیز کا ڈر تھا (اور وہ ہے) فخر و غرور۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1447]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه كشف الاستار: 3633، الكامل لابن عدي:، شعب الايمان: 6868»
سلام بن ابی الصبہاء جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔
سلام بن ابی الصبہاء جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔
883. يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي
اللہ عزوجل نے فرمایا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں جو وہ میرے بارے میں رکھتا ہے
حدیث نمبر: 1448
1448 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، أبنا يَعْقُوبُ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّرْحِ ح وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: أبنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أبنا أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، وَأَنَا مَعَ عَبْدِي إِذَا ذَكَرَنِي"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے فرمایا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں جو وہ میرے بارے میں رکھتا ہے اور میں اپنے بندے کے ساتھ ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1448]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 7405، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2675، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2388، 3603، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3822، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7540»
وضاحت: تشریح: -
اس میں توبہ کی فضیلت کے علاوہ اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھنے کی ترغیب ہے لیکن جس طرح بغیر ہل چلائے اور بیچ ہوئے فصل کی پیداوار کی امید رکھنا حماقت ہے اسی طرح اعمال صالحہ کے بغیر اللہ سے اچھی امید وابستہ کرنا بھی نادانی ہے یہ گویا بالواسطہ عمل کی ترغیب ہے کیونکہ عمل کے بغیر کسی بھی چیز کی امید نہیں کی جاسکتی اور یہ ایک فطری بات ہے کہ اچھے عمل کرنے والا اللہ سے اچھی ہی امید وابستہ کرے گا اور برے عمل کرنے والا بری امید اور اسی کے مطابق اللہ کا معاملہ بھی اپنے بندوں کے ساتھ ہوگا اچھی امید رکھنے والوں سے اچھا اور بری امید رکھنے والوں سے برا کیونکہ دونوں کی بنیاد ان کے اپنے اپنے عمل پر ہوگی اور انہی عملوں کے مطابق اچھی یا بری جزاء ہوگی۔ (ریاض الصالحین: 1/ 405)
اس میں توبہ کی فضیلت کے علاوہ اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھنے کی ترغیب ہے لیکن جس طرح بغیر ہل چلائے اور بیچ ہوئے فصل کی پیداوار کی امید رکھنا حماقت ہے اسی طرح اعمال صالحہ کے بغیر اللہ سے اچھی امید وابستہ کرنا بھی نادانی ہے یہ گویا بالواسطہ عمل کی ترغیب ہے کیونکہ عمل کے بغیر کسی بھی چیز کی امید نہیں کی جاسکتی اور یہ ایک فطری بات ہے کہ اچھے عمل کرنے والا اللہ سے اچھی ہی امید وابستہ کرے گا اور برے عمل کرنے والا بری امید اور اسی کے مطابق اللہ کا معاملہ بھی اپنے بندوں کے ساتھ ہوگا اچھی امید رکھنے والوں سے اچھا اور بری امید رکھنے والوں سے برا کیونکہ دونوں کی بنیاد ان کے اپنے اپنے عمل پر ہوگی اور انہی عملوں کے مطابق اچھی یا بری جزاء ہوگی۔ (ریاض الصالحین: 1/ 405)
884. وَجَبَتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ
میری محبت ان لوگوں کے لیے واجب ہوگئی جو میری خاطر آپس میں محبت کرتے ہیں
حدیث نمبر: 1449
1449 - أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ تُرَابُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عُبَيْدٍ، أبنا أَبُو الْقَاسِمِ حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكِنَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَابِرٍ الْقَطَّانُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: وَجَبَتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ وَالْمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ"
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میری محبت ان لوگوں کے لیے واجب ہوگئی جو میری خاطر آپس میں محبت کرتے ہیں اور میری خاطر ایک دوسرے کی زیارت کرتے ہیں۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1449]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه الاتحاف الباسم: 414، أحمد:223/5، ابن حبان: 575»
حدیث نمبر: 1450
1450 - أنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْغَازِي، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمَوْتِ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" قَالَ اللَّهُ تَعَالَى:. وَذَكَرَهُ مُخْتَصَرًا
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ . . . . . . . اور انہوں نے اس حدیث کو مختصر بیان کیا۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1450]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه الاتحاف الباسم: 414، أحمد:223/5، ابن حبان: 575»
وضاحت: تشریح: -
① ابوادریس خولانی رحمتہ اللہ کہتے ہیں کہ میں دمشق کی مسجد میں داخل ہوا تو چمکتے دانتوں والا ایک نوجوان دیکھا لوگ اس کے پاس جمع تھے، جب کسی چیز میں ان کا اختلاف ہوتا تو اس کی طرف رجوع کرتے اور اس کی رائے و فیصلے کی طرف رجوع کرتے۔ میں نے پوچھا: کہ یہ کون ہیں؟ تو کہا گیا: یہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں، پھر اگلی صبح میں جلدی آیا تو دیکھا کہ وہ مجھ سے بھی پہلے آکر نماز پڑھ رہے ہیں میں نے ان کا انتظار کیا جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے ان کے سامنے آ کر انہیں سلام کیا پھر کہا: اللہ کی قسم! میں آپ سے اللہ کے لیے محبت کرتا ہوں، انہوں نے کہا: کیا واقعی؟ میں نے کہا: ہاں۔ تو انہوں نے میری چادر کا کنارہ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور فرمایا: تمہارے لیے خوشخبری ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ”اللہ نے فرمایا: میری محبت ان کے لیے واجب ہوگئی جو میری خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، میری خاطر ہم نشینی کرتے ہیں، میری خاطر ایک دوسرے کی زیارت کرتے ہیں، اور میری خاطر ایک دوسرے پر مال خرچ کرتے ہیں۔“
اس حدیث میں اللہ کی رضا کے لیے آپس میں محبت کرنے، ایک دوسرے سے میل ملاقات اور باہمی تعاون کرنے کی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے۔ ہمارے شیخ زبیر علی زئی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
② اللہ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرنا بے حد فضیلت کا کام ہے کیونکہ اس طرح سے اللہ تعالیٰ ٰ ٰ اپنے دونوں بندوں سے محبت کرنے لگتا ہے اور خوش قسمت ہے وہ شخص جس سے اللہ محبت کرے۔
③ کتاب وسنت میں اللہ اور رسول سے محبت کے لیے لفظ ”محبت“ آیا ہے لیکن عشق کا لفظ بالکل استعمال نہیں ہوا جبکہ بعض اہل بدعت موضوع و مردود روایتیوں سے استدلال کرتے ہوئے عشق کا لفظ استعمال کرتے ہیں حالانکہ ان روایات میں بھی عشق کا لفظ اللہ و رسول کے لیے نہیں آیا ہے۔ واضح رہے کہ عربی لغت و ادب میں عشق کی تعریف ”عشق مع الشہوۃ“ کے ساتھ کی گئی ہے۔ (الاتحاف، ص 490)
① ابوادریس خولانی رحمتہ اللہ کہتے ہیں کہ میں دمشق کی مسجد میں داخل ہوا تو چمکتے دانتوں والا ایک نوجوان دیکھا لوگ اس کے پاس جمع تھے، جب کسی چیز میں ان کا اختلاف ہوتا تو اس کی طرف رجوع کرتے اور اس کی رائے و فیصلے کی طرف رجوع کرتے۔ میں نے پوچھا: کہ یہ کون ہیں؟ تو کہا گیا: یہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں، پھر اگلی صبح میں جلدی آیا تو دیکھا کہ وہ مجھ سے بھی پہلے آکر نماز پڑھ رہے ہیں میں نے ان کا انتظار کیا جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے ان کے سامنے آ کر انہیں سلام کیا پھر کہا: اللہ کی قسم! میں آپ سے اللہ کے لیے محبت کرتا ہوں، انہوں نے کہا: کیا واقعی؟ میں نے کہا: ہاں۔ تو انہوں نے میری چادر کا کنارہ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور فرمایا: تمہارے لیے خوشخبری ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ”اللہ نے فرمایا: میری محبت ان کے لیے واجب ہوگئی جو میری خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، میری خاطر ہم نشینی کرتے ہیں، میری خاطر ایک دوسرے کی زیارت کرتے ہیں، اور میری خاطر ایک دوسرے پر مال خرچ کرتے ہیں۔“
اس حدیث میں اللہ کی رضا کے لیے آپس میں محبت کرنے، ایک دوسرے سے میل ملاقات اور باہمی تعاون کرنے کی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے۔ ہمارے شیخ زبیر علی زئی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
② اللہ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرنا بے حد فضیلت کا کام ہے کیونکہ اس طرح سے اللہ تعالیٰ ٰ ٰ اپنے دونوں بندوں سے محبت کرنے لگتا ہے اور خوش قسمت ہے وہ شخص جس سے اللہ محبت کرے۔
③ کتاب وسنت میں اللہ اور رسول سے محبت کے لیے لفظ ”محبت“ آیا ہے لیکن عشق کا لفظ بالکل استعمال نہیں ہوا جبکہ بعض اہل بدعت موضوع و مردود روایتیوں سے استدلال کرتے ہوئے عشق کا لفظ استعمال کرتے ہیں حالانکہ ان روایات میں بھی عشق کا لفظ اللہ و رسول کے لیے نہیں آیا ہے۔ واضح رہے کہ عربی لغت و ادب میں عشق کی تعریف ”عشق مع الشہوۃ“ کے ساتھ کی گئی ہے۔ (الاتحاف، ص 490)