صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ ذِكْرِ وُجُوبِ الْوُضُوءِ مِنَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ وَالنَّوْمِ
پاخانہ، پیشاب اور نیند سے وضو واجب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: Q17
وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ يُوجِبُ الْفَرْضَ فِي كِتَابِهِ بِمَعْنًى، وَيُوجِبُ ذَلِكَ الْفَرْضَ بِغَيْرِ ذَلِكَ الْمَعْنَى عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّمَا دَلَّ فِي كِتَابِهِ عَلَى أَنَّ الْوُضُوءَ يُوجِبُهُ الْغَائِطُ وَمُلَامَسَةُ النِّسَاءِ؛ لِأَنَّهُ أَمَرَ بِالتَّيَمُّمِ لِلْمَرِيضِ، وَفِي السَّفَرِ عِنْدَ الْإِعْوَازِ مِنَ الْمَاءِ، مِنَ الْغَائِطِ وَمُلَامَسَةِ النِّسَاءِ، فَدَلَّ الْكِتَابُ عَلَى أَنَّ الصَّحِيحَ الْوَاجِدَ لِلْمَاءِ عَلَيْهِ مِنَ الْغَائِطِ وَمُلَامَسَةِ النِّسَاءِ بِالْوُضُوءِ، إِذِ التَّيَمُّمُ بِالصَّعِيدِ الطَّيِّبِ إِنَّمَا جُعِلَ بَدَلًا مِنَ الْوُضُوءِ لِلْمَرِيضِ وَالْمُسَافِرِ عِنْدَ الْعَوْزِ لِلْمَاءِ، وَالنَّبِيُّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْلَمَ أَنَّ الْوُضُوءَ قَدْ يَجِبُ مِنْ غَيْرِ غَائِطٍ، وَمِنْ غَيْرِ مُلَامَسَةِ النِّسَاءِ، وَأَعْلَمَ فِي خَبَرِ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ أَنَّ الْبَوْلَ وَالنَّوْمَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى الِانْفِرَادِ يُوجِبُ الْوُضُوءَ، وَالْبَائِلُ وَالنَّائِمُ غَيْرُ مُتَغَوِّطٌ وَلَا مُلَامِسِ النِّسَاءِ، وَسَأَذْكُرُ بِمَشِيئَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَوْنِهِ الْأَحْدَاثَ الْمُوجِبَةَ لِلْوُضُوءِ بِحُكْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلَا الْغَائِطِ وَمُلَامَسَةِ النِّسَاءِ اللَّذَيْنِ ذَكَرَهُمَا فِي نَصِّ الْكِتَابِ خِلَافَ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ مِمَّنْ لَمْ يَتَبَحَّرِ الْعِلْمَ أَنَّهُ غَيْرُ جَائِزٍ أَنْ يَذْكُرَ اللَّهُ حُكْمًا فِي الْكِتَابِ فَيُوجِبَهُ بِشَرْطِ أَنْ يَجِبَ ذَلِكَ الْحُكْمُ بِغَيْرِ ذَلِكَ الشَّرْطِ الَّذِي بَيَّنَهُ فِي الْكِتَابِ
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ اللہ تعالیٰ کسی فرض کو قرآن مجید میں ایک معنی میں واجب کرتا ہے پھر اسی فرض کو دوسرے معنی میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے واجب کر دیتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ کے مطابق پاخانہ اور عورتوں سے ہمبستری کرنا وضو کو واجب کر دیتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مریض اور مسافر کو پانی کی عدم موجودگی میں پاخانہ اور عورتوں سے ہمبستری کرنے کے بعد تیمّم کرنے کا حُکم دیا ہے۔ لہٰذا کتاب اللہ کے حُکم کے مطابق تندرست آدمی کو پانی کی موجودگی میں پاخانہ اور عورتوں سے ہمبستری کے بعد وضو کرنا پڑے گا کیونکہ پاک مٹی سے تیمّم کرنے کو مسافر اور مریض کے لیے پانی کی عدم موجودگی میں وضو کا متبادل بنایا گیا ہے۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ وضو پاخانے اور عورتوں سے مباشرت کے علاوہ بھی واجب ہو جاتا ہے۔ سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کی روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے کہ پیشاب اور نیند میں سے ہر ایک وضو واجب کر دیتا ہے حالانکہ پیشاب کرنے والا اور سونے والا، پاخانہ کرنے اور عورتوں سے ہمبستری کرنے والے کے علاوہ ہیں۔ میں عنقریب اللہ تعالیٰ کی مشئیت اور نصرت سے وضو کو واجب کرنے والے ایسے احداث بیان کروں گا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ثابت ہیں اور وہ قرآن مجید میں مذکور احداث پاخانے اور عورتوں سے مباشرت کے علاوہ ہیں۔ اس شخص کے قول کے خلاف، جو معتبر عالم نہیں ہے وہ کہتا ہے یہ جائز نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ایک حکم ذکر کریں اور اسے مشروط واجب کریں، پھر وہی حکم قرآن مجید میں مذکور شرط کے بغیر ہی واجب ہو جائے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأحداث الموجبة للوضوء/حدیث: Q17]
حدیث نمبر: 17
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدَةَ الضَّبِّيُّ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ . ح وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ أَسْأَلُهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ يَا زِرُّ؟ قُلْتُ: ابْتِغَاءَ الْعِلْمِ، قَالَ:" يَا زِرُّ! فَإِنَّ الْمَلائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِمَا يَطْلُبُ" . قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّهُ وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنَ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ بَعْدَ الْغَائِطِ، وَكُنْتَ امْرَأً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ يَذْكُرُ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا؟ قَالَ:" نَعَمْ، كَانَ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفَرًا أَوْ قَالَ مُسَافِرِينَ أَنْ لا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ إِلا مِنْ جَنَابَةٍ، وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ" . هَذَا حَدِيثُ الْمَخْزُومِيِّ، وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ فِي حَدِيثِهِ: فَقَالَ: قَدْ بَلَغَنِي أَنَّ الْمَلائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا
زر بن حبیش رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موزوں پر مسح کرنے کے متعلق دریافت کرنے کے لیے حاضر ہوا۔ انہوں نے پوچھا کہ اے زر، کیسے آنا ہوا؟ میں نے کہا کہ علم کی تلاش میں (حاضر ہوا ہوں)۔ انہوں نے فرمایا کہ اے زر، بیشک فرشتے طالب علم کی علمی طلب اور جستجو پر رضامندی اور خوشی کے اظہار کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں، وہ کہتے ہیں، میں نے عرض کی کہ قضائے حاجت کے بعد موزوں پر مسح کرنے کے متعلق میرے دل میں کھٹکا سا ہے، اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں (سنا ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ جب ہم مسافر ہوں تو جنابت کے سوا اپنے موزے تین دن رات تک نہ اتاریں۔ پاخانہ، پیشاب اور نیند (کی وجہ) سے (اتارنے کی ضرورت نہیں) یہ مخزومی کی روایت ہے۔ احمد بن عبدہ کی روایت میں ہے: ”مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ فرشتے اپنے پر بچھاتے ہیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأحداث الموجبة للوضوء/حدیث: 17]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 4، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 17، 193، 196، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 85، 562، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 339، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 126، والترمذي فى (جامعه) برقم: 96، 2387، 2387 م، 3535، 3536، والدارمي فى (مسنده) برقم: 369، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 226، 478، 4070، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 940، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 563، والدارقطني فى (سننه) برقم: 480، 761، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18375»
14. بَابُ ذِكْرِ وُجُوبِ الْوُضُوءِ مِنَ الْمَذْيِ،
مذی سے وضو کے واجب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: Q18
وَهُوَ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي قَدْ أَعْلَمْتُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ يُوجِبُ الْحُكْمَ فِي كِتَابِهِ بِشَرْطٍ، وَيُوجِبُهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغَيْرِ ذَلِكَ الشَّرْطِ، إِذِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَذْكُرْ فِي آيَةِ الْوُضُوءِ الْمَذْيَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَوْجَبَ الْوُضُوءَ مِنَ الْمَذْيِ، وَاتَّفَقَ عُلَمَاءُ الْأَمْصَارِ قَدِيمًا وَحَدِيثًا عَلَى إِيجَابِ الْوُضُوءِ مِنَ الْمَذْيِ
یہ حکم اسی قسم سے ہے جسے میں نے بیان کیا تھا کہ کبھی اللہ تعالیٰ ایک حکم کو اپنی کتاب میں مشروط واجب کرتا ہے پھر اسی حکم کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے غیر مشروط واجب کر دیتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آیتِ وضو میں مذی کا ذکر نہیں کیا جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مذی سے وضو واجب قرار دیا ہے۔ تمام شہروں کے قدیم و جدید علماء کا اتفاق ہے کہ مذی سے وضو واجب ہو جاتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأحداث الموجبة للوضوء/حدیث: Q18]
حدیث نمبر: 18
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ ، وَفُضَالَةُ بْنُ الْفَضْلِ الْكُوفِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ: قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ ، وَقَالَ الآخَرُونَ: عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلا مَذَّاءً، فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لأَنَّ ابْنَتَهُ كَانَتْ عِنْدِي، فَأَمَرْتُ رَجُلا فَسَأَلَهُ، فَقَالَ:" مِنْهُ الْوُضُوءُ"
سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں بہت زیادہ مذی والا شخص تھا، میں نے (اس بارے میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پُوچھنے میں شرم محسوس کی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھی، میں نے ایک آدمی کو (یہ مسئلہ پوچھنے کا) حکم دیا تو اُس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (یہ مسئلہ) پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مذی (نکلنے) سے وضو کرنا ہو گا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأحداث الموجبة للوضوء/حدیث: 18]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 132، 178، 269، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 303، وابن الجارود فى "المنتقى"، 6، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 18، 19، 20، 22، 23، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1102، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 152، وأبو داود فى (سننه) برقم: 206، والترمذي فى (جامعه) برقم: 114، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 504، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 566، وأحمد فى (مسنده) برقم: 628»
حدیث نمبر: 19
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ وَهُوَ الأَعْمَشُ يُحَدِّثُ، عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَذْيِ مِنْ أَجْلِ فَاطِمَةَ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الأَسْوَدِ، فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" فِيهِ الْوُضُوءُ"
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے مذی کے متعلق مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہوئے شرم محسوس کی تو میں نے سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو (یہ مسئلہ پوچھنے کا) حکم دیا۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس(مذی) میں وضو کرنا (واجب) ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأحداث الموجبة للوضوء/حدیث: 19]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 132، 178، 269، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 303، وابن الجارود فى "المنتقى"، 6، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 18، 19، 20، 22، 23، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1102، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 152، وأبو داود فى (سننه) برقم: 206، والترمذي فى (جامعه) برقم: 114، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 504، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 566، وأحمد فى (مسنده) برقم: 628»
15. بَابُ الْأَمْرِ بِغَسْلِ الْفَرْجِ مِنَ الْمَذْيِ مَعَ الْوُضُوءِ.
مذی نکلنے سے وضو کرتے وقت شرم گاہ دھونے کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 20
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَبِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَلِيٌّ: قَالَ: حَدَّثَنِي. ح وَقَالَ بِشْرٌ: قَالَ: حَدَّثَنَا الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلا مَذَّاءً، فَجَعَلْتُ أَغْتَسِلُ فِي الشِّتَاءِ حَتَّى تَشَقَّقَ ظَهْرِي، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ ذُكِرَ لَهُ، فَقَالَ لِي:" لا تَفْعَلْ، إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ، وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلاةِ، فَإِذَا أَنْضَحْتَ الْمَاءَ، فَاغْتَسَلَ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُهُ: لا تَفْعَلْ: مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَقُولُ لَفْظُ زَجْرٍ، يُرِيدُ نَفْيَ إِيجَابِ ذَلِكَ الْفِعْلِ
سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں بکثرت مذی والا شخص تھا۔ میں سردی کے موسم میں غسل کرتا تھا یہاں تک کہ میری کمر سردی کی وجہ سے پھٹ گئی (اس میں درد ہونے لگا) میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”یہ (غسل) نہ کرو، جب تم مذی (نکلی ہوئی) دیکھو تو شرم گاہ دھو لو اور نماز کو وضو جیسا وضو کر لو، اور جب تمہاری منی نکل جائے تو غسل کرو۔“ امام ابو بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «لا تفعل» ”نہ کرو“ کلمہ زجر ہے، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مذی نکلنے پر غسل کرنے کے وجوب کی نفی کرنا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأحداث الموجبة للوضوء/حدیث: 20]
تخریج الحدیث: «اسناده صحیح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 132، 178، 269، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 303، وابن الجارود فى "المنتقى"، 6، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 18، 19، 20، 22، 23، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1102، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 152، وأبو داود فى (سننه) برقم: 206، والترمذي فى (جامعه) برقم: 114، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 504، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 566، وأحمد فى (مسنده) برقم: 628»
16. بَابُ الْأَمْرِ بِنَضْحِ الْفَرْجِ مِنَ الْمَذْيِ.
مذی (نکلنے) سے شرم گاہ دھونے کا حکم
حدیث نمبر: 21
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ إِذَا دَنَا مِنْ أَهْلِهِ فَخَرَجَ مِنْهُ الْمَذْيُ، مَاذَا عَلَيْهِ؟ قَالَ عَلِيٌّ: فَإِنَّ عِنْدِي ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَهُ، قَالَ الْمِقْدَادُ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" إِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ، وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلاةِ"
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے انہیں حُکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے متعلق پوچھیں جو اپنی بیوی کے قریب ہوتا ہے تو اس کی مذی نکل جاتی ہے اس پر کیا لازم ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا، چونکہ میرے پاس (میرے نکاح میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ہیں، اس لیے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال پوچھتے ہوئے شرماتا ہوں، سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص یہ پائے (کہ مذی نکل گئی ہے) تو اپنی شرم گاہ دھو لے اور وہ نماز کے لیے جیسا وضو کرتا ہے ویسا وضو کرلے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأحداث الموجبة للوضوء/حدیث: 21]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 120، وابن الجارود فى "المنتقى"، 5، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 21، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1101، 1106، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 153، وأبو داود فى (سننه) برقم: 207، بدون ترقيم، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 505، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 568، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16996»
حدیث نمبر: 22
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَمِّي ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : أَرْسَلْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الأَسْوَدِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنِ الْمَذْيِ يَخْرُجُ مِنَ الإِنْسَانِ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَوَضَّأْ وَانْضَحْ فَرْجَكَ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (مسئلہ پوچھنے کے لیے) بھیجا۔ تو اُنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ جس شخص کی مذی نکل جائے وہ کیا کرے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کرو اور اپنی شرم گاہ دھولو۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأحداث الموجبة للوضوء/حدیث: 22]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 132، 178، 269، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 303، وابن الجارود فى "المنتقى"، 6، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 18، 19، 20، 22، 23، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1102، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 152، وأبو داود فى (سننه) برقم: 206، والترمذي فى (جامعه) برقم: 114، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 504، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 566، وأحمد فى (مسنده) برقم: 628»
17. بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ بِغَسْلِ الْفَرْجِ وَنَضْحِهِ مِنَ الْمَذْيِ أَمْرُ نَدْبٍ وَإِرْشَادٍ لَا أَمْرُ فَرِيضَةٍ وَإِيجَابٍ.
اس بات کی دلیل کا بیان کہ مذی نکلنے سے شرم گاہ کو دھونا اور اسے چھینٹے مارنا مستحب ہے فرض اور واجب نہیں
حدیث نمبر: 23
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ غَالِبٍ أَبُو يَحْيَى الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلا مَذَّاءً فَسُئِلَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" يَكْفِيكَ مِنْهُ الْوُضُوءُ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَفِي خَبَرِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الَّذِي فِي الْمَذْيِ، قَالَ:" يَكْفِيكَ مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ"، قَدْ خَرَّجْتُهُ فِي بَابِ نَضْحِ الثَّوْبِ مِنَ الْمَذْيِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں بہت زیادہ مذی والا شخص تھا۔ میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مذی (نکلنے) سے تمہارے لیے وضو کرنا کافی ہو گا۔“ امام ابو بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مذی کے بارے میں سیدنا سھل بن حنیف کی پوری روایت کے الفاظ یوں ہیں «يكفيك من ذالك الوضوء» ”مذی نکلنے سے وضو کرنا تیرے لیے کافی ہو گا۔“ میں نے اسے مذی لگنے سے کپڑے دھونے کے باب میں ذکر کر دیا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأحداث الموجبة للوضوء/حدیث: 23]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 132، 178، 269، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 303، وابن الجارود فى "المنتقى"، 6، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 18، 19، 20، 22، 23، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1102، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 152، وأبو داود فى (سننه) برقم: 206، والترمذي فى (جامعه) برقم: 114، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 504، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 566، وأحمد فى (مسنده) برقم: 628»
18. بَابُ ذِكْرِ وُجُوبِ الْوُضُوءِ مِنَ الرِّيحِ الَّذِي يُسْمَعُ صَوْتُهَا بِالْأُذُنِ أَوْ يُوجَدُ رَائِحَتُهَا بِالْأَنْفِ.
اس ریح کے نکلنے سے وضو کے وجوب کا بیان جس کی آواز کانوں سے سنی جائے یا ناک سے بو محسوس کی جائے
حدیث نمبر: 24
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيِّ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ كِلاهُمَا، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ فِي بَطْنِهِ شَيْئًا، فَأَشْكَلَ خَرَجَ مِنْهُ شَيْءٌ أَوْ لَمْ يَخْرُجْ، فَلا يَخْرُجَنَّ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا، أَوْ يَجِدَ رِيحًا" . هَذَا حَدِيثُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی شخص کو اپنے پیٹ میں کچھ درد محسوس ہو تو وہ شک میں پڑ جائے کہ پیٹ سے کچھ نکلا ہے یا نہیں نکلا تو وہ (مسجد سے) نہ نکلے حتیٰ کہ آواز سن لے یا بُو محسوس کرے۔“ یہ خالد بن عبداللہ کی روایت ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأحداث الموجبة للوضوء/حدیث: 24]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 362، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 24، 28، وأبو داود فى (سننه) برقم: 177، والترمذي فى (جامعه) برقم: 75، والدارمي فى (مسنده) برقم: 748، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 577، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8485»