🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. ‏(‏37‏)‏ بَابُ التَّبَاعُدِ لِلْغَائِطِ فِي الصَّحَارِي عَنِ النَّاسِ
قضائے حاجت کے لیے لوگوں سے دور صحراؤں میں جانا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 50
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ الْمَذْهَبَ أَبْعَدَ"
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو (لوگوں سے) دور چلے جاتے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الآداب المحتاج إليها في إتيان الغائط والبول إلى الفراغ منها/حدیث: 50]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح: صحيح ابي داود 1، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 182، 203، 206، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 274، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 50، 190، 191، 203، 1064، 1514، 1515، 1642، 1645، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1326، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 489، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1، 149، 150، 151، والترمذي فى (جامعه) برقم: 20، 98، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 331، 389، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 267، والدارقطني فى (سننه) برقم: 737، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18421»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 51
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ ، قَالَ بُنْدَارٌ: قُلْتُ لِيَحْيَى: مَا اسْمُهُ؟ فَقَالَ: عُمَيْرُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ ، وَالْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ ، قَالَ:" خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُهُ خَرَجَ مِنَ الْخَلاءِ، وَكَانَ إِذَا أَرَادَ حَاجَةً أَبْعَدَ"
سیدنا عبدالرحمٰن بن ابو قراد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حج کے لیے) نکلا، (ایک دفعہ) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے (حا جت پوری کرنےکےبعد) نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائےحاجت کا ارادہ کرتے تھے تو (لوگوں سے) دور تشریف لے جاتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الآداب المحتاج إليها في إتيان الغائط والبول إلى الفراغ منها/حدیث: 51]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح: صحيح ابي داوٗد: 11، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 51، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 16، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 17، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 334، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15900»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
38. ‏(‏38‏)‏ بَابُ الرُّخْصَةِ فِي تَرْكِ التَّبَاعُدِ عَنِ النَّاسِ عِنْدَ الْبَوْلِ‏"‏‏.‏
پیشاب کرتے وقت لوگوں سے (زیادہ) دور نہ جانے کی رخصت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 52
حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَتَمَشَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأْنَتَهِي إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ، فَقَامَ يَبُولُ كَمَا يَبُولُ أَحَدُكُمْ، فَذَهَبْتُ أَتَنَحَّى مِنْهُ، فَقَالَ:" ادْنُهْ"، فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى قُمْتُ عَقِبَهُ حَتَّى فَرَغَ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتے ہوئے د یکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے گھورے (کوڑے کرکٹ کے ڈھیر) پر پہنچے تو کھڑے ہوکر پیشاب کرنے لگے۔ جس طرح تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرتا ہے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک طرف ہٹنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہو جاؤ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوگیا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہوگیا (پھر کھڑا رہا) یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (پیشاب کرکے) فارغ ہوگئے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الآداب المحتاج إليها في إتيان الغائط والبول إلى الفراغ منها/حدیث: 52]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 224، 225، 226، 2471، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 273، ابن الجارود فى "المنتقى"، 39، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 52، 61، 63، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1424، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 18، وأبو داود فى (سننه) برقم: 23، والترمذي فى (جامعه) برقم: 13، 13 م 1، 13 م 2، والدارمي فى (مسنده) برقم: 695، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 305، 306، 544، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 491، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18437»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. ‏(‏39‏)‏ بَابُ اسْتِحْبَابِ الِاسْتِتَارِ عِنْدَ الْغَائِطِ
قضائے حاجت کے وقت پردہ کرنا مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 53
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدَ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ:" وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبَّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ فِي حَاجَتِهِ هَدَفًا أَوْ حَائِشَ نَخْلٍ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَبَانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ إِدْرِيسَ، يَقُولُ: قُلْتُ لِشُعْبَةَ: مَا تَقُولُ فِي مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ؟ قَالَ: ثِقَةٌ، قُلْتُ: فَإِنَّهُ أَخْبَرَنِي عَنْ سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَكْتُبُ فِي سَبُورُّجَةٍ، قَالَ: سَلْمٌ الْعَلَوِيُّ الَّذِي كَانَ يَرَى يَعْنِي الْهِلالَ قَبْلَ النَّاسِ؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، نَسَبُهُ إِلَى جَدِّهِ هُوَ الَّذِي قَالَ عَنْهُ شُعْبَةُ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ سَيِّدُ بَنِي تَمِيمٍ
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کرتے وقت ٹیلے یا کھجوروں کے جھنڈ سے پردہ کرنا پسند کرتے تھے۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن ابان کو کہتے ہوئے سنا (وہ کہتے ہیں) میں نے ابن ادریس کو کہتے ہوئے سنا، میں نے شعبہ سے پوچھا کہ آپ مھدی بن میمون کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ اُنہوں نے فرمایا کہ (وہ) ثقہ (راوی) ہے۔ میں نےکہا کہ مجھےانہوں نےسلم علوی سے بیان کیا ہے، وہ کہتےہیں کہ میں نےابان بن ابوعیاش کو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس تختی پر لکھتے ہوئے دیکھا ہے۔ مھدی کہتے ہیں کہ سلم علوی وہ ہیں کہ جو لوگوں سے پہلے چاند دیکھ لیا کرتے تھے۔ اما م ابوبکر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ محمد بن ابو یعقوب، محمد بن اللہ بن ابویعقوب ہیں۔ وہ (محمد) اپنے دادا (ابویعقوب) کی طرف منسوب ہیں (یعنی انہیں محمد بن عبداللہ کہنے کی بجائے محمد بن ابو یعقوب کہہ دیا جاتا ہے) شعبہ ان کے (دادا کے) متعلق کہتے ہیں کہ مجھے محمد بن ابو یعقوب نے روایت بیان کی جو کہ بنی تمیم کے سردار ہیں۔ (یعنی ابو یعقوب) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الآداب المحتاج إليها في إتيان الغائط والبول إلى الفراغ منها/حدیث: 53]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 342، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 53، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1411، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2499، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2549، والدارمي فى (مسنده) برقم: 690، 782، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 340، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 451، 15914، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1769»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
40. ‏(‏40‏)‏ بَابُ الرُّخْصَةِ لِلنِّسَاءِ فِي الْخُرُوجِ لِلْبَرَازِ بِاللَّيْلِ إِلَى الصَّحَارِي
عورتوں کو قضائے حاجب کے لئے رات کے وقت صحراؤں میں جانے کی اجازت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 54
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي الطُّفَاوِيَّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ امْرَأَةً جَسِيمَةً، فَكَانَتْ إِذَا خَرَجَتْ لِحَاجَتِهَا بِاللَّيْلِ أشرَفَتْ عَلَى النِّسَاءِ، فَرَآهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: انْظُرِي كَيْفَ تَخْرُجِينَ؟ فَإِنَّكَ وَاللَّهِ مَا تَخْفَيْنَ عَلَيْنَا إِذَا خَرَجْتِ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ سَوْدَةُ لِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي يَدِهِ عِرْقٌ، فَمَا رَدَّ الْعِرْقَ مِنْ يَدِهِ حَتَّى فَرَغَ الْوَحْيُ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ قَدْ جَعَلَ لَكُنَّ رُخْصَةً أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَوَائِجِكُنَّ" . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِنَحْوِهِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سےروایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ سیدہ سود بنت زمعہ رضی اللہ عنہا بھاری جسم والی خاتون تھیں۔ وہ جب رات کےوقت قضائےحاجت کےلیےنکلتیں تو(اپنےلمبےقد کی وجہ سے) عورتوں سے ممتاز نظر آتیں (ایک روز) سیدنا عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے اُنہیں دیکھا تو کہا کہ ذرا غور کریں آپ (گھر سے) کیسے نکلتی ہیں۔ الله کی قسم، جب آپ باہر نکلتی ہیں تو آپ ہم پر مخفی نہیں رہتیں۔ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا تذکرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانا کھا رہے تھے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہڈی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہڈی اپنے ہاتھ سے ابھی رکھی نہیں تھی کہ وحی پوری ہوگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے تمہیں اپنی ضروریات کے لیے (گھر سے باہر) نکلنےکی اجازت دی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الآداب المحتاج إليها في إتيان الغائط والبول إلى الفراغ منها/حدیث: 54]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4795، 5237، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2170، 2170، 2170، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 54، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1409، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13637، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24928، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 4433»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
41. ‏(‏41‏)‏ بَابُ التَّحَفُّظِ مِنَ الْبَوْلِ كَيْ لَا يُصِيبَ الْبَدَنَ وَالثِّيَابَ، وَالتَّغْلِيظُ فِي تَرْكِ غَسْلِهِ إِذَا أَصَابَ الْبَدَنَ أَوِ الثِّيَابَ
بدن اور کپڑوں کو پیشاب لگنے سے بچانا چاہئیے، اگر بدن یا کپڑوں کو پیشاب لگ جائے تو اسے نہ دھونے پر سخت وعید ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 55
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ مَكَّةَ، أَوِ الْمَدِينَةِ، فَسَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانَيْنِ يُعَذَّبَانِ فِي قُبُورِهِمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ"، ثُمَّ قَالَ:" بَلَى، كَانَ أَحَدُهُمَا لا يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ، وَكَانَ الآخَرُ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ"، ثُمَّ دَعَا بِجَرِيدَةٍ فَكَسَرَهَا كَسْرَتَيْنِ، فَوَضَعَ عَلَى كُلِّ قَبْرٍ مِنْهُمَا كَسْرَةً، فَقِيلَ لَهُ: لِمَ فَعَلْتَ هَذَا؟ قَالَ:" لَعَلَّهُ يُخَفِّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ تَيْبَسَا أَوْ إِلَى أَنْ يَيْبَسَا" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکّہ مکرمہ یا مدینہ منوّرہ کے باغوں میں سے کسی باغ کے پاس سے گزرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انسانوں کی آواز سنی جنہیں اُن کی قبروں میں عذاب دیا جارہا تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کوعذاب دیا جارہا ہےاور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے، انہیں عذاب نہیں دیا جارہا۔ پھر فرمایا: کیوں نہیں (بڑے گناہ ہی کی وجہ سے انہیں عذاب دیا جارہا ہے) ان میں سے ایک اپنے پیشاب سے بچا نہیں کرتا تھا۔ اور دوسرا شخص چغل خوری کیا کرتا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی ٹہنی منگوائی اور اُسے (چیر کر) دو حصّے کردیا۔ پھر ہر قبر پر ایک ایک ٹکڑا رکھدیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ (اے اللہ کے رسول) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید ان کے عذاب میں تخفیف کردی جائے جب تک یہ ٹہنیاں سوکھ نہ جائیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الآداب المحتاج إليها في إتيان الغائط والبول إلى الفراغ منها/حدیث: 55]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 216، 218، 6052، 6055، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 292، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 55، 56، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3128، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 31، وأبو داود فى (سننه) برقم: 20، والترمذي فى (جامعه) برقم: 70، والدارمي فى (مسنده) برقم: 766، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 347، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 513، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2005، 2006»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 56
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ: عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ، بِمِثْلِهِ.
سیدنا ابن عباس رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صل الله علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے، پھر اوپر والی حدیث کی طرح بیان کیا- [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الآداب المحتاج إليها في إتيان الغائط والبول إلى الفراغ منها/حدیث: 56]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 216، 218، 6052، 6055، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 292، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 55، 56، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3128، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 31، وأبو داود فى (سننه) برقم: 20، والترمذي فى (جامعه) برقم: 70، والدارمي فى (مسنده) برقم: 766، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 347، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 513، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2005، 2006»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
42. ‏(‏42‏)‏ بَابُ ذِكْرِ خَبَرٍ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّهْيِ عَنِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ وَاسْتِدْبَارِهَا عِنْدَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ بِلَفْظٍ عَامٍّ مُرَادُهُ خَاصٌّ
پیشاب اور پاخانہ کرتے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے اور پشت کرنے کی ممانعت کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی حدیث کا بیان جس کے الفاظ عام ہیں اور مراد خاص ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 57
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ وَلا بَوْلٍ، وَلا تَسْتَدْبِرُوهَا، وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا" . قَالَ أَبُو أَيُّوبَ: فَقَدِمْنَا الشَّامَ فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ قَدْ بُنِيَتْ نَحْوَ الْقِبْلَةِ، فَنَنْحَرِفُ عَنْهَا وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ. هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ الْجَبَّارِ
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پیشاب اور پاخانہ کرتے وقت قبلہ کی طرف مُنہ کرو نہ اس کی طرف پُشت کرو، لیکن مشرق یا مغرب کی طرف کرلو۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم (ملک) شام آئے تو ہم نے قبلہ رُخ بنے ہوئے بیت الخلاء پائے۔ تو ہم اس سے (قبلہ رُخ سے) مڑ کر (ان بیت الخلاء میں) بیٹھے اور اللہ تعالی سے بخشش ما نگتے۔ یہ عبدالجبار کی روایت کے الفاظ ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الآداب المحتاج إليها في إتيان الغائط والبول إلى الفراغ منها/حدیث: 57]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 144، 394، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 264، ومالك فى (الموطأ) برقم: 658، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 57، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1416، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 20، وأبو داود فى (سننه) برقم: 9، والترمذي فى (جامعه) برقم: 8، والدارمي فى (مسنده) برقم: 692، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 318، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 431، 432، والدارقطني فى (سننه) برقم: 170، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23997»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
43. ‏(‏43‏)‏ بَابُ ذِكْرِ خَبَرٍ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّخْصَةِ فِي الْبَوْلِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بَعْدَ نَهْيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ مُجْمَلًا غَيْرَ مُفَسَّرٍ،
قبلہ کی طرف منہ کرکے پیشاب کرنے کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مجمل غیر مفسر ممانعت کے بعد
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q58
قَدْ يَحْسَبُ مَنْ لَمْ يَتَبَحَّرْ فِي الْعِلْمِ أَنَّ الْبَوْلَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ جَائِزٌ لِكُلِّ بَائِلٍ، وَفِي أَيِّ مَوْضِعٍ كَانَ، وَيَتَوَهَّمُ مَنْ لَا يَفْهَمُ الْعِلْمَ، وَلَا يُمَيِّزُ بَيْنَ الْمُفَسَّرِ وَالْمُجْمَلِ أَنَّ فِعْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا نَاسِخٌ لِنَهْيِهِ عَنِ الْبَوْلِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ
کم علم شخص اس سے یہ سمجھ سکتا ہے کہ قبلہ کی طرف منہ کرکے پیشاب کرنا ہر شخص کے لیے اور ہر جگہ جائز ہے-علم کی فہم وفراست نہ رکھنے والے اور مفسر ومجمل میں تمیز کرنے والے شخص کو وہم ہو سکتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل آپ کے قبلہ رخ پیشاب کرنے کی ممانعت کا ناسخ ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الآداب المحتاج إليها في إتيان الغائط والبول إلى الفراغ منها/حدیث: Q58]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 58
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ يَعْنِي ابْنَ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِبَوْلٍ، فَرَأَيْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ بِعَامٍ يَسْتَقْبِلُهَا"
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قبلہ کی طرف مُنہ کر کے پیشاب کر نے سے منع کیا، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے ایک سال قبل اس کی طرف منہ (کرکے پیشاب) کرتے ہوئے دیکھا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الآداب المحتاج إليها في إتيان الغائط والبول إلى الفراغ منها/حدیث: 58]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 34، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 58، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1420، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 554، وأبو داود فى (سننه) برقم: 13، والترمذي فى (جامعه) برقم: 9، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 325، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 444، والدارقطني فى (سننه) برقم: 162، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15101»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں