🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1000. (49) بَابُ قِيَامِ الْمَأْمُومِ الْوَاحِدِ عَنْ يَمِينِ الْإِمَامِ إِذَا لَمْ يَكُنْ مَعَهُمَا أَحَدٌ
جب امام کے ساتھ ایک ہی مقتدی ہو اور اُن کے ساتھ دوسرا مقتدی موجود نہ ہو تو اس مقتدی کو امام کی دائیں جانب کھڑا ہونا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1533
أنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَلَمَّا كَانَ بَعْضُ اللَّيْلِ" قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَأَتَى شَنًّا مُعَلَّقًا، فَتَوَضَّأَ وَضُوءًا خَفِيفًا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ، وَصَنَعْتُ مِثْلَ الَّذِي صَنَعَ، ثُمَّ قُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَحَوَّلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلاةِ، فَخَرَجَ فَصَلَّى" . هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الْجَبَّارِ. وَقَالَ الْمَخْزُومِيُّ: كُرَيْبٍ، وَقَالَ:" فَخَرَجَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ" وَقَالَ: فَوَصَفَ وَضُوءَهُ، وَجَعَلَ يُقَلِّلُهُ، وَلَمْ يَقُلْ: وَضُوءًا خَفِيفًا
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری، جب رات کا کچھ حصہ گزر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد کے لئے بیدار ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لٹکے ہوئے ایک مشکیزے کے پاس آئے اور ہلکا سا وضو کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی، میں نے بھی اُٹھ کر وضو کیا اور سارے کام اسی طرح کیے، جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیے تھے۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی دائیں جانب گھما کر کھڑا کر لیا۔ پھر جس قدر اللہ تعالیٰ نے چاہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ کر گہری نیند سو گئے حتّیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لینے لگے۔ پھر مؤذن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لئے حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (مسجد کی طرف) تشریف لے گئے اور نماز پڑھائی۔
یہ عبدالجبار کی حدیث ہے اور جناب مخزومی کی کریب سے روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور نماز پڑھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو نہیں کیا۔ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کی کیفیت بیان کرتے ہوئے اسے کم مقدار شمار کیا اور یہ نہیں کہا کہ آپ نے ہلکا سا وضو کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1533]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 117، 138، 183، 697، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 256،، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 127، 448، 449، 884، 1093، 1094، 1103، 1119، 1121، 1524، 1533، 1534، 1675، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1445، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6335، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 441، وأبو داود فى (سننه) برقم: 58، 610، والترمذي فى (جامعه) برقم: 232، 3419، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 423، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 315، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1868»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1001. (50) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى ضِدِّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ الْمَأْمُومَ يَقُومُ خَلْفَ الْإِمَامِ يَنْتَظِرُ مَجِيءَ غَيْرِهِ
ان لوگوں کے قول کے برخلاف دلیل کا بیان جو کہتے ہیں کہ اکیلا مقتدی امام کے پیچھے کھڑا ہوکر دوسرے مقتدی کا انتظار کرے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1534Q
فَإِنْ فَرَغَ الْإِمَامُ مِنَ الْقِرَاءَةِ، وَأَرَادَ الرُّكُوعَ قَبْلَ مَجِيءِ غَيْرِهِ تَقَدَّمَ فَقَامَ عَنْ يَمِينِ الْإِمَامِ.
پھر اگر امام قراءت سے فارغ ہوگیا اور اس نے دوسرے مقتدی کے آنے سے پہلے رکوع کا ارادہ کرلیا تو مقتدی آگے بڑھ کرامام کی دائیں جانب کھڑا ہو جائے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1534Q]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1534
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ ، نا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، نا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ وَهُوَ ابْنُ كُهَيْلٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَتَتَبَّعْتُ كَيْفَ يُصَلِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَجِئْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، وَقَالَ: فَأَخَذَنِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر ایک رات بسر کی۔ میں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز (تہجّد) کیسے ادا فرماتے ہیں-(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دیر آرام کیا) پھر آپ نے کھڑے ہوکر نماز شروع کر دی - لہٰذا میں بھی آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑ کر اپنی داٗئیں جانب کھڑا کر لیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1534]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 117، 138، 183، 697، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 256،، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 127، 448، 449، 884، 1093، 1094، 1103، 1119، 1121، 1524، 1533، 1534، 1675، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1445، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6335، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 441، وأبو داود فى (سننه) برقم: 58، 610، والترمذي فى (جامعه) برقم: 232، 3419، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 423، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 315، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1868»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1002. (51) بَابُ قِيَامِ الِاثْنَيْنِ خَلْفَ الْإِمَامِ
دو مقتدی امام کے پیچھے کھڑے ہوں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1535
نا بُنْدَارٌ ، نا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ ، نا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ أَبُو سَعْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ:" قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ، فَجِئْتُهُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ عَنْ يَسَارِهِ، فَنَهَانِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ جَاءَ صَاحِبٌ لِي، فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُخَالِفًا بَيْنَ طَرَفَيْهِ"
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روکا اور اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا، پھر میرا ایک اور ساتھی آگیا تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنالی۔ لہٰذا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کپڑے کے کناروں کو مخالف سمت میں ڈالا ہواتھا - (یعنی دایاں کنارہ بائیں جانب اور بایاں کنارہ دائیں جانب) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1535]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 352، 353، 361، 370، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 518، وابن الجارود فى "المنتقى"، 191، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 762، 767، 1535، 1536، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2197، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 938، وأبو داود فى (سننه) برقم: 485، 633، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 974، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3330، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14336»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1003. (52) بَابُ تَقَدُّمِ الْإِمَامِ عِنْدَ مَجِيءِ الثَّالِثِ إِذَا كَانَ مَعَ الْمَأْمُومِ الْوَاحِدِ.
جب امام ایک ہی مقتدی کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہوتو تیسرے شخص کے آنے پر امام آگے بڑھ جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1536
أنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، نا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ خَالِدٍ وَهُوَ ابْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَا، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَوَجَدْنَاهُ قَائِمًا يُصَلِّي عَلَيْهِ إِزَارٌ، فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ، وَقَالَ:" أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، فَصَبَبْتُ لَهُ وَضُوءًا، فَتَوَضَّأَ فَالْتَحَفَ بِإِزَارِهِ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، وَأَتَى آخَرُ، فَقَامَ عَنْ يَسَارِهِ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، فَصَلَّى ثَلاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِالْوِتْرِ"
سیدنا عمر و بن سعید بیان کرتے ہیں کہ میں اور ابوسلمہ بن عبدالرحمان سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے انہیں ایک تہبند میں نماز پڑھتے ہوئے پایا۔ پھر کچھ حدیث بیان کی اور فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے تو آپ قضائے حاجت کے لئے چلے گئے - میں نے آپ کے لئے پانی انڈیلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر اپنے تہبند میں لپٹ گئے - تو میں آپ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کرلیا، پھر ایک اور شخص آگیا اور وہ آپ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی اور ہم نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی - آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر سمیت تیرہ رکعات ادا کیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1536]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 352، 353، 361، 370، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 518، وابن الجارود فى "المنتقى"، 191، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 762، 767، 1535، 1536، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2197، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 938، وأبو داود فى (سننه) برقم: 485، 633، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 974، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3330، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14336»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1004. (53) بَابُ إِمَامَةِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ الْوَاحِدَ، وَالْمَرْأَةَ الْوَاحِدَةَ.
امام کا ایک آدمی اور ایک عورت کی امامت کرانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1537
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي زِيَادٌ وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ ، أَنَّ قَزْعَةَ مَوْلًى لِعَبْدِ الْقَيْسِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَائِشَةُ خَلْفَنَا تُصَلِّي مَعَنَا، وَأَنَا إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصَلِّي مَعَهُ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں نماز پڑھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمارے ساتھ پیچھے کھڑے ہوکر نماز پڑھی اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑے ہوکر آپ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا - [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1537]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1537، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2204، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 278، 279، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 803، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5303، 5304، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2795»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1005. (54) بَابُ إِمَامَةِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ الْوَاحِدَ، وَالْمَرْأَتَيْنِ.
امام کا ایک مرد اور دو عورتوں کی امامت کرانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1538
نا بُنْدَارٌ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُخْتَارِ يُحَدِّثُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ،" أَنَّهُ كَانَ هُوَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمُّهُ وَخَالَتُهُ، فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ أَنَسًا عَنْ يَمِينِهِ، وَأُمَّهُ وَخَالَتَهُ خَلْفَهُمَا"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ان کی والدہ محترمہ اور خالہ موجود تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو اپنی دائیں جانب اور اُن کی والدہ محترمہ اور خالہ کو اپنے پیچھے کھڑا کیا - [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1538]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1982، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 660، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1538، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 990، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 801، وأبو داود فى (سننه) برقم: 608، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 975، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4349، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12235»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1006. (55) بَابُ إِمَامَةِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ وَالْغُلَامَ غَيْرَ الْمُدْرِكِ وَالْمَرْأَةَ الْوَاحِدَةَ.
امام کا ایک مرد، ایک نا بالغ لڑکے اور ایک عورت کی امامت کرانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1539
نا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " صَلَّيْتُ أَنَا وَيَتِيمٌ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَلَّتْ أُمِّي خَلْفَنَا"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اور ایک بچّے نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوکر نماز پڑھی، جبکہ میری والدہ نے ہمارے پیچھے کھڑے ہو کر نمازپڑھی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1539]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 380، 727، 860، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 658، ومالك فى (الموطأ) برقم: 522، وابن الجارود فى "المنتقى"، 344، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1539، 1540، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2205، وأبو داود فى (سننه) برقم: 612، والترمذي فى (جامعه) برقم: 234، البيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5241، 5301، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12264»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1540
امام صاحب نے جناب عبدالجبار بن علاء کی سند سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایت جیسی روایت بیان کی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1540]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 380، 727، 860، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 658، ومالك فى (الموطأ) برقم: 522، وابن الجارود فى "المنتقى"، 344، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1539، 1540، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2205، وأبو داود فى (سننه) برقم: 612، والترمذي فى (جامعه) برقم: 234، البيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5241، 5301، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12264»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1007. (56) بَابُ إِجَازَةِ صَلَاةِ الْمَأْمُومِ عَنْ يَمِينِ الْإِمَامِ إِذَا كَانَتِ الصُّفُوفُ خَلْفَهُمَا.
مقتدی کا امام کی دائیں جانب کھڑے ہوکر نماز پڑھنا جائز ہے جبکہ ان دونوں کے پیچھے صفیں (مکمّل) بن چکی ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1541
نا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ ، وَزِيدُ بْنُ أَخْرَمَ الطَّائِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الأَزْدِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ نُبَيْطٍ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ: مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ: " أَحَضَرَتِ الصَّلاةُ؟" قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ:" مُرُوا بِلالا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ". فَذَكَرُوا الْحَدِيثَ، وَقَالُوا فِي الْحَدِيثِ: وَأَذَّنَ وَأَقَامَ، وَأَمَرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ:" أُقِيمَتِ الصَّلاةُ؟!" قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ:" جِيئُونِي بِإِنْسَانٍ أَعْتَمِدُ عَلَيْهِ"، فَجَاءُوا بِبَرِيرَةَ وَرَجُلٍ آخَرَ، فَاعْتَمَدَ عَلَيْهِمَا، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاةِ، فَأُجْلِسَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ، فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَنَحَّى، فَأَمْسَكَهُ حَتَّى فَرَغَ مِنَ الصَّلاةِ . ثُمَّ ذَكَرُوا الْحَدِيثَ، وَهَذَا حَدِيثُ الْقَاسِمِ
سیدنا سالم بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوگئے تو آپ پر بیہوشی طاری ہوگئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو افاقہ ہوا تو پوچھا: کیا نماز کا وقت ہوگیا ہے؟ میں نے جواب دیا کہ جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال سے کہو کہ اذان دے اور ابوبکر (رضی اللہ عنہ) سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں - پھر راویوں نے مکمّل حدیث بیان کی اور یہ الفاظ بیان کیے کہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان اور اقامت کہی اور صحابہ کرام نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے نماز پڑھانے کے لئے درخواست کی۔ پھر آپ کو کچھ افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا نماز کھڑی ہو گئی ہے؟ میں نے عرض کی کہ جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حُکم دیا کہ میرے پاس ایک شخص کو لیکر آؤ تاکہ میں اس کا سہارا لے سکوں۔ تو وہ سیدنا بریرہ رضی اللہ عنہ اور ایک اور شخص کو لے آئے - آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کا سہارا لیا، پھر نماز کے لئے تشریف لے آئے، آپ کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا گیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (آپ کو دیکھ کر) پیچھے ہٹنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں روک لیا، حتّیٰ کہ وہ نماز سے فارغ ہو گئے۔ پھر انہوں نے باقی حدیث بیان کی اور یہ حدیث قاسم کی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1541]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1541، 1624، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7081، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1234، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6755»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں