صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
رمضان المبارک کے روزے کی حالت میں جماع کرنے کے کفّارے میں ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کے لئے کجھوریں ناپنے کے برتن کی مقدار کا بیان
حدیث نمبر: 1950
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِكْتَلٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ أَوْ عِشْرُونَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذْهُ , فَأَطْعِمْهُ عَنْكَ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں پندرہ یا بیس صاع کھجوریں تھیں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لے اور اپنی طرف سے (مساکین کو) کھلادو۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1950]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1936، 1937، 2600، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1111، وابن الجارود فى "المنتقى"، 421، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1943، 1944، 1945، 1949، 1950، 1951، 1954، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3523، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2390، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1671، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8136، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2303، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7063»
حدیث نمبر: 1951
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا مِهْرَانُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الرَّازِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَامِرٍ ، وَحَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَمَنْصُورٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَقَالَ: فَأُتِيَ بِمِكْتَلٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا , أَوْ عِشْرِينَ صَاعًا. إِلا أَنَّهُ غَلَطَ فِي الإِسْنَادِ , فَقَالَ: عَنْ أَبِي سَلَمَةَ. وَفِي خَبَرِ حَجَّاجٍ أَيْضًا , عَنِ الزُّهْرِيِّ: فَجِيءَ بِمِكْتَلٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ , إِلا أَنَّ الْحَجَّاجَ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الزُّهْرِيِّ. سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرَةَ يَحْكِي عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي ظَبْيَةَ , عَنْ هُشَيْمٍ، قَالَ: قَالَ الْحَجَّاجُ: صِفْ لِيَ الزُّهْرِيَّ لَمْ يَكُنْ يَرَاهُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ پھر بقیہ حدیث بیان کی۔ اور فرمایا کہ پس آپ کے پاس ایک بڑا ٹو کرا لایا گیا جس میں پندرہ یا بیس صاع کھجوریں تھیں۔ مگر اس کی سند میں غلطی ہوئی ہے۔ کہا کہ ”عن ابی سلمة“ اور حجاج کی روایت میں ہے کہ ”عن الزهري“۔ تو آپ کے پاس ایک بڑا ٹوکرا لایا گیا جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں ـ لیکن حجاج نے امام زہری سے سنا نہیں ہے ـ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن عمرہ کو بیان کرتے ہوئے سنا وہ احمد بن ابی ظبیہ کی سند سے ہشیم سے بیان کرتے ہیں کہ حجاج نے کہا کہ مجھے امام زہری رحمه الله کا حلیہ بیان کرو۔ اُنہوں نے امام زہری کو دیکھا نہیں تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1951]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1936، 1937، 2600، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1111، وابن الجارود فى "المنتقى"، 421، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1943، 1944، 1945، 1949، 1950، 1951، 1954، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3523، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2390، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1671، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8136، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2303، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7063»
ان لوگوں کے قول کے برخلاف دلیل کا بیان جو کہتے ہیں کہ رمضان المبارک کے روزے کے دوران جماع کرنے کے کفّارے میں ایک مسکین کو ساٹھ دنوں میں ساٹھ مساکین کا کھانا کھلانا جائز ہے۔ ہر روز ایک مسکین کو کھانا اسے دے دیا جائے۔ اس شخص نے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے اور ساٹھ مسکینوں کے کھانے میں فرق نہیں کیا۔ جو شخص لغتِ عرب کو سمجھتا ہو وہ جانتا ہے کہ ساٹھ مسکینوں کا کھانا کھلانا اسی وقت ممکن ہے جب ہر مسکین دوسرے سے مختلف ہو
امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ امام زہری کی روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1952]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1936، 1937، 2600، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1111، وابن الجارود فى "المنتقى"، 421، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1943، 1944، 1945، 1949، 1950، 1951، 1952، 1954، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3523، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2390، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1671، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8136، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2303، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7063»
اس بات کی دلیل کا بیان جماع کے کفّارے میں دو ماہ کے متفرق روزے رکھنا جائز نہیں ہے۔ بلکہ دو ماہ مسلسل روزے رکھنا واجب ہے
امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ امام زہری کی حمید کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ ”تو تم دو ماہ مسلسل روزے رکھو۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: Q1953]
اس بات کی دلیل کا بیان کہ جب جماع کرنے والے پر دو ماہ کے مسلسل روزے واجب ہوں اور وہ ان کی ادائیگی میں کوتاہی برتے حتیٰ کہ اسے موت آجائے تو اُس کی طرف سے روزے کی قضا دی جائے گی جیسا کہ اس کا مالی قرض ادا کیا جاتا ہے۔ اس بات کی دلیل کے ساتھ کہ اللہ تعالی کا قرض بندوں کے قرض کی نسبت ادائیگی کا زیادہ مستحق ہے
حدیث نمبر: 1953
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَعَطَاءٍ ، وَمُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ: إِنَّ أُخْتِي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ , قَالَ:" لَوْ كَانَ عَلَى أُخْتِكَ دَيْنٌ , أَكُنْتِ تَقْضِينَهُ؟" قَالَتْ: نَعَمْ , قَالَ:" فَحَقُّ اللَّهِ أَحَقُّ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اُس نے عرض کیا کہ میر ی بہن فوت ہوگئی ہے اور اس پر مسلسل دو ماہ کے روزے واجب ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہاری بہن پر (مالی) قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں؟“ اُس نے جواب دیا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اللہ کا حق ادا ئیگی کا زیادہ حق دار ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1953]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1953، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1148، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1014، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1953، 2053، 2054، 2055، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3530، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3825، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3308، 3310، والترمذي فى (جامعه) برقم: 716، 717، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1809، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1758، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8321، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2338، 2339، 2340، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1886»
جماع کرنے والے کو اس دن کے بدلے ایک روزے کی قضا دینے کے حُکم کا بیان جس دن میں اس نے جماع کیا تھا۔ جبکہ اس کے پاس مذکورہ کفّارہ موجود نہ ہو۔ بشرطیکہ حدیث صحیح ہو۔ کیونکہ میرا دل اس روایت سے مطمئن نہیں ہے
حدیث نمبر: 1954
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، نا حُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ وَقَعَ بِأَهْلِهِ فِي رَمَضَانَ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَقَالَ فِي آخِرِهِ:" فَصُمْ يَوْمًا، وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الإِسْنَادُ وَهْمٌ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور وہ رمضان المبارک میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر چکا تھا ـ پھر مکمّل حدیث بیان کی اور آخر میں فرمایا کہ تو (اس کی قضا میں) ایک روزہ رکھو اور اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرو۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ سند وہم ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1954]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1936، 1937، 2600، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1111، وابن الجارود فى "المنتقى"، 421، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1943، 1944، 1945، 1949، 1950، 1951، 1954، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3523، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2390، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1671، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8136، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2303، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7063»
حدیث نمبر: 1955
الْخَبَرُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، هُوَ الصَّحِيحُ لا عَنْ أَبِي سَلَمَةَ. وَقَدْ رَوَى أَيْضًا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ مِثْلَ خَبَرِ الزُّهْرِيِّ. وَقَالَ فِي خَبَرِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ , وَهَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ , قَالَ هَارُونُ: قَالَ حَجَّاجٌ : وَأَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ , وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، عَنِ الْحَجَّاجِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ. حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الزُّهْرِيِّ شَيْئًا
امام صاحب فرماتے ہیں کہ مذکورہ بالا حدیث کی سند میں ابن شہاب زہری رحمه الله حمید بن عبدالرحمٰن سے بیان کریں تو یہ صحیح ہوگا۔ اور ابوسلمہ سے بیان کریں تو یہ صحیح نہیں ہوگا۔ جناب حجاج بن ارطاہ نے بھی یہ روایت ”عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده“ کی سند سے روایت کی ہے۔ امام ابن مبارک کہتے ہیں کہ حجاج بن اطاہ نے امام زہری رحمه الله سے کچھ نہیں سنا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1955]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1955، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 9787»
اس بات کا بیان کہ جان بوجھ کر قے کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے
حدیث نمبر: 1956
نا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقَطِعِيُّ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبَسْطَامِيُّ ، وَجَمَاعَةٌ , وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ وَهُوَ الْمُعَلِّمُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ ابْنَ عَمْرٍو الأَوْزَاعِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ يَعِيشَ بْنَ الْوَلِيدِ حَدَّثَهُ، أَنَّ مَعْدَانَ بْنَ أَبِي طَلْحَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَاءَ فَأَفْطَرَ" ، فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ:" صَدَقَ، أَنَا صَبَبْتُ لَهُ وَضُوءَهُ". غَيْرَ أَنَّ الْبِسْطَامِيَّ ، وَمُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى ، قَالا: عَنِ الْحُسَيْنِ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَعْدَانَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ. وَالصَّوَابُ مَا قَالَ أَبُو مُوسَى , إِنَّمَا هُوَ يَعِيشُ، عَنْ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ. حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ بَكْرِ بْنِ غَيْلانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، نا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ يَعِيشَ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى. وَرَوَاهُ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ إِخْوَانِنَا يُرِيدُ الأَوْزَاعِيَّ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ مَعْدَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ أَخْبَرَهُ مِثْلَ حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ: فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ. حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ الْبَكْرَاوِيَّ، نا هِشَامٌ، غَيْرَ أَنَّ أَبَا مُوسَى، قَالَ: عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ، وَأَمَّا بُنْدَارٌ فَنَسَبَهُ إِلَى جَدِّهِ، وَقَالا: إِنَّ مَعْدَانَ أَخْبَرَهُ فَبِرِوَايَةِ هِشَامٍ، وَحَرْبِ بْنِ شَدَّادٍ عُلِمَ أَنَّ الصَّوَابَ رَوَاهُ أَبُو مُوسَى , وَأَنَّ يَعِيشَ بْنَ الْوَلِيدِ، سَمِعَ مِنْ مَعْدَانَ، وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا أَبُوهُ
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی تو روزہ چھوڑ دیا ـ جناب معدان کہتے ہیں کہ پس میں دمشق کی مسجد میں سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے اُنہیں سیدنا ابودردا ء رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بیان کی۔ تو اُنہوں نے فرمایا کہ اُنہوں نے سچ فرمایا ہے۔ میں نے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وضو کا پانی انڈیلا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1956]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 8، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1956، 1958، 1959، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1097، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1558، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2381، والترمذي فى (جامعه) برقم: 87، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 681، والدارقطني فى (سننه) برقم: 590، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22114»
امام صاحب نے مذکورہ بالا حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے ـ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1957]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1957، وأبو داود: برقم: 2381، والترمذي: 87، والنسائي: 3108، 3110»
جناب معدان بن ابی طلحہ سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے ابوموسیٰ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کرتے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1958]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 8، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1956، 1958، 1959، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1097، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1558، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2381، والترمذي فى (جامعه) برقم: 87، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 681، والدارقطني فى (سننه) برقم: 590، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22114»