🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
اس بات کا بیان کہ سینگی لگوانے سے سینگی لگانے والے اور سینگی لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1968
حَدَّثَنَا بِهَذَا الْخَبَرِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، وَبِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ حمَيْدًا يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِي ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَخَّصَ فِي الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ يَذْكُرْ مَزِيدًا عَلَى هَذَا، قُلْتُ لِلصَّنَعَانِيِّ: وَالْحِجَامَةُ؟ فَغَضِبَ، فَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ فِي الْخَبَرِ ذِكْرُ الْحِجَامَةِ. وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّهُ لَيْسَ فِي الْخَبَرِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذِكْرُ الْحِجَامَةِ
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے دار کو بوسہ لینے کی رخصت دی ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس سے زیادہ الفاظ مذکور نہیں ہیں۔ میں نے امام صنعانی سے پوچھا، اور سینگی لگوانے کی رخصت ہے؟ تو وہ سخت ناراض ہوئے اور اس حدیث میں سینگی لگوانے کی رخصت کے الفاظ مذکورہ ہونے کا انکار کیا اور اس بات کی دلیل کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت میں سینگی لگوانے کا ذکر موجود نہیں ہے (وہ درج ذیل روایت ہے)۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1968]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1967، 1968، 1969، 1979، 1980، 1981، 1982، 2005، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3224،والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8366، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2262، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 9414»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1969
أَنَّ عَلِيَّ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَيْضًا، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، نا الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِي ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: " رُخِّصَ لِلصَّائِمِ فِي الْحِجَامَةِ وَالْقُبْلَةِ" . فَهَذَا الْخَبَرُ رُخِّصَ لِلصَّائِمِ فِي الْحِجَامَةِ وَالْقُبْلَةِ، دَالٌّ عَلَى أَنَّهُ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ روزے دار کو سینگی لگوانے اور بوسہ لینے کی رخصت دی گئی ہے۔ یہ روایت کہ روزے دار کو سینگی لگوانے اور بوسہ لینے کی رخصت دی گئی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک موجود نہیں ہے (کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رخصت دی ہو)۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1969]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1967، 1968، 1969، 1979، 1980، 1981، 1982، 2005، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3224،والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8366، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2262، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 9414»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1970
وَقَدْ ثنا أَيْضًا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، ثنا أَبُو يَحْيَى، ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، وَالضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِي، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ فِي الْحِجَامَةِ: " إِنَّمَا كَانُوا يَكْرَهُونَ. قَالَ: أَوْ قَالَ يَخَافُونَ الضَّعْفَ"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سینگی لگوانے کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام سینگی لگوانا ناپسند کرتے تھے۔ یا فرمایا کہ وہ کمزوری سے ڈرتے تھے (اس لئے سینگی نہیں لگواتے تھے ـ) [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1970]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح موقوف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1970، 1971، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3231، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8365، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 9415، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 3429»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1971
وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، نا مُحَمَّدٌ، نا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِي، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: " إِنَّمَا كَرِهْتُ الْحِجَامَةَ لِلصَّائِمِ مَخَافَةَ الضَّعْفِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَخَبَرُ قَتَادَةَ، وَخَبَرُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ حُمَيْدٍ، وَالضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ دَالانِ عَلَى أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ لَمْ يَحْكِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرُّخْصَةَ فِي الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ، إِذْ غَيْرُ جَائِزٍ أَنْ يَرْوِيَ أَبُو سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ، وَيَقُولَ: كَانُوا يَكْرَهُونَ ذَلِكَ مَخَافَةَ الضَّعْفِ. إِذْ مَا قَدْ أَبَاحَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِبَاحَةً مُطْلَقًا لا اسْتِثْنَاءً، وَلا شَرِيطَةً، فَمُبَاحٌ لِجَمِيعِ الْخَلْقِ، غَيْرُ جَائِزٍ أَنْ يُقَالَ: أَبَاحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِجَامَةَ لِلصَّائِمِ، وَهُوَ مَكْرُوهٌ مَخَافَةَ الضَّعْفِ، وَلَمْ يَسْتَثْنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِبَاحَتِهَا مَنْ يَأْمَنُ الضَّعْفَ دُونَ مَنْ يَخَافُهُ. فَإِنْ صَحَّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ، كَانَ مُؤَدَّى هَذَا الْقَوْلِ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ قَالَ: كُرِهَ لِلصَّائِمِ مَا رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ فِيهَا. وَغَيْرُ جَائِزٍ أَنْ يُتَأَوَّلَ هَذَا عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْوُوا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُخْصَةً فِي الشَّيْءِ وَيَكْرَهُونَهُ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سینگی لگوانے کو صرف کمزوری کے ڈر کی وجہ سے ناپسند کیا گیا ہے ـ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں، لہٰذا جناب قتادہ کی حدیث اور جناب یحیٰی کی حمید اور ضحاک بن عثمان سے حدیث اس بات یر دلالت کرتی ہے کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے روزے دار کے لئے سینگی لگوانے کی رخصت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان نہیں کی۔ کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے دار کے لئے سینگی لگوانے کی رخصت نقل کریں اور پھر خود ہی کہہ دیں کہ صحا بہ کرام کمزوری کے ڈرسے سینگی لگوانا ناپسند کرتے تھے ـ کیونکہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوانا بغیر کسی استثناء اور شرط کے جائز قرار دیا ہے تو پھر یہ ساری مخلوق کے لئے جائز اور مباح ہے ـ پھر یہ کہنا جائز اور درست نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے دار کو سینگی لگوانے کی رخصت دی ہے جبکہ کمزوری کے ڈر کی وجہ سے یہ مکروہ ہے ـ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی رخصت اور اباحت سے اُس شخص کومستثنٰی قرار نہیں دیا جسے کمزوری کا ڈر ہو۔ لہٰذا اگر سیدنا ابوسعید رضی اﷲ عنہ سے یہ بات صحیح ثابت ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے دار کو سینگی لگوانے کی رخصت دی ہے تو پھر اس قول کی زد اور انجام یہ ہوگا کہ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ روزے دار کے لئے سینگی لگوانے کو مکروہ قرار دیتے ہیں جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے دار کو اس کی رخصت دی ہے ـ اور یہ بات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں کہنا قطعاً جائز نہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک چیز کی رخصت نقل کریں اور خود اُسے مکروہ اور ناپسند یدہ خیال کریں۔ جناب زید بن اسلم عطاء بن یسار کے واسطے سے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ اُنہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین چیز یں روزے دار کا روزہ توڑ دیتی ہیں، سینگی لگوانا، قے کرنا اور احتلام کا ہونا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1971]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح موقوف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1970، 1971، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3231، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8365، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 9415، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 3429»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1972
وَقَدْ رُوِيَ أَيْضًا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلاثٌ يُفَطِّرْنَ الصَّائِمَ: الْحِجَامَةُ، وَالْقَيْءُ، وَالْحُلُمُ" . حَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ أَبُو سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَهَذَا الإِسْنَادُ غَلَطٌ، لَيْسَ فِيهِ عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، وَلا أَبُو سَعِيدٍ. وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدٍ لَيْسَ هُوَ مِمَّنْ يَحْتَجُّ أَهْلُ التَّثْبِيتِ بِحَدِيثِهِ لِسُوءِ حِفْظِهِ لِلأَسَانِيدِ، وَهُوَ رَجُلٌ صِنَاعَتُهُ الْعِبَادَةُ وَالتَّقَشُّفُ وَالْمَوْعِظَةُ وَالزُّهْدِ، لَيْسَ مِنْ أَحْلاسِ الْحَدِيثِ الَّذِي يَحْفَظُ الأَسَانِيدَ
امام صاحب مذکورہ بالا روایت کی سند ذکر کرتے ہیں۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ سند غلط ہے۔ اس سند میں جناب عظاء بن یسار اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا ذکر درست نہیں ہے۔ ثقہ علماء عبدالرحمان بن زید کی روایت کو قابل حجت نہیں مانتے کیونکہ سند کو حفظ رکھنے میں اس کا حافظہ نہایت کمزور ہے۔ یہ شخص ایسا تھا کہ عبادت و ریاضت اور وعظ و نصیحت کرنا اس کا مشغلہ اور زاہدانہ طرز زندگی گزارتا تھا۔ یہ ان پختہ کار محدثین میں سے نہیں تھا جو اسانید حفظ کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1972]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1972، 1978، والترمذي فى (جامعه) برقم: 719، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8130، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2269، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1039»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1973
وَرَوَى هَذَا الْخَبَرَ سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، وَهُوَ مِمَّنْ لا يُدَانِيهِ فِي الْحِفْظِ فِي زَمَانِهِ كَثِيرُ أَحَدٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ صَاحِبٍ لَهُ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يُفْطِرُ مَنْ قَاءَ، وَلا مَنِ احْتَلَمَ، وَلا مَنِ احْتَجَمَ" . حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَلَوْ كَانَ هَذَا الْخَبَرُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، لَبَاحَ الثَّوْرِيُّ بِذِكْرِهِمَا، وَلَمْ يَسْكُتْ عَنِ اسْمَيْهِمَا، يَقُولُ: عَنْ صَاحِبٍ لَهُ، عَنْ رَجُلٍ، وَإِنَّمَا يُقَالُ فِي الأَخْبَارِ عَنْ صَاحِبٍ لَهُ، وَعَنْ رَجُلٍ إِذَا كَانَ غَيْرَ مَشْهُورٍ
یہی روایت امام سفیان بن سعید ثوری رحمه الله بھی بیان کرتے ہیں اور امام سفیان ثوری رحمه الله ان علماء میں سے ہیں کہ ان کے زمانے میں کوئی عالم دین حفظ داتقان میں ان کی برابری نہیں کرتا تھا۔ وہ زید بن اسلم سے اور وہ اپنے ایک ساتھی سے بیان کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے قے آجائے اُس کا روزہ نہیں ٹوٹتا جس شخص کو احتلام ہوگیا اُس کا روزہ نہیں ٹوٹا اور جس نے سینگی لگوائی اُس کا روزہ بھی نہیں ٹوٹتا ـ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اگر یہ روایت عطاء بن یسار کی سند سے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہوتی تو امام سفیان ثوری ان دونوں حضرات کی وضاحت کر دیتے اور ان کے ناموں سے خاموشی اختیار نہ کرتے۔ اس طرح نہ کہتے کہ وہ اپنے ایک ساتھی سے روایت کرتے ہیں اور وہ ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں ـ روایات کے بیان میں یہ مجہول طریقہ کار تو اُس وقت اختیار کیا جاتا ہے جبکہ راوی غیر مشہور ہو (جبکہ امام عطاء اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی شہرت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1973]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1973، 1974، 1975، 1976، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2376، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8129، 8372، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 7538، 7539»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1974
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، وَالثَّوْرِيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
امام سفیان ثوری رحمه الله زید بن اسلم کے واسطے سے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1974]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1973، 1974، 1975، 1976، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2376، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8129، 8372، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 7538، 7539»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1975
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِنَا، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يُفْطِرُ مَنْ قَاءَ، وَلا مَنِ احْتَلَمَ، وَلا مَنِ احْتَجَمَ" ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ
امام سفیان ثوری رحمه الله جناب زید بن اسلم سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ہمارے ایک ساتھی نے بیان کیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے قے کی اور جس شخص کو احتلام ہوگیا اور جس نے سینگی لگوائی تو اُن کا روزہ نہیں ٹوٹتا۔ جناب عبد الرزاق نے اس روایت کو مرفوع بیان نہیں کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1975]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1973، 1974، 1975، 1976، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2376، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8129، 8372، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 7538، 7539»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1976
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي سَبْرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
جناب عبدالرزاق اپنی سند سے عطاء بن یسار کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے مذکورہ بالا کی طرح روایت بیان کرتے ہیں ـ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1976]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1973، 1974، 1975، 1976، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2376، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8129، 8372، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 7538، 7539»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1977
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
جناب جعفر بن عون اپنی سند سے عطاء بن یسار کے واسطے سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1977]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لارساله، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1977، وانفرد به المصنف من هذا الطريق» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں