مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. ما قالوا في ثواب الحج
حج کے ثواب سے متعلق جو وارد ہوا ہے اس کا بیان
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 13060M
(حدثنا ابو محمد عبد الله بن يونس قال) (١): حدثنا ابو عبد الرحمن (بقي) (٢) بن مخلد قال: حدثنا ابو بكر عبد الله بن محمد (بن) (٣) ابي شيبة (العبسي) (٤) قال.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ما بين القوسين سقط من: [ص، جـ].
(٢) في [ب]: (لقى).
(٣) سقط من: [ص].
(٤) في [ح، ص، ز]: زيادة (العبسي).
حدثنا ابو محمد عبد الله بن يونس، قال: حدثنا ابو عبد الرحمن بقي بن مخلد، قال: حدثنا ابو بكر عبد الله بن محمد بن ابي شيبة العبسي , قال:
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري (حدثن، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 12780 ترقیم الشثری: -- 13061
١٣٠٦١ - حدثنا ابو خالد الاحمر سليمان بن (حيان) (١) عن عمرو بن قيس عن عاصم عن شقيق عن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"تابعوا بين الحج والعمرة فإنهما ينفيان الفقر والذنوب كما ينفي الكير خبث الحديد (والذهب والفضة وليس لحجة مبرورة جزاء إلا الجنة) (٢)" (٣).
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ]، وفي [ن]: (خباب).
(٢) في [جـ، ص، ز]: زيادة (والذهب والفضة وليس لحجة مبرورة جزاء إلا الجنة).
(٣) حسن؛ أبو خالد صدوق، أخرجه أحمد (٣٦٦٩)، والترمذي (٨١٠)، والنسائي ٥/ ١١٥، وابن حبان (٣٦٩٣)، وأبو يعلى (٤٩٧٦)، والبزار (١٧٢٢)، وابن خزيمة (٢٥١٢)، والطبراني (١٠٤٠٦)، والطبري في التفسير (٣٩٥٦)، والعقيلي ٢/ ١٢، والشاشي (٥٨٧)، وأبو نعيم في الحلية ٤/ ١١٠، والبغوي (١٨٤٣).
حدثنا ابو خالد الاحمر سليمان بن حيان ، عن عمرو بن قيس ، عن عاصم ، عن شقيق ، عن عبد الله ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: 20" تابعوا بين الحج والعمرة , فإنهما ينفيان الفقر والذنوب كما ينفي الكير خبث الحديد" (والذهب والفضة. وليس لحجة مبرورة جزاء إلا الجنة)
حضرت عبد اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حج اور عمرہ کرتے رہو، بیشک یہ دونوں فقر اور گناہوں کو اس طرح ختم اور دور کرتے ہیں جس طرح آگ کی بھٹی سونے، چاندی اور لوہے کے زنگ کو کرتی ہے، اور حج مبرور کی جزاء جنت کے سوا اور کچھ نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحج/حدیث: 13061]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13061، ترقيم محمد عوامة 12780)
ترقیم عوامۃ: 12781 ترقیم الشثری: -- 13062
١٣٠٦٢ - [حدثنا ابو بكر قال: (حدثنا) (١) سفيان بن عيينة عن عاصم بن ⦗٣٩٦⦘ (عبيد الله) (٢) عن عبد الله بن عامر بن ربيعة عن عمر قال: قال رسول ﷺ:"تابعوا بين الحج والعمرة فإنهما ينفيان الفقر والذنوب كما ينفي الكير خبث الحديد"] (٣).
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ص]: (أخبرنا).
(٢) في [أ، ص، ن]: (عبد اللَّه).
(٣) ضعيف؛ لحال عاصم بن عبيد اللَّه، أخرجه أحمد (١٦٧) وابن ماجه (٢٨٨٧) وأبو يعلى (١٩٨) والحميدي (١٧).
حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا سفيان بن عيينة ، عن عاصم بن عبد الله ، عن عبد الله بن عامر بن ربيعة، عن عمر ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم" تابعوا بين الحج والعمرة , فإنهما ينفيان الفقر والذنوب كما ينفي الكير خبث الحديد"
حضرت عمر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حج اور عمرہ کرتے رہو بیشک یہ دونوں فقر اور گناہوں کو اس طرح ختم اور دور کرتے ہیں جس طرح آگ کی بھٹی سونے، چاندی اور لوہے کے زنگ کو دور کرتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحج/حدیث: 13062]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13062، ترقيم محمد عوامة 12781)
ترقیم عوامۃ: 12782 ترقیم الشثری: -- 13063
١٣٠٦٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا سفيان (١) بن عيينة عن سمي عن ابي صالح عن ابي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"العمرة إلى العمرة كفارة لما بينهما والحج المبرور ليس له جزاء إلا الجنة" (٢).
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في [جـ، ص، ز]: (سفيان).
(٢) صحيح، أخرجه البخاري (١٧٧٣)، ومسلم (١٣٤٩).
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ کرنا درمیانی گناہوں کے لیے کفارہ ہے اور حج مبرور کی جزاء سوائے جنت کے اور کچھ نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحج/حدیث: 13063]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13063، ترقيم محمد عوامة 12782)
ترقیم عوامۃ: 12783 ترقیم الشثری: -- 13064
١٣٠٦٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال (حدثنا) (١) مسعر وسفيان عن منصور عن ابي حازم عن ابي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"من حج فلم يرفث ولم يفسق رجع كما ولدته امه" (٢).
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (أنبأنا).
(٢) صحيح، أخرجه البخاري (١٨٢٠) ومسلم (١٣٥٠).
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص حج اس طرح ادا کرے کہ نہ اس میں بیوی سے شرعی ملاقات کرے اور نہ ہی کوئی گناہ کرے وہ حج سے اس طرح لوٹے گا جس طرح اس کی ماں نے اس کو (آج ہی) جنم دیا ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحج/حدیث: 13064]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13064، ترقيم محمد عوامة 12783)
ترقیم عوامۃ: 12784 ترقیم الشثری: -- 13065
١٣٠٦٥ - حدثنا ابو بكر قال: (حدثنا) (١) جرير عن منصور عن (ابي الضحى) (٢) اخبره شيخ في هذا المسجد ان عمر خطبهم عند باب الكعبة وقال: (ما) (٣) من احد يجيء إلى هذا البيت لا ينهزه غير صلاة فيه حتى يستلم (الحجر) (٤)، ⦗٣٩٧⦘ إلا كفر عنه ما كان قبل ذلك (٥).
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ز]: (أخبرنا).
(٢) في [ص]: (أبي الضحاك).
(٣) سقط من: [ب].
(٤) في [ب]: (الحي).
(٥) مجهول؛ لإبهام الشيخ.
حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا جرير، عن منصور، عن ابي الضحى اخبره شيخ في هذا المسجد ان عمر خطبهم عند باب الكعبة وقال: " ما من احد يجيء إلى هذا البيت لا ينهزه غير صلاة فيه حتى يستلم الحجر , إلا كفر عنه ما كان قبل ذلك"
حضرت ابو الضحیٰ فرماتے ہیں کہ مجھے ایک بوڑھے نے اس مسجد میں خبر دی کہ حضرت عمر نے کعبہ شریف کے پاس خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا: نہیں ہے کوئی شخص جو اس گھر (بیت اللہ) کی طرف آتا ہے، اس کو گھر سے کوئی اور چیز نہیں نکالتی سوائے نماز پڑھنے کے یہاں تک کہ وہ حجر اسود کو بوسہ دیدے مگر یہ عمل اس کے سابقہ تمام گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحج/حدیث: 13065]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13065، ترقيم محمد عوامة 12784)
ترقیم عوامۃ: 12785 ترقیم الشثری: -- 13066
١٣٠٦٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الاعمش عن ابي (الضحى) (١) عن شيخ قال: قال عمر بن الخطاب: من حج هذا البيت لا يريد غيره، خرج من ذنوبه كيوم ولدته امه (٢).
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ن، أ]: (الظحى).
(٢) مجهول؛ لإبهام الراوي.
حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا وكيع، قال: حدثنا الاعمش، عن ابي الضحى، عن شيخ، قال: قال عمر بن الخطاب : " من حج هذا البيت لا يريد غيره , خرج من ذنوبه كيوم ولدته امه"
حضرت ابو الضحیٰ فرماتے ہیں کہ مجھے ایک بوڑھے نے بتایا کہ حضرت عمر ارشاد فرماتے ہیں: جو شخص حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرے اس کے علاوہ اس کا کوئی مقصد یہاں آنے کا نہ ہو وہ گناہوں سے اس طرح نکل جاتا ہے جیسے اس کی والدہ نے اس کو آج ہی جنا ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحج/حدیث: 13066]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13066، ترقيم محمد عوامة 12785)
ترقیم عوامۃ: 12786 ترقیم الشثری: -- 13067
١٣٠٦٧ - حدثنا ابو بكر قال: (حدثنا) (١) محمد بن فضيل عن حصين عن ابي صالح قال: كانت امراة من المهاجرات تحج، فإذا رجعت مرت على عمر، فيقول لها: (انقبت؟) (٢) فتقول: نعم، فيقول لها: استانفي العمل (٣).
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (أخبرنا).
(٢) أي: حفي خف بعيرك، وفي [أ، ب، س، هـ]: (أبقيت).
(٣) منقطع؛ أبو صالح لا يروي عن عمر.
حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا محمد بن فضيل، عن حصين، عن ابي صالح، قال: كانت امراة من المهاجرات تحج , فإذا رجعت مرت على عمر , فيقول لها:" ابقيت؟ فتقول: نعم , فيقول لها: استانفي العمل"
حضرت ابو صالح فرماتے ہیں کہ مہاجرہ عورتوں میں سے ایک عورت نے حج کیا جب وہ واپس آئی تو حضرت عمر کے پاس سے گذری، حضرت عمر نے اس سے پوچھا: کیا تیرے اونٹ کے کھر گھس چکے تھے؟ اس نے کہا جی ہاں، آپ نے اس سے فرمایا: تو اس عمل کو دوبارہ کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحج/حدیث: 13067]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13067، ترقيم محمد عوامة 12786)
ترقیم عوامۃ: 12787 ترقیم الشثری: -- 13068
١٣٠٦٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن مجاهد قال: بينما عمر جالسا عند البيت إذ قدم رجال من العراق حجاجا فطافوا بالبيت (وسعوا) (١) بين الصفا والمروة فدعاهم عمر، فقال: انهزكم (إليه) (٢) غيره، فقالوا: لا، (فقال) (٣): (انقبتم) (٤) قالوا: نعم فقال: (ادبرتم) (٥)، ثم قالوا: نعم، ⦗٣٩٨⦘ (قال) (٦): اما لا، فاستانفوا العمل (٧).
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (وطافوا).
(٢) في [ن]: (للَّه).
(٣) في [ب]: (يقال).
(٤) في [أ، ب، هـ]: (أبقيتم).
(٥) في [أ، جـ، ص، ز]: (أدبر)، وفي [ب، ن]: (أدهر، ثم).
(٦) في [ص]: (قالوا).
(٧) منقطع ضعيف؛ مجاهد لم يدرك عمر، وعطاء اختلط.
حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا محمد بن فضيل ، عن عطاء بن السائب ، عن مجاهد ، قال: بينما عمر جالسا عند البيت إذ قدم رجال من العراق حجاجا , فطافوا بالبيت وسعوا بين الصفا والمروة , فدعاهم عمر , فقال:" انهزكم إليه غيره , فقالوا: لا , فقال: ابقيتم , قالوا: نعم , فقال: ادبرتم , قالوا: نعم , قال: اما لا , فاستانفوا العمل"
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بیت اللہ کے پاس تشریف فرما تھے کہ عراق سے کچھ لوگ حج کے لیے آئے اور وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا ومروہ کی سعی کرنے لگے، حضرت عمر نے ان کو بلایا اور ان سے پوچھا: کیا تمہیں حج کے علاوہ کسی اور عمل نے بیت اللہ کی طرف نکالا ہے؟ انہوں نے جواب دیا نہیں، آپ نے دریافت فرمایا: کیا تمہارے اونٹوں کے کھر لمبے سفر کی مشقت کی وجہ سے گھس گئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا، ہاں، آپ نے دریافت فرمایا: کیا تمہارے اونٹوں کی پیٹھیں زخمی ہوگئی ہیں؟ انہوں نے کہا جی ہاں، آپ نے فرمایا: اگر تمہارا جواب ہاں میں ہے تو تم عمل لے کر لوٹے (اور اگر تمہارا نہیں میں ہوتا تو تم لوگ خسارے میں تھے)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحج/حدیث: 13068]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13068، ترقيم محمد عوامة 12787)
ترقیم عوامۃ: 12788 ترقیم الشثری: -- 13069
١٣٠٦٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) الاعمش عن حبيب ان قوما (مروا) (٢) بابي ذر بالربذة فقال لهم: ما (انصبكم) (٣) إلا الحج (استانفوا) (٤) العمل (٥).
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (أخبرنا).
(٢) سقط من: [ص].
(٣) في [أ، ب]: (أنصيبكم).
(٤) في [أ، هـ]: (فاستأنفوا).
(٥) منقطع؛ حبيب لم يدرك أبا ذر.
حضرت حبیب فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ حضرت ابو ذر غفاری کے پاس سے ربذہ مقام پر گذرے، آپ نے ان کو کہا کہ کیا تم لوگوں کو سوائے حج کے کسی اور چیز نے نہیں تھکایا؟ عمل کو دوبارہ کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحج/حدیث: 13069]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13069، ترقيم محمد عوامة 12788)