Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. حديث اليمامة ومن شهدها
جنگ یمامہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34407 ترقیم الشثری: -- 35973
٣٥٩٧٣ - (حدثنا ابو عبد الرحمن بقي بن مخلد قال: حدثنا ابو بكر عبد الله بن محمد بن ابي شيبة قال) (١): حدثنا عبد الله بن إدريس عن محمد بن عمارة عن ابي بكر بن محمد ان حبيب بن زيد قتله مسيلمة، فلما كان يوم اليمامة خرج اخوه عبد الله بن زيد (وامه) (٢)، وكانت امه نذرت ان لا يصيبها (غسل) (٣) حتى يقتل مسيلمة فخرجا في الناس، قال: قال عبد الله بن زيد: جعلته من شاني فحملت عليه (فطعنته) (٤) بالرمح، فمشى إلي في الرمح، قال: وناداني رجل من الناس ان (آجره) (٥) الرمح، قال: فلم يفهم، قال: (فناداه) (٦) ان الق الرمح من يدك، قال: فالقى الرمح من يده (وغلب) (٧) مسيلمة (٨).

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط ما بين القوسين من: [أ، ب، ح، ط، هـ].
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [أ، ب، جـ]: (عقل).
(٤) في [أ، ب، هـ]: (فطعنت).
(٥) أي أجعله يجرُّ الرمح بابتعادك عنه وترك الرمح، انظر: لسان العرب ٤/ ١٢٧، وتاج العروس ١٠/ ٤٠٥، والنهاية ١/ ٢٥٨، وفي [أ، هـ]: (أخره).
(٦) في [أ، ب، جـ]: (قتادة).
(٧) في [أ، ب]: (وعلت).
(٨) منقطع؛ أبو بكر بن محمد لم يدرك ذلك.

حضرت ابوبکر بن محمد فرماتے ہیں کہ حبیب بن زید کو مسیلمہ نے قتل کیا تھا۔ جنگ یمامہ میں ان کے بھائی عبد اللہ بن زید اور ان کی والدہ لڑائی کے لئے نکلے۔ ان کی والدہ نے قسم کھائی تھی کہ وہ اس وقت تک پانی کو ہاتھ نہیں لگائیں گی جب تک مسیلمہ کو قتل نہیں کردیا جاتا۔ چناچہ وہ ماں بیٹا لشکر کے ساتھ روانہ ہوئے۔ عبد اللہ بن زید کہتے ہیں کہ میں نے مسیلمہ کو اپنی نظر میں رکھا اور پھر اس پر حملہ کیا اور اسے نیزہ مارا۔ وہ نیزہ لے کر میری طرف بڑھا اور لوگوں میں سے ایک آدمی نے مجھے پکارا کہ اس کے منہ میں نیزہ مارو۔ وہ اس بات کو سمجھ نہ پایا۔ پھر اس نے اسے آواز دی کہ اپنے ہاتھ سے نیزہ پھینک دو۔ اس نے اپنے ہاتھ سے نیزہ پھینک دیا اور مسیلمہ مغلوب ہوگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 35973]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35973، ترقيم محمد عوامة 34407)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34408 ترقیم الشثری: -- 35974
٣٥٩٧٤ - حدثنا ابن علية عن ايوب عن ثمامة بن عبد الله عن انس قال: ⦗٦⦘ اتيت على ثابت بن قيس يوم اليمامة وهو (يتحنط) (١)، فقلت: اي عم الا ترى ما لقي الناس فقال: الآن يا ابن اخي (٢).

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (متمخط)، وفي [جـ]: (مثخمط)، وفي [س]: (متحنط)، وانظر: الجهاد لابن المبارك (١٢١)، وصحيح البخاري (٢٨٤٥).
(٢) صحيح.

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جنگ یمامہ کے دن حضرت ثابت بن قیس سے ملا درآنحالیکہ وہ شدید غصے کے عالم میں تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ اے چچا جان! آپ نہیں دیکھتے کہ آج لوگوں میں کیسی لڑائی ہوئی؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں بھتیجے میں نے اب دیکھا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 35974]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35974، ترقيم محمد عوامة 34408)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34409 ترقیم الشثری: -- 35975
٣٥٩٧٥ - حدثنا ابو اسامة عن عبد الله بن الوليد المزني عن ابي بكر بن عمرو بن عتبة عن ابن عمر قال: اتيت على عبد الله بن مخرمة صريعا (يوم) (١) اليمامة، (فوقفت) (٢) عليه فقال: يا عبد الله بن عمر، هل افطر الصائم؟ قلت: نعم، قال: فاجعل لي في هذا المجن ماء لعلي افطر عليه، فاتيت الحوض وهو مملوء دما، فضربته (بحجفة) (٣) معي، ثم اغترفت (فيه) (٤) فاتيته فوجدته قد قضى (٥).

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (عام).
(٢) في [أ، ب]: (فوقف).
(٣) في [هـ]: (بجحفة)، وهي ترس من جلد.
(٤) في [أ، ب، ح، هـ]: (منه).
(٥) مجهول؛ لجهالة أبي بكر بن عمرو بن عتبة.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں جنگ یمامہ میں حضرت عبد اللہ بن مخرمہ کے پاس آیا، وہ شدید زخمی حالت میں میدانِ جنگ میں پڑے تھے۔ میں ان کے پاس کھڑا ہوگیا۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ اے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما! کیا روزہ دار نے روزہ افطار کرلیا (یعنی کیا روزہ کھولنے کا وقت ہوگیا) میں نے کہا جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا کہ میرے لئے اس پیالے میں پانی لے آؤ تاکہ میں بھی روزہ افطار کرلوں۔ میں حوض کی طرف آیا تو وہ خون سے بھرا ہوا تھا۔ میں نے خون کو ہٹا کر پیالے کو پانی سے بھرا اور ان کے پاس لایا تو وہ وفات پاچکے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 35975]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35975، ترقيم محمد عوامة 34409)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34410 ترقیم الشثری: -- 35976
٣٥٩٧٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا حماد بن سلمة عن ثمامة بن انس عن انس قال: كنت بين يدي خالد بن الوليد وبين البراء يوم اليمامة. قال: فبعث خالد الخيل فجاؤا منهزمين، [وجعل البراء يرعد فجعلت الحده إلى الارض وهو يقول: (إني اجدني) (١) افطر. قال: ثم بعث خالد الخيل فجاؤا منهزمين] (٢). ⦗٧⦘ قال: فنظر خالد إلى السماء ثم (بلد) (٣) إلى الارض، وكان يصنع ذلك إذا اراد الامر، ثم قال: يا براء، -وحد في نفسه (٤) -، قال: فقال: الآن؟ قال: فقال: نعم الآن. قال: فركب البراء فرسه فجعل يضربها بالسوط، وكاني انظر إليها (تمصع بذنبها) (٥) فحمد الله واثنى عليه وقال: يا اهل المدينة إنه لا مدينة لكم وإنما هو الله وحده والجنة، ثم حمل وحمل الناس معه، فانهزم اهل اليمامة حتى اتى حصنهم (فلقيه) (٦) محكم اليمامة، (فقال: يا براء) (٧) فضربه بالسيف فاتقاه البراء (بالحجفة) (٨) فاصاب (الحجفة) (٩)، ثم ضربه البراء فصرعه فاخذ سيف محكم اليمامة فضربه به حتى انقطع، فقال: قبح الله ما بقي منك، ورمى (به) (١٠) وعاد إلى سيفه (١١).

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (أي أحدني).
(٢) بين المعكوفين سقط من: [أ، ب].
(٣) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٤) أي: رفع صوته.
(٥) في [أ، ب]: (تضع ثديها)، وفي [هـ]: (تمضغ ثديها).
(٦) في [س]: (فلعنه).
(٧) سقط من: [أ، هـ].
(٨) في [هـ]: (بالجحفة).
(٩) في [هـ]: (الجحفة).
(١٠) سقط من: [أ، هـ].
(١١) صحيح.

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جنگ یمامہ میں حضرت خالد بن ولید اور حضرت براء کے درمیان تھا۔ حضرت خالد نے ایک لشکر کو لڑائی کے لئے روانہ فرمایا تو وہ شکست کھاکر واپس آگیا۔ اس کے بعد حضرت براء پر لرزہ طاری ہوگیا اور میں نے انہیں سکون دینے کے لئے زمین کے ساتھ ملا دیا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ میرا روزہ ٹوٹ گیا۔ پھر حضرت خالد نے ایک اور جماعت کو لڑائی کے لئے بھیجا وہ بھی شکست کھاکر واپس آگئی، حضرت خالد نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور پھر زمین کی طرف دیر تک دیکھتے رہے۔ حضرت خالد جب کسی کام کا ارادہ کرتے تو یونہی کیا کرتے تھے۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ اے براء! تم حملہ کرو۔ حضرت براء نے پوچھا ابھی؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں ابھی۔ چناچہ حضرت براء اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اسے کوڑے مارنے لگے۔ وہ منظر گویا میری آنکھوں کے سامنے ہے جب وہ گھوڑا اپنی دم کو ہلا رہا تھا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی اور فرمایا کہ اے شہر والو! تمہارا کوئی شہر نہیں ہے۔ وہ اللہ یکتا ہے اور اس کے پاس تمہارے لئے جنت ہے۔ پھر حضرت براء نے حملہ کیا اور ان کے ساتھ لوگوں نے بھی حملہ کیا اور اہل یمامہ کو شکست ہوگئی۔ پھر حضرت براء یمامہ والوں کے قلعے میں گئے اور یمامہ کے محکم سے سامنا ہوا۔ اس نے حضرت براء پر حملہ کیا۔ حضرت براء نے اس کے حملے کو ناکام بنا کر اس پر حملہ کیا اور اسے مار گرایا۔ پھر آپ نے یمامہ کے محکم کی تلوار پکڑی اور اس کا سر قلم کردیا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تجھ میں سے جو باقی رہا اللہ اسے نامراد کرے۔ پھر آپ نے اس کی تلوار کو پھینک دیا اور اپنی تلوار کو اٹھا لیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 35976]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35976، ترقيم محمد عوامة 34410)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34411 ترقیم الشثری: -- 35977
٣٥٩٧٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا هشام عن محمد قال: كان الزبير يتبع القتلى يوم اليمامة، فإذا راى رجلا به رمق اجهز عليه، قال: فانتهى إلى رجل مضطجع مع القتلى فاهوى إليه بالسيف فلما وجد مس السيف وثب يسعى، وسعى الزبير خلفه وهو يقول: انا ابن صفية المهاجر، قال: فالتفت إليه (الرجل) (١) ⦗٨⦘ فقال: كيف ترى شد اخيك الكافر؟ قال: (فحاصره) (٢) حتى نجا (٣).

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ].
(٢) في [س]: (فحاضره).
(٣) منقطع؛ ابن سيرين لم يدرك ذلك.

حضرت محمد فرماتے ہیں کہ حضر ت زبیر رضی اللہ عنہ جنگ یمامہ کے دن مقتولین کو تلاش کررہے تھے۔ جب وہ کسی آدمی کے پاس سے گزرتے، اس کا معائنہ کرتے، اگر اس میں زندگی کی کچھ رمق باقی ہوتی تو اسے بھجوا دیتے۔ آپ ایک آدمی کے پاس پہنچے، جو مقتولین میں لیٹا ہوا تھا۔ آپ نے اسے تلوار لگائی تو وہ اٹھ کر بھاگ کھڑا ہوا۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اس کے پیچھے بھاگے اور کہتے جاتے تھے کہ میں صفیہ کا مہاجر بیٹا ہوں۔ آدمی ان کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا کہ آپ اپنے کافر بھائی کے پکڑنے کو کیسا سمجھتے ہیں۔ پھر انہوں نے اس کو گھیرا لیکن وہ آدمی بھاگ گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 35977]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35977، ترقيم محمد عوامة 34411)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34412 ترقیم الشثری: -- 35978
٣٥٩٧٨ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن عبيد بن ابي الجعد عن عبد الله ابن شداد بن الهاد قال: اصيب سالم مولى ابي حذيفة يوم اليمامة.
حضرت عبد اللہ بن شداد بن ہاد کہتے ہیں کہ حضرت سالم مولی ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 35978]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35978، ترقيم محمد عوامة 34412)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34413 ترقیم الشثری: -- 35979
٣٥٩٧٩ - حدثنا ابو معاوية عن هشام عن ابيه قال: كان شعار (المسلمين) (١) يوم مسيلمة يا اصحاب سورة البقرة (٢).

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (المسلم).
(٢) منقطع؛ لم يدرك عروة ذلك، أخرجه عبد الرزاق (٩٤٦٥)، وسعيد بن منصور (٢٩٠٨)، وورد من حديث عروة عن عائشة، أخرجه ابن أبي داود في مسند عائشة (٧٩).

حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ مسیلمہ کے خلاف جنگ میں مسلمانوں کا شعار یہ جملہ تھا اے سورة البقرۃ والو! [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 35979]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35979، ترقيم محمد عوامة 34413)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34414 ترقیم الشثری: -- 35980
٣٥٩٨٠ - حدثنا ابو معاوية عن هشام عن ابيه قال: كانت في بني سليم ردة فبعث إليهم ابو بكر خالد بن الوليد، فجمع منهم (اناسا) (١) في حظيرة حرقها عليهم بالنار، فبلغ ذلك عمر، فاتى (ابا) (٢) بكر فقال: انزع رجلا يعذب بعذاب الله، فقال ابو بكر: والله لا اشيم سيفا سله الله على عدوه حتى يكون الله هو يشيمه، وامره فمضى من وجهه ذلك إلى (مسيلمة) (٣) (٤).

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (أناس).
(٢) في [أ، هـ]: (أبو).
(٣) في [هـ]: (مسلمة).
(٤) منقطع، عروة بن الزبير لم يدرك ذلك.

حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ جب بنو سلیم کے لوگ مرتد ہونے لگے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر دے کر ان کی طرف روانہ فرمایا۔ وہاں انہوں نے لوگوں کو ایک جگہ جمع کرکے انہیں آگ لگا دی۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ آپ کو چاہئے کہ ایسے شخص کو قیادت سے معزول کردیں جو وہ عذاب دیتا ہے جو عذاب اللہ کا حق ہے! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خدا کی قسم میں ایسے اللہ کی تلوار کو نیام میں نہیں رکھ سکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ خود اپنی تلوار کو نیام میں نہ رکھ دے۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو مسیلمہ کی طرف جانے کا حکم دے دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 35980]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35980، ترقيم محمد عوامة 34414)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34415 ترقیم الشثری: -- 35981
٣٥٩٨١ - حدثنا عفان قال: ثنا حماد بن سلمة قال: ثنا ثمامة بن عبد الله عن انس ان خالد بن الوليد (وجه) (١) الناس يوم اليمامة (فاتوا) (٢) (على نهر) (٣) ⦗٩⦘ فجعلوا اسافل (اقبيتهم) (٤) في حجزهم، ثم قطعوا إليهم فتراموا فولى المسلمون مدبرين، فنكس خالد ساعة ثم رفع راسه وانا بينه وبين البراء، وكان خالد إذا (حزبه) (٥) امر نظر إلى السماء ساعة ثم رفع راسه إلى السماء، ثم (يفري) (٦) له رايه، (فاخذ) (٧) البراء (افكل) (٨) (فجعلت) (٩) الحده إلى الارض فقال: يا ابن اخي إني (لا افطر) (١٠). ثم قال: يا براء قم، فقال البراء: الآن؟ قال: نعم الآن، فركب البراء فرسا له انثى، فحمد الله و (اثنى) (١١) عليه ثم قال: (اما) (١٢) بعد يا ايها الناس إنه ما إلى المدينة سبيل، إنما هي الجنة فحضهم ساعة ثم (مصع) (١٣) فرسه (مصعات) (١٤)، فكاني اراها (تمصع بذنبها) (١٥)، ثم كبس (١٦) وكبس الناس (١٧).

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (وجد).
(٢) في [أ، ب]: (ماتوا).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [أ، ب، جـ]: (أفنيتهم).
(٥) في [أ، ب]: (أحزنه).
(٦) في [هـ]: (يفرق).
(٧) في [هـ]: (فأخذت).
(٨) أي: رعدة، وسقط من: [أ، ب، هـ].
(٩) في [أ، ب]: (فجعل).
(١٠) في [س، ط]: (لأفطر).
(١١) في [هـ]: (وأنثى).
(١٢) سقط من: [أ، ب، جـ].
(١٣) في [هـ]: (مضغ).
(١٤) في [هـ]: (مضغات).
(١٥) في [أ، ط، هـ]: (تمضغ ثدييها).
(١٦) أي: هجم، وفي [هـ]: زيادة (عليهم).
(١٧) صحيح.

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ یمامہ میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو دشمنوں کی طرف روانہ فرمایا۔ وہ دریا کے کنارے پر پہنچے، دشمن نے ایک چال کے ذریعے مسلمانوں پر حملہ کیا تو مسلمان تتر بتر ہوگئے اور الٹے پاؤں واپس لوٹ آئے۔ پھر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کچھ دیر سر جھکایا اور پھر سر اٹھایا۔ میں اس وقت ان کے اور حضرت براء کے درمیان کھڑا تھا۔ حضرت خالد کا معمول تھا کہ جب انہیں کوئی اہم کام پیش آتا تھا تو وہ کچھ دیر آسمان کی طرف نظر اٹھاتے تھے اور پھر آسمان کی طرف سر اٹھاتے تھے۔ پھر وہ اپنی رائے کا اظہار فرماتے تھے۔ اتنے میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ پر کپکپی طاری ہوئی تو میں نے انہیں زمین کے ساتھ ملا دیا وہ کہنے لگے اے میرے بھائی! میں روزہ توڑنا چاہتا ہوں۔ پھر حضرت خالد نے فرمایا کہ اے براء! اٹھو۔ انہوں نے کہا اس وقت؟ حضرت خالد نے فرمایا کہ ہاں اسی وقت۔ (٢) پھر حضرت براء اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی۔ پھر فرمایا اے لوگو! مدینہ جانے کا کوئی راستہ نہیں ہے، راستہ ہے تو جنت کا ہے۔ پھر آپ نے کچھ دیر انہیں ترغیب دی۔ پھر اپنے گھوڑے کو تھپکیاں دیں اور چل پڑے اور لوگ بھی ان کے پیچھے چل پڑے۔ (٣) حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یمامہ والوں کے شہر میں ایک ٹیلہ تھا۔ یمامہ کے سربراہ نے اس پر اپنے پاؤں رکھے اور وہ ایک موٹا اور لمبا آدمی تھا۔ وہ رجز پڑھنے لگا اور کہنے لگا کہ میں یمامہ کا سربراہ ہوں، میں یہاں کے لوگوں کا ٹھکانہ ہوں اور میں، میں ہوں۔ (٤) حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ ایک پہلوان آدمی تھا۔ اس نے حضرت براء رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا تو حضرت براء نے زرہ کے ذریعے اپنا بچاؤ کیا پھر حضرت براء نے اس کی پنڈلی پر وار کیا اور اسے مار ڈالا۔ یمامہ کے حاکم کے پاس ایک چوڑی ذرہ تھی، حضرت براء نے اپنی تلوار رکھی اور اس کی ذرہ لے کر اس سے مارا اور وہ ٹوٹ گیا پھر آپ نے فرمایا کہ اللہ اس چیز کو رسوا کرے جو تیرے اور میرے درمیان ہے۔ پھر آپ نے اس کی تلوار لے لی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 35981]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35981، ترقيم محمد عوامة 34415)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 35982
٣٥٩٨٢ - قال (حماد) (١) بن سلمة: فاخبرني عبيد الله بن ابي بكر عن انس ⦗١٠⦘ قال: كان في مدينتهم (ثلمة) (٢) فوضع محكم اليمامة رجليه عليها، وكان عظيما جسيما، فجعل يرتجز: انا محكم اليمامة، انا مدار الحلة، وانا وانا، قال: وكان رجلهم (٣)، فلما امكنه من الضرب ضربه واتقاه البراء (بحجفته) (٤)، ثم ضرب البراء ساقه فقتله، ومع محكم اليمامة (صفيحة) (٥) عريضة، فالقى سيفه واخذ صفيحة محكم، فحمل فضرب بها حتى انكسرت فقال: (قبح) (٦) الله ما بيني وبينك واخذ سيفه (٧).

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (أحمد).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) أي: شجاعهم، وفي [س]: (وكان رجلًا همرًا).
(٤) في [أ، ب]: (بجحيفه)، وفي [هـ]: (بجحفته).
(٥) في [أ، ب]: (صحيفة).
(٦) في [ق]: (فتح)، وفي كتاب الجهاد لابن المبارك: (قبح اللَّه ما بقي منك).
(٧) صحيح؛ أخرجه ابن المبارك في الجهاد (١٦٣).

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35982، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں