صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
7. باب بَيَانِ أَنَّ الآجَالَ وَالأَرْزَاقَ وَغَيْرَهَا لاَ تَزِيدُ وَلاَ تَنْقُصُ عَمَّا سَبَقَ بِهِ الْقَدَرُ:
باب: عمر اور روزی اور رزق تقدیر سے زیادہ نہ بڑھتی ہے نہ گھٹتی ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2663 ترقیم شاملہ: -- 6773
حَدَّثَنِيهِ أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: وَآثَارٍ مَبْلُوغَةٍ، قَالَ ابْنُ مَعْبَدٍ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ: قَبْلَ حِلِّهِ أَيْ نُزُولِهِ.
ابوداود سلیمان بن معبدنے کہا: ہمیں حسین بن حفص نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا: ”اور قدموں کے ایسے نشان جن تک قدم پہنچ چکے ہیں۔“ ابن معبدنے کہا: ان (اساتذہ) میں سے بعض نے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان): ”اس کے حل ہونے سے پہلے۔“ یعنی اس کے اترنے سے پہلے (وضاحتی الفاظ کے ساتھ) روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6773]
امام صاحب ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، اس میں «آثَارٌ مَبْلُوغَةٌ» ”قدم جن تک رسائی ہو چکی ہے“ یعنی شمار ہو چکے ہیں۔ ابن معبد کہتے ہیں، بعض نے یوں بیان کیا ہے: «قَبْلَ حِلِّهِ أَيْ نُزُولِهِ» ”وقت کی آمد سے پہلے۔“ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6773]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2663
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
8. باب الإِيمَانِ بِالْقَدَرِ وَالْإِذْعَانِ لَهُ
باب: تقدیر پر بھروسہ رکھنے کا حکم۔
ترقیم عبدالباقی: 2664 ترقیم شاملہ: -- 6774
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَي بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ، وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَلَا تَعْجَزْ، وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ فَلَا تَقُلْ: لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَانَ كَذَا وَكَذَا، وَلَكِنْ قُلْ: قَدَرُ اللَّهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ، فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طاقتور مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن کی نسبت بہتر اور زیادہ محبوب ہے، جبکہ خیر دونوں میں (موجود) ہے۔ جس چیز سے تمہیں (حقیقی) نفع پہنچے اس میں حرص کرو اور اللہ سے مدد مانگو اور کمزور نہ پڑو (مایوس ہو کر نہ بیٹھ جاؤ) اگر تمہیں کوئی (نقصان) پہنچے تو یہ نہ کہو: کاش! میں (اس طرح) کرتا تو ایسا ایسا ہوتا، بلکہ یہ کہو: (یہ) اللہ کی تقدیر ہے، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، اس لیے کہ (حسرت کرتے ہوئے) کاش (کہنا) شیطان کے عمل (کے دروازے) کو کھول دیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6774]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قوت والا مومن، کمزور مومن سے بہتر اور اللہ کو زیادہ پسند ہے اور دونوں میں خیر موجود ہے، جو چیز تمہارے لیے سودمند ہے اس کے لیے کوشش کر اور اللہ سے مدد طلب کر، عجز اور کمزوری کا اظہار نہ کر، اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچے تو یہ نہ کہو: اگر میں ایسا کرتا تو ایسا ایسا ہوتا، البتہ یہ کہو: «قَدَرُ اللهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ» ”اللہ کی تقدیر ہے، اس نے جو چاہا کیا“ کیونکہ «لَوْ» شیطان کے لیے راہِ عمل کھولتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6774]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2664
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة