🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب مَعْنَى كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ:
باب: ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کا حکم کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2659 ترقیم شاملہ: -- 6763
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِهْرَامَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ . ح وحَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ كُلُّهُمْ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ يُونُسَ، وَابْنِ أَبِي ذِئْبٍ مِثْلَ حَدِيثِهِمَا، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ، وَمَعْقِلٍ، سُئِلَ عَنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ.
معمر، شعیب اور معقل بن عبیداللہ نے زہری سے یونس اور ابن ابی ذئب کی سند کے ساتھ ان دونوں کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی، مگر شعیب اور معقل کی حدیث میں (مشرکین کی اولاد کی بجائے) مشرکین کے چھوٹے بچوں کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6763]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، شعیب اور معقل کی روایت میں اولاد کی جگہ «ذَرَارِي» کا لفظ ہے۔(معنی ایک ہی ہے) [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6763]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2659
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2659 ترقیم شاملہ: -- 6764
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ مَنْ يَمُوتُ مِنْهُمْ صَغِيرًا؟ فَقَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ ".
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے بچوں کے بارے میں سوال کیا گیا، ان میں سے جو چھوٹی عمر میں فوت ہو جائیں (تو ان کا انجام کیا ہو گا؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6764]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کے ان بچوں کے بارے میں دریافت کیا گیا جو بچپن میں فوت ہو جاتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کو خوب علم ہے کہ انھوں نے کس قسم کے عمل کرنے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6764]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2659
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2660 ترقیم شاملہ: -- 6765
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ؟ قَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ إِذْ خَلَقَهُمْ ".
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے بچوں کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جب ان کو پیدا کیا تو وہ زیادہ جاننے والا ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6765]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کے بچوں کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے تو اسے یہ بھی خوب علم ہے، وہ کون سے عمل کرنے والے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6765]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2660
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2661 ترقیم شاملہ: -- 6766
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَسْقَلَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْغُلَامَ الَّذِي قَتَلَهُ الْخَضِرُ طُبِعَ كَافِرًا، وَلَوْ عَاشَ لَأَرْهَقَ أَبَوَيْهِ طُغْيَانًا وَكُفْرًا ".
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس لڑکے کو حضرت خضر علیہ السلام نے قتل کیا تھا وہ طبعاً کافر بنایا گیا تھا، اگر وہ زندہ رہتا تو زبردستی اپنے ماں باپ کو سرکشی اور کفر کی طرف لے جاتا۔ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6766]
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچہ جسے حضرت خضر نے قتل کیا تھا، اس پر کفر کی مہر لگی ہوئی تھی اور وہ زندہ رہتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر پھنسا دیتا۔ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6766]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2661
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2662 ترقیم شاملہ: -- 6767
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: " تُوُفِّيَ صَبِيٌّ؟ فَقُلْتُ: طُوبَى لَهُ عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَ لَا تَدْرِينَ أَنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْجَنَّةَ وَخَلَقَ النَّارَ، فَخَلَقَ لِهَذِهِ أَهْلًا، وَلِهَذِهِ أَهْلًا ".
فضیل بن عمرو نے عائشہ بنت طلحہ سے اور انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک بچہ فوت ہوا تو میں نے کہا: اس کے لیے خوشخبری ہو، وہ تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نہیں جانتی کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا اور دوزخ کو پیدا کیا اور اس کے لیے بھی اس میں جانے والے بنائے اور اس کے لیے بھی اس میں رہنے والے بنائے؟ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6767]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، ایک بچہ فوت ہو گیا تو میں نے کہا: اس کے لیے مسرت و شادمانی ہے، جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم نہیں ہے، اللہ نے جنت اور دوزخ کو پیدا کیا ہے تو اس کے لیے بھی باشندے پیدا کیے ہیں اور اس کے لیے بھی اہل پیدا کیے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6767]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2662
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2662 ترقیم شاملہ: -- 6768
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَي ، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: دُعِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَنَازَةِ صَبِيٍّ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، طُوبَى لِهَذَا عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ لَمْ يَعْمَلِ السُّوءَ وَلَمْ يُدْرِكْهُ؟ قَالَ: أَوَ غَيْرَ ذَلِكَ يَا عَائِشَةُ، " إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ لِلْجَنَّةِ أَهْلًا خَلَقَهُمْ لَهَا وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ، وَخَلَقَ لِلنَّارِ أَهْلًا خَلَقَهُمْ لَهَا، وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ ".
وکیع نے طلحہ بن یحییٰ سے، انہوں نے اپنی پھوپھی عائشہ بنت طلحہ سے اور انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انصار کے ایک بچے کے جنازے کے لیے بلایا گیا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کے لیے خوشخبری ہو یہ جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، اس نے کوئی گناہ کیا، نہ گناہ کرنے کی عمر پائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا اس کے علاوہ کچھ اور؟ عائشہ! اللہ تعالیٰ نے جنت میں رہنے والے لوگ پیدا فرمائے، انہیں اس وقت جنت کے لیے تخلیق کیا جب وہ اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے اور دوزخ کے لیے بھی رہنے والے بنائے، انہیں اس وقت دوزخ کے لیے تخلیق کیا جب وہ اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6768]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک انصاری بچے کے جنازہ کے لیے بلایا گیا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے لیے مسرت و شادمانی ہے، جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، اس نے کوئی برا کام نہیں کیا اور نہ اس کا وقت پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا اور کچھ ہے۔ اے عائشہ رضی اللہ عنہا! بے شک اللہ نے جنت کے اہل پیدا کیے ہیں انہیں اس کے لیے پیدا کیا ہے، جبکہ وہ ابھی اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے اور دوزخ کے اہل پیدا کیے ہیں انہیں اس کے لیے پیدا کیا ہے جبکہ وہ ابھی اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6768]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2662
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2662 ترقیم شاملہ: -- 6769
اسماعیل بن زکریا اور سفیان ثوری نے طلحہ بن یحییٰ سے وکیع کی حدیث کے مانند اسی کی سند کے ساتھ روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6769]
امام صاحب یہی روایت اپنے تین اور اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6769]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2662
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. باب بَيَانِ أَنَّ الآجَالَ وَالأَرْزَاقَ وَغَيْرَهَا لاَ تَزِيدُ وَلاَ تَنْقُصُ عَمَّا سَبَقَ بِهِ الْقَدَرُ:
باب: عمر اور روزی اور رزق تقدیر سے زیادہ نہ بڑھتی ہے نہ گھٹتی ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2663 ترقیم شاملہ: -- 6770
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيِّ ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ أَمْتِعْنِي بِزَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ، وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ سَأَلْتِ اللَّهَ لِآجَالٍ مَضْرُوبَةٍ، وَأَيَّامٍ مَعْدُودَةٍ، وَأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ لَنْ يُعَجِّلَ شَيْئًا قَبْلَ حِلِّهِ أَوْ يُؤَخِّرَ شَيْئًا عَنْ حِلِّهِ، وَلَوْ كُنْتِ سَأَلْتِ اللَّهَ أَنْ يُعِيذَكِ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ، أَوْ عَذَابٍ فِي الْقَبْرِ، كَانَ خَيْرًا وَأَفْضَلَ "، قَالَ: وَذُكِرَتْ عِنْدَهُ الْقِرَدَةُ، قَالَ مِسْعَرٌ: وَأُرَاهُ، قَالَ: وَالْخَنَازِيرُ مِنْ مَسْخٍ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَجْعَلْ لِمَسْخٍ نَسْلًا وَلَا عَقِبًا، وَقَدْ كَانَتِ الْقِرَدَةُ وَالْخَنَازِيرُ قَبْلَ ذَلِكَ.
وکیع نے ہمیں معمر سے حدیث بیان کی، انہوں نے علقمہ بن مرثد سے، انہوں نے مغیرہ بن عبداللہ یشکری سے، انہوں نے معرور بن سوید سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے یہ دعا کی: اے اللہ! مجھے اپنے خاوند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اپنے والد حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ اور اپنے بھائی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ (کی زندگیوں) سے مستفید فرما! (حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے عمروں کی ایسی مدتوں کا، جو مقرر کر دی گئی ہیں اور ان دنوں کا جو گنے جا چکے ہیں اور ایسے رزقوں کا جو بانٹے جا چکے ہیں، سوال کیا ہے۔ اگر تم اللہ سے یہ مانگتی کہ تمہیں آگ میں دیے جانے والے یا قبر میں دیے جانے والے عذاب سے پناہ عطا فرما دے تو یہ زیادہ اچھا اور زیادہ افضل ہوتا۔ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: آپ کے سامنے بندروں کے بارے میں بات چیت ہوئی، مسعر نے کہا: میرا خیال ہے کہ انہوں (حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ) نے کہا: خنزیروں کا بھی (ذکر کیا گیا کہ وہ) مسخ ہو کر بنے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مسخ ہونے والوں کی نہ نسل بنائی ہے نہ اولاد، بندر اور خنزیر اس (مسخ ہونے کے واقعے) سے پہلے بھی ہوتے تھے (جو موجودہ ہیں وہ انہی کی نسلیں ہیں۔) [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6770]
حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا نے دعا کی: «اللَّهُمَّ مَتِّعْنِي بِزَوْجِي رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَبِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ، وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ» اے اللہ! مجھے اپنے خاوند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے باپ ابو سفیان رضی اللہ عنہ اور اپنے بھائی معاویہ رضی اللہ عنہ سے فائدہ اٹھانے کا موقع عنایت فرما۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اللہ سے طے شدہ عمروں، شمار شدہ دنوں اور تقسیم شدہ روزیوں کے بارے میں درخواست کی ہے اور وہ کسی چیز کو اس کے طے شدہ وقت سے پہلے نہیں کرے گا اور نہ وقتِ معینہ سے مؤخر کرے گا، اور اگر تو اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کرتی کہ وہ تمھیں آگ کے عذاب سے یا قبر کے عذاب سے بچائے تو یہ بہتر اور افضل ہوتا۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مسخ کے سبب بندروں اور — مسعر کہتے ہیں: میرے خیال میں — خنزیروں کا بھی ذکر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مسخ شدہ قوم کی نسل یا اولاد جاری نہیں کی، یقیناً بندر اور خنزیر اس سے پہلے بھی موجود تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6770]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2663
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2663 ترقیم شاملہ: -- 6771
حَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ ابْنِ بِشْرٍ، وَوَكِيعٍ، جميعا من عذاب في النار وعذاب في القبر.
ابن بشر نے مسعر سے اسی سند کے ساتھ خبر دی، مگر ابن بشر اور وکیع دونوں سے ان کی (روایت کردہ) حدیث میں یہ الفاظ منقول ہیں: آگ میں دیے جانے والے اور قبر میں دیے جانے والے عذاب سے (پناہ مانگتی تو بہتر تھا۔) (یا کی بجائے اور ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6771]
امام صاحب یہی روایت ابو کریب سے بیان کرتے ہیں، اس میں «أَوْ» (یا) کی جگہ واؤ ہے کہ آگ کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے۔ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6771]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2663
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2663 ترقیم شاملہ: -- 6772
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، وَاللَّفْظُ لِحَجَّاجٍ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ حَجَّاجٌ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيِّ ، عَنْ مَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: " اللَّهُمَّ مَتِّعْنِي بِزَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ، وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكِ سَأَلْتِ اللَّهَ لِآجَالٍ مَضْرُوبَةٍ، وَآثَارٍ مَوْطُوءَةٍ، وَأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ لَا يُعَجِّلُ شَيْئًا مِنْهَا قَبْلَ حِلِّهِ، وَلَا يُؤَخِّرُ مِنْهَا شَيْئًا بَعْدَ حِلِّهِ، وَلَوْ سَأَلْتِ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَكِ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ، لَكَانَ خَيْرًا لَكِ "، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْقِرَدَةُ وَالْخَنَازِيرُ هِيَ مِمَّا مُسِخَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُهْلِكْ قَوْمًا أَوْ يُعَذِّبْ قَوْمًا، فَيَجْعَلَ لَهُمْ نَسْلًا، وَإِنَّ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ كَانُوا قَبْلَ ذَلِكَ.
عبدالرزاق نے کہا: ہمیں ثوری نے علقمہ بن مرثد سے خبر دی، انہوں نے مغیرہ بن عبداللہ یشکری سے، انہوں نے معرور بن سوید سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے (دعا کرتے ہوئے) کہا: اے اللہ! مجھے میرے خاوند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، میرے والد ابوسفیان اور میرے بھائی (کی درازی عمر) سے مستفید فرما! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم نے اللہ تعالیٰ سے ان مدتوں کا سوال کیا ہے جو مقرر کی جا چکیں اور قدموں کے ان نشانوں کا جن پر قدم رکھے جا چکے اور ایسے رزقوں کو جو تقسیم کیے جا چکے۔ نہ ان میں سے کوئی چیز اپنا وقت آنے سے پہلے آ سکتی ہے اور نہ آنے کے بعد مؤخر ہو سکتی ہے۔ اگر تم اللہ تعالیٰ سے یہ مانگتی کہ وہ تمہیں جہنم میں دیے جانے والے عذاب اور قبر میں دیے جانے والے عذاب سے بچا لے تو تمہارے لیے بہتر ہوتا۔ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: ایک آدمی نے پوچھا: اللہ کے رسول! یہ بندر اور خنزیر کیا انہی میں سے ہیں جو مسخ ہو کر بنے تھے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کسی قوم کو ہلاک نہیں کیا یا (فرمایا:) کسی قوم کو عذاب نہیں دیا کہ پھر ان (لوگوں) کی نسل بنائے (ان کے بچے پیدا کر کے انہیں آگے چلائے۔) اور بلاشبہ بندر اور خنزیر پہلے بھی موجود تھے۔ (آگے انہی کی نسلیں چلی ہیں۔) [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6772]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے دعا کی: اے اللہ! مجھے اپنے خاوند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے باپ ابوسفیان رضی اللہ عنہ اور اپنے بھائی معاویہ رضی اللہ عنہ سے فائدہ اٹھانے کا موقع دے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: تو نے اللہ سے طے شدہ عمروں کا سوال کیا جو مقرر ہیں اور ان قدموں کا جو روندے ہوئے یا پامال شدہ ہیں (معین ہیں) اور ان رزقوں کا جو تقسیم شدہ ہیں، اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اس کے وقتِ مقررہ سے پہلے نہیں کرتا اور نہ کسی چیز کو اس کے وقتِ مقرر سے مؤخر کرتا ہے، اگر تم یہ سوال کرتیں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے بچائے تو تمہارے لیے بہتر ہوتا۔ اور ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا بندر اور خنزیر مسخ شدہ لوگوں کی نسل ہیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے کوئی قوم ہلاک نہیں کی، یا کسی قوم کو عذاب نہیں دیا کہ پھر ان کی نسل چلائی ہو، بندر اور خنزیر اس سے پہلے بھی موجود تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6772]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2663
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں