🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ تَحْرِيمِ دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ إِذَا يَشْهَدُوا بِالشَّهَادَتَيْنِ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ
باب: خون اور اموال کا قابل احترام ہونا جب لوگ دونوں شہادتوں کی گواہی دیں اور نماز ادا کریں اور زکوۃ ادا کریں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 881 ترقیم الرسالہ : -- 893
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَإِذَا شَهِدُوا أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَصَلُّوا صَلاتَنَا وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا وَأَكَلُوا ذَبَائِحَنَا ؛ حُرِّمَتْ عَلَيْنَا أَمْوَالُهُمْ وَدِمَاؤُهُمْ إِلا بِحَقِّهَا، وَلَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُسْلِمِ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں مشرکین کے ساتھ اس وقت تک لڑائی کرتا رہوں جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ جب وہ اس بات کی گواہی دے دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، وہ ہماری طرح نماز ادا کریں اور ہمارے قبلہ کی طرف رخ بھی کریں، ہمارے ذبائح کو کھائیں تو ان کے اموال اور خون ہم پر حرام ہو جائیں گے۔ البتہ ان کا حق برقرار رہے گا: ان کو ہر وہ چیز ملے گی جو مسلمان کو حاصل ہو گی۔ ان پر ہر وہ چیز لازم ہو گی جو مسلمان پر لازم ہوتی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 893]
ترقیم العلمیہ: 881
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 391، 392، 393، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5895، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3976، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2641، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2608، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2232، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 893، 894، 895، 896، 897، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 13256»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 882 ترقیم الرسالہ : -- 894
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہی روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 894]
ترقیم العلمیہ: 882
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 391، 392، 393، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5895، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3976، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2641، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2608، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2232، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 893، 894، 895، 896، 897، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 13256»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 883 ترقیم الرسالہ : -- 895
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 895]
ترقیم العلمیہ: 883
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 391، 392، 393، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5895، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3976، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2641، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2608، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2232، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 893، 894، 895، 896، 897، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 13256»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 884 ترقیم الرسالہ : -- 896
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 896]
ترقیم العلمیہ: 884
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 391، 392، 393، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5895، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3976، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2641، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2608، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2232، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 893، 894، 895، 896، 897، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 13256»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 885 ترقیم الرسالہ : -- 897
حَدَّثَنَا ابْنُ خَلادٍ ، نا الْمَعْمَرِيُّ ، نا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ سُمَيْعٍ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 897]
ترقیم العلمیہ: 885
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 391، 392، 393، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5895، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3976، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2641، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2608، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2232، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 893، 894، 895، 896، 897، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 13256»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 886 ترقیم الرسالہ : -- 898
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، حَدَّثَنِي حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، نا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَيُقِيمُوا الصَّلاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلا بِحَقِّ الإِسْلامِ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرتا رہوں جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ نماز قائم کریں اور زکوٰة ادا کریں۔ جب وہ ایسا کر لیں گے تو وہ اپنے خون اور اپنے اموال کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے، البتہ اسلام کے حق کا حکم مختلف ہے اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہو گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 898]
ترقیم العلمیہ: 886
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 25، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 22، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 175، 219، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 5222، 6597، 16833، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 898، 899، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 8510»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 887 ترقیم الرسالہ : -- 899
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 899]
ترقیم العلمیہ: 887
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 25، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 22، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 175، 219، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 5222، 6597، 16833، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 898، 899، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 8510»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 888 ترقیم الرسالہ : -- 900
حَدَّثَنَا ابْنُ خَلادٍ ، نا الْمَعْمَرِيُّ ، نا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ ، نا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ حَدِيثِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يُقِيمُوا الصَّلاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَيَشْهَدُوا"، وَمِثْلُهُ سَوَاءٌ.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کرتا رہوں جب تک وہ نماز قائم کریں اور زکوٰة ادا کریں اور گواہی دیں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 900]
ترقیم العلمیہ: 888
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 214، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2421، 3569، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2223، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2545، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2616، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 72، 3973، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 900، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22439، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 20303، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 19658»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابٌ فِي ذِكْرِ أَذَانِ أَبِي مَحْذُورَةَ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِيهِ
باب: حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کی اذان کی تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 889 ترقیم الرسالہ : -- 901
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَبُو حُمَيْدٍ الْمِصِّيصِيُّ ، ثنا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وأَبُو أُمَيَّةَ ، ومُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَغَيْرُهُمْ قَالُوا: حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا الشَّافِعِيُّ ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ أَخْبَرَهُ، وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي مَحْذُورَةَ حِينَ جَهَّزَهُ إِلَى الشَّامِ، قَالَ: فَقُلْتُ لأَبِي مَحْذُورَةَ : أَيْ عَمِّ إِنِّي خَارِجٌ إِلَى الشَّامِ وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ أُسْأَلَ عَنْ تَأْذِينِكَ فَأَخْبِرْنِي، قَالَ: نَعَمْ، خَرَجْتُ فِي نَفَرٍ فَكُنَّا فِي بَعْضِ طَرِيقِ حُنَيْنٍ، فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ، فَلَقِيَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلاةِ، قَالَ: فَلَمَّا سَمِعْنَا صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ وَنَحْنُ مُتَنَكِّبُونَ فَصَرَخْنَا نَحْكِيهِ وَنَسْتَهْزِئُ بِهِ، فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّوْتَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا إِلَى أَنْ وَقَفْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّكُمُ الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ قَدِ ارْتَفَعَ؟"، فَأَشَارَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ إِلَيَّ وَصَدَّقُوا، فَأَرْسَلَ كُلَّهُمْ وَحَبَسَنِي، فَقَالَ:" قُمْ فَأَذِّنْ بِالصَّلاةِ"، فَقُمْتُ وَلا شَيْءَ أَكْرَهُ إِلَيَّ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَأْمُرُنِي بِهِ، فَقُمْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَلْقَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّأْذِينَ هُوَ بِنَفْسِهِ، فَقَالَ:" قُلِ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ"، ثُمَّ قَالَ لِي:" ارْجِعْ فَامْدُدْ مِنْ صَوْتِكَ"، ثُمَّ قَالَ لِي:" قُلْ: أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ"، ثُمَّ دَعَانِي حِينَ قَضَيْتُ التَّأْذِينَ وَأَعْطَانِي صُرَّةً فِيهَا شَيْءٌ مِنْ فِضَّةٍ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى نَاصِيَةِ أَبِي مَحْذُورَةَ، ثُمَّ أَمَرَّهَا عَلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ أَمَرَّ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ثُمَّ عَلَى كَبِدِهِ حَتَّى بَلَغَتْ يَدُهُ سُرَّةَ أَبِي مَحْذُورَةَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ وَبَارَكَ عَلَيْكَ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مُرْنِي بِالتَّأْذِينِ بِمَكَّةَ، فَقَالَ:" قَدْ أَمَرْتُكَ بِهِ"، وَذَهَبَ كُلُّ شَيْءٍ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَرَاهِيَتِهِ وَعَادَ ذَلِكَ كُلُّهُ مَحَبَّةً لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدِمْتُ عَلَى عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ عَامِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذَّنْتُ بِالصَّلاةِ عَلَى أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: فَأَخْبَرَنِي مَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ آلِ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَلَى نَحْوِ مَا أَخْبَرَنِي ابْنُ مُحَيْرِيزٍ. هَذَا حَدِيثُ الرَّبِيعِ وَلَفْظُهُ.
عبداللہ بن محریز رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: وہ سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کے زیر پرورش تھے۔ جب انہیں شام بھیجا جانے لگا تو انہوں نے کہا: میں نے سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے کہا: چچا جان! میں شام جانے لگا ہوں، مجھے اندیشہ ہے کہ میں آپ سے آپ کی اذان کے بارے میں نہ پوچھ سکوں۔ براہ کرم مجھے اس کے بارے میں بتائیں۔ انہوں نے جواب دیا: ہاں! میں کچھ لوگوں کے ساتھ نکلا، ہم حنین کے راستے میں تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے واپس تشریف لا رہے تھے۔ راستے میں ہمارا آپ کے قافلے سے سامنا ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے نماز کے لیے اذان دی۔ ہم نے مؤذن کی اذان سنی تو ہم نے بھی بلند آواز میں ان الفاظ کو دہرایا، ہم اس کا مذاق اڑا رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز سن لی اور ہمیں بلوایا۔ ہم آپ کے سامنے پیش کیے گئے۔ آپ نے پوچھا: تم میں سے وہ کون شخص ہے جس کی آواز بلند تھی اور میں نے سنی؟ سب نے میری طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے سچ کہا۔ آپ نے سب کو چھوڑ دیا اور مجھے روک لیا۔ آپ نے فرمایا: اٹھو اور نماز کے لیے اذان دو! میں اٹھا، اس وقت آپ کا حکم میرے لیے سب سے زیادہ ناپسندیدہ تھا۔ میں آپ کے سامنے کھڑا ہوا۔ آپ نے خود اذان کا طریقہ سکھایا اور فرمایا: یہ پڑھو: اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر، اشھد ان لا الہ الا اللہ، اشھد ان لا الہ الا اللہ، اشھد ان محمدا رسول اللہ، اشھد ان محمدا رسول اللہ۔ پھر آپ نے فرمایا: اسے دوبارہ پڑھو اور اپنی آواز پھیلاؤ۔ پھر آپ نے فرمایا: اب یہ پڑھو: اشھد ان لا الہ الا اللہ، اشھد ان لا الہ الا اللہ، اشھد ان محمدا رسول اللہ، اشھد ان محمدا رسول اللہ، حی علی الصلوٰۃ، حی علی الصلوٰۃ، حی علی الفلاح، حی علی الفلاح، اللہ اکبر اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ۔ جب میں نے اذان مکمل کی تو آپ نے مجھے بلایا اور ایک تھیلی عطا کی جس میں تھوڑی سی چاندی تھی۔ پھر آپ نے اپنا دست مبارک میری پیشانی پر رکھا، پھر چہرے، سینے، اور جگر پر پھیرا، یہاں تک کہ ناف تک پھیرا۔ پھر آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہارے اندر برکت نصیب کرے اور تم پر برکتیں نازل فرمائے۔ میں آپ کو اجازت دیتا ہوں۔ اس وقت آپ کے لیے میرے دل میں جو ناپسندیدگی تھی، وہ ختم ہو گئی اور آپ کی محبت میں تبدیل ہو گئی۔ پھر میں سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، جو آپ کے مقرر کردہ گورنر تھے، اور آپ کے حکم کے تحت اذان دینا شروع کیا۔ ابن جریج رحمہ اللہ نے کہا: میں نے سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کی اولاد سے اسی طرح یہ روایت سنی، جیسے ابن محریز رحمہ اللہ نے مجھے سنائی۔ یہ روایت ربیع رحمہ اللہ نے نقل کی ہے، اور الفاظ بھی انہی کے ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 901]
ترقیم العلمیہ: 889
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 379، وابن الجارود فى "المنتقى"، 180، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 377، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1680، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 628، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 500، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 191، 192، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 708، 709، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 901، 902، 903، 904، 905، 907، 908، 909، 910، 912، 913، 914، 948، 949، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 15612»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 890 ترقیم الرسالہ : -- 902
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا الرَّبِيعُ، ثنا الشَّافِعِيُّ، قَالَ: وَأَدْرَكْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ يُؤَذِّنُ كَمَا حَكَى ابْنُ مُحَيْرِيزٍ، وَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى مَا حَكَى ابْنُ جُرَيْجٍ وَسَمِعْتُهُ يُقِيمُ، فَيَقُولُ:" اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ". وَأَحْسَبُهُ يَحْكِي الإِقَامَةَ خَبَرًا كَمَا يَحْكِي الأَذَانَ.
ربعی بیان کرتے ہیں: امام شافعی نے یہ بات بتائی ہے: میں نے ابراہیم بن عبدالعزیز کو پایا۔ انہوں نے اسی طرح اذان دی جس طرح ابن محیریز نے بیان کی ہے۔ میں نے انہیں اپنے والد کے حوالے سے ابن محیریز کے حوالے سے سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اسی مفہوم کی روایت نقل کرتے ہوئے سنا ہے جیسی ابن جریج نے بیان کی ہے۔ میں نے انہیں اقامت کہتے ہوئے سنا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: میرا یہ خیال ہے انہوں نے اس اقامت کو اسی روایت کے طور پر بیان کیا ہے جس طرح انہوں نے اذان کا واقعہ بیان کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 902]
ترقیم العلمیہ: 890
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 379، وابن الجارود فى "المنتقى"، 180، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 377، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1680، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 628، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 500، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 191، 192، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 708، 709، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 901، 902، 903، 904، 905، 907، 908، 909، 910، 912، 913، 914، 948، 949، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 15612»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں