🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب السِّيَرِ
جہاد و غزوات کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4128 ترقیم الرسالہ : -- 4202
نَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلاءِ الْجَوْزَجَانِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ فَلَمْ يُجِزْنِي وَلَمْ يَرَنِي بَلَغْتُ، ثُمَّ عُرِضَتْ عَلَيْهِ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ فَأَجَازَنِي" ، فَأَخْبَرْتُ بِهَذَا الْخَبَرَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَكَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ أَنْ لا تَفْرِضُوا إِلا لِمَنْ بَلَغَ خَمْسَ عَشْرَةَ، وَكَانَ عُمَرُ لا يَفْرِضُ لأَحَدٍ إِلا مِائَةَ دِرْهَمٍ حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَ عَشْرَةَ. قَالَ: تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَهُوَ صَحِيحٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، اس وقت میری عمر چودہ برس تھی، آپ نے مجھے شرکت کی اجازت نہیں دی، آپ نے مجھے بالغ نہیں سمجھا تھا، پھر غزوہ خندق کے موقع پر مجھے آپ کے سامنے پیش کیا گیا، میری عمر اس وقت پندرہ سال تھی، تو آپ نے مجھے شرکت کی اجازت دی۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن عبدالعزیز کو اس بارے میں بتایا، تو انہوں نے اپنے سرکاری اہلکاروں کو خط لکھا کہ وہ تنخواہ صرف اس شخص کو ادا کریں، جو پندرہ سال کا ہو چکا ہو۔ سیدنا عمر بن عبدالعزیز کا یہ معمول تھا کہ انہوں نے پندرہ سال کے لڑکے کے لیے ایک سو درہم تنخواہ مقرر کی تھی، یہ روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/كتاب السير/حدیث: 4202]
ترقیم العلمیہ: 4128
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2664، 4097، 4107، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1868، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4727، 4728، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3433، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2957، 4406،والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1361، 1361 م، 1711، 1711 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2543،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4202، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4752، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 34386، 34566»
«قال الدارقطني: صحيح، سنن الدارقطني: (5 / 203) برقم: (4202)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4129 ترقیم الرسالہ : -- 4203
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مُفَضَّلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الضَّبِّيِّ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ مُرَّةَ ، يَقُولُ:" سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً فَمَا رَأَيْتُهُ، يَمُرُّ بِجِيفَةِ إِنْسَانٍ فَيُجَاوِزُهَا حَتَّى يَأْمُرَ بِدَفْنِهَا، لا يَسْأَلُ: أَمُسْلِمٌ هُوَ، أَوْ كَافِرٌ؟" .
سیدنا یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی مرتبہ سفر کیا ہے، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ جب بھی کسی انسان کی میت کے پاس سے گزرے، تو آپ اس وقت تک آگے نہیں گزرے، جب تک آپ نے اسے دفن کرنے کا حکم نہیں دیا، آپ یہ تحقیق نہیں کرتے تھے کہ یہ مسلمان ہے یا کافر ہے۔ [سنن الدارقطني/كتاب السير/حدیث: 4203]
ترقیم العلمیہ: 4129
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1378، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 6713، 6714، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4203»
«قال أبو حاتم الرازي: قال أبي لم يسمع عمر من يعلى بن مرة إنما يحدث عن أبيه عن جده وعمر ضعيف الحديث، علل الحديث: (3 / 433)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4130 ترقیم الرسالہ : -- 4204
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ ، حَدَّثَنِي أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَمْزَةَ يَوْمَ أُحُدٍ فَهُيِّءَ لِلْقِبْلَةِ، ثُمَّ كَبَّرَ عَلَيْهِ سَبْعًا، ثُمَّ جَمَعَ إِلَيْهِ الشُّهَدَاءَ حَتَّى صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعِينَ صَلاةً، قَالَ: قَالَ وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَأَى حَمْزَةَ وَقَدْ مثل بِهِ، قَالَ: لَئِنْ ظَفِرْتُ بِقُرَيْشٍ لأُمَثِّلَنَّ بِثَلاثِينَ مِنْهُمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ سورة النحل آية 126" ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں حکم دیا، ان کی میت کو قبلہ کی سمت میں رکھ دیا گیا، پھر ان پر سات تکبیریں کہی گئیں، پھر دیگر شہداء کو بھی ان کے آس پاس جمع کر دیا گیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر ستر مرتبہ نماز ادا کی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو ملاحظہ کیا کہ ان کی بے حرمتی کی گئی ہے، تو فرمایا: اگر میں نے قریش پر قابوپایا تو میں ان کے تیس آدمیوں کے اسی طرح ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: اگر انہوں نے تمہیں سزا دی ہے، تو تم بھی ان کے ساتھ وہی سلوک کرو جو تمہارے ساتھ کیا گیا ہے۔ اس روایت کا راوی عبدالعزیز بن عمران ضعیف ہے۔ [سنن الدارقطني/كتاب السير/حدیث: 4204]
ترقیم العلمیہ: 4130
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 4923، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1513، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 6907، 6909، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4204، 4209، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 6194، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 37941»
«قال الدارقطني: عبد العزيز هذا ضعيف راوى الحديث، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 308)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4131 ترقیم الرسالہ : -- 4205
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أنا أُسَامَةُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" مَرَّ بِحَمْزَةَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَقَدْ جُدِعَ وَمُثِّلَ بِهِ، فَقَالَ: لَوْلا أَنْ تَجِدَ صَفِيَّةُ لَتَرَكْتُهُ حَتَّى يَحْشُرَهُ اللَّهُ مِنْ بُطُونِ الطَّيْرِ وَالسِّبَاعِ، فَكَفَّنَهُ بِنَمِرَةٍ إِذَا خُمِّرَ رَأْسُهُ بَدَتْ رِجْلاهُ، وَإِذَا خُمِّرَتْ رِجْلاهُ بَدَا رَأْسُهُ، فَخَمَّرَ رَأْسَهُ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الشُّهَدَاءِ غَيْرِهِ، وَقَالَ: أَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ" ، لَمْ يَقُلْ هَذَا اللَّفْظَ غَيْرُ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ:" وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الشُّهَدَاءِ غَيْرِهِ"، وَلَيْسَتْ بِمَحْفُوظَةٍ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے، ان کے ہونٹ، ناک، کان وغیرہ کو کاٹ دیا گیا تھا اور مثلہ کر دیا گیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر صفیہ کی پریشانی نہ ہوتی، تو میں ان کو ایسے ہی رہنے دیتا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) انہیں پرندوں اور درندوں کے پیٹ میں سے زندہ کرتا۔ پھر سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو ایک چادر کفن کے طور پر دی گئی، جب ان کا سر ڈھانپا جاتا تھا، تو ان کے پاؤں ظاہر ہو جاتے تھے، جب پاؤں ڈھانپے جاتے تھے، تو سر ظاہر ہو جاتا تھا، تو ان کے سر کو ڈھانپ دیا گیا، ان کے علاوہ اور کسی شہید کی نماز جنازہ ادا نہیں کی گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں آج تم لوگوں کے بارے میں گواہ ہوں۔ روایت کے یہ الفاظ صرف عثمان نامی راوی نے نقل کیے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ اور کسی شہید کی نماز جنازہ ادا نہیں کی۔ یہ الفاظ محفوظ نہیں ہیں۔ [سنن الدارقطني/كتاب السير/حدیث: 4205]
ترقیم العلمیہ: 4131
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 2608، 2609، 2610، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1355، 1356،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3135، 3136، 3137، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1016، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4205، 4206، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12494،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 11762، 11777، 37611، 37907»
«قال البخاري: حديث أسامة عن الزهري عن أنس غير محفوظ غلط فيه أسامة، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (8 / 152)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4132 ترقیم الرسالہ : -- 4206
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، نَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ، وَزَادَ" وَجَعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ الإِذْخِرَ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الشُّهَدَاءِ غَيْرِهِ، وَقَالَ: أَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ، وَكَانَ يَدْفِنُ الاثْنَيْنِ وَالثَّلاثَةَ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ" .
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: ان کے پاؤں پر اذخر (نامی گھاس) رکھ دی گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ اور کسی شہید کی نماز جنازہ ادا نہیں کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’میں آج کے دن تم لوگوں کے بارے میں گواہ ہوں۔‘ ایک قبر میں دو، دو اور تین، تین شہداء کو دفن کیا گیا۔ [سنن الدارقطني/كتاب السير/حدیث: 4206]
ترقیم العلمیہ: 4132
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 2608، 2609، 2610، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1355، 1356،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3135، 3136، 3137، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1016، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4205، 4206، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12494،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 11762، 11777، 37611، 37907»
«قال البخاري: حديث أسامة عن الزهري عن أنس غير محفوظ غلط فيه أسامة، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (8 / 152)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4133 ترقیم الرسالہ : -- 4207
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، حَدَّثَهُ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُ،" أَنَّ شُهَدَاءَ أُحُدٍ لَمْ يُغَسَّلُوا، وَدُفِنُوا بِدِمَائِهِمْ، وَلَمْ يُصَلَّ عَلَيْهِمْ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: احد میں شہید ہونے والے کو غسل نہیں دیا گیا، انہیں ان کے خون سمیت دفن کر دیا گیا اور ان کی نماز جنازہ ادا نہیں کی گئی۔ [سنن الدارقطني/كتاب السير/حدیث: 4207]
ترقیم العلمیہ: 4133
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1343، 1345، 1346، 1347، 1348، 1353، 4079، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1954، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2093، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3138، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1036، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1514، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4207، 4208، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14409، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 11119، 11775، 33486»
«قال الدارقطني: هو حديث مضطرب، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (1 / 374)»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4134 ترقیم الرسالہ : -- 4208
وَقَالَ اللَّيْثُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ بِدِمَائِهِمْ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يُغَسَّلُوا" ، حَدَّثَنَا النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا أَبُو صَالِحٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَأَبُو النَّضْرِ ، وَأَبُو الْوَلِيدِ ، عَنِ اللَّيْثِ ، بِهَذَا.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں قیامت کے دن ان لوگوں کا گواہ ہوں گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہیں ان کے خون سمیت دفن کر دیا گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ ادا نہیں کی، ان لوگوں کو غسل نہیں دیا گیا۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/كتاب السير/حدیث: 4208]
ترقیم العلمیہ: 4134
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1343، 1345، 1346، 1347، 1348، 1353، 4079، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1954، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2093، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3138، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1036، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1514، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4207، 4208، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14409، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 11119، 11775، 33486»
«قال الدارقطني: هو حديث مضطرب، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (1 / 374)»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4135 ترقیم الرسالہ : -- 4209
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ ، أَوْ غَيْرِهِ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَمَّا انْصَرَفَ الْمُشْرِكُونَ عَنْ قَتْلَى أُحُدٍ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَى مَنْظَرًا أَسَاءَهُ رَأَى حَمْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَدْ شُقَّ بَطْنُهُ، وَاصْطُلِمَ أَنْفُهُ، وَجُدِعَتْ أُذُنَاهُ، فَقَالَ: لَوْلا أَنْ يَحْزَنَ النِّسَاءُ، أَوْ يَكُونَ سُنَّةً بَعْدِي لَتَرَكْتُهُ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ مِنْ بُطُونِ السِّبَاعِ وَالطَّيْرِ، لأُمَثِّلَنَّ مَكَانَهُ بِسَبْعِينَ رَجُلا، ثُمَّ دَعَا بِبُرْدَةٍ فَغَطَّى بِهَا وَجْهَهُ، فَخَرَجَتْ رِجْلاهُ، فَغَطَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجْهَهُ وَجَعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ شَيْئًا مِنَ الإِذْخِرِ، ثُمَّ قَدَّمَهُ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ عَشْرًا، ثُمَّ جَعَلَ يُجَاءُ بِالرَّجُلِ فَيُوضَعُ، وَحَمْزَةُ مَكَانَهُ حَتَّى صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعِينَ صَلاةً، وَكَانَ الْقَتْلَى سَبْعِينَ، فَلَمَّا دُفِنُوا وَفُرِغَ مِنْهُمْ نزلت هَذِهِ الآيَةُ ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ سورة النحل آية 125، إِلَى قَوْلِهِ: وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلا بِاللَّهِ سورة النحل آية 127، فَصَبَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يُمَثِّلْ بِأَحَدٍ" ، لَمْ يَرْوِهِ غَيْرُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، وَهُوَ مُضْطَرِبُ الْحَدِيثِ، عَنِ غَيْرِ الشَّامِيِّينَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب مشرکین غزوہ احد میں مارے جانے والوں کو چھوڑ کر واپس چلے گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چیز ملاحظہ فرمائی جس سے آپ کو بہت تکلیف ہوئی، آپ نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کا پیٹ چیر دیا گیا تھا، ناک کاٹ دی گئی تھی، دونوں کان الگ کر دیے گئے تھے۔ آپ نے فرمایا: اگر خواتین کے غمگین ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا، یا یہ بات میرے بعد رواج نہ بن جاتی، تو میں انہیں یونہی چھوڑ دیتا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ درندوں اور پرندوں کے پیٹوں میں سے انہیں زندہ کرتا، میں ان کی جگہ ستر آدمیوں کا مثلہ کروں گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر منگوائی اور اس کے ذریعے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے چہرے کو ڈھانپ دیا تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاؤں ظاہر ہو گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہرے کو ڈھانپ دیا اور ان کے پاؤں پر گھاس رکھ دی، پھر آپ نے انہیں آگے کیا اور ان پر دس تکبیریں کہیں، اس کے بعد ایک، ایک شخص کو لایا جاتا رہا اور رکھا جاتا رہا، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی میت وہیں پڑی رہی، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر ستر مرتبہ نماز ادا کی کیونکہ غزوہ احد کے شہداء کی تعداد ستر تھی، جب ان لوگوں کو دفن کر دیا گیا اور آپ اس سے فارغ ہو گئے تو یہ آیت نازل ہوئی: تم اپنے پروردگار کے راستے کی طرف حکمت اور اچھے وعظ کے ذریعے دعوت دو۔ یہ آیت یہاں تک ہے: تم صبر سے کام لو، تمہارا صبر کرنا صرف اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہی ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر سے کام لیا اور آپ نے کسی شخص کا مثلہ نہیں کیا۔ اس روایت کو صرف اسماعیل بن عیاش نامی راوی نے نقل کیا ہے اور اس نے شامیوں کے علاوہ دیگر راویوں سے جو روایات نقل کی ہیں، ان میں اضطراب پایا جاتا ہے۔ [سنن الدارقطني/كتاب السير/حدیث: 4209]
ترقیم العلمیہ: 4135
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 4923، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1513، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 6907، 6909، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4204، 4209، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 6194، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 37941»
«قال الدارقطني: لم يروه غير إسماعيل بن عياش وهو مضطرب الحديث عن غير الشاميين، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 308)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَقِيَّةُ الْفَرَائِضِ
وراثت کے بارے میں چند دیگر روایات
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4136 ترقیم الرسالہ : -- 4210
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" كُلُّ قَوْمٍ يَتَوَارَثُونَ، إِلا مَنْ عَمِّي مَوْتُ بَعْضِهِمْ قَبْلَ بَعْضٍ فِي هَدْمٍ، أَوْ حَرْقٍ، أَوْ قِتَالٍ، وَغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ وُجُوهِ الْمُتَآلَفِ فَإِنَّ بَعْضَهُمْ لا يَرِثُ بَعْضًا، وَلَكِنْ يُورَثُ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ، يَرِثُهُ أَوْلَى النَّاسِ بِهِ مِنَ الأَحْيَاءِ، كَأَنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَنْ عَمَّى مَوْتُهُ مَعَهُ قَرَابَةٌ" .
خارجہ بن زید اپنے والد (زید بن ثابت رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: پہلے ہر قوم کے لوگ ایک دوسرے کے وارث بن جایا کرتے تھے، ماسوائے اس صورت کے کہ جب کوئی شخص کوئی مکان گرنے یا جل جانے یا جنگ یا کسی اور وجہ سے اندھی موت مر جاتا، تو ان لوگوں کو ایک دوسرے کا وارث نہیں بنایا جاتا تھا، البتہ زندہ لوگوں میں سے ان کے قریبی عزیز ان کا وارث بنا کرتا تھا، یوں لگتا تھا جیسے اس شخص کے اور اندھی موت مر جانے والے شخص کے درمیان کوئی رشتہ داری نہیں ہے۔ [سنن الدارقطني/كتاب السير/حدیث: 4210]
ترقیم العلمیہ: 4136
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3087، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12380، 12381، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4210»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4137 ترقیم الرسالہ : -- 4211
نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: كَانَتْ أُمُّ وَلَدٍ لأَخِي شُرَيْحِ بْنِ الْحَارِثِ، وَلَدَتْ لَهُ جَارِيَةً فَزُوِّجَتْ فَوَلَدَتْ غُلامًا، ثُمَّ تُوُفِّيَتْ أُمُّ الْوَلَدِ، قَالَ: فَاخْتَصَمَ فِي مِيرَاثِهَا شُرَيْحُ بْنُ الْحَارِثِ، وَابْنُ ابْنَتِهَا إِلَى شُرَيْحٍ، فَجَعَلَ شُرَيْحُ بْنُ الْحَارِثِ، يَقُولُ لِشُرَيْحٍ: إِنَّهُ لَيْسَ لَهُ مِيرَاثٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ، إِنَّمَا هُوَ ابْنُ ابْنَتِهَا، قَالَ: فَقَضَى شُرَيْحٌ بِمِيرَاثِهَا لابْنِ ابْنَتِهَا، وَقَالَ: وَأُولُو الأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ سورة الأنفال آية 75، فركب ميسرة بن يزيد إلى ابن الزبير فأخبره بالذي كان من شريح، فكتب ابن الزبير إلى شريح إن ميسرة بن يزيد ذكر لِي كَذَا وَكَذَا وَإِنَّكَ قُلْتَ عِنْدَ ذَلِكَ وَأُولُو الأَرْحَامِ بعضهم أولى ببعض في كتاب الله، وإنما كانت تلك الآية في شأن العصبة كان الرجل يعاقد الرجل، فيقول ترثني وأرثك فلما نزلت ترك ذاك، فجاء ميسرة بن يزيد بالكتاب إلى شريح، فلما قَرَأَهُ أَبَى أَنْ يَرُدَّ قَضَاءَهُ، وَقَالَ:" فَإِنَّهُ إِنَّمَا أَعْتَقَهَا خَبَايَتِ بَطْنِهَا" .
عیسیٰ بن حارث بیان کرتے ہیں کہ شریح بن حارث کے بھائی کی ایک ام ولد تھی، اس نے ایک بچی کو جنم دیا، پھر اس بچی کی شادی ہو گئی، اس نے ایک لڑکے کو جنم دیا پھر وہ ام ولد فوت ہو گئی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس کی وراثت کے بارے میں شریح بن حارث اور اس ام ولد کے نواسے نے اختلاف کیا، وہ اپنا مقدمہ لے کر قاضی شریح کے پاس گئے۔ شریح بن حارث نے قاضی شریح سے کہا کہ اللہ کی کتاب میں اس لڑکے کی کوئی وراثت نہیں ہے، کیونکہ یہ اس عورت کا نواسہ ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو قاضی شریح نے اس عورت کی وراثت اس نواسے کو دینے کا حکم دیا اور بولے: (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) نسبی رشتے دار اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے کے (وارث بنتے ہیں)۔ تو میسرہ بن یزید سوار ہو کر سیدنا عبداللہ بن زبیر کے پاس گئے اور انہیں اس بارے میں بتایا جو قاضی شریح نے فیصلہ دیا تھا تو سیدنا عبداللہ بن زبیر نے قاضی شریح کو ایک خط لکھا، میسرہ بن یزید نے میرے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ تم نے ایسی صورت حال میں یہ آیت پڑھی ہے: نسبی رشتے دار اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے کے وارث بنتے ہیں۔ یہ آیت عصبہ رشتے داروں کے بارے میں ہے اور اس زمانے سے تعلق رکھتی ہے کہ جب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ معاہدہ کر لیتے تھے (یعنی منہ بولے بھائی بن جایا کرتے تھے)۔ آدمی کہتا تھا: تم میرے وارث بن جاؤ اور میں تمہارا وارث بن جاؤں گا، جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس طرز عمل کو ترک کر دیا گیا۔ پھر میسرہ بن یزید وہ خط لے کر قاضی شریح کے پاس آئے۔ انہوں نے اسے پڑھنے کے بعد اپنا فیصلہ واپس لینے سے انکار کر دیا اور بولے: اس شخص نے اس ام ولد کو اس کے پیٹ میں موجود (بچے کی وجہ سے آزاد کیا تھا)۔ [سنن الدارقطني/كتاب السير/حدیث: 4211]
ترقیم العلمیہ: 4137
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20437، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4211، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 7437»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں