🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ حُجَّةِ مَنْ قَالَ لَا يَجِبُ الْغُسْلُ إِلَّا بِنُزُولِ الْمَنِيِّ
صرف منی کے خروج سے غسل کے واجب ہوجانے کے قائلین کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 833
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ عُثْمَانَ (بْنَ عَفَّانَ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِذَا جَامَعَ امْرَأَتَهُ وَلَمْ يُمْنِ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ: يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ وَيَغْسِلُ ذَكَرَهُ، وَقَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ وَطَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ فَأَمَرُونِي بِذَلِكَ
زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ انھوں نے سیدنا عثمانؓ سے یہ سوال کیا کہ اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک آدمی اپنی بیوی سے مجامعت کرتا ہے، لیکن منی کا انزال نہیں ہوتا؟ سیدنا عثمان ؓ نے کہا: وہ نماز والا وضو کر لے اور اپنی شرمگاہ کو دھو لے، پھر انھوں نے کہا: میں نے خود رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات سنی ہے۔ پھر اس نے سیدنا علی، سیدنا زبیر بن عوام، سیدنا طلحہ اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہم سے یہی سوال کیا، ان سب نے اسی طرح کا حکم دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 833]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 179، ومسلم: 347، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 458 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 458»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث منسوخ ہو گئی ہے۔ اس کی مزید وضاحت آگے آ رہی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 834
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَخْبَرَنَا أَبِي أَخْبَرَنَا أَبُو أَيُّوبَ (الْأَنْصَارِيُّ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُبَيَّا حَدَّثَهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: الرَّجُلُ يُجَامِعُ أَهْلَهُ فَلَا يُنْزِلُ؟ قَالَ: ( (يَغْسِلُ مَا مَسَّ الْمَرْأَةَ مِنْهُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي) )
سیدنا ابیؓ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ ایک آدمی اپنی بیوی سے مجامعت تو کرتا ہے، لیکن اس کو انزال نہیں ہوتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی شرمگاہ کا جو حصہ عورت کو لگا ہے، وہ اس کو دھو لے اور وضو کر کے نماز پڑھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 834]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 293، ومسلم: 346، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21087 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21403»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 835
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَقَالَ لَهُ: (لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ؟) قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ: ( (إِذَا أُعْجِلْتَ أَوْ أُقْحِطْتَ فَلَا غُسْلَ عَلَيْكَ، عَلَيْكَ الْوُضُوءُ) )
سیدنا ابوسعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک انصاری آدمی کے پاس سے گزر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اس کی طرف پیغام بھیجا، جب وہ باہر آیا تو اس کے سر سے (غسل کی وجہ سے) پانی کے قطرے بہہ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: شاید ہم نے آپ کو جلدی میں ڈال دیا ہے۔ اس نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تجھے جلدی میں ڈال دیا جائے یا انزال نہ ہو تو تجھ پر کوئی غسل نہیں ہو گا، ایسی صورت میں وضو کیا کر۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 835]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 180، ومسلم: 345، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11162 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11179»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 836
وَعَنْهُ أَيْضًا فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى قُبَاءَ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ فَمَرَرْنَا فِي بَنِي سَالِمٍ فَوَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَابِ بَنِي عِتْبَانَ فَصَرَخَ وَابْنُ عِتْبَانَ عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِهِ فَخَرَجَ يَجُرُّ إِزَارَهُ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (أَعْجَلْنَا الرَّجُلَ) ) قَالَ ابْنُ عِتْبَانَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ إِذَا أَتَى امْرَأَتَهُ وَلَمْ يُمْنِ عَلَيْهَا مَاذَا عَلَيْهِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ) )
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے ایک دوسری حدیث یوں بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سوموار کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قبا کی طرف نکلے، ہم بنو سالم (محلے) میں سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں بنوعتبان کے دروازے پر کھڑے ہو گئے اور ابن عتبان کو بلند آواز دی، جبکہ وہ اپنی بیوی کے پیٹ پر تھے، بہرحال وہ چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھا تو فرمایا: ہم نے اس بندے کو جلدی میں ڈال دیا ہے۔ پھر سیدنا ابن عتبان ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ جو اپنی بیوی سے مجامعت تو کرتا ہے، لیکن اس کو انزال نہیں ہوتا، اس پر کس چیز کی ذمہ داری ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غسل کا پانی، منی کے پانی کے خروج سے ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 836]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 343، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11434 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11454»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 837
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ (الْأَنْصَارِيِّ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ) )
سیدنا ابو ایوب انصاریؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غسل کا پانی، منی کے پانی کے خروج سے استعمال کیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 837]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 607، والنسائي: 1/ 115، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23575 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23972»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ مباشرت کے دوران جب تک انزال نہیں ہو گا، اس وقت تک محض شرمگاہوں کے ٹکرانے سے یا دخول سے جنابت کا غسل فرض نہیں ہو گا۔ لیکن یہ رخصت منسوخ ہو چکی ہے، نئے حکم کی وضاحت اگلے دو ابواب میں آ رہی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابٌ فِي أَنَّ قُلْكَ كَانَ رُخْصَةً ثُمَّ نُسِخَ
یہ رخصت تھی، پھر منسوخ ہو گئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 838
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ الْفَتْوَى الَّتِي كَانُوا يَقُولُونَ: الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ رُخْصَةٌ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ بِهَا فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ ثُمَّ أَمَرَنَا بِالْاِغْتِسَالِ بَعْدَهَا
سیدنا ابی بن کعب ؓ سے مروی ہے کہ لوگ یہ جو فتوی دیتے تھے کہ غسل کا پانی، منی کے پانی کے خروج سے ہی استعمال کیا جاتا ہے، یہ رخصت تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابتدائے اسلام میں اس کی رخصت دی تھی، پھر اس کے بعد ہم کو غسل کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 838]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 215، وابن ماجه: 609، والترمذي: 110، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21100 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21417»
وضاحت: فوائد: … غسل کا پانی، منی کے پانی سے ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جب انزال ہو گا تو غسل کیا جائے گا اور جب تک انزال نہیں ہو گا، اس وقت تک غسل نہیں کیا جائے گا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 839
(وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَعَلَهَا رُخْصَةً لِلْمُؤْمِنِينَ لِقِلَّةِ ثِيَابِهِمْ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا بَعْدُ يَعْنِي قَوْلَهُمْ الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کپڑے کم ہونے کی وجہ سے مؤمنوں کو اس چیز کی رخصت دی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع کر دیا تھا۔ رخصت سے یہ حدیث مرا د تھی: غسل کا پانی، منی کے پانی کے خروج سے ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 839]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: لقلة ثيابھم۔ أخرجه ابوداود: 214، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21105 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21422»
وضاحت: فوائد: … غسل نہ کرنے کی رخصت کی وجہ کپڑوں کی قلت تھی، اس بات کی کوئی مناسبت سمجھ نہیں آ رہی کہ کپڑوں کی کمی کا غسل نہ کرنے سے کیا تعلق ہے، بہرحال یہ جملہ ضعیف ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 840
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: ثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ: ثَنَا زُهَيْرٌ وَابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ زُهَيْرٌ فِي حَدِيثِهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ وَكَانَ عَقَبِيًّا بَدَرِيًّا، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ يُفْتِي النَّاسَ فِي الْمَسْجِدِ، قَالَ زُهَيْرٌ فِي حَدِيثِهِ: يُفْتِي النَّاسَ بِرَأْيِهِ فِي الَّذِي يُجَامِعُ وَلَا يُنْزِلُ، فَقَالَ: أَعْجِلْ بِهِ، فَأُتِيَ بِهِ فَقَالَ: يَا عَدُوَّ نَفْسِهِ! أَوَ قَدْ بَلَغْتَ أَنْ تُفْتِيَ النَّاسَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرَأْيِكَ، قَالَ: مَا فَعَلْتُ وَلَكِنْ حَدَّثَنِي عُمُومَتِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَيُّ عُمُومَتِكَ؟ قَالَ: أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، قَالَ زُهَيْرٌ وَأَبُو أَيُّوبَ وَرِفَاعَةُ بْنُ رَافِعٍ: فَالْتَفَتَ إِلَيَّ وَقَالَ: مَا يَقُولُ هَٰذَا الْفَتَى؟ وَقَالَ زُهَيْرٌ: مَا يَقُولُ هَٰذَا الْغُلَامُ؟ فَقُلْتُ: كُنَّا نَفْعَلُهُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَسَأَلْتُمْ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِهِ فَلَمْ نَغْتَسِلْ، قَالَ: فَجَمَعَ النَّاسَ وَاتَّفَقَ النَّاسُ عَلَى أَنَّ الْمَاءَ لَا يَكُونُ إِلَّا مِنَ الْمَاءِ إِلَّا رَجُلَيْنِ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَالَا: إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، قَالَ: فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! إِنَّ أَعْلَمَ النَّاسِ بِهَٰذَا أَزْوَاجُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَى حَفْصَةَ فَقَالَتْ: لَا عِلْمَ لِي، فَأَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ: إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ، قَالَ: فَتَحَطَّمَ عُمَرُ يَعْنِي تَغَيَّظَ ثُمَّ قَالَ: لَا يَبْلُغَنِي أَنَّ أَحَدًا فَعَلَهُ وَلَا يَغْتَسِلُ إِلَّا أَنْهَكْتُهُ عُقُوبَةً
سیدنا رفاعہ بن رافعؓ، جو کہ بیعت ِ عقبہ اور غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عمرؓ کے پاس تھا، کسی نے ان سے کہا: سیدنا زید بن ثابت مسجد میں لوگوں کو اپنے رائے کی روشنی میں اس آدمی کے بارے فتوی دیتے ہیں جو مجامعت کرتا ہے، لیکن اس کو انزال نہیں ہوتا۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: اس کو جلدی جلدی میرے پاس لے آؤ، پس وہ اس کو لے آئے، سیدنا عمر ؓ نے کہا: او اپنی جان کے دشمن! کیا تو اس حدتک پہنچ گیا ہے کہ تو نے لوگوں کو مسجد ِ نبوی میں اپنی رائے کی روشنی میں فتوی دینا شروع کر دیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے تو ایسی کوئی کاروائی نہیں کی، البتہ میرے چچوں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا ہے۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: کون سے تیرے چچے؟ انھوں نے کہا: سیدنا ابی بن کعب، سیدنا ابو ایوب اور سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہم۔ سیدنا عمرؓ نے کہا: یہ نوجوان کیا کہتا ہے؟ میں نے جواباً کہا: جی ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں ایسے ہی کرتے تھے۔ سیدنا عمرؓ نے کہا: تو پھر کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تھا؟ میں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایسے ہی کرتے تھے اور غسل نہیں کرتے تھے۔ پھر انھوں نے لوگوں کو جمع کر کے یہ بات پوچھی، ہوا یوں کہ سب لوگوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ غسل کا پانی منی کے پانی کے خروج سے ہی استعمال کیا جاتا تھا، ما سوائے دو آدمیوں سیدنا علی اور سیدنا معاذؓ کے، یہ دو کہتے تھے: جب ختنے والی جگہ ختنے والی جگہ کو لگ جاتی ہے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ سیدنا علیؓ نے سیدنا عمرؓ سے کہا: اے امیر المؤمنین! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں اس چیز کو زیادہ جاننے والی ہیں، تو آپ نے سیدہ حفصہؓ کی طرف اس بارے میں پیغام بھیجا۔ انھوں نے جواباً کہا: مجھے اس کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے، پھر انھوں نے سیدہ عائشہؓ کی طرف پیغام بھیجا، انھوں نے کہا: جب ختنے والی جگہ ختنے والی جگہ کو لگ جاتی ہے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ یہ سن کر سیدنا عمر ؓ کو غصہ آ گیا اور انھوں نے کہا: مجھے یہ بات موصول نہ ہونے پائے کہ کسی نے ایسا کام کیا ہو اور پھر غسل نہ کیا ہو، وگرنہ میں اسے سخت ترین سزا دوں گا۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 840]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار: 1/ 58، والبزار: 3730، والطبراني في الكبير: 4537، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21096 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21413»
وضاحت: فوائد: … مسئلہ تو بالکل واضح ہے، لیکن صحابۂ کرام کا مسئلہ حل کرنے کا انداز دیکھیں، جبکہ بیچ میں سیدنا عمرؓ بھی شریک تھے، بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت تک رسائی حاصل کرنے کے لیے امہات المؤمنین سے رابطہ کیا گیا، جب حدیث ِ مبارکہ کا پتہ چلا تو سیدنا عمرؓ نے اسی کو قانون قرار دیا۔ سبحان اللہ۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابٌ فِي وُجُوبِ الْغُسْلِ بِالْتِقَاءِ الْخِتَانَيْنِ وَلَوْ لَمْ يُنْزِلْ
ختنے والی دو جگہوں کے مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان، اگرچہ انزال نہ ہوا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 841
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا قَعَدَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ ثُمَّ أَلْزَقَ الْخِتَانَ بِالْخِتَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ) )
سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب مرد اپنی بیوی کی چار شاخوں کے درمیان بیٹھ جاتا ہے اور اپنی ختنے والی جگہ اس کی ختنے والی جگہ سے ملا دیتا ہے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 841]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 349، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24206 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24710»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی تمام احادیث کا اصل مدّعا یہ ہے کہ جب میاں بیوی کے ختنوں کے مقامات آپس میں مل جائیں گے تو جنابت والا غسل فرض ہو جائے گا، انزال ہو یا نہ ہو۔ ہم یہ تو جانتے ہیں کہ مرد کے عضو ِ خاص میں ختنے کی وجہ سے کیا تبدیلی آتی ہے۔ اسی طرح عورت کا ختنہ عربوں کے ہاں معروف تھا، لیکن ہمارے ہاں عورتوں کے ختنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ بہرحال صرف دو شرمگاہوں کے ٹکرانے سے غسل واجب نہیں ہو گا، بلکہ یہ غسل اس وقت فرض ہو گا، جب مرد کے ختنے کی جگہ عورت کی شرمگاہ کے اندر داخل ہو گی۔ عورت کی چارشاخوں سے کیا مراد ہے، اس کے بارے میں مختلف اقوال ہیں، مثلا: (۱)دونوں ہاتھ اور دونوں ٹانگیں، (۲) دونوں ٹانگیں اور دونوں رانیں، (۳) دونوں پنڈلیاں اور دونوں رانیں، (۴) دونوں رانیں اور شرمگاہ کے دو کنارے، وغیرہ۔ ان الفاظ کی جو مراد بھی لی جائے، یہ اتفاقی قید ہے، غسل اس وقت فرض ہو گا، جب دونوں ختنوں کے مقامات آپس میں مل جائیں اور دخول ہو جائے۔ اس کی مزید وضاحت اگلی حدیث سے ہو رہی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 842
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ وَتَوَارَتِ الْحَشْفَةُ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب ختنے والے دو مقامات مل جاتے ہیں اور حشفہ چھپ جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 842]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 611، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6670 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6670»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں