🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابٌ فِي وُجُوبِ الْغُسْلِ بِالْتِقَاءِ الْخِتَانَيْنِ وَلَوْ لَمْ يُنْزِلْ
ختنے والی دو جگہوں کے مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان، اگرچہ انزال نہ ہوا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 843
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ وَأَجْهَدَ نَفْسَهُ (وَفِي رِوَايَةٍ: ثُمَّ جَهَدَهَا) فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ أَنْزَلَ أَوْ لَمْ يُنْزِلْ) )
سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب مرد اپنی بیوی کی چار شاخوں میں بیٹھ جائے اور پھر اپنے آپ کو مشقت میں ڈالے (ایک روایت کے مطابق پھر اسے (بیوی کو) مشقت میں ڈالے) تو غسل واجب ہو جائے گا، انزال ہو یا نہ ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 843]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 291، ومسلم: 348، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8574 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8557»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 844
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا مُوسَى (الْأَشْعَرِيِّ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ شَيْءٍ وَأَنَا أَسْتَحْيِي مِنْكِ، فَقَالَتْ: سَلْ وَلَا تَسْتَحْيِ، فَإِنَّمَا أَنَا أُمُّكِ، فَسَأَلَهَا عَنِ الرَّجُلِ يَغْشَى وَلَا يُنْزِلُ، فَقَالَتْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا أَصَابَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ) )
سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ نے سیدہ عائشہؓ سے کہا: میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں، جبکہ میں آپ سے شرماتا بھی ہوں، انھوں نے کہا: تم سوال کرو اور نہ شرماؤ، میں تمہاری ماں ہی ہوں۔ پھر انھوں نے اس آدمی کے بارے میں سوال کیاجو اپنی بیوی سے مجامعت کرتا ہے، لیکن انزال نہیں ہوتا، انھوں نے جواباً کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب ختنہ والی جگہ، ختنے والی جگہ سے ٹکرا جائے تو غسل واجب ہوجائے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 844]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف، واخرج مسلم: 349 المرفوعَ منه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24655 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25162»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 845
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ) )
سیدنا معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب ختنے والی جگہ، ختنے والی جگہ سے آگے بڑھ جائے (یعنی اندر داخل ہو جائے) تو غسل واجب ہو جائے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 845]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه البزار في مسنده: 2675، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22046 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22396»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 846
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَمَّا يُوجِبُ الْغُسْلَ وَعَنِ الْمَاءِ يَكُونُ بَعْدَ الْمَاءِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فِي الْبَيْتِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فِي الْمَسْجِدِ وَعَنْ مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ، فَقَالَ: ( (إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، أَمَّا أَنَا فَإِذَا فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا، فَذَكَرَ الْغُسْلَ، قَالَ: أَتَوَضَّأُ وَضُوءِي لِلصَّلَاةِ أَغْسِلُ فَرْجِي ثُمَّ ذَكَرَ الْغُسْلَ، وَأَمَّا الْمَاءُ يَكُونُ بَعْدَ الْمَاءِ فَذَلِكَ الْمَذْيُ وَكُلُّ فَحْلٍ يُمْذِي فَأَغْسِلُ مِنْ ذَلِكَ فَرْجِي وَأَتَوَضَّأُ، وَأَمَّا الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ وَالصَّلَاةُ فِي بَيْتِي فَقَدْ تَرَى مَا أَقْرَبَ بَيْتِي مِنَ الْمَسْجِدِ، وَلَأَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصَلِّيَ فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً، وَأَمَّا مُؤَاكَلَةُ الْحَائِضِ فَأَأْكُلُهَا) )
سیدنا عبد اللہ بن سعدؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوالات کیے: کون سی چیز غسل کو واجب کرتی ہے، پیشاب کے بعد آ جانے والے سفید قطروں کا حکم، گھر اور مسجد میں نماز کا حکم اور حائضہ عورت کے ساتھ کھانا پینا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا، رہا مسئلہ میرا تو جب میں ایسے ایسے کرتا ہوں تو آپ نے غسل کا ذکر کیا، پھر میں نماز والا وضو کر تا ہوں، اپنی شرمگاہ کو دھوتا ہوں اور پھر غسل کر لیتا ہوں۔ رہا مسئلہ پیشاب کے بعد نکل آنے والے قطروں کا، تو یہ مذی ہے اور ہر نر کو مذی آ جاتی ہے، میں اس کی وجہ سے اپنی شرمگاہ کو دھوتا ہوں اور وضو کر لیتا ہوں، جہاں تک مسجد اور گھر میں نماز پڑھنے کی بات ہے تو تم دیکھ رہے ہو کہ میرا گھر میری مسجد کے بالکل قریب ہے، لیکن مجھے اپنے گھر میں نماز پڑھنا، مسجد میں نماز پڑھنے سے زیادہ پسند ہے، الا یہ کہ فرضی نماز ہو، اور رہا مسئلہ حائضہ کے ساتھ کھانے پینے کا تو میں تو ایسی بیوی کے ساتھ کھاتا پیتا ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 846]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 211، 212، وابن ماجه: 651، 1378، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19007 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19216»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابٌ وُجُوبِ الْغُسْلِ عَلَى مَنِ احْتَلَمَ إِذَا أَنْزَلَ
احتلام ہو جانے کی بنا پر غسل کے واجب ہونے کا بیان، بشرطیکہ انزال ہوا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 847
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الْبَلَلَ وَلَا يَذْكُرُ احْتِلَامًا، قَالَ: ( (يَغْتَسِلُ) ) وَعَنِ الرَّجُلِ يَرَى أَنَّهُ قَدِ احْتَلَمَ وَلَا يَرَى بَلَلًا، قَالَ: ( (لَا غُسْلَ عَلَيْهِ) ) فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ تَرَى ذَلِكَ شَيْءٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنَّمَا النِّسَاءُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ
سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا، جو منی کی تری تو پاتا ہے، لیکن اسے احتلام یاد نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ غسل کرے گا۔ پھر اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا کہ جس کا یہ خیال ہے کہ اسے احتلام تو ہوا ہے، لیکن وہ تری کو نہیں پاتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس پر کوئی غسل نہیں ہے۔ سیدہ ام سلیم ؓ نے کہا: اگر عورت کو اسی قسم کا خواب آئے، تو کیا اس کا بھی یہی حکم ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، عورتیں مردوں کی مانند ہی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 847]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 236، وابن ماجه: 612، والترمذي: 113، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26195 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26725»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 848
عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَتْ مُجَاوِرَةَ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَانَتْ تَدْخُلُ عَلَيْهَا فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ إِذَا رَأَتِ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا فِي الْمَنَامِ يَقَعُ عَلَيْهَا أَعَلَيْهَا غُسْلٌ؟ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: تَرِبَتْ يَدَاكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ! فَضَحْتِ النِّسَاءَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، وَإِنَّا إِنْ نَسْأَلِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَمَّا أَشْكَلَ عَلَيْنَا خَيْرٌ مِنْ أَنْ نَكُونَ مِنْهُ عَلَى عَمْيَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّ سَلَمَةَ: ( (أَنْتِ تَرِبَتْ يَدَاكِ، نَعَمْ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ! عَلَيْهَا الْغُسْلُ إِذَا وَجَدَتِ الْمَاءَ) ) فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَهَلْ لِلْمَرْأَةِ مَاءٌ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (فَأَنَّى يَأْتِي شَبَهُ الْخُوْلَةِ إِلَّا مِنْ ذَلِكَ، أَيُّ النُّطَفَتَيْنِ سَبَقَتْ إِلَى الرَّحِمِ غَلَبَتْ عَلَى الشَّبَهِ) )
سیدہ ام سلیمؓ، زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہؓ کہ ہمسائی تھیں اور وہ ان کے پاس آتی رہتی تھیں، ایک دن نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں داخل ہوئے اور سیدہ ام سلیم ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے کہ ایک عورت یہ خواب دیکھتی ہے کہ اس کا خاوند اس سے مجامعت کر رہا ہے، تو کیا وہ غسل کرے گی؟ سیدہ ام سلمہؓ نے کہا: تیرے ہاتھ خاک آلود ہو جائیں، اے ام سلیم! تو نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک عورتوں کو رسوا کر دیا ہے۔ سیدہ ام سلیم ؓ نے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا اور اگر ہم اپنے اشکالات کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کر لیں تو یہ اس سے تو بہتر ہے کہ ان کے بارے میں ہم جاہل اور اندھے ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ ام سلمہؓ سے فرمایا: بلکہ تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، جی ہاں ام سلیم! جب ایسی عورت منی کا پانی محسوس کرے گی تو اس پر غسل ہو گا۔ سیدہ ام سلیمؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورت کا بھی پانی ہوتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اس کا بچہ اس کے مشابہ کیسے ہو جاتا ہے، اس معاملے میں خواتین مردوں کی طرح ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 848]
تخریج الحدیث: «أخرج مسلم: 310 نحوه، لكن دون قوله: ھن شقائق الرجال، ھذه الجملة حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27118 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27659»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 849
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَحَدَّثَنِي حَجَّاجٌ قَالَ: أَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ، قَالَ حَجَّاجٌ: امْرَأَةَ أَبِي طَلْحَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! الْمَرْأَةُ تَرَى زَوْجَهَا فِي الْمَنَامِ يَقَعُ عَلَيْهَا أَعَلَيْهَا غُسْلٌ؟ قَالَ: ( (نَعَمْ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ) ) فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: وَتَفْعَلُ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: ( (تَرِبَتْ يَمِينُكِ، فَأَنَّى يَأْتِي شَبَهُ الْخُوْلَةِ إِلَّا مِنْ ذَلِكَ، أَيُّ النُّطَفَتَيْنِ سَبَقَتْ إِلَى الرَّحِمِ غَلَبَتْ عَلَى الشَّبَهِ) ) وَقَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ: تَرِبَتْ جَبِينُكِ
سیدہ ام سلمہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلیم زوجہ سیدنا ابو طلحہؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر کوئی عورت یہ خواب دیکھتی ہے کہ اس کا خاوند اس سے مجامعت کر رہا ہے، تو کیا اس پر غسل واجب ہو جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، جب وہ منی کا پانی دیکھ لے گی۔ سیدہ ام سلمہؓ نے کہا: کیا عورت کا پانی بھی نکلتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو جائے، بچے کی ماموؤں کے ساتھ مشابہت عورت کے اسی پانی کی وجہ سے ہوتی ہے، دو نطفوں میں سے جو نطفہ رحم کی طرف سبقت لے جاتا ہے، وہی مشابہت پر غالب آ جاتا ہے۔ حجاج کی حدیث میں ہے: تیری پیشانی خاک آلود ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 849]
تخریج الحدیث: «أخرج البخاري: 130، 282، 3328، 6091، ومسلم: 313 نحوه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26631 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27166»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 850
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ غُسْلٌ إِذَا احْتَلَمَتْ؟ قَالَ: ( (نَعَمْ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ) )
۔ (دوسری سند)سیدہ ام سلمہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلیمؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! بیشک اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا، تو کیا جب عورت کو احتلام ہو جاتا ہے، تو اس پر غسل ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، جب وہ پانی (منی) دیکھ لے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 850]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27114»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 851
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْهَا عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَتْهُ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ، فَقَالَ: ( (إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ) ) قَالَتْ: قُلْتُ: فَضَحْتِ النِّسَاءَ، وَهَلْ تَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (تَرِبَتْ يَمِينُكِ، فَبِمَ يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا إِذًا) )
۔ (تیسری سند) سیدہ ام سلمہؓ کہتی ہیں: سیدہ ام سلیمؓ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آئی اور اس عورت کے بارے میں سوال کیا، جو خواب میں وہ چیز دیکھتی ہے، جو مرد دیکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب وہ پانی دیکھ لے، تو غسل کرے۔ میں نے کہا: تو نے تو عورتوں کو رسوا کر دیا ہے، بھلا کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو جائے، تو پھر عورت کا بچہ اس سے مشابہ کیسے ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 851]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27148»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 852
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُمَيَّةَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَأَلَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَهِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تَرَى الْمَرْأَةُ فِي الْمَنَامِ مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا رَأَتِ الْمَرْأَةُ ذَلِكَ وَأَنْزَلَتْ فَلْتَغْتَسِلْ) )
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مرو ی ہے کہ سیدہ ام سلیم ؓ، جو کہ سیدنا انس بن مالک ؓ کی والدہ تھیں، نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو کچھ مرد خواب میں دیکھتا ہے اور اگر وہی کچھ عورت دیکھے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب یہ چیز دیکھے اور اسے انزال بھی ہو تو وہ غسل کرے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 852]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5636 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5636»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں