🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابٌ وُجُوبِ الْغُسْلِ عَلَى مَنِ احْتَلَمَ إِذَا أَنْزَلَ
احتلام ہو جانے کی بنا پر غسل کے واجب ہونے کا بیان، بشرطیکہ انزال ہوا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 853
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ امْرَأَةٍ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ رَأَتْ ذَلِكَ مِنْكُنَّ فَأَنْزَلَتْ فَلْتَغْتَسِلْ) ) قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: أَوَ يَكُونُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ( (نَعَمْ، مَاءُ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ وَمَاءُ الْمَرْأَةِ أَصْفَرُ رَقِيقٌ، فَأَيُّهَا سَبَقَ أَوْ عَلَا أَشْبَهَ الْوَلَدُ) )
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلیمؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا، جو اپنے خواب میں وہ کچھ دیکھتی ہے، جو مرد دیکھتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی عورت اس طرح کا خواب دیکھے اور پھر اسے انزال بھی ہو جائے تو وہ غسل کرے۔ سیدہ ام سلمہؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورت کے ساتھ بھی ایسے ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، مرد کا پانی سفید اور گاڑھا ہوتا ہے اور عورت کا پانی زرد اور پتلا ہوتاہے، ان میں سے جو سبقت لے جاتا ہے، اسی سے بچے کی مشابہت ہو جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 853]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، وأخرج الشطر الاول منه مسلم: 310، وأخرجه ابن ماجه: 601، وانظر الحديث رقم (848) وما بعده مما روي عن ام سليم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12222 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12247»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 854
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: هَلْ تَغْتَسِلُ الْمَرْأَةُ إِذَا احْتَلَمَتْ وَأَبْصَرَتِ الْمَاءَ؟ فَقَالَ: ( (نَعَمْ) ) فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: تَرِبَتْ يَدَاكِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (دَعِيهَا، وَهَلْ يَكُونُ الشَّبَهُ إِلَّا مِنْ قِبَلِ ذَلِكَ، إِذَا عَلَا مَاؤُهَا مَاءَ الرَّجُلِ أَشْبَهَ أَخَوَالَهُ، وَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَهَا أَشْبَهَهُ) )
سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا: جب عورت کو احتلام ہو جائے اور وہ پانی بھی دیکھ لے، تو کیا وہ غسل کرے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ سیدہ عائشہؓ نے اس خاتون سے کہا: تیرے ہاتھ خاک آلود ہو جائیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: چھوڑ دے اس عورت کو، (یہ صحیح کہہ رہی ہے) اسی وجہ سے تو مشابہت ہوتی ہے، جب عورت کا مادۂ منویہ مرد کے پانی پر غالب آجائے تو بچہ ماموؤں کے مشابہ ہو جاتا ہے اور جب مرد کا مادۂ منویہ عورت کے پانی پر غالب آ جائے تو بچے کی مشابہت اس سے ہو جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 854]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 314، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24610 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25117»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 855
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ، فَقَالَ: ( (لَيْسَ عَلَيْهَا غُسْلٌ حَتَّى يَنْزِلَ الْمَاءُ كَمَا أَنَّ الرَّجُلَ لَيْسَ عَلَيْهِ غُسْلٌ حَتَّى يُنْزِلَ) )
سیدہ خولَہُ بنت حکیمؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا جو خواب میں وہی چیز دیکھتی ہے، جو مرد دیکھتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک پانی کانزول نہیں ہو گا، اس پر کوئی غسل نہیں ہو گا، جیسے مرد پر اس وقت تک غسل نہیں ہوتا، جب تک اسے انزال نہ ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 855]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 602، النسائي: 1/ 115، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27312 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27855»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 856
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: إِنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ حَكِيمٍ السُّلَمِيَّةَ وَهُوَ إِحْدَى خَالَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَحْتَلِمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لِتَغْتَسِلْ) )
۔ (دوسری سند) سیدہ خولہ بن حکیم سُلَمِیّہؓ، جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک خالہ تھیں، نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا، جسے احتلام ہو جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ غسل کرے گی۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 856]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27856»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ مرد اور عورت دونوں کو احتلام ہو سکتا ہے اور اس کی وجہ سے جنابت والا غسل واجب ہو جاتاہے۔ احتلام کے لیے خواب کا آنا یا نہ آنا معتبر نہیں ہے، بلکہ کپڑے یا جسم پر تری یا داغ کا ہونا معتبر ہے، جب کسی کو نیند کے بعد اپنے جسم یا کپڑے پر احتلام کے اثرات نظر آ جائیں گے تو وہ غسلِ جنابت کرے گا، خواب کا آنا اس کے ذہن میں ہو یا نہ ہو۔ اسی طرح اگر کسی کو اس قسم کا خواب تو آتا ہے، لیکن جسم یا کپڑے پر کوئی نشان دکھائی نہیں دیتا تو غسل فرض نہیں ہو گا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ حُجَّةِ مَنْ قَالَ الْجُنُبُ لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ
ان لوگون کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ جنابت والا قرآن مجید کی تلاوت نہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 857
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَا وَرَجُلَانِ، رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَحْسَبُ، فَبَعَثَهُمَا وَجْهًا وَقَالَ: أَمَّا إِنَّكُمَا عِلْجَانِ فَعَالِجَا عَنْ دِينِكُمَا، ثُمَّ دَخَلَ الْمَخْرَجَ فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ خَرَجَ فَأَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَتَمَسَّحَ بِهَا ثُمَّ جَعَلَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، قَالَ: فَكَأَنَّهُ رَآنَا أَنْكَرْنَا ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي حَاجَتَهُ ثُمَّ يَخْرُجُ فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَأْكُلُ مَعَنَا اللَّحْمَ وَلَمْ يَكُنْ يَحْجُبُهُ عَنِ الْقُرْآنِ شَيْءٌ لَيْسَ الْجَنَابَةَ
عبد اللہ بن سلمہ کہتے ہیں: میں اور دو آدمی، ہم سب سیدنا علیؓ کے پاس گئے، ایک آدمی میری قوم سے تھا اور میرے خیال کے مطابق دوسرا بنو اسد سے تھا، سیدنا علی ؓ نے ان کو ایک طرف بھیج دیااور ان سے کہا: تم دونوں قوی آدمی ہو، اس لیے میں تم کو جس کام کی طرف بھیج رہا ہوں، اس میں اچھی طرح محنت کرنا، پھر وہ قضائے حاجت کے لیے ایک جگہ میں گئے، قضائے حاجت کی، پھر وہاں سے نکلے اور پانی کا ایک چلّو لیا اور اس سے ہاتھ دھوئے اور پھر قرآن مجید کی تلاوت شروع کر دی۔ جب انھوں نے دیکھا کہ ہم لوگ ان کی اس کاروائی کو صحیح نہیں سمجھ رہے تو انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی قضائے حاجت کر کے قرآن مجید کی تلاوت کرتے تھے اورہمارے ساتھ گوشت کھاتے تھے اور جنابت کے علاوہ کوئی چیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے قرآن مجید سے مانع نہیں ہوتی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 857]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 229، وابن ماجه: 594، والنسائي: 1/ 144، والترمذي: 146، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 840 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 840»
وضاحت: فوائد: … ہم نے فَتَمَسَّحَ بِہَا کے معانی ہاتھ دھونے کے کیے ہیں، کیونکہ دارقطنی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: فَغَسَلَ کَفَّیْہِ

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 858
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ مَالَمْ يَكُنْ جُنُبًا
سیدنا علی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں قرآن مجید پڑھاتے تھے، الّا یہ کہ جنابت کی حالت میں ہوتے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 858]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1123»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 859
عَنْ أَبِي الْغَرِيفِ قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِوَضُوءٍ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَغَسَلَ يَدَيْهِ وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: هَٰكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثُمَّ قَرَأَ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ قَالَ: ( (هَٰذَا لِمَنْ لَيْسَ بِجُنُبٍ، فَأَمَّا الْجُنُبُ فَلَا وَلَا آيَةً) )
ابو غریف کہتے ہیں: سیدنا علی ؓ کے پاس وضو کا پانی لایا گیا، انھوں نے تین تین بار کلی اور ناک میں پانی چڑھایا، تین دفعہ چہرہ دھویا، تین مرتبہ ہاتھوں اور بازوؤں کو دھویا، پھر اپنے سرکا مسح کیا اور پھر پاؤں کو دھویا۔ پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن مجید کی کچھ تلاوت کرنے کے بعد فرمایا: وہ بندہ یہ تلاوت کر سکتا ہے، جو جنبی نہ ہو، رہا مسئلہ جنابت والے آدمی کا تو وہ تلاوت نہیں کر سکتا ہے، ایک آیت بھی نہیں پڑھ سکتا۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 859]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: ھذا صحيح موقوفا، لا مرفوعا (ارواء الغليل:2/241)۔ أخرجه ابويعلي: 365، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 872 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 872»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی مرفوع احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنابت کی حالت میں قرآن مجید کی تلاوت نہیں کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس عمل کو استحباب پر محمول کریں گے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی حالت میں کوئی کام نہ کرنے سے حرمت یا ممانعت ثابت نہیں ہوتی۔ ہمیں یہ نظریہ راجح معلوم ہوتا ہے کہ جنبی اور کسی بھی غیر طاہر شخص کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ قرآن مجید کی تلاوت اور ذکرِ الٰہی کے لیے وضو کرے، جہاں تک مسئلہ جواز کا ہے تو ایسے افراد کے لیے زبانی تلاوت کرنا یا اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا درست ہے، دلائل مندرجہ ذیل ہیں:
(۱) براء ہ اصلیہ، یعنی جنبی اور حائضہ کے حق میں قرآن مجید کی تلاوت کو ممنوع قرار دینے پر کوئی صریح اور صحیح حدیث دلالت نہیں کرتی۔ سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ جنبی کیلئے (قرآن کی) قراء ت میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ (صحیح بخاری تعلیقًا: کتاب الحیض، باب تقضی الحائض المناسک کلھا الا الطواف بالبیت) جنبی ‘ حائضہ اور نفاس والی عورت ‘ تینوں بالاتفاق اللہ تعالیٰ کا ذکر کر سکتے ہیں اور قرآن مجید بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے‘ لہٰذا وہ اس کی تلاوت کر سکتے ہیں‘ تفصیل اگلی دلیل میں ملاحظہ فرمائیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حج کے موقع پر حائضہ ہو گئیں‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا: ((فَافْعَلِیْ مَا یَفْعَلُ الْحَاجُّ غَیْرَ اَنْ لَّاتَطُوْفِیْ بِالْبَیْتِ حَتّٰی تَطْھُرِیْ۔)) … بیت اللہ کے طواف کے علاوہ آپ بھی دوسرے حاجیوں کی طرح حج کے مناسک ادا کرتی رہیں اور پاک ہونے کے بعد طواف کر لینا۔ (صحیح بخاری: ۳۰۵) قابل غور بات یہ ہے طواف کے علاوہ دوسرے مناسک بھی اذکار‘ تلبیہ اور دعاؤں پر مشتمل ہیں‘ جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پورا کرنے کا حکم دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مذکورہ بالا حدیث کی شرح میں حافظ ابن حجر نے کہا: سب سے بہترین بات وہ ہے جو ابن رشید نے ابن بطال وغیرہ کی پیروی کرتے ہوئے کہی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے امام بخاری کی مرادحائضہ اور جنبی کی قراء ت کے جواز پر استدلال کرنا ہے‘ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مناسک حج میں سے صرف طواف‘ جو کہ مخصوص نماز ہے، کو مستثنی کیا اور حج کے بقیہ اعمال ذکر‘ تلبیہ اور دعاء پر مشتمل ہیں‘ لیکن حائضہ عورت کو ان سے منع نہیں کیا گیا‘ اسی طرح جنبی آدمی ہے‘ جس کا حدث حائضہ کے حدث سے کم ہے اور اگر تلاوتِ قرآن کو اللہ کا ذکر ہونے کی بناء ممنوع قرار دیا جائے تو اس میں اور مذکورہ بالا اذکار میں کوئی فرق نہیںاور اگر تلاوت کو تعبدی طور پر ممنوع سمجھا جائے تو اس کیلئے دلیل کی ضرورت ہے اورمصنف (امام بخاری) کے نزدیک اس مسئلہ کے بارے وارد احادیث میں سے کوئی حدیث بھی صحیح نہیں۔ (فتح الباری: حدیث ۳۰۵ کے تحت) جنابت والا آدمی قرآن مجید کو چھو نہیں سکتا، اس کی دلیل درج ذیل ہے: سیدنا عبداللہ بن ابو بکرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو خط عمرو بن حزم کو لکھا تھا‘ اس میں یہ الفاظ بھی تھے: ((لَایَمَسُّ الْقُرْآنَ اِلَّا طَاھِرٌ۔)) … قرآن مجید کو صرف طاہر ہی پکڑ سکتا ہے۔ (مؤطا امام مالک: ۴۱۹، دارقطنی: ۱/۱۲۲، البیہقی: ۱/۸۷) جن روایات میں جنبی اور حائضہ کو قرآن مجید کی تلاوت سے منع کیا گیا‘ ان میں سے واضح ترین مندرجہ ذیل چار ضعیف احادیث ہیں:
(۱)سیدنا جابر ؓسے روایت ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَاتَقْرَأُ الْحَائِضُ وَلَاالنُّفَسَائُ مِنَ الْقُرْآَنِ شَیْئًا۔)) … حیض اور نفاس والی عورتیں قرآن سے کچھ نہ پڑھیں۔ (دارقطنی: ۲/۸۷، حلیۃ الاولیاء: ۴/۲۲) اس حدیث کی سند میں محمد بن فضل متروک راوی ہے، حافظ ابن حجر نے تقریب میں کہا: محدثین نے اس کو کذاب کہا ہے۔
(۲)سیدنا عبدا للہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تَقْرَأُ الْحَائِضُ وَلَا الْجُنُبُ شَیْئًا مِنَ الْقُرْآنِ۔)) … حائضہ اور جنبی قرآن سے کچھ نہ پڑھیں۔ (ترمذی: ۱۳۱، ابن ماجہ: ۵۹۵) اس کی سند میں اسماعیل بن عیاش ہے‘ جو حجازیوں سے روایت کرنے میں ضعیف ہے اور یہ حدیث حجازیوں سے ہے۔
(۳)سیدنا علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِقْرَأِ الْقُرْآنَ عَلٰی کُلِّ حَالٍ مَا لَمْ تَکُنْ جُنُبًا۔)) … سوائے حالت ِ جنابت کے آپ ہر حال میں قرآن پڑھ سکتے ہیں۔ (ابن عدی: ۳/۹۲۵) اس کی سند میں خارجہ بن مصعب ہے‘ جو کہ متروک ہے اور جھوٹے راویوں سے تدلیس کرتا ہے۔
(۴)سیدنا علی ؓکہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضوء کیا، پھر قرآن کا کچھ حصہ تلاوت کیا اور فرمایا: ((ھٰکَذَا لِمَنْ لَیْسَ بِجُنُبٍ‘ فَاَمَّا الْجُنُبُ فَلَا وَلَا آیَۃً۔)) … یہ طریقہ کار اس شخص کیلئے ہے جو جنبی نہیں‘ رہا مسئلہ جنبی کا تو وہ ایک آیت بھی تلاوت نہیں کر سکتا۔ (مسند احمد: ۱/۱۱۰، مسند ابو یعلی: ۳۶۵) اس روایت کو عائذ بن حبیب نے عامر بن سمطہ سے مرفوعا بیان کیا‘ جبکہ درج ذیل اوثق رواۃ نے عامر سے سیدنا علیؓ پر موقوفا روایت کیا ہے: یزید بن ہارون‘ امام ثوری‘ خالد بن عبدا للہ‘ حسن بن صالح بن حی‘ شریک بن عبداللہ‘ اسحاق بن ابراہیم۔ یہ روایت اس باب میں بھی موجود ہے، زیادہ وضاحت کی وجہ سے لکھ دی گئی ہے۔
امام دارقطنی نے موقوفا روایت کرنے کے بعد کہا کہ یہ سیدنا علیؓ سے صحیح ہے۔ (دارقطنی:۱/۱۱۸) جبکہ عبدالرزاق نے کہا کہ عبد الرزاق بھی اسی (اثر) کو لے گا۔ (مصنف عبد الرزاق: ۱/۳۳۶) مزید دیکھیں: ارواء الغلیل: ۲/۲۴۳

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 860
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ جُنُبٌ وَلَا صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ) )
سیدنا علیؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس گھر میں جنابت والا آدمی، تصویر اور کتا ہو، اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 860]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره دون ذكر الجنب۔ أخرجه ابوداود: 227، 4152، والنسائي: 1/ 141، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 632 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 632»
وضاحت: فوائد: … کتے سے مراد وہ کتا ہے، جو رکھوالی اور شکار کے لیے نہ رکھا گیا ہو، آج کل اکثر دیہاتی لوگ لڑانے کے لیے اور اکثر شہری لوگ صرف اپنا شوق پورا کرنے کے لیے کتے پالتے ہیں، جبکہ یہ عادت انتہائی قابل مذمت ہے، سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنِ اقْتَنٰی کَلْبًا لَیْسَ بِکَلْبِ مَاشِیَۃٍ اَوْ ضَارِیَۃٍ نَقَصَ کُلَّ یَوْمٍ مِنْ عَمَلِہٖ قِیْرَاطَانِ۔)) … جس نے ایسا کتا پالا جو جانوروں (کی رکھوالی) یا شکار کے لیے نہ ہو، ہر روز اس کے عمل سے دو قیراط اجر کم ہو جاتا ہے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) جنازے کے ثواب والی احادیث سے قیراط کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ: وہ احد پہاڑ کے برابر ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابٌ فِي الِاسْتِثَارِ عِنْدَ الْغُسْلِ
غسل کے وقت پردہ کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 861
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ عَلِيًّا فَوَضَعَ لَهُ غُسْلًا ثُمَّ أَعْطَاهُ ثَوْبًا فَقَالَ: ( (اسْتُرْنِي وَوَلِّنِي ظَهْرَكَ) )
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی ؓ کو حکم دیا، پس انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غسل کا پانی رکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ایک کپڑا دے کر فرمایا: اس کے ساتھ مجھ پر پردہ کرو اور اپنی پیٹھ میری طرف کر لو۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 861]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، شريك سييء الحفظ، وسماك في روايته عن عكرمة اضطراب، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2911 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2911»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 862
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ الْمَاءَ لَمْ يُلْقِ ثَوْبَهُ حَتَّى يُوَارِيَ عَوْرَتَهُ بِالْمَاءِ) )
سیدنا انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک حضرت موسی بن عمرانؑ جب پانی میں داخل ہونے کا ارادہ فرماتے تو اس وقت تک کپڑا نہیں اتارتے تھے، جب تک پردے کے مقامات کو پانی سے نہ چھپا لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 862]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13764 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13800»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں