Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بِابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْقَرْضِ وَالتَّيْسِيرِ عَلَى الْمُعْسِر
بیع سلم (بیع سلف) کے مسائل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6002
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي التَّمْرِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ فَقَالَ مَنْ سَلَّفَ فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو وہ لوگ دو دوتین تین سال کی کھجور کی بیع سلف کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو بیع سلف کرنا چاہے، اس کو چاہیے کہ وہ مقررہ ماپ، معین وزن اور مقررہ مدت تک کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6002]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2240، 2241، ومسلم: 1604، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1937 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1937»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. باب
بیع سلم
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: Q6003]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6003
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ أَرْسَلَنِي ابْنُ شَدَّادٍ وَأَبُو بُرْدَةَ فَقَالَا انْطَلِقْ إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْ لَهُ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادٍ وَأَبَا بُرْدَةَ يُقْرِئَانِكَ السَّلَامَ وَيَقُولَانِ هَلْ كُنْتُمْ تُسْلِفُونَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْبُرِّ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ قَالَ نَعَمْ كَمَا نُصِيبُ غَنَائِمَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنُسْلِفُهَا فِي الْبُرِّ وَالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ فَقُلْتُ عِنْدَ مَنْ كَانَ لَهُ زَرْعٌ أَوْ عِنْدَ مَنْ لَيْسَ لَهُ زَرْعٌ فَقَالَ مَا كُنَّا نَسْأَلُهُمْ عَنْ ذَلِكَ قَالَ وَقَالَا لِي انْطَلِقْ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَاسْأَلْهُ قَالَ فَانْطَلَقَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ ابْنُ أَبِي أَوْفَى قَالَ وَكَذَا حَدَّثَنَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ زَائِدَةَ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ قَالَ وَالزَّيْتِ
۔ مولائے بنو ہاشم محمد بن ابی مجالد کہتے ہیں: ابن شداد اور ابوبردہ نے مجھے بھیجا اور کہا: تو سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کے پاس جا اور ان سے کہہ کہ عبداللہ بن شداد اور ابو بردہ آپ کو سلام کہتے ہیں اور یہ سوال کرتے ہیں کہ تم لوگ عہد ِ نبوی میں گندم، جو اور منقی میں بیع سلف کیا کرتے تھے؟ انھوں نے جواباً کہا: جی ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں مال غنیمت حاصل کرتے اور پھر اس میں گندم، جو، کھجور اور منقی میں بیع سلف کرتے تھے۔ میں نے کہا:کیایہ بیع ان سے کرتے تھے، جن کے پاس کھیتی ہوتی تھی یا ان سے بھی کہ جن کے پاس کھیتی نہیں ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: اس چیز کے بارے میں ہم پوچھتے ہی نہیں تھے۔ (جب میں نے واپس آ کر ان کو تفصیل بتائی تو) انھوں نے کہا: اب سیدنا عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس جا اوران سے یہی مسئلہ دریافت کر کے آ۔ پس میں ان کے پاس گیا اور انھوں نے بھی سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ والا جواب دیا۔ امام احمد کہتے ہیں کہ ابو معاویہ کی روایت میں تیل (یا زیتون کے تیل) کاذکر بھی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6003]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2244، 2245، 2254، 2255، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19396 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19615»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6004
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ ابْتَاعَ رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ نَخْلًا فَلَمْ يُخْرِجْ تِلْكَ السَّنَةَ شَيْئًا فَاجْتَمَعَا فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَ تَسْتَحِلُّ دَرَاهِمَهُ ارْدُدْ إِلَيْهِ دَرَاهِمَهُ وَلَا تُسْلِمَنَّ فِي نَخْلٍ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ فَسَأَلْتُ مَسْرُوقًا مَا صَلَاحُهُ فَقَالَ يَحْمَارُّ أَوْ يَصْفَارُّ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ایک آدمی نے ایک آدمی سے کھجوریں خریدیں، لیکن اس سال انہیں پھل ہی نہیں لگا، پس وہ دونوں فیصلہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اس کے درہم کو اپنے لئے کیسے حلال سمجھتا ہے؟اس کے درہم اس کو واپس لوٹادے، کھجور میں ہر گز بیع سلم نہ کیا کرو، جب تک کہ اس کی صلاحیت ظاہر نہ ہوجائے۔ راوی کہتا ہے: میں نے مسروق سے پوچھا کہ صلاحیت کے ظہور کا کیا مطلب ہے، انھوں نے کہا: پھل کا سرخ یازرد ہوجانا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6004]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة النجراني۔ أخرجه ابوداود: 3467، وابن ماجه: 2284، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6316 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6316»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، نیز بیع سلم کا پھلوں کے پکنے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6005
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَا يَصْلُحُ السَّلَفُ فِي الْقَمْحِ وَالشَّعِيرِ وَالسُّلْتِ حَتَّى يُفْرَكَ وَلَا فِي الْعِنَبِ وَالزَّيْتُونِ وَأَشْبَاهِ ذَلِكَ حَتَّى يُمَجَّجَ وَلَا ذَهَبًا عَيْنًا بِوَرِقٍ دَيْنًا وَلَا وَرِقًا دَيْنًا بِذَهَبٍ عَيْنًا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْإِمَامِ أَحْمَدَ قَالَ أَبِي لَيْسَ مَرْفُوعًا
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: گندم اور عام جو اور چھلکے کے بغیر جو میں اس وقت تک بیع سلف جائزنہیں، جب تک کہ اس کادانہ خشک نہ ہوجائے، انگوراور زیتون وغیرہ میں بھی یہ بیع جائز نہیں ہے، یہاں تک کہ یہ چیزیں اچھی طرح پختہ نہ ہو جائیں اور نہ نقد سونے کی ادھار چاندی کے ساتھ اور نقد چاندی کی ادھار سونے کے ساتھ بیع جائز ہے۔ امام احمد نے کہا: یہ روایت مرفوع نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6005]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11111 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11127»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6006
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي السَّلَفِ فِي حَبْلِ الْحَبَلَةِ رِبًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حمل کے حمل کا ادھار کے ساتھ سودا کرنا سود ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6006]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه النسائي: 7/ 293، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2145 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2145»
وضاحت: فوائد: … اس کی صورت یہ ہے کہ آدمی حاملہ اونٹنی کے مالک کو قیمت ادا کرے اور کہے کہ میں اِس اونٹنی کے حمل کا حمل خرید رہا ہوں، یہ معاملہ اس اعتبار سے سود کے مشابہ ہے کہ یہ سود کی طرح حرام ہے، کیونکہ بائع ایسی چیز بیچ رہا ہے جو نہ تو اس کے پاس ہے اور نہ وہ اس کو سپرد کرنے پر قدرت رکھتاہے، پس اس سودے میں غرر اور دھوکہ ہے۔
اس حدیث ِ مبارکہ کا بیع سلم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حدیث کا بیع سلم/ سلف کے ساتھ اس طرح تعلق ہوسکتا ہے کہ
اس میں وقت مقرر کیا جاتا ہے۔ اگر وقت طے نہ کیا جائے تو بیع سلم جائز نہیں اور حبل الحبلۃ میں وقت مجہول ہوتا ہے، اسی طرح اگر حبل الحبلۃ کی بیع ہوگی تو عین بھی مجہول ہوگا۔ اس لیے سلف میں حبل الحبلۃ تک وقت مقرر کرنا ٹھیک نہیں اور عین مجہول ہونے کی وجہ سے حبل الحبلۃ کی بیع بھی جائز نہیں۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب
قرض کے مسائل
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: Q6007]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. باب
قرض دینے کی فضیلت اور تنگدست پر آسانی کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6007
عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنِ ابْنِ أُذْنَانَ قَالَ أَسْلَفْتُ عَلْقَمَةَ أَلْفَيْ دِرْهَمٍ فَلَمَّا خَرَجَ عَطَاؤُهُ قُلْتُ لَهُ اقْضِنِي قَالَ أَخِّرْنِي إِلَى قَابِلٍ فَأَبَيْتُ عَلَيْهِ فَأَخَذْتُهَا قَالَ فَأَتَيْتُهُ بَعْدُ قَالَ بَرَّحْتَ بِي وَقَدْ مَنَعْتَنِي قُلْتُ نَعَمْ هُوَ عَمَلُكَ قَالَ وَمَا شَأْنِي قُلْتُ إِنَّكَ حَدَّثْتَنِي عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ السَّلَفَ يَجْرِي مَجْرَى شَطْرِ الصَّدَقَةِ قَالَ نَعَمْ فَهُوَ ذَاكَ قَالَ فَخُذِ الْآنَ
۔ ابن اذ نان کہتے ہیں: میں نے علقمہ کو دوہزار درہم ادھار دیئے،جب ادائیگی کا وقت آیا تو میں نے کہا: میرا قرض ادا کرو، انہوں نے کہا: مجھے آئندہ سال تک مہلت دو، لیکن میں نے مہلت دینے سے انکار کر دیا، پس میں نے اس سے لے لیے، پھر میں اس کے پاس بعد میں آیا، انھوں نے کہا: تو تو میرے ساتھ چمٹ ہی گیا ہے اور تو نے مجھے روک دیا ہے، میں نے کہا: جی ہاں، اور یہ تمہارا اپنا عمل ہی ہے، انھوں نے کہا: میرا کیا معاملہ ہے؟ میں نے کہا: تم نے مجھے یہ حدیث بیان کی تھی کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ادھار نصف صدقہ کے قائم مقام ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، بات ایسے ہی ہے، پھر انھوں نے کہا: تو پھر اب لے لے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6007]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 2430، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3911 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3911»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6008
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَرَادَ أَنْ تُسْتَجَابَ دَعْوَتُهُ وَأَنْ تُكْشَفَ كُرْبَتُهُ فَلْيُفَرِّجْ عَنْ مُعْسِرٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو چاہتا ہے کہ اس کی دعاقبول ہواور مصیبت چھٹ جائے تو وہ تنگدست کے قرض کے معاملے میں اس پر آسانی پیدا کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6008]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف زيد العمي، ثم ھو منقطع، زيد روايته عن الصحابة مرسلة۔ أخرجه ابو يعلي: 5713، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4749 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4749»
وضاحت: فوائد: … آسانی سے مراد یہ ہے کہ وہ سارا یا بعض قرضہ معاف کر دے، یا اس کو کچھ دنوں تک مہلت دے دے، یا اس کی ادائیگی پر مقروض کی مدد کرے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6009
عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ مُخَلَّدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا فِي الدُّنْيَا سَتَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَنْ نَجَّى مَكْرُوبًا فَكَّ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي حَاجَتِهِ
۔ سیدنا مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو دنیا میں مسلمان کی عیب پوشی کرے گا، اللہ تعالی دنیا وآخرت میں اس کی عیب پوشی کرے گا،جومصیبت زد ہ کو نجات دلائے گا، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے مصائب سے ایک مصیبت سے آزاد کرے گااور جو شخص اپنے بھائی کی مدد میں رہے گا، اللہ تعالی اس کی حاجت پوری کرنے میں رہے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6009]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 19/ 1067، وفي ’’الاوسط‘‘: 8129، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:16959 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17084»
وضاحت: فوائد: … قرضہ دیناافضل عمل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو صدقہ قرار دیا ہے، مزید ایک حدیثیہ ہے:
سلیمان بن بریدہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ((مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِراً فَلَہُ بِکُلِّ یَوْمٍ مِثْلَہُ صَدَقَۃٌ۔)) قَالَ: ثُمَّ سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: ((مَن أَنْظَرَ مُعْسِراً، فَلَہُ بِکُلِّ یَوْمٍ مِثْلَیْہِ صَدَقَۃٌ۔)) قُلْتُ: سَمِعْتُکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! تَقُوْلُ: ((مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِراً، فَلَہُ بِکُلِّ یَوْمٍ مِثْلَہُ صَدَقَۃٌ۔)) ثُمَّ سَمِعْتُکَ تَقُوْلُ: ((مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا، فَلَہُ بِکُلِّ یَوْمٍ مِثْلَیْہِ صَدَقَۃٌ۔))؟ قَالَ: ((لَہُ بِکُلِّیَوْمٍ صَدَقَۃٌ قَبْلَ أَن یَحِلَّ الدَّیْنُ، فَإِذَا حَلَّ الدَّیْنَ فَأَنْظَرَہُ فَلَہُ بِکُلِّ یَوْمٍ مِثْلَیْہِ صَدَقَۃٌ۔)) … جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی تو اسے ہر روز (قرض کی مقدار) کی مثل صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں فرماتے سنا: جس نے کسی تنگ دست کومہلت دی تو اسے ہر روز اس (مقدار) سے دو گنا کے برابر صدقے کا ثواب ملے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو پہلے یوں فرماتے سنا: جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی تو اسے ہر روز اسی (مقدار) کی مثل صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا۔ اور پھر یوں سنا: جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی تو اسے ہر روز اس (مقدار) سے دو گنا صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرض کی ادائیگی سے پہلے تک اسے ہر روز (اتنی ہی مقدار میں) صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا، اور جب (وعدے کے مطابق) قرض واجب الادا ہو جائے لیکن وہ پھر مہلت دے دے، (تو ایسی صورت میں) اسے (اس مقدار) کا دو گناہ ثواب ملے گا۔ (مسند احمد: ۵/۳۶۰)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں