Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. بَابٌ فِي أَنَّ نَفْسَ الْمَيِّتِ مَحْبُوسَةٌ عَنِ الْجَنَّةِ بِدَيْنِهِ
قرض کی وجہ سے میت کے نفس کو جنت سے روک لینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6030
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَقَالَ أَهَاهُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ قَالَهَا ثَلَاثًا فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مَنَعَكَ فِي الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ أَنْ تَكُونَ أَجَبْتَنِي أَمَا إِنِّي لَمْ أُنَوِّهْ بِكَ إِلَّا لِخَيْرٍ إِنَّ فُلَانًا لِرَجُلٍ مِنْهُمْ مَاتَ إِنَّهُ مَأْسُورٌ وَفِي لَفْظٍ إِنَّهُ مَحْبُوسٌ عَنِ الْجَنَّةِ بِدَيْنِهِ قَالَ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ أَهْلَهُ وَمَنْ يَتَحَزَّنَ لَهُ قَضَوْا عَنْهُ حَتَّى مَا جَاءَ أَحَدٌ يَطْلُبُهُ بِشَيْءٍ
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں شریک تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنی فلا ں کا کوئی آدمی یہاں موجو د ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دفعہ یہ بات دوہرائی، بالآخر ایک آدمی کھڑا ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کس چیز نے تجھے پہلی دو بار جواب دینے سے روکے رکھا، میں نے تیرے ساتھ بھلائی ہی کرنی تھی، بات یہ ہے کہ تمہارا فلاں آدمی اپنے قرضے کی وجہ سے جنت سے روک دیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے اس میت کے گھر والوں کو اور اس کے لیے غمزدہ ہونے والوں کو دیکھا کہ انھوں نے اس کا قرضہ اس طرح ادا کیا کہ کسی چیز کا مطالبہ کرنے والا کوئی شخص بھی باقی نہیں رہا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6030]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 7/ 315، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20231 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20494»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6031
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَ وَفِي لَفْظٍ حَتَّى تُوَدِّيَ
۔ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاتھ جو کچھ لیتاہے، وہ ادائیگی تک اس کے ذمے ہی رہتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6031]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 3561، وابن ماجه: 2400، والترمذي: 1266، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20086 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20346»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6032
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ مَا كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤمن کی روح اس وقت تک معلق رہتی ہے، جب تک اس پرقر ض باقی رہتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6032]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2413، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10156 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10159»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6033
عَنْ سَعْدِ بْنِ الْأَطْوَلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَاتَ أَخِي وَتَرَكَ ثَلَاثَمِائَةِ دِينَارٍ وَتَرَكَ صِغَارًا فَأَرَدْتُ أَنْ أُنْفِقَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَخَاكَ مَحْبُوسٌ بِدَيْنِهِ فَاذْهَبْ فَاقْضِ عَنْهُ قَالَ فَذَهَبْتُ فَقَضَيْتُ عَنْهُ ثُمَّ جِئْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ قَضَيْتُ عَنْهُ وَلَمْ يَبْقَ إِلَّا امْرَأَةٌ تَدَّعِي دِينَارَيْنِ وَلَيْسَتْ لَهَا بَيِّنَةٌ قَالَ أَعْطِهَا فَإِنَّهَا صَادِقَةٌ
۔ سیدنا سعد بن اطول رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرابھائی فوت ہو گیا اورتین سو دینا ر ترکہ چھوڑا ہے، اس نے چھوٹے چھوٹے بچے بھی چھوڑے ہیں، میں نے ارادہ کیا کہ یہ دینار ان پر خرچ کروں گا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: تیرا بھائی قرض کی وجہ سے روکا ہوا ہے، اس لیے جا اوراس کا قرض اداکر۔ پس میں گیااور اس کا سارا قرض اداکر کے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے بھائی کاتمام قرض چکا دیا ہے، البتہ ایک عورت رہ گئی ہے، وہ دودیناروں کادعوی کرتی ہے، لیکن اس کے پاس کوئی دلیل نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اسے بھی دے، کیونکہ وہ سچی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6033]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2433، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17227 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17359»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ نَسْخ تَرْكِ الصَّلَاةِ عَلَى مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَين
مقروض آدمی کی نماز جنازہ ادا نہ کرنے کے حکم کا منسوخ ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6034
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي عَلَى رَجُلٍ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَأُتِيَ بِمَيِّتٍ فَسَأَلَ هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ قَالُوا نَعَمْ دِينَارَانِ قَالَ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هُمَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَصَلَّى عَلَيْهِ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ قَالَ أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ
۔ سیدنا جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے، ایک دفعہ آپ کے پاس ایک میت لائی گئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ کیا اس پر قرض ہے۔ لوگوں نے کہا: جی ہاں، یہ دو دینار کامقروض ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم خود ہی اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو۔ اتنے میں سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسو ل! وہ میرے ذمہ ہیں، تب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، جب اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پرفتوحات کے دروازے کھولے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ہر مؤمن کے اس کی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں، اس لیے اب جو قرض چھوڑ کر مرے گا، اس کی ادائیگی میرے ذمے ہو گی اورجو مال چھوڑ کر مرے گا، وہ اس کے ورثاء کاہوگا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6034]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 3343، والنسائي: 4/ 65، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14159 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14206»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6035
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا شَهِدَ جَنَازَةً سَأَلَ عَلَى صَاحِبِكُمْ دَيْنٌ فَإِنْ قَالُوا نَعَمْ قَالَ هَلْ لَهُ وَفَاءٌ فَإِنْ قَالُوا نَعَمْ صَلَّى عَلَيْهِ وَإِنْ قَالُوا لَا قَالَ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ الْفُتُوحَ قَالَ أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی جنازہ میں شرکت کرتے توپو چھتے: تمہارے اس ساتھی پر کوئی قر ض تو نہیں ہے؟ اگر لوگ کہتے: جی ہاں ہے، تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پو چھتے: تو کیا اس نے قرض ادا کرنے کے لیے کچھ مال بھی چھوڑ اہے؟ اگرلوگ کہتے کہ جی ہاں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھا دیتے اور اگر لوگ کہتے کہ اس نے کوئی مال نہیں چھوڑا تو آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: خود اپنے ساتھی پرنماز پڑھ لو۔ پھر جب اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے فتوحات کے دروازے کھول دئیے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ایمانداروں کی جانوں سے بھی زیادہ ان کے قریب ہوں، اس لیے جوقر ض چھوڑ کر مرے گا، اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہو گی اور جو مال چھو ڑ کر مرے گا، وہ اس کے ورثا ء کا ہوگا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6035]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6731، ومسلم: 1619، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7899 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7886»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب فتوحات کی وجہ سے آمدنی کے ذرائع بڑھ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہونے والے مقروض صحابہ کی ادائیگی کر دیتے تھے، اس طرح ان کا قرضہ ادا ہو جاتا، پس ان کی نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بارے میں سختی بھی زائل ہو جاتی۔ نمازِ جنازہ کی عدم ادائیگی کا منسوخ ہونا، اس حدیث سے یہ استدلال تو نہیں کیا جا سکتا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ تَقْدِيمِ الدِّيْنِ عَلَى الْوَصِيَّةِ وَاسْتِحْقَاقِ الْوَرَثَةِ وَإِنْ كَانُوا صِغَارًا
قرضے کو وصیت اور ورثاء کے حقوق پر مقدم کرنے کا بیان، اگرچہ ورثاء چھوٹی عمر والے ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6036
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ وَأَنَّ أَعْيَانَ بَنِي الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ يَرِثُ الرَّجُلُ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ دُونَ أَخِيهِ لِأَبِيهِ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ تم یہ آیت پڑھتے ہو میت کی طرف سے کی گئی وصیت اور قرضے کے بعد (ترکہ تقسیم کرو) لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصیت کو پورا کرنے سے پہلے قرضے کی ادائیگی کا فیصلہ کیا ہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حکم بھی فرمایا ہے کہ عینی بھائی وارث بنیں گے، نہ کہ علاتی بھائی، بندے کا عینی بھائی وارث بنتا ہے، نہ کہ علاتی بھائی۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6036]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف الحارث الاعور۔ أخرجه الترمذي: 2095، 2122، وابن ماجه: 2739، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1222 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1222»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن مسئلہ ایسے ہی ہے، بلکہ حافظ ابن کثیر نے کہا: علمائے سلف و خلف کا اجماع ہے کہ قرض کو وصیت پر مقدم کیا جائے گا۔ عینی اور علاتی بھائیوں میں قوی القرابہ اول الذکر ہیں، اس لیے جس مسئلہ میں بھائیوں کییہ دو قسمیں جمع ہو جائیں تو عینی بھائی علاتیوں کو محجوب کر دیں گے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ مَا يَجُوزُ بَيْعُهُ فِي الدَّيْنِ وَاسْتِحْبَابِ وَضْعِ بَعْضِ الدِّينِ عَنِ الْمُعْسِرِ
ادھار کی وجہ سے کسی چیز کو فروخت کرنے اور تنگدست سے کچھ قرضہ معاف کر دینے کے مستحب ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6037
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا مَاتَ وَتَرَكَ مُدَبَّرًا وَدَيْنًا فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعُوهُ فِي دَيْنِهِ فَبَاعُوهُ بِثَمَانِ مِائَةٍ
۔ سیدنا جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی فوت ہوا اور مدبر غلام اپنے ورثے میں چھوڑا، جبکہ وہ مقرو ض بھی تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ اس غلام کو اس کے قرض کی ادائیگی میں فروخت کردیں، پس انہوں نے اس کو آٹھ سو درہم میں فروخت کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6037]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله ’’مات وترك دينا‘‘ وھذا اسناد ضعيف، شريك بن عبد الله النخعي سييء الحفظ۔ أخرجه بنحوه البخاري:2230، ومسلم: 997، لكن دون اللفظة الضعيفة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14934 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14996»
وضاحت: فوائد: … مُدَبَّر اس غلام کو کہتے ہیں، جس کا آقا اپنی زندگی میںیہ کہہ دیتا ہے کہ وہ اس کے مرنے کے بعد آزاد ہو گا۔
اس روایت کی اصل شکل درج ذیل حدیث میں بیان کی گئی ہے:
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک ابومذکور نامی انصاری آدمی نے اپنے غلام کو مدبَّر بنا دیا، جبکہ اِس کے علاوہ اس کے پاس کوئی مال نہیں تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کو اپنے پاس بلایا اور فرمایا: اس کو کون آدمی خریدے گا، اس کو کون آدمی خریدے گا؟ پس سیدنا نُعیم بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے آٹھ سو درہم میں اُس کو خرید لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو مذکور کو اس کی قیمت دی اور فرمایا: جب کوئی آدمی فقیر ہو تو وہ سب سے پہلے اپنی ذات پر خرچ کرے، اگر زائد مال ہو تو اس کو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے، اگر ان سے بھی بچ جائے تو اپنے رشتہ داروں پر خرچ کرے اور پھر بھی کوئی مال بچ جائے
تو اِدھر اُدھر خرچ کر دے۔ (صحیح مسلم: ۹۹۷، مسند احمد: ۳/ ۳۰۵)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6038
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ لِيَهُودِيٍّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةُ دَرَاهِمَ فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ لِي عَلَى هَذَا أَرْبَعَةَ دَرَاهِمَ وَقَدْ غَلَبَنِي عَلَيْهَا فَقَالَ أَعْطِهِ حَقَّهُ قَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَقْدِرُ عَلَيْهَا قَالَ أَعْطِهِ حَقَّهُ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَقْدِرُ عَلَيْهَا قَدْ أَخْبَرْتُهُ أَنَّكَ تَبْعَثُنَا إِلَى خَيْبَرَ فَأَرْجُو أَنْ تُغْنِمَنَا شَيْئًا فَأَرْجِعُ فَأَقْضِيهِ قَالَ أَعْطِهِ حَقَّهُ قَالَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ ثَلَاثًا لَمْ يُرَاجَعْ فَخَرَجَ بِهِ ابْنُ أَبِي حَدْرَدٍ إِلَى السُّوقِ وَعَلَى رَأْسِهِ عِصَابَةٌ وَهُوَ مُتَّزِرٌ بِبُرْدَةٍ فَنَزَعَ الْعِمَامَةَ عَنْ رَأْسِهِ فَاتَّزَرَ بِهَا وَنَزَعَ الْبُرْدَةَ فَقَالَ اشْتَرِ مِنِّي هَذِهِ الْبُرْدَةَ فَبَاعَهَا مِنْهُ بِأَرْبَعَةِ الدَّرَاهِمِ فَمَرَّتْ عَجُوزٌ فَقَالَتْ مَالَكَ يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ فَأَخْبَرَهَا فَقَالَتْ دُونَكَ هَذَا بِبُرْدٍ عَلَيْهَا طَرَحَتْهُ عَلَيْهِ
۔ سیدناابن ابو حدر د اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے ایک یہودی کے چاردرہم دینے تھے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس میری شکایت لے کرگیااورکہا: اے محمد! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس آدمی نے میرے چار درہم دینے ہیں، لیکن اب یہ مجھ پر غالب آ گیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو حدرد رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اس کو اس کا حق ادا کرو۔ انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! میرے پاس گنجائش نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پھر فرمایا: اس کا حق اداکرو۔ انھوں نے دوبارہ کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میرے پاس گنجائش نہیں ہے، میں نے اس یہودی کو بتایاہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں خیبر کی جانب بھیج رہے ہیں، اس لیے ہمیں امید ہے کہ مال غنیمت حاصل ہوگا اور میں واپس آکر قر ض اداکر دوں گا، لیکن آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پھر حکم دیا اور فرمایا: اس کا حق اداکر دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کوئی بات تین دفعہ ارشاد فرما دیتے تو اس کے بعد مزید تکرار نہیں کرتے تھے۔ سیدنا ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ بازار گئے، سرپر ایک پگڑ ی تھی اور چادر کا تہبند باند ھ رکھاتھا، سر سے پگڑی اتاری اور اس کا تہبند باندھالیا اور چاد ر اتارلی اور آکر یہودی سے کہا: یہ چادر مجھ سے خرید لو، پس اس نے چار درہم میں یہ چادر خرید لی، اتنے میں وہاں سے ایک بڑھیا کا گزر ہوا، اس نے پوچھا: اے صحابیٔ رسول! تجھے کیا ہو گیا ہے؟ انھوں نے اس کو ساری بات بتلائی، بڑھیا کے پاس ایک چادر تھی، اس نے اس کی بات سن کر وہ اس کی طرف پھینک دی اور کہا: یہ لے چادر۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6038]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، محمد بن ابييحيي الاسلمي لم يدرك ابن ابي حدرد الاسلمي۔ أخرجه الطبراني في ’’الصغير‘‘ وفي ’’الاوسط‘‘، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15489 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15570»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6039
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَبَاهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ فَنَادَى يَا كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ فَقَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنْ ضَعْ مِنْ دَيْنِكَ الشَّطْرَ قَالَ قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُمْ فَاقْضِهِ
۔ عبد اللہ بن کعب سے مروی ہے کہ ان کے باپ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے قرض کا مطالبہ کیا،یہ عہد ِ نبوی کی بات ہے، اس سلسلے میں ان کی آوازیں اتنی بلند ہوئیں، جبکہ وہ مسجد میں تھے، کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سن لیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں تشریف فرماتھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف آئے اور اپنے حجرہ کا پردہ ہٹایا اور یوں آواز دی: اے کعب بن مالک! انھوں نے کہا: جی اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ آدھا قرضہ معاف کر دو، انھوں نے کہا: جی میں نے کردیا ہے، اے اللہ کے رسول! آپ نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اٹھو اور باقی قرض اداکردو۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6039]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1558، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27177 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27719»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض خواہ کو حکم دیا کہ وہ آدھا قرض معاف کر دے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحم دلی کا ثبوت ہے۔
معلوم ہوا کہ امیر اور ذمہ دار قرض خواہ کو کہہ سکتا ہے کہ قرضہ کچھ معاف کر دو۔ قرض خواہ کو بھی امیر کی بات کا لحاظ کرکے شرح صدر کا ثبوت دیتے ہوئے بات کی تعمیل کرنی چاہیے۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں