الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ فَضْلٍ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ لَهُ
تنگدست کو مہلت دینے والے یا اس کومعاف کر دینے والے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 6050
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَجُلًا لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ فَكَانَ يُدَايِنُ النَّاسَ فَيَقُولُ لِرَسُولِهِ خُذْ مَا تَيَسَّرَ وَاتْرُكْ مَا عَسُرَ وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا فَلَمَّا هَلَكَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ قَالَ لَا إِلَّا أَنَّهُ كَانَ لِي غُلَامٌ وَكُنْتُ أُدَايِنُ النَّاسَ فَإِذَا بَعَثْتُهُ يَتَقَاضَى قُلْتُ لَهُ خُذْ مَا تَيَسَّرَ وَاتْرُكْ مَا عَسُرَ وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَتَجَاوَزُ عَنَّا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ تَجَاوَزْتُ عَنْكَ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی تھا، اس نے کبھی کوئی نیک عمل نہیں کیا تھا، البتہ وہ لوگوں کے ساتھ لین دین کے معاملات کے بارے میں اپنے نمائندے سے کہتا تھا: جس سے جومیسر ہو، لے لینا اور جس کے لے مشکل ہو، اس کو چھوڑدینا اوردرگزر کرنا،شاید اللہ تعالیٰ ہم سے بھی درگزر فرمادے، پس جب وہ فوت ہوا تو اللہ تعالی نے اس سے کہا: کیا تو نے کبھی خیر کا کوئی کام بھی کیا تھا؟ اس نے کہا: جی نہیں، البتہ میں نے ایک عمل کیا ہے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ میں لوگوں سے کاروباری لین دین کیا کرتا تھا اور جب میں نے اپنے لڑکے کو تقاضا کرنے کے لیے بھیجتا تھا تو اس کو کہتا تھا: جو کسی سے میسر ہو، وہ لے لینا اور جس کے لیے مشکل ہو، اس کو رہنے دینا اور درگزر کرنا، شاید اس وجہ سے اللہ تعالی ہم سے درگزر کرے، اللہ تعالی نے کہا: تحقیق میں نے تجھ سے درگزر کر دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6050]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه البخاري: 2078، 3480، ومسلم: 1562، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8730 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8715»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6051
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
۔ سیدنا ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی روایت بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6051]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث التالي، ھو نفس ھذا الحديث، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17064 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17190»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6052
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ وَزَادَ فَأَدْخَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما نے بھی اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس اللہ تعالیٰ نے اس کو جنت میں داخل کردیا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6052]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2077، 3451، ومسلم: 1560، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23353 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23744»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6053
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى رَجُلٍ حَقٌّ فَمَنْ أَخَّرَهُ كَانَ لَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کا کسی شخص پر حق ہو اور وہ اس کو (کچھ دنوں تک) مہلت دے دے تو اسے ہر دن کے عوض (اتنی مقدار میں) صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6053]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، ابوداود نفيع بن الحارث الاعمي متروك۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 18/ 603، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19977 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20219»
وضاحت: فوائد: … اگلی حدیث اس مفہوم میں واضح ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 6054
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلُهُ صَدَقَةٌ قَالَ ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلَيْهِ صَدَقَةٌ قُلْتُ سَمِعْتُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَقُولُ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلُهُ صَدَقَةٌ ثُمَّ سَمِعْتُكَ تَقُولُ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلَيْهِ صَدَقَةٌ قَالَ لَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ قَبْلَ أَنْ يَحِلَّ الدَّيْنُ فَإِذَا حَلَّ الدَّيْنُ فَأَنْظَرَ فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلَيْهِ صَدَقَةٌ
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی تنگدست مقروض کو مہلت دی تو اسے ہر روز کے عوض اس قرض کی مقدار کے برابر صدقہ کرنے کا اجر ملے گا۔ پھر ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی تنگدست مقروض کو مہلت دی، اسے ہر روز اس کی مقدار کا دو گنا صدقہ کرنے کا اجر ملے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک دن میں نے آپ کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے کسی تنگدست مقروض کو مہلت دی تو اسے ہر روز کے عوض اس قرض کی مقدار کے برابر صدقہ کرنے کا اجر ملے گا۔ اور ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے کسی تنگدست مقروض کو مہلت دی، اسے ہر روز اس کی مقدار کا دو گنا صدقہ کرنے کا اجر ملے گا۔ (پہلی دفعہ ایک گنا اور دوسری دفعہ دو گنا کی بات کی)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرض کے وعدے کا وقت آنے سے پہلے ہر روز اس قرض کی مثل صدقہ کرنے کا ثواب ملتا ہے، اور جب قرض کا وعدہ آ جاتا ہے اور وہ مہلت دے دیتا ہے تو ہر روز قرض کی دوگنا مقدار کا ثواب ملتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6054]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن ماجه: 2418، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23046 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23434»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6055
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ لَهُ عَلَى رَجُلٍ دَيْنٌ وَكَانَ يَأْتِيهِ يَتَقَاضَاهُ فَيَخْتَبِئُ مِنْهُ فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَخَرَجَ صَبِيٌّ فَسَأَلَهُ عَنْهُ فَقَالَ نَعَمْ هُوَ فِي الْبَيْتِ يَأْكُلُ خَزِيرَةً فَنَادَاهُ يَا فُلَانُ اخْرُجْ فَقَدْ أُخْبِرْتُ أَنَّكَ هَاهُنَا فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا يُغِيبُكَ عَنِّي قَالَ إِنِّي مُعْسِرٌ وَلَيْسَ عِنْدِي قَالَ آللَّهِ إِنَّكَ مُعْسِرٌ قَالَ نَعَمْ فَبَكَى أَبُو قَتَادَةَ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ نَفَّسَ عَنْ غَرِيمِهِ أَوْ مَحَا عَنْهُ كَانَ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
۔ محمد بن کعب قرظی کہتے ہیں: سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے قرض لینا تھا، وہ اس کا تقاضاکرنے کیلئے اس کے پاس آتے رہتے تھے، لیکن وہ مقروض ان کو دیکھ کر چھپ جاتا تھا، ایک روز وہ حسب ِ معمول قرض کا مطالبہ کرنے کیلئے آئے اور اس آدمی کا لڑکا گھرسے باہر آیا، سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے اس سے اپنے مقروض کے بارے میں پوچھا کہ وہ کہاں ہے، اس بچے نے کہا: جی وہ گھر پر ہیں اور خزیرہ کھارہے ہیں،یہ سن کر سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے آواز دی: اے فلاں! باہر آجا،مجھے پتہ چل گیا ہے کہ تو گھر پر ہی ہے، سو وہ باہر آ گیا، سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: کیا وجہ ہے کہ تو مجھ سے چھپ جاتا تھا؟ اس نے جواب دیا: بات یہ ہے کہ میں تنگدست ہوں، میرے پاس قرض کی ادائیگی کی طاقت نہیں ہے۔ یہ بات سن کر سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ رو پڑے اور پھر کہا: میں نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہو سنا: جو مقروض کو مہلت دے گا یا اس کا قر ض معاف کر دے گا تو وہ روز قیامت اللہ تعالیٰ کے عرش کے سائے میں کھڑا ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6055]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1563، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22623 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22999»
وضاحت: فوائد: … گوشت اور آٹے سے تیار کیا ہوا ایک کھانا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6056
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَرَادَ أَنْ تُسْتَجَابَ دَعْوَتُهُ وَتُنْكَشَفَ كُرْبَتُهُ فَلْيُفَرِّجْ عَنْ مُعْسِرٍ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کا یہ ارادہ ہو کہ اس کی دعا قبول کی جائے اور اس کی مصیبت دور کی جائے تو وہ تنگدست پر کشادگی کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6056]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف زيد العمي، ثم ھو منقطع، زيد روايته عن الصحابة مرسلة۔ أخرجه ابويعلي: 5713، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4749 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4749»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 6057
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ لَهُ أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّ عَرْشِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے تنگدست کو مہلت دی یااس کا قر ض معاف کردیا تو روز قیامت اللہ تعا لی اسے اپنے عرش کاسایہ دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6057]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه الترمذي: 1306، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8711 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8696»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6058
عَنْ أَبِي الْيَسَرِ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُظِلَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ظِلِّهِ زَادَ فِي رِوَايَةٍ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ فَلْيُنْظِرِ الْمُعْسِرَ أَوْ لِيَضَعْ عَنْهُ
۔ صحابی رسو ل سیدنا ابو الیسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے یہ بات پسند ہو کہ اللہ تعالی اس دن اس پر اپنا سایہ کریں، جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہو گا،تو اس کو چاہئے کہ وہ تنگدست کو مہلت دے یا اس کا قر ض سرے سے معاف ہی کردے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6058]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2419، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15520 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15605»
الحكم على الحديث: صحیح