الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ مَا يَجُوزُ بَيْعُهُ فِي الدَّيْنِ وَاسْتِحْبَابِ وَضْعِ بَعْضِ الدِّينِ عَنِ الْمُعْسِرِ
ادھار کی وجہ سے کسی چیز کو فروخت کرنے اور تنگدست سے کچھ قرضہ معاف کر دینے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6040
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُصِيبَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ قَالَ فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں ایک آدمی نے پھل خریدا، لیکن اس پھل پر کوئی آفت آن پڑی، جس کی وجہ سے وہ آدمی بہت زیادہ مقروض ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس پر صدقہ کرو۔ لوگوں نے صدقہ تو کیا، لیکن اس کی مقدار اس کے قرضے سے کم رہی، بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرض خواہوں سے فرمایا: جو کچھ تمہیں مل رہا ہے، اُس کو لے لو اور اس کے علاوہ مزید کچھ نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6040]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1556، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11317 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11337»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے مطابق بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض خواہوں سے سفارش کی کہ وہ باقی قرض معاف کر دیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
11. بَابُ مَنِ اسْتَدَانَ لِكَارِثَةٍ أَوْ حَاجَةٍ ضَرُورِيَّةِ نَاوِيا الْوَفَاء وَلَمْ يَجِدُ وَلَّى اللهُ عَنْهُ
اس چیز کا بیان کہ جس آدمی نے کسی حادثے یا ضرورت کی بنا پر قرضہ لیا، جبکہ وہ ادا کرنے کی نیت رکھتا ہو اور ادا نہ کر سکے تو اللہ تعالی اس کی طرف سے ادا کر دے گا
حدیث نمبر: 6041
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَدْعُو اللَّهُ بِصَاحِبِ الدَّيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُوقَفَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيُقَالُ يَا ابْنَ آدَمَ فِيمَ أَخَذْتَ هَذَا الدَّيْنَ وَفِيمَ ضَيَّعْتَ حُقُوقَ النَّاسِ فَيَقُولُ يَا رَبِّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي أَخَذْتُهُ فَلَمْ آكُلْ وَلَمْ أَشْرَبْ وَلَمْ أَلْبَسْ وَلَمْ أُضَيِّعْ وَلَكِنْ أَتَى عَلَى يَدَيَّ إِمَّا حَرَقٌ وَإِمَّا سَرَقَ وَإِمَّا وَضِيعَةٌ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ صَدَقَ عَبْدِي أَنَا أَحَقُّ مَنْ قَضَى عَنْكَ الْيَوْمَ فَيَدْعُو اللَّهُ بِشَيْءٍ فَيَضَعَهُ فِي كِفَّةِ مِيزَانِهِ فَتَرْجَحُ حَسَنَاتُهُ عَلَى سَيِّئَاتِهِ فَيَدْخُلَ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ
۔ سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مقروض آدمی کو روزِ قیامت بلا کر اپنے سامنے کھڑاکرکے کہیں گے: اے آدم کے بیٹے! یہ قرض کیوں لیا تھا؟ تو نے کس لیے لوگوں کے حقوق ضائع کئے تھے؟ وہ آدمی کہے گا: اے میرے پروردگار! تجھے معلوم ہے میں نے یہ قرض کھانے پینے، پہننے اور فضول ضائع کرنے کے لئے نہیں لیاتھا، بلکہ اپنے مال کے جل جانے یا چوری ہو جانے یا تجارت میں گھاٹا پڑنے کی وجہ سے لیا تھا، اللہ تعالیٰ کہے گا: میرے بندے نے سچ کہا ہے، لہٰذاآج میں اس کی طرف سے اس کا قرض پورا کرنے کا زیادہ حق رکھتا ہوں، پھر اللہ تعالیٰ کچھ منگوا کر اس آدمی کے ترازوکے پلڑے میں رکھے گے، جس کی وجہ سے اس کی نیکیاں اس کی برائیوں پر بھاری ہو جائیں گی، اس طرح اللہ تعالیٰ اس کو اپنی رحمت کی وجہ سے جنت میں داخل کردے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6041]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، صدقة بن موسي الدقيقي ضعيف۔ أخرجه البزار: 1332، والطيالسي: 1326، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1708 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1708»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 6042
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَدَّانُ فَقِيلَ لَهَا مَا لَكِ وَلِلدَّيْنِ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ عَبْدٍ كَانَتْ لَهُ نِيَّةٌ فِي أَدَاءِ دَيْنِهِ إِلَّا كَانَ لَهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنٌ فَأَنَا أَلْتَمِسُ ذَلِكَ الْعَوْنَ
۔ محمد بن علی کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا قرض لیا کرتی تھیں، جب ان سے کہاگیا کہ آپ کا قرض سے کیا تعلق ہے تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جوشخص قرض لینے کے بعد اس کو ادا کرنے کی نیت رکھے گا، تو اللہ تعالی کی طرف سے اس کو خصوص مدد حاصل ہو گی۔ پس میں وہ مدد تلاش کر رہی ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6042]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 2409، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24993 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25507»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6043
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَمَلَ مِنْ أُمَّتِي دَيْنًا ثُمَّ جَهَدَ فِي قَضَائِهِ فَمَاتَ وَلَمْ يَقْضِهِ فَأَنَا وَلِيُّهُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے جس انسان نے قرضہ لیا اور پھر اس کو ادا کرنے کی کوشش کی، لیکن ادا کرنے سے پہلے مر گیا تو میں اس کا ذمہ دار ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6043]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابويعلي: 4838، والطبراني ’’’في الاوسط‘‘: 9334، والبيھقي: 7/ 22، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25211 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25726»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6044
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ هَمَّهُ قَضَاؤُهُ أَوْ هَمَّ بِقَضَائِهِ لَمْ يَزَلْ مَعَهُ مِنَ اللَّهِ حَارِسٌ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس انسان پر قرض ہو اوراس کو چکا دینے کا ارادہ رکھتا ہو تو اللہ تعالی کی طر ف سے اس پر ایک نگہبان مقرر ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6044]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘: 3771، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26187 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26717»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6045
عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا اسْتَدَانَتْ دَيْنًا فَقِيلَ لَهَا تَسْتَدِينِينَ وَلَيْسَ عِنْدَكِ وَفَاؤُهُ قَالَتْ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ أَحَدٍ يَسْتَدِينُ دَيْنًا يَعْلَمُ اللَّهُ أَنَّهُ يُرِيدُ أَدَاءَهُ إِلَّا أَدَّاهُ
۔ زوجۂ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے قرض لیا، کسی نے ان سے کہا: آپ قرض لیتی ہیں، جبکہ آپ میں واپس کرنے کی طاقت نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب کوئی آدمی قر ض لیتا ہے اور اس کے بارے میں اللہ تعالی یہ جانتا ہے کہ یہ شخص ادا کرنا چاہتا ہے تو اللہ تعالی اس کو ادا کر وا دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6045]
تخریج الحدیث: «صحيح بشواهده۔ أخرجه ابن ماجه: 4288، والنسائي: 7/ 315، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26816 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27353»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ جو آدمی ایسی ضرورت کے لیے قرض لیتا ہے، جس کے بغیر اس کا کوئی چارۂ کار نہ ہو اور پھر اس کی ادائیگی کا سچا عزم رکھتا ہو اور پہلی فرصت میں اس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کرنے والا ہے، لیکن اگر وہ پھر بھی قرض ادا نہ کر سکا تو حسن ظن یہی ہے کہ اللہ تعالی قیامت والے دن اس کامؤاخذہ نہیں کرے گا اور اگر قرض خواہ نے اپنی زندگی میں اس کو معاف نہ کیا تو اللہ تعالی اس کو اپنی طرف سے راضی کر دے گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6046
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَلَى رَسُولِهِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مال چھوڑا، وہ اس کے اہل وعیال کے لیے ہو گا اور جس نے قرض چھوڑا وہ اللہ تعالی اور اس کے رسو ل کے ذمے ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6046]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابويعلي: 4343، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13251 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13284»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6047
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِأَنْفُسِهِمْ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِمَوَالِي عَصَبَتِهِ وَمَنْ تَرَكَ ضِيَاعًا أَوْ كَلًّا فَأَنَا وَلِيُّهُ فَلِأَدْعَى لَهُ
۔ سیدنا ا بو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ایمانداروں کی جانوں سے بھی ان کے قریب ہوں، اس لیے جوشخص مال چھوڑے وہ اس کے عزیز واقارب کے لیے ہوگااور جو کوئی چھو ٹے بچے یا (قر ض وغیرہ) کا بوجھ چھوڑ کر فوت ہو، اس کا ذمہ دار میں ہوں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6047]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6745، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8673 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8658»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مؤمنوں کی جانوں سے بھی قریب ہونا، اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مسلمان کو ایک چیز کی طرف بلا رہے ہوں، جبکہ اس کے نفس کا تقاضا کوئی اور ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس کے خیال کو ترک کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو مانے، کیونکہ اسی میںدائمی نجات ہو گی، جبکہ ایسی صورت میں نفس کے تقاضے کو پورا کرنے میں ہلاکت ہو گی۔
مسلمانوں کے حکمرانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو فوت ہونے والوں کے قرضے چکا تے اور ان کی اولاد کا سہارا بنتے تھے، اب معاملہ الٹ ہو چکا ہے، جس حکمران کا داؤ چلتا ہے، وہ اپنی رعایا کے مال ودولت اور قومی خزانے کو لوٹنا چاہتا ہے۔
مسلمانوں کے حکمرانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو فوت ہونے والوں کے قرضے چکا تے اور ان کی اولاد کا سہارا بنتے تھے، اب معاملہ الٹ ہو چکا ہے، جس حکمران کا داؤ چلتا ہے، وہ اپنی رعایا کے مال ودولت اور قومی خزانے کو لوٹنا چاہتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
12. بَابُ فَضْلٍ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ لَهُ
تنگدست کو مہلت دینے والے یا اس کومعاف کر دینے والے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 6048
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَظَلَّ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ تَرَكَ لِغَارِمٍ
۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو اپنے سائے میں جگہ دے گا کہ جس دن کوئی اور سایہ نہیں ہوگا، جو آدمی تنگدست کو مہلت دے گا یا چٹی بھرنے والے کو معاف کر دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6048]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، العباس بن الفضل الانصاري منكر الحديث، قاله البخاري، هشام بن زياد القرشي متروك الحديث، وابوه لينه البخاري، ومحجن مولي عثمان لم يوثقه غير ابن حبان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 532 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 532»
وضاحت: فوائد: … لیکن اس باب میں احادیث ِ صحیحہ کا وجود ملتا ہے، مثلا: سیدنا ابو الیسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ اَنْظَرَ مُعْسِرًا اَوْ وَضَعَ عَنْہُ، اَظَلَّہُ اللّٰہُ فِیْ ظِلِّہٖ۔)) … ”جوشخصکسی تنگدست کو مہلت دے گا یا اس کو معاف کر دے گا، اللہ تعالی اس کو اپنے سائے میں جگہ دیں گے۔“ (صحیح مسلم: ۳۰۰۶، واللفظ لابن حبان)
اسی طرح سیدنا ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ اَنْظَرَ مُعْسِرًا اَوْ وَضَعَ لَہٗ،اَظَلَّہُاللّٰہُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ تَحْتَ ظِلِّ عَرْشِہٖیَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلُّہٗ۔)) … ”جسشخصنےتنگدستکومہلتدییا اس کو سرے سے معاف کر دیا تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا، جبکہ اس دن کوئی اور سایہ نہیں ہو گا۔“
یہ کتنی بڑی سعادت ہے کہ تنگدست کو مہلت دینےیا اس کو معاف کر دینے کی وجہ سے حشر کے میدان میں اللہ تعالی کا سایہ نصیب ہو جائے، جبکہ اس میدان میں گرمی بھی آگ برس رہی ہو گی اور سورج ایک میل کے فاصلے پر ہو گا۔
ارشادِ باری تعالی ہے: {وَاِنْ کَانَ ذُوْ عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلیٰ مَیْسَرَۃٍ وَاَنْ تَصَدَّقُوْاخَیْرٌلَّکُمْ اِنْ کُنْْتُمْ تَعْلَمُوْنَ} … ”اور اگر تنگی والا ہو تو اسے آسانی تک مہلت دینی چاہئے اور صدقہ کرو تو تمہارے لیے بہت بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔“ (سورۂ بقرہ:۲۸۰)
اسی طرح سیدنا ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ اَنْظَرَ مُعْسِرًا اَوْ وَضَعَ لَہٗ،اَظَلَّہُاللّٰہُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ تَحْتَ ظِلِّ عَرْشِہٖیَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلُّہٗ۔)) … ”جسشخصنےتنگدستکومہلتدییا اس کو سرے سے معاف کر دیا تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا، جبکہ اس دن کوئی اور سایہ نہیں ہو گا۔“
یہ کتنی بڑی سعادت ہے کہ تنگدست کو مہلت دینےیا اس کو معاف کر دینے کی وجہ سے حشر کے میدان میں اللہ تعالی کا سایہ نصیب ہو جائے، جبکہ اس میدان میں گرمی بھی آگ برس رہی ہو گی اور سورج ایک میل کے فاصلے پر ہو گا۔
ارشادِ باری تعالی ہے: {وَاِنْ کَانَ ذُوْ عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلیٰ مَیْسَرَۃٍ وَاَنْ تَصَدَّقُوْاخَیْرٌلَّکُمْ اِنْ کُنْْتُمْ تَعْلَمُوْنَ} … ”اور اگر تنگی والا ہو تو اسے آسانی تک مہلت دینی چاہئے اور صدقہ کرو تو تمہارے لیے بہت بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔“ (سورۂ بقرہ:۲۸۰)
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 6049
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ وَهُوَ يَقُولُ بِيَدِهِ هَكَذَا فَأَوْمَأَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِيَدِهِ إِلَى الْأَرْضِ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ لَهُ وَقَاهُ اللَّهُ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ أَلَا إِنَّ عَمَلَ الْجَنَّةِ حَزْنٌ بِرَبْوَةٍ ثَلَاثًا أَلَا إِنَّ عَمَلَ النَّارِ سَهْلٌ بِسَهْوَةٍ وَالسَّعِيدُ مَنْ وُقِيَ الْفِتَنَ وَمَا مِنْ جُرْعَةٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ جُرْعَةِ غَيْظٍ يَكْظِمُهَا عَبْدٌ مَا كَظَمَهَا عَبْدٌ إِلَّا مَلَأَ اللَّهُ جَوْفَهُ إِيمَانًا
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد کی طرف روانہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے زمین کی طرف اشارہ کیا، ابوعبدالرحمن نے اسی طرح کا اشارہ بھی کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: جو کسی تنگدست کو مہلت دے یا اس کو معاف کردے تواللہ تعالیٰ اسے دوزخ کی بھاپ سے محفوظ رکھے گا، خبردار!جنت والے اعمال اونچی جگہ پر سخت زمین پر ہل چلا نے کی مانند مشکل ہیں (یہ کلمہ تین دفعہ دہرایا) اور دوزخ والے اعمال خواہش پرستی کی وجہ سے نرم زمین پر ہل چلانے کی مانند ہیں، اور خوش بخت وہ ہے جو فتنوں سے بچ گیا ہو۔ وہ گھونٹ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے، جو بندہ غصے کو برداشت کر کے پی جاتا ہے، جب بندہ (غصے پر قابو پا کر) ایسا گھونٹ پیتا ہے تو اللہ تعالی اس کے پیٹ کو ایمان سے بھر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6049]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، نوح بن جعونة لا يعرف بجرح ولا تعديل، وقال الذھبي: اجوِّز ان يكون نوح بن ابي مريم، اتي بخبر منكر، ثم اشار الي ھذا الحديث، واقره ابن حجر، وقد اجمعوا علي تكذيبه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3015 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3015»
الحكم على الحديث: ضعیف