Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ إِقْطَاعِ الأَرَاضِي
الاٹ کی ہوئی زمینوں اور چراگاہوں کے مسائل زمینیں الاٹ کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6180
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا خَرَجَ مِنْ زَرْعٍ أَوْ تَمْرٍ فَكَانَ يُعْطِي أَزْوَاجَهُ كُلَّ عَامٍ مِائَةَ وَسْقٍ ثَمَانِينَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ وَعِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ شَعِيرٍ فَلَمَّا قَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَسَمَ خَيْبَرَ فَخَيَّرَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْطِعَ لَهُنَّ مِنَ الْأَرْضِ أَوْ يَضْمَنَ لَهُنَّ الْوُسُوقَ كُلَّ عَامٍ فَاخْتَلَفْنَ فَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ أَنْ يُقْطِعَ لَهَا الْأَرْضَ وَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ الْوُسُوقَ وَكَانَتْ حَفْصَةُ وَعَائِشَةُ مِمَّنِ اخْتَارَ الْوُسُوقَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل خیبر سے کھیتی یا پھل کی نصف پیداوار پر معاملہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر سال اپنی بیویوں کو اسی وسق کھجوروں کے اور بیس وسق جو، یعنی کل سو وسق دیا کرتے تھے، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اور خیبر کو تقسیم کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات کو یہ اختیار دیا کہ ان کے لیے زمین الاٹ کر دی جائے یا (سابقہ روٹین کے مطابق) ہر سال ان کو وسق دے دیئے جائیں، امہات المؤمنین نے مختلف انداز اختیار کیے، بعض نے اس چیز کو پسند کیا کہ زمین ان کے نام الاٹ کر دی جائے اور بعض نے اس چیز کو ترجیح دی کہ ان کو وسق ہی دے دئیے جائیں، سیدہ حفصہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما ان میں سے تھیں، جنھوں نے وسق پسند کیے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6180]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2328، ومسلم: 1551، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4732 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4732»
وضاحت: فوائد: … یہ کھجوریں ازواج مطہرات کی میراث نہیں تھیں، ان کی کفالت کے لیے ان کو یہ حق دیا گیا تھا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چھوڑی ہوئی چیزیں صدقہ ہوتی ہیں۔ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بعض زمینیں بعض لوگوں کو الاٹ کر سکتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ إِقْطَاعِ الْمَعَادِن
کان الاٹ کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6181
عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسِيَّهَا وَغَوْرِيَّهَا وَحَيْثُ يَصْلُحُ لِلزَّرْعِ مِنْ قُدْسٍ وَلَمْ يُعْطِهِ حَقَّ مُسْلِمٍ وَكَتَبَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا مَا أَعْطَى مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ أَعْطَاهُ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسِيَّهَا وَغَوْرِيَّهَا وَحَيْثُ يَصْلُحُ لِلزَّرْعِ مِنْ قُدْسٍ وَلَمْ يُعْطِهِ حَقَّ مُسْلِمٍ
۔ عمرو بن عوف اپنے باپ اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کو قبلیہ علاقے کی کانیں برائے جاگیر عنایت فرمادیں، اس مقام کی بلند اور پست زمین اور قدس پہاڑ میں جو کاشت کے قابل تھی، وہ سب انہیں دے دی تھی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو کسی مسلمان کا حق نہیں دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے حق میں یہ تحریر لکھی تھی: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ،یہ وہ زمین ہے، جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی کو دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو قبلیہ علاقے کی کانیں دی ہیں، اس مقام کی بلند اور پست زمین اور قدس پہاڑ میں جو کاشت کے قابل ہے، وہ ان کو دے دی ہے، جبکہ یہ کسی مسلمان کا حق نہیں تھا، جو ان کو دے دیا ہو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6181]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 3062، 3063، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2785 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2785»
وضاحت: فوائد: … یہ زمین بھی کسی کی مملوکہ نہ تھی، حاکم وقت ایسی قیمتی چیز بھی کسی کو الاٹ کر سکتا ہے، لیکنیہاں ایک اور روایت بھی قابل توجہ ہے: سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے سوال پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نمک کی کان عنایت کر دی،یہ معاملہ دیکھ کر حاضرین میں سے ایک آدمی نے کہا: آپ نے تو اس شخص کو دائمی منفعت عطا کر دی ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے یہ کان واپس لے لی۔ (ابوداود: ۳۰۶۴، ترمذی: ۱۳۸۰)
اس باب کی حدیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کان الاٹ کر دی، لیکن سیدنا ابیض رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کان جیسی چیز کسی خاص بندے کو الاٹ نہیں کرنی چاہیے، ان دو احادیث میں جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ کان کی دو قسمیں ہوتی ہیں: (۱) باطنی کانیں: یہ وہ کانیں ہوتی ہیں،جن کے حصول کے لیے محنت و مشقت درکار ہوتی ہے، مثلا لوہا اور تانبا وغیرہ۔ (۲) ظاہری کانیں: یہ وہ کانیں ہوتی ہیں، جن کے حصول کے لیے مشقت درکار نہیں ہوتی، جیسے نمک، تیل اور سرمہ وغیرہ۔ حکمران کسی کوباطنی کانیں تو الاٹ کر سکتا ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کو دی تھی، لیکن ظاہری کانیں کسی کو عنایت نہیں کرنی چاہئیں، تاکہ سارے لوگ برابر کا فائدہ حاصل کرسکیں اور ان پر کوئی تنگی نہ ہو، سیدنا ابیض رضی اللہ عنہ کی حدیث کا یہی مفہوم ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6182
عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی طرح بیان کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6182]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2785»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بابُ الْحِمَى لِدَواتِ بَيْتِ الْمَالِ
بیت المال کے جانوروں کے لئے چراگاہوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6183
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَمَى النَّقِيعَ لِخَيْلِهِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نقیع نامی جگہ کو اپنے گھوڑوں کے لئے بطور چراگاہ مقرر کر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6183]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابن حبان: 4683، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5655 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5655»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6184
وَلَهُ طَرِيقٌ ثَانٍ عِنْدَ الْإِمَامِ أَحْمَدَ أَيْضًا قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَمَى النَّقِيعَ لِلْخَيْلِ قَالَ حَمَّادٌ فَقُلْتُ لَهُ وَفِي لَفْظٍ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ لِخَيْلِهِ قَالَ لَا لِخَيْلِ الْمُسْلِمِينَ
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نقیع کی جگہ کو گھوڑوں کے لئے بطورِ چراگاہ مقرر کر دیا، حماد کہتے ہیں: میں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے گھوڑوں کے لئے خاص کی تھی؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، مسلمانوں کے گھوڑوں کے لئے خاص کی تھی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6184]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6438»
وضاحت: فوائد: … مدینہ منورہ سے ساٹھ میل کے فاصلے پر واقع ایک مقام کا نام نقیع ہے، یہ ایک میل کی چوڑائی اور آٹھ میل کی لمبائی پر مشتمل ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6185
عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَمَى النَّقِيعَ وَقَالَ لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ
۔ سیدناصعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نقیع مقام کو بطورِ چراگاہ خاص کیا اور فرمایا: اس طرح چراگاہ کو خاص کرنے کا حق صرف اللہ تعالی اور اس کے رسول کو ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6185]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2370 دون قوله: ’’حمي النقيع‘‘ لكن زاد البخاري وقال: بلغنا ان النبيV حمي النقيع، فھذه الزيادة من بلاغات الزھري، لكنھا صحيحة بالحديثين السابقين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16659 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16780»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے دو مفہوم بیان کیے جاتے ہیں: (۱) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو علاقے کسی کے لیے خاص قرار دیئے، بس ان ہی علاقوں کو خاص سمجھا جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے، (۲) خلیفۂ راشد، جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قائم مقام ہوتا ہے، کو بھییہ حق حاصل ہے۔
دوسرا قول راجح ہے کہ خلیفۂ رسول کسی عام یا خاص مصلحت کے پیش نظر کوئی علاقہ کسی کو الاٹ کر سکتا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایسا کرتے رہے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں