Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بابُ فَضْلِ مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مِيتَةً
بے آباد زمین آباد کرنے والے کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6160
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَلَهُ فِيهَا يَعْنِي أَجْرًا وَمَا أَكَلَتِ الْعَوَافِي مِنْهَا فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مردہ زمین آباد کرے گا تو اس کو اس کا اجر ملے گا اور رزق طلب کرنے والے جو جان دار بھی وہاں سے کھائیں گے، اس کے لیےیہ صدقہ ہو گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6160]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3073، والترمذي: 1379، والنسائي: 5757، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14371 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14322»
وضاحت: فوائد: … مردہ زمین سے مراد وہ زمین ہے، جو کسی کی ملکیت نہ ہو، نہ عوام میں سے کسی کی اور نہ حکومت کی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6161
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحَاطَ حَائِطًا عَلَى أَرْضٍ فَهِيَ لَهُ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی زمین پر دیوار کا گھیرا کر لے گا تو وہ اسی کی ہو گی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6161]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 7/ 76، والنسائي في ’’الكبري‘‘: 5763، والبيھقي: 6/ 148، والطيالسي: 906، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20130 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20392»
وضاحت: فوائد: … اس گھیراؤ سے مراد زمین کو زندہ کرنا اور آباد کرنا ہے، یہ معنی نہیں ہے کہ چاردیواری بنا کر قبضہ کر لیا جائے اور اس سے کوئی فائدہ حاصل نہ کیا جائے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6162
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَاطَ حَائِطًا عَلَى أَرْضٍ فَهِيَ لَهُ
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی زمین پر دیوار کا گھیرا کر لے گا تو وہ اسی کی ہو گی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6162]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20238 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20501»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6163
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ عَمَرَ أَرْضًا لَيْسَتْ لِأَحَدٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی ایسی زمین آباد کرے، جو کسی کی ملکیت نہ ہو تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6163]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2335، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24883 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25395»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6164
عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ مَكْحُولٍ رَفَعَهُ قَالَ أَيُّمَا شَجَرَةٍ أَظَلَّتْ عَلَى قَوْمٍ فَصَاحِبُهَا بِالْخِيَارِ مِنْ قَطْعِ مَا أَظَلَّ أَوْ أَكْلِ ثَمَرِهَا
۔ مکحول تابعی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو درخت کسی قوم پر سایہ کرنے لگے تو سائے والے کو اختیار حاصل ہے کہ وہ سایہ کرنے والے حصے کو کاٹ دے یا اس کا پھل کھا لے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6164]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لارساله، مكحول الشامي تابعي، لم يدرك النبيV۔ أخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16067 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16164»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُحْيِي الْأَرْضَ بِغَرْسِ شَجَرٍ أَوْ حَفْرِ بَيْر فَمَاذَا يَكُونُ حَرَمُهَا؟
جو آدمی درخت لگا کر یا کنواں کھود کر زمین کو آباد کرتا ہے، اس کی حد ملکیت کتنی ہو گی؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6165
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَرِيمُ الْبِئْرِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا مِنْ حَوَالَيْهَا كُلِّهَا لِأَعْطَانِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ وَابْنُ السَّبِيلِ أَوَّلُ شَارِبٍ وَلَا يُمْنَعُ فَضْلُ مَاءٍ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلَأُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کنویں کا احاطہ اس کی تمام اطراف سے چالیس ہاتھ ہو گا، یہ جگہ اونٹوں اور بکریوں کے بیٹھنے کے لیے ہو گی اور ایسے کنویں سے پینے والا پہلا شخص مسافر ہو گا اور زائد پانی سے اس مقصد کے لیے نہیں روکا جائے گا کہ اس کے ذریعے سے گھاس سے منع کر دیا جائے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6165]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه البيھقي: 6/ 155، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10411 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10416»
وضاحت: فوائد: … جب کوئی آدمی مردہ زمین میں کنواں کھودے گا تو اس کے ارد گرد چالیس چالیس ہاتھ تک جگہ از خود اس کا احاطہ بن جائے گی،یہ جگہ اونٹوں اور بکریوں کے بیٹھنے کے لیے استعمال ہو گی، کوئی دوسرا شخص اس احاطے کو ذاتی استعمال میں نہیں لا سکے گا۔
یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دور رس اور حکیمانہ فیصلہ ہے۔
مسافر پینے والا پہلا شخص ہو گا اس کا مفہوم یہ ہے کہ تمام حاضرین میں مسافر کو ترجیح دی جائے گی اور کنویں کے مالک کو اس کو روکنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہو گا۔
آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ کسی علاقے میں جانوروں کے چرنے کے لیے گھاس وغیرہ پائی جاتی ہے، لیکن وہاں پانی کا صرف ایک چشمہ یا کنواں ہے یا محدود پانی ہے، اب لوگ اس علاقے میں اپنے مویشیوں کو چرانے کے لیے تب لے جائیں گے، جب ان کو وہاں کا پانی استعمال کرنے کا حق ہو گا، اگر کوئی آدمی اس نیت سے اس پانی پر قبضہ کر کے بیٹھ جائے تاکہ لوگ اپنے مویشیوں کو چرانے کے لیے سرے سے اس علاقے میں ہی نہ جائیں تو ایسے آدمی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرنے سے روک رہے رہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6166
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي النَّخْلَةِ أَوِ النَّخْلَتَيْنِ أَوِ الثَّلَاثِ فَيَخْتَلِفُونَ فِي حُقُوقِ ذَلِكَ فَقَضَى أَنَّ لِكُلِّ نَخْلَةٍ مِنْ أُولَئِكَ مَبْلَغَ جَرِيدَتِهَا حَيِّزٌ لَهَا
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک یا دو یا تین کھجور کے درختوں کے بارے میں یہ فیصلہ کیا تھا، جبکہ لوگ ان کے حقوق کے بارے میں اختلاف کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ یہ کیا کہ ہر کھجور کی ٹہنیاں جہاں تک پہنچ رہی ہیں، وہ جگہ اسی درخت کا احاطہ ہو گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6166]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني۔ أخرجه ابن ماجه: 2488، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22778 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23159»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کھجور کے احاطے کے بارے میں دو آدمی جھگڑا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ کھجور کے اس درخت کی پیمائش کی جائے، پس وہ سات ہاتھ نکلا، ایک روایت میں ہے کہ وہ درخت پانچ ہاتھ بلند تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مطابق فیصلہ کر دیا۔ (ابوداود: ۳۶۴۰)
کھجور کے احاطے کے بارے میںیہ دو روایات ہیں، ان میں جمع و تطبیق کی دو صورتیں ہیں: (۱) یہ دو مختلف واقعات ہیں اور جہاں جو ضابطہ مناسب ہو گا، اسی کے مطابق فیصلہ کر دیا جائے گا۔ (۲) سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث، سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کی حدیث کی تفسیر بیان کر رہی ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ کھجور کی ٹہنی کو ایک ہاتھ کے بقدر شکل دے کر اس کے ذریعے کھجور کی پیمائش کی جائے۔
پہلی صورت زیادہ مناسب ہے اور وہ اس طرح کہ لمبے درخت کا فیصلہ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی روشنی میں اور چھوٹے درخت کا فیصلہ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کی حدیث کی روشنی میں کیا جائے گا۔ یہ کھجور کے درخت کا احاطہ ہو گا، اگر کوئی دوسرا آدمی اس زمین سے مستفید ہونا چاہے تو اس کا حق اس احاطے کے بعد ہو گا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاء فِي ثَلاثَ وَالنَّهْي عَنْ مَنْعِ فَضْلِ الْمَاءِ وَالْكَلَا وَشُرْبِ الْأَرْضِ الْعُنْيَا قَبْلَ السُّفْلَى إِذَا اخْتَلَفُوا
تین چیزوں میں مسلمانوں کے شریک ہونے، زائد پانی اور گھاس کو روک لینے سے منع کرنے اور اختلاف کی صورت میں نیچے والی زمین سے پہلے اوپر والی زمین کو سیراب کر لینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6167
عَنْ أَبِي خِرَاشٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ فِي الْمَاءِ وَالْكَلَأِ وَالنَّارِ
۔ ایک صحابی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین چیزوں میں مسلمان برابر کے شریک ہیں، پانی، گھاس اور آگ میں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6167]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3477، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23082 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23471»
وضاحت: فوائد: … پانی کا مسئلہ حدیث نمبر (۵۸۲۳)میں گزر چکا ہے۔
امام خطابی نے کہا: اس سے مراد وہ گھاس ہے، جو ایسی زمین میں اگی ہو، جو کسی کی ملکیت نہیں ہے، کسی کو کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اس گھاس سے روکے، اور اگر وہ گھاس کسی کی ملکیت والی زمین اُگی ہو تو اس سے اجازت لینا پڑے گی۔
آگ کی اشتراکیت سے مراد جلتی ہوئی آگ سے چراغ یا مزید جلانا اور اس سے روشنی حاصل کرنا ہے، اسی طرح غیر مملوکہ زمین میں اگنے والے درختوں کی لکڑیاں حاصل کرنا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6168
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَتَبَ إِلَى عَامِلٍ لَهُ عَلَى أَرْضٍ لَهُ أَنْ لَا تَمْنَعَ فَضْلَ مَاءٍ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ مَنَعَ فَضْلَ الْمَاءِ لِيَمْنَعَ بِهِ الْكَلَأَ مَنَعَ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَضْلَهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنی زمین کے ایک عامل کو لکھا کہ زائد پانی سے کسی کو نہ روکنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے اس مقصد کے لیے زائد پانی کو روک لیاکہ گھاس کو روک لے، اللہ تعالی قیامت کے دن اس سے اپنا فضل روک لے گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6168]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6722 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6722»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6169
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُمْنَعُ فَضْلُ مَاءٍ بَعْدَ أَنْ يُسْتَغْنَى عَنْهُ وَلَا فَضْلُ مَرْعًى
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضرورت پوری ہو جانے کے بعد زائد پانی کو نہ روکا جائے اور نہ زائد چراگاہ کو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6169]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10571 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10578»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں