Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابُ الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاء فِي ثَلاثَ وَالنَّهْي عَنْ مَنْعِ فَضْلِ الْمَاءِ وَالْكَلَا وَشُرْبِ الْأَرْضِ الْعُنْيَا قَبْلَ السُّفْلَى إِذَا اخْتَلَفُوا
تین چیزوں میں مسلمانوں کے شریک ہونے، زائد پانی اور گھاس کو روک لینے سے منع کرنے اور اختلاف کی صورت میں نیچے والی زمین سے پہلے اوپر والی زمین کو سیراب کر لینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6170
وَعَنْهُ أَيْضًا يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلَأُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس طرح بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زائد پانی نہ روکاجائے تاکہ اس سے گھاس میں رکاوٹ ڈال دی جائے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6170]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2354، ومسلم: 1566، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8084 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8070»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6171
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُمْنَعُ نَقْعُ مَاءٍ وَلَا رَهْوُ بِئْرٍ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ کنویں کا زائد پانی روکا جائے اور نہ کنویں سے بہہ کر نشیبی جگہ میں اکٹھا ہو جانے والا پانی روکا جائے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6171]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2479، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24811 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25322»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6172
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ مِنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحْكَامًا مُتَنَوِّعَةً مِنْهَا وَقَضَى بَيْنَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فِي النَّخْلِ لَا يُمْنَعُ نَقْعُ بِئْرٍ وَقَضَى بَيْنَ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَنْ لَا يُمْنَعَ فَضْلُ مَاءٍ لِيُمْنَعَ فَضْلُ الْكَلَأِ وَقَضَى فِي شُرْبِ النَّخْلِ مِنَ السَّيْلِ أَنَّ الْأَعْلَى يَشْرَبُ قَبْلَ الْأَسْفَلِ وَيُتْرَكُ الْمَاءُ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ يُرْسَلُ الْمَاءُ إِلَى الْأَسْفَلِ الَّذِي يَلِيهِ وَكَذَلِكَ حَتَّى تَنْقَضِيَ الْحَوَائِطُ أَوْ يَفْنَى الْمَاءُ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلوں میں سے بعض فیصلےیہ ہیں، (اس حدیث میں انھوں نے کئی فیصلے ذکر کیے، بیچ میں دو فیصلےیہ تھے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مدینہ کے مابین یہ فیصلہ کیا کہ کنویں کے زائد یا جمع شدہ پانی سے نہ روکا جائے اور دیہاتی لوگوں کے درمیانیہ فیصلہ کیا کہ زائد گھاس سے منع کرنے کے ارادے سے زائد پانی کو نہ روکا جائے۔ اور نالوں میں بہتے ہوئے پانی سے کھجوروں کو سیراب کرتے وقت نیچے والی زمین سے پہلے اوپر والی زمین اس طرح سیراب کی جائے کہ پانی ٹخنوں تک آ جائے، پھر اس کو اس سے متصل نیچے والی زمین کی طرف چھوڑا جائے، پھر اسی طریقے سے پانی آگے کی طرف پہنچایا جائے، یہاں تک باغات ختم ہو جائیں یا پانی ختم ہو جائے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6172]
تخریج الحدیث: «صحيح بالشواھد۔ أخرج قصة شرب النخل ابن ماجه: 2483، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22778 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23159»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6173
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ خَاصَمَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ الزُّبَيْرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِلزُّبَيْرِ سَرِّحِ الْمَاءَ فَأَبَى فَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَى جَارِكَ فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ ثُمَّ قَالَ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَبْلُغَ إِلَى الْجَدْرِ قَالَ الزُّبَيْرُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ إِلَى قَوْلِهِ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور ایک انصاری کے درمیان حرہ کے ایک نالے کے بارے میں جھگڑا ہو گیا، وہ اس نالے سے کھجوروں کو سیراب کیا کرتے تھے۔ انصاری رضی اللہ عنہ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: میری کھجوروں کے لئے پانی چھوڑدو، لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا، انصاری وہ مقدمہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے زبیر! تم پہلے سیراب کر کے پانی کواپنے ہمسائے کے لیے چھوڑ دیا کرو۔ لیکن اس فیصلے سے انصاری کو غصہ آ گیا اور اس نے کہا: یہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے اس لئے یہ فیصلہ کیا ہے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے زبیر! اب اتنی دیر پانی روک کر رکھنا کہ منڈیر تک پہنچ جائے، پھر آگے چھوڑنا۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میرا خیال ہے کہ یہ آیت اسی بارے میں ہی نازل ہوئی تھی: {فَلَاوَرَبِّکَ لَایُؤْمِنُوْنَ حَتّٰییُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا} … سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! وہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ وہ آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں۔ (سورۂ نساء: ۶۵) [الفتح الربانی/حدیث: 6173]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2359، ومسلم: 2357، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16116 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16215»
وضاحت: فوائد: … مذکورہ بالا دو احادیث سے معلوم ہوا کہ قدرتی پانی کا سب سے زیادہ مستحق وہ ہے، جس کی زمین اس کے سب سے زیادہ قریب ہو گی، لیکن جب وہ ضرورت پوری کر لے گا تو اس کو پانی روک لینے کا کوئی حق حاصل نہ ہو گا، وہ اپنے ہمسائے کے لیے پانی چھوڑ دے گا، پھر وہ اپنی ضرورت پوری کر لینے کے بعد تیسرے نمبر پر آنے والے ہمسائے کے لیے پانی چھوڑ دے گا۔ علی ہذا القیاس۔
پانی، آگ اور گھاس، یہ تین اتنی اہم ضروریات ِ زندگی ہیں کہ اگر ان میں سے زائد چیز کو روک لیا جائے یا اس کی خرید و فروخت شروع کر دی جائے تو یہ عذاب لوگوں کے لیے کسی بڑی مصیبت سے کم نہ ہو گا، اس وقت پاکستان کے جن علاقوں میں ایندھن اور پانی خریدنا پڑتا ہے، وہاں معتدل آمدنی والے آدمی کا گزارہ بھی بہت مشکل ہو چکا ہے، حکومت اور علاقے کے بااثر اور سرمایہ دار لوگوں کی فکر یہ ہونی چاہیے کہ کس طرح یہ نعمتیں آسان طریقے سے لوگوں تک پہنچائی جا سکتی ہیں، مثلا دیہی علاقوں میں کچھ رقبے میں درخت وغیرہ لگا کر اس کو عام چراگاہ قرار دینا اور غریب لوگوں کو وہاں سے لکڑیاں وغیرہ کاٹنے کی اجازت دے دینا، اسی طرح جن علاقوں میں پانی کی کمی ہے، مختلف ذرائع اختیار کر کے وہاں پانی سپلائی کرنا۔ جن شہروں میں ایندھن کے لیے گیس کے سلنڈر استعمال ہو رہے ہیں،یا جہاں گیس کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے، چند سرمایہ داروں کے علاوہ وہاں کے لوگ ذہنی طور پر اپنے آپ کو عجیب اذیت میں مبتلا محسوس کرتے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مخصوص دور میں پانی، آگ اور گھاس کا تعین کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا منشا یہ ہے کہ آج بجلی، گیس، پٹرول، ڈیزل، مٹی کا تیل، آئل اور منرل واٹرکی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے، بلکہ بہتر یہ ہے کہ یہ تمام خزانے گورنمنٹ کی تحویل میں ہوں اور عہدیدارانِ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان نعمتوں پر مشتمل نئے نئے ذخائر تلاش کر کے عوام الناس کی زندگیوں کو سہولت آمیز بنائیں، پینے والا پانی سپلائی کرنے والے شعبے کو فعال بنا کر اس کی کڑی نگرانی کی جائے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ إِقْطَاعِ الأَرَاضِي
الاٹ کی ہوئی زمینوں اور چراگاہوں کے مسائل زمینیں الاٹ کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6174
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ الزُّبَيْرَ حُضْرَ فَرْسِهِ بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا ثُرَيْرٌ فَأَجْرَى الْفَرَسَ حَتَّى قَامَ ثُمَّ رَمَى بِسَوْطِهِ فَقَالَ أَعْطُوهُ حَيْثُ بَلَغَ السَّوْطُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ثریر نامی زمین سے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو اتنی جگہ الاٹ کر دی، جہاں تک ان کا گھوڑا دوڑ سکے، پس انھوں نے گھوڑا دوڑایا،یہاں تک کہ جب وہ کھڑا ہو گیا تو انھوں نے اپنا کوڑا پھینک دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو اتنی جگہ دے دو، جہاں تک اس کا کوڑا پہنچا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6174]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الله العمري۔ أخرجه ابوداود: 3072، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6458 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6458»
وضاحت: فوائد: … سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی اس زمین سے اپنے سر پر گٹھلیاں لاتی تھی، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو الاٹ کی تھی، وہ مجھ سے دو تہائی فرسخ کے فاصلے پر تھی۔ (صحیح بخاری: ۳۱۵۱، ۵۲۲۴)

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6175
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَقْطَعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرْضَ كَذَا وَكَذَا فَذَهَبَ الزُّبَيْرُ إِلَى آلِ عُمَرَ فَاشْتَرَى نَصِيبَهُ فَأَتَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَقَالَ إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ زَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَهُ وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرْضَ كَذَا وَكَذَا وَإِنِّي اشْتَرَيْتُ نَصِيبَ آلِ عُمَرَ فَقَالَ عُثْمَانُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ جَائِزُ الشَّهَادَةِ لَهُ وَعَلَيْهِ
۔ سیدنا عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو فلاں فلاں زمین بطور جاگیر دی، پھر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ،آلِ عمر کے پاس گئے اور ان کا حصہ خرید کر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو فلاں فلاں زمین بطور جاگیر دی تھی اور میں نے آل عمر کا حصہ خرید لیا ہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سچی شہادت والے ہیں، وہ ان کے حق میں ہے یا ان کی مخالفت میں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6175]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات الا ان في سماع عروة من عبد الرحمن بن عوف وقفة۔ أخرجه البيھقي: 10/ 124، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1670 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1670»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6176
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعَا الْأَنْصَارَ لِيُقْطِعَ لَهُمُ الْبَحْرَيْنِ فَقَالُوا لَا حَتَّى تُقْطِعَ لِإِخْوَانِنَا الْمُهَاجِرِينَ مِثْلَنَا فَقَالَ إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کو بلایا تاکہ بحرین کی زمین ان کو الاٹ کر دیں، لیکن انہوں نے کہا: جی نہیں، (ہم اس وقت تک یہ زمین نہیں لیں گے) جب تک آپ ہمارے مہاجر بھائیوں کو اسی طرح کی جاگیر نہیں دیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تم میرے بعد اپنے آپ پر ترجیح کو پاؤ گے، پس صبر کرنا، یہاں تک کہ مجھ سے ملاقات ہو جائے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6176]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2376، 3794، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12084 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12109»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6177
عَنْ كُلْثُومٍ عَنْ زَيْنَبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَّثَ النِّسَاءَ خِطَطَهُنَّ
۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کو ان کے گھروں کا وارث بنایا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6177]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وانظر الحديث الآتي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27049 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27589»
وضاحت: فوائد: … اگلی حدیث میں قدرے تفصیل بیان کی گئی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6178
وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَتْ كَانَتْ زَيْنَبُ تَفْلِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَعْظُونٍ وَنِسَاءٌ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ يَشْكُونَ مَنَازِلَهُنَّ وَأَنَّهُنَّ يُخْرَجْنَ مِنْهُ وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِنَّ فِيهِ فَتَكَلَّمَتْ زَيْنَبُ وَتَرَكَتْ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّكِ لَسْتِ تَكَلَّمِينَ بِعَيْنَيْكِ تَكَلَّمِي وَاعْمَلِي عَمَلَكِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ يَوْمَئِذٍ أَنْ يُوَرَّثَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ النِّسَاءُ فَمَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَوَرِثَتْهُ امْرَأَتُهُ دَارًا بِالْمَدِينَةِ
۔ (دوسری سند)کلثوم کہتی ہیں: سیدہ زینب رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جوئیں نکال رہی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی بیوی اور کچھ مہاجر خواتین بیٹھی ہوئی تھیں،یہ اپنے گھروں کے بارے میں شکایت کر رہی تھیں کہ (خاوند کی وفات کے بعد) ان کو گھروں سے نکال دیا جاتا ہے اور ان پر تنگی کر دی جاتی ہے، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر مبارک چھوڑ کر بات کرنے لگ گئیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم نے اپنی آنکھوں سے تو باتیں نہیں کرنی، بات بھی کرو اور اپنا کام بھی کرو۔ (یہ ساری باتیں سن کر) اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ عورتوں کو (ان کے مہاجر خاوندوں) کا وارث بنا یا جائے، پس جب سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو ان کی اہلیہ ان کے مدینہ والے گھر کی وارث بنیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6178]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3080، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27050 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27590»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب خاوند فوت ہو جائے تو اس کے ورثاء کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اس کی بیوی کو اس کے گھر سے نکال دیں، بلکہ ان پر یہ لازم ہے کہ وہ اس کے لیے اس کے گھر کو خالی کر دیں، ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم مہاجرین کے ساتھ خاص تھا اور ان کے ختم ہونے کے ساتھ یہ حکم بھی ختم ہو گیا، واللہ اعلم۔ اب میراث کے احکام مرتّب ہو چکنے کے بعد بیوی کو اس کا مخصوص حصہ دیا جائے گا، لیکن اس معاملے میں اس کو جتنی سہولت پہنچائی جا سکتی ہو، وہ پہنچانی چاہیے، مثلا اگر اس کا حصہ اس کے خاوند کے گھر کی قیمت کے برابر ہو تو اس کو گھر دے دیا جائے، بہرحال جتنا ممکن ہو ترکہ کی تقسیم میں بیوی کی رضامندی کا خیال رکھا جائے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6179
عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَهُ أَرْضًا قَالَ فَأَرْسَلَ مَعِيَ مُعَاوِيَةَ أَنْ أَعْطِيهَا إِيَّاهُ أَوْ قَالَ أَعْلِمْهَا إِيَّاهُ قَالَ فَقَالَ لِي مُعَاوِيَةُ أَرْدِفْنِي خَلْفَكَ فَقُلْتُ لَا تَكُونُ مِنْ أَرْدَافِ الْمُلُوكِ قَالَ فَقَالَ أَعْطِنِي نَعْلَكَ فَقُلْتُ انْتَعِلْ ظِلَّ النَّاقَةِ قَالَ فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ مُعَاوِيَةُ أَتَيْتُهُ فَأَقْعَدَنِي مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ فَذَكَّرَنِي الْحَدِيثَ فَقَالَ سِمَاكٌ أَحَدُ الرُّوَاةِ فَقَالَ وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ حَمَلْتُهُ بَيْنَ يَدَيَّ
۔ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ایک زمین الاٹ دی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ بھیجا کہ وہ مجھے یہ زمین دے سکیں یا اس کی نشاندہی کر سکیں۔ سیدنا وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اپنے پیچھے سوار کر لو، لیکن میں نے کہا: اے معاویہ! آپ بادشاہوں کے پیچھے سوار ہونے والوں (یا ان کے نائب بننے والوں میں سے) نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا: تو پھر مجھے اپنا جوتا دے دو (تاکہ میں زمین کی شدت سے بچ سکوں)، میں نے کہا: اونٹنی کے سائے میں چل لو۔ پھر جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب ہوئے اورمیں ان کے پاس گیا تو انہوں نے مجھے اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا اور مجھے یہ بات یاد کرا دی، میں نے کہا: اب تو میں یہ پسند کر رہا ہوں کہ کاش آپ کو اپنے سامنے بٹھا لیتا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6179]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3059، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27239 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27781»
وضاحت: فوائد: … سیدنا وائل رضی اللہ عنہ حمیر کے شہزادے تھے اور اس وقت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی مالی حالت درست نہ تھی، آداب اسلامی سے نا آشنائی اور تعلیمات دین سے عدم واقفیت کی بناء پر سیدنا وائل رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ یہ سلوک کیا تھا، انسانی ہمدردی اور حسن سلوک کا تقاضا کچھ اور تھا، جبکہ بعد میں ان کو احساس بھی ہو گیا تھا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں