Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ
کسی شخص کا اپنے باپ کی بیوی سے شادی کرلینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6958
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَجْمَلِ فَتَاةٍ فِي قُرَيْشٍ؟ قَالَ: ((وَمَنْ هِيَ؟)) قُلْتُ: ابْنَةُ حَمْزَةَ، قَالَ: ((أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعِ أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا حَرَّمَ مِنَ النَّسَبِ))
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کو ایسی لڑکی کا نہ بتاؤں، جو قریش میں سے سب سے زیادہ خوبصورت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ کون ہے؟ میں نے کہا: سیدنا حمزہ کی بیٹی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیاتم جانتے نہیں ہو کہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ نے رضاعت کی وجہ سے وہی رشتے حرام کیے ہیں، جو نسب کی وجہ سے حرام ہیں۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6958]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 1146، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1096 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1096»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے:
{وَلَاتَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ آَبَائُکُمْ مِنَ النِّسَآئِ اِلَّا مَاقَدْ سَلَفَ اِنَّہُ کَانَ فَاحِشَۃً وَمَقْتًا وَسَآئَ سَبِیْلًا} … اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو، جن سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہے، مگر جو گزر چکا ہے، یہ بے حیائی کا کام اور بغض کا سبب ہے اور بڑی بری راہ ہے۔ (سورۂ نسائ:۲۲)
دورِ جاہلیت میں سوتیلی ماں کو بھی میت کا ورثہ سمجھ لیا جاتا تھا، اس کا نکاح کرنے یا نہ کرنے کا انحصار ورثاء کی مرضی پر تھا، بلکہ مرنے والے کا بیٹا اپنے باپ کی اس بیوی سے نکاح بھی سکتا تھا، شریعت ِاسلامیہ نے اس تحریم و تقدس کو بحال کرتے ہوئے سوتیلی ماں کو بھی محرم قرار دیا اور اس سے نکاح کرنے والے کی سزا یہ رکھی کہ اس کو قتل کر دیا جائے اور اس کا مال غصب کر لیا جائے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. باب يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ
رضاعت کی وجہ سے نکاح کے حرام ہو جانے کے ابواب جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں، وہی رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہو جاتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6959
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا لَكَ تَنَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدَعُنَا، قَالَ: ((وَهَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟)) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، ابْنَةُ حَمْزَةَ، قَالَ: ((إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي، هِيَ ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ))
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول اللہ! آپ قریش میں رشتے کو پسند کرتے ہیں اور ہمیں یعنی بنو ہاشم کو چھوڑ جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی رشتہ ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، سیدنا حمزہ کی بیٹی (سلمیٰ) ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تو میرے لئے حلال نہیں ہے، کیونکہ وہ تو میری رضاعی بھتیجی ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6959]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1446، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 620 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 620»
وضاحت: فوائد: … ابو لہب کی لونڈی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو دودھ پلایا تھا، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ رضاعی بھائی بن گئے اور ہر ایک کی اولاد دوسرے کے لیے محرم قرار پائی۔ اگر صرف نسب کو دیکھا جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حمزہ کی بچی سے شادی کر سکتے تھے، لیکن رضاعت آڑے آ گئی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6960
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُرِيدَ عَلَى ابْنَةِ حَمْزَةَ، فَقَالَ: ((إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ وَيَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الرَّحِمِ وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي))
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدنا حمزہ کی بیٹی سے رشتہ کرنے کا بتلایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تو میری رضاعی بھتیجی ہے اور رضاعت سے وہ رشتہ حرام ہے، جو نسب سے حرام ہے، سو وہ میرے لئے حلال نہیں۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6960]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2645، ومسلم: 1447، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3043 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3043»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6961
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ مِنْ خَالٍ أَوْ عَمٍّ أَوِ ابْنِ أَخٍ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رضاعت کی وجہ سے وہ رشتہ حرام ہوتا ہے، جو نسب کی وجہ سے حرام ہے، مثلا ماموں، چچا، بھتیجا وغیرہ۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6961]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 1147، والنسائي: 6/ 98، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24712 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25219»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6962
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي قُعَيْسٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى عَائِشَةَ فَأَبَتْ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ فَلَمَّا أَنْ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي قُعَيْسٍ اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ فَقَالَ ائْذَنِي لَهُ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ قَالَ ائْذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ تَرِبَتْ يَمِينُكِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو قعیس کے بھائی افلح نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، میں نے انکار کر دیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابو قعیس کے بھائی افلح نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی،لیکن میں نے اجازت نہ دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے اجازت دے دیا کرو۔ میں نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، نہ کہ مرد نے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو جائے، تو اس کو اجازت دے دیا کر، وہ تیرا رضاعی چچا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6962]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4796، ومسلم: 1445، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24054 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24555»
وضاحت: فوائد: … ہر وہ عورت جو نسب کی وجہ سے حرام کی گئی ہے، وہ اسی طرح رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہے، ان عورتوں کی تفصیلیہ ہیں: ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی، خالہ، بھتیجی، بھانجی۔
ان عورتوں میں وہی تفصیل ہے، جو نسبی محرمات میں بیان کی جاتی ہے، یعنی صرف رضاعی ماں بھی حرام نہیں ہو گی، بلکہ اس کی ماں، اس کی دادی اور آگے پڑدادیاں اور ان سے آگے تک تمام مائیں حرام ہوں گی۔ اسی طرح اگر رضاعی بیٹی حرام ہے تو رضاعی پوتیاں، نواسیاں، اور نواسیوں اور پوتیوں کی بیٹیاں، نیچے تک سب حرام ہو ں گی۔
قرآن مجید میں صرف رضاعی ماؤں اور رضاعی بہنوں کی حرمت کا ذکر ہے، باقی تفصیل احادیث ِ مبارکہ میں بیان کی گئی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ هَلْ يَثبتُ حُكْمُ الرَّضَاعِ فِي حَقِّ زَوْجِ الْمُرْضِعَةِ وَأَقَارِبِهِ كَالْمُرْضِعَةِ أَمْ لَا
کیا دودھ پلانے والی خاتون کے خاوند اور اس کے رشتہ داروں کے لیے بھی رضاعت کا حکم ثابت ہو جائے گا یا نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6963
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ جَاءَنِي عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ بَعْدَ مَا ضُرِبَ الْحِجَابُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: پردہ کے احکام نازل ہونے کے بعد میرے رضاعی چچا نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، … پھر وہی حدیث بیان کی۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6963]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26138»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6964
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ جَاءَنِي أَفْلَحُ بْنُ أَبِي الْقُعَيْسِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ وَالَّذِي أُرْضِعَتْ عَائِشَةُ مِنْ لَبَنِهِ هُوَ أَخُوهُ فَجَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ائْذَنِي لَهُ الْحَدِيثَ
۔ (تیسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: افلح بن ابی قعیس آیا اور میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، جس خاتون نے عائشہ کو دودھ پلایا تھا، یہ شخص اس کے خاوند کا بھائی تھا، پس اس نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، لیکن میں نے انکار کر دیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو اجازت دے دیا کر۔ … الحدیث۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6964]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24603»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6965
عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ قَالَ قُلْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ امْرَأَةُ أَبِي أَرْضَعَتْ جَارِيَةً مِنْ عُرْضِ النَّاسِ بِلَبَنِ أَخَوَيَّ أَفَتَرَى أَنِّي أَتَزَوَّجُهَا فَقَالَ لَا أَبُوكِ أَبُوهَا قَالَ ثُمَّ حَدَّثَ حَدِيثَ أَبِي الْقُعَيْسِ فَقَالَ إِنَّ أَبَا الْقُعَيْسِ أَتَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا فَلَمْ تَأْذَنْ لَهُ فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا قُعَيْسٍ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ فَلَمْ آذَنْ لَهُ فَقَالَ هُوَ عَمُّكِ فَلْيَدْخُلْ عَلَيْكِ فَقُلْتُ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ فَقَالَ هُوَ عَمُّكِ فَلْيَدْخُلْ عَلَيْكِ
عباد بن منصور کہتے ہیں:میں نے قاسم بن محمد سے کہا: میرے باپ کی بیوی نے میرے بھائیوں کا دودھ عوام میں سے کسی لڑکی کو پلایا، اب کیا میں اس لڑکی سے شادی کر سکتا ہوں؟ انھوں نے کہا: نہیں، کیونکہ اب تیرا اور اس لڑکی کاباپ ایک ہے، پھر اس نے ابو قعیس کی حدیث بیان کی اور وہ اس طرح کہ ابو قعیس، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور ان سے اندر جانے کی اجازت طلب کی، لیکن انہوں نے اس کو اجازت نہ دی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابو قعیس آیا تھا، اس نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، لیکن میں نے اس کو اجازت نہیں دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تو تمہارا چچا ہے، اس کو تمہارے پاس آ جانا چاہیے۔ میں نے کہا: مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے، نہ کہ مردنے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں کہہ رہا ہوں وہ آپ کا چچا ہے،وہ تمہارے پاس آ سکتا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6965]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4796، ومسلم: 1445، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25823 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26343»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6966
عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرَاهُ فُلَانًا لِعَمٍّ لِحَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ كَانَ فُلَانٌ حَيًّا لِعَمِّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ دَخَلَ عَلَيَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ إِنَّ الرَّضَاعَةَ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَةُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف فرما تھے، میں نے ایک آدمی کی آواز سنی، وہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر داخل ہونے کی اجازت مانگ رہاتھا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آدمی، آپ کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگ رہا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ حفصہ کا فلاں رضاعی چچا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میرا فلاں رضاعی چچا زندہ ہوتا تو وہ مجھ پر داخل ہو سکتا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی بالکل، بیشک رضاعت ان رشتوں کو حرام کر دیتی ہے، جو نسب اور ولادت کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6966]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2646، 3105، ومسلم: 1444، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25453 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25967»
وضاحت: فوائد: … جیسے رضاعت کی وجہ سے خواتین کی حرمت ثابت ہوتی ہے، اسی طرح اگر دودھ پینے والی بچی ہو تو وہ بھی رضاعت کی وجہ سے بعض مردوں پر حرام ہو گی، اگر دودھ پلانے والی رضاعی ماں ہے، تو اس کا خاوند رضاعی باپ ہوگا، اس کا بیٹا رضاعی بھائی ہو گا، اس کا بھائی رضاعیماموں ہو گا، اس کا باپ رضاعی نانا ہو گا، رضاعی باپ کے والدین رضاعی دادا دادی ہوں گے، علی ہذا لقیاس، اسی طرح آگے علاتی اور اخیافی بہن بھائیوں کا سلسلہ ہو گا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ عورت کا دودھ اس کے خاوند کے جماع اور حمل کے نتیجے میں اترتا ہے، گویا عورت کے دودھ میں خاوند کا بھی دخل ہے، لہذا دودھ پینے والے بچے یا بچی کا رشتہ عورت اور اس کے خاوند دونوں سے قائم ہو گا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ عَدَدِ الرَّضْعَاتِ الْمُحَرِّمَةِ وَمَا جَاءَ فِي رَضَاعَةِ الكبير
حرام کرنے والی رضعات کی تعداد اور بڑے آدمی کی رضاعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6967
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ تَبَنَّى سَالِمًا وَهُوَ مَوْلَى لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ كَمَا تَبَنَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا وَكَانَ مَنْ تَبَنَّى رَجُلًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ دَعَاهُ النَّاسُ ابْنَهُ وَوَرِثَ مِنْ مِيرَاثِهِ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ [الأحزاب: 5] فَرُدُّوا إِلَى آبَائِهِمْ فَمَنْ لَمْ يُعْلَمْ لَهُ أَبٌ فَمَوْلًى وَأَخٌ فِي الدِّينِ فَجَاءَتْ سَهْلَةُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنَّا نَرَى سَالِمًا وَلَدًا يَأْوِي مَعِي وَمَعَ أَبِي حُذَيْفَةَ وَيَرَانِي فُضُلًا وَفِي لَفْظٍ وَقَدْ بَلَغَ مَا يَبْلُغُ الرِّجَالُ وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ مَا قَدْ عَلِمْتَ فَقَالَ أَرْضِعِيهِ خَمْسَ رَضَعَاتٍ وَفِي لَفْظٍ أَرْضِعِيهِ تَحْرُمِي عَلَيْهِ فَكَانَ بِمَنْزِلَةِ وَلَدِهَا مِنَ الرَّضَاعِ زَادَ فِي رِوَايَةٍ فَأَرْضَعْتُهُ خَمْسَ رَضَعَاتٍ فَكَانَ بِمَنْزِلَةِ وَلَدِهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ فَبِذَلِكَ كَانَتْ عَائِشَةُ تَأْمُرُ أَخَوَاتِهَا وَبَنَاتِ أَخَوَاتِهَا أَنْ يُرْضِعْنَ مَنْ أَحَبَّتْ عَائِشَةُ أَنْ يَرَاهَا وَيَدْخُلَ عَلَيْهَا وَإِنْ كَانَ كَبِيرًا خَمْسَ رَضَعَاتٍ ثُمَّ يَدْخُلُ عَلَيْهَا وَأَبَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَسَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْخِلْنَ عَلَيْهِنَّ بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ حَتَّى يَرْضَعَ فِي الْمَهْدِ وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ وَاللَّهِ مَا نَدْرِي لَعَلَّهَا كَانَتْ رُخْصَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِسَالِمٍ مِنْ دُونِ النَّاسِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کو منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا، سالم انصار کی ایک عورت کا غلام تھا، اس نے اس کو آزاد کر دیا تھا اورسیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس کو منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا، جس طرح کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو متبنی بیٹا بنا لیا تھا، دورِجاہلیت میں لوگ ایسا کرتے تھے، پھر جو منہ بولا بیٹا بناتا تھا اس کو بیٹا کہہ کر ہی آواز دیتا تھا اور وہ وراثت کا حقدار بننا تھا، یہاں تک کہ اللہ تعالی نے یہ حکم اتار دیا: {اُدْعُوْھُمْ لِآبَائِہِمْ … … فِی الدِّیْنِ وَمَوَالِیْکُمْ} انہیں ان کے باپوں کے نام سے پکارو، اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بات زیادہ انصا ف والی ہے اور اگر تم ان کے باپوں کو نہیں جانتے تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں۔ (سورۂ احزاب:۵)اس آیت کے بعد منہ بولے بیٹے اصلی باپ کے نام کی جانب پھیر دئیے گئے، جن کے باپوں کے نام معلوم نہ تھے، ان کو دوست یا بھائی کہہ کر پکارا جاتا، سیدنا ابو حذیفہ کی اہلیہ سیدہ سہلہ رضی اللہ عنہا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے تو سالم کو بیٹا بنا رکھا تھا، وہ میرے اور ابو حذیفہ کے پاس آتا تھا اور کام کاج کے عام کپڑوں میں دیکھتا رہتا تھا، اب وہ بڑا ہو چکا ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ اللہ تعالی نے ان کے بارے میں یہ حکم بھی اتار دیا ہے کہ منہ بولا بیٹا، حقیقی نہیں ہوتا، انہیں ان کے باپوں کے نام سے پکارو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اس کو پانچ مرتبہ دودھ پلا دے، اس وجہ سے تو اس پر حرام ہو جائے گی اور وہ رضاعی بیٹا بن جائے گا۔ ایک روایت میں ہے: پس سہلہ نے اسے پانچ مرتبہ دودھ پلایا اور یہ ان کے رضاعی بیٹا بن گیا۔ اس واقعہ سے استدلال کرتے ہوئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جن افراد کو دیکھنا چاہتی تھیں، اپنی بہنوں کو اور بھانجیوں کو حکم دیتیں کہ وہ ان کو دودھ پلا دیں، اگرچہ وہ بڑی عمر کے ہوتے، جب وہ اسے پانچ مرتبہ دودھ پلا دیتیں تو وہ داخل ہو سکتا تھا، مگر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دوسری ازواج مطہرات کسی کو اس رضاعت کی وجہ سے داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتی تھیں، وہ اس رضاعت کو معتبر سمجھتی تھیں، جو دودھ کی عمر میں ہوتی تھی، اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہتی تھیں کہ ممکن ہے یہ رخصت دوسرے لوگوں کے لیے نہ ہو، بلکہ صرف سیدنا سالم کے لئے ہو کہ انہوں نے بڑی عمر میں بھی دودھ پی لیا تو رضاعت ثابت ہوگئی۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6967]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4000، 5088، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25650 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26169»
وضاحت: فوائد: … دودھ کی کتنی مقدار سے رضاعت ثابت ہو گی؟ اس باب کے آخر میں وضاحت کی جائے گی۔
کام کاج کے عام کپڑوں میں دیکھتا رہتا تھا اس سے مراد یہ ہے کہ اس قسم کے کپڑوں سے نہ مکمل پردہ ہوتا ہے اور کام کاج کے دوران وجود کو چھپانا بھی مشکل ہوتا ہے، اور اُدھر سیدنا سالم رضی اللہ عنہ دیکھ رہے ہوتے تھے، اس چیز کو سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ محسوس کرنے لگ گئے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں