Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. بَابُ الرُّحْصَةِ فِي نِكَاحَ الْمُتْعَةِ ثُمَّ نَسْخِهِ
ممنوعہ نکاحوں کا بیان نکاح متعہ کی رخصت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6988
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا نَتَمَتَّعُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ حَتَّى نَهَانَا عُمَرُ أَخِيرًا يَعْنِي النِّسَاءَ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں اور سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے زمانوں میں عورتوں سے نکاح متعہ کیا کرتے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آخر میں ہمیں منع کر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6988]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1405، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14268 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14319»
وضاحت: فوائد: … امام نووی نے کہا: اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جن صحابہ نے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر d کے ادوارِ خلافت میں نکاحِ متعہ کیا، ان کو ناسخ دلیل کا علم نہیں تھا، بالآخر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کوبھی منع کر دیا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ مَا جَاءَ فِي نَسْخِهِ وَالنَّهْي عَنْهُ
نکاح متعہ کے منسوخ اور منہی عنہ ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6989
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ وَبَلَغَهُ أَنَّهُ رَخَّصَ فِي مُتْعَةِ النِّسَاءِ فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْهَا يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ
۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کو سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے اس بات کا علم ہوا کہ وہ متعہ کی رخصت دیتے ہیں تو انھوں نے ان کو کہا:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے دن متعہ اور گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع کر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6989]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5115، ومسلم: 1407، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1204 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1204»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6990
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نُعَيْمٍ الْأَعْرَجِيِّ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَأَنَا عِنْدَهُ عَنِ الْمُتْعَةِ مُتْعَةِ النِّسَاءِ فَغَضِبَ وَقَالَ وَاللَّهِ مَا كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زُنَاةً وَلَا مُسَافِحِينَ
۔ عبد الرحمن بن نعیم اعرجی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے متعہ کے نکاح کے بارے میں سوال کیا، وہ غصے میں آگئے اور کہا: اللہ کی قسم! ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں زنا کار اور بدکار نہ تھے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6990]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 5706، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5808 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5808»
وضاحت: فوائد: … یعنی نکاحِ متعہ حرام ہو گیا ہے، اب جو آدمی اس کا ارتکاب کرے گا، وہ زانی شمار ہو گا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6991
عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَأَقَمْنَا خَمْسَ عَشْرَةَ مِنْ بَيْنِ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ قَالَ فَأَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُتْعَةِ قَالَ وَخَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي فِي أَسْفَلِ مَكَّةَ أَوْ قَالَ فِي أَعْلَى مَكَّةَ فَلَقِينَا فَتَاةً مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ كَأَنَّهَا الْبَكْرَةُ الْعَنَطْنَطَةُ قَالَ وَأَنَا قَرِيبٌ مِنَ الدَّمَامَةِ وَعَلَيَّ بُرْدٌ جَدِيدٌ غَضٌّ وَعَلَى ابْنِ عَمِّي بُرْدٌ خَلَقٌ قَالَ فَقُلْنَا لَهَا هَلْ لَكِ أَنْ يَسْتَمْتِعَ مِنْكِ أَحَدُنَا قَالَتْ وَهَلْ يَصْلُحُ ذَلِكَ قَالَ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَى ابْنِ عَمِّي فَقُلْتُ لَهَا إِنَّ بُرْدِي هَذَا جَدِيدٌ غَضٌّ وَبُرْدَ ابْنِ عَمِّي هَذَا خَلَقٌ مَحٌّ قَالَتْ بُرْدُ ابْنِ عَمِّكَ هَذَا لَا بَأْسَ بِهِ فَاسْتَمْتَعَ مِنْهَا فَلَمْ نَخْرُجْ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى حَرَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا سبرہ جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ فتح مکہ والے دن نکلے، ہم پندرہ روز وہاں ٹھہرے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نکاح متعہ کی اجازت دے دی، میں اور میرا چچا زاد مکہ کے زیریں یا بالائی علاقے میں گئے، وہاں ہم بنی عامر بن صعصعہ کی ایک نوجوان لڑکی سے ملے، گویا کہ وہ لمبی گردن والی نوخیز اونٹنی تھی، میں خوش شکل نہ تھا، لیکن میری چادر بالکل نئی تھی اور میرے چچا کے بیٹے پر پرانی اور بوسیدہ چادر تھی، ہم نے اس سے کہا: کیا تو ہم میں سے کسی ایک کے ساتھ نکاح متعہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے؟ اس نے کہا: کیایہ کرنا درست ہے؟ ہم نے کہا: ہاں، پھر اس نے دیکھنا شروع کر دیا، جب وہ میرے چچا زاد بھائی کی جانب دیکھتی تو میں اس کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے کہتا: میری یہ چادر بالکل نئی ہے اور اس کی چادر پرانی اور بوسیدہ ہے۔ اس نے کہا: تیرے چچا زاد بھائی کی چادر میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، پس اس نے میرے چچا زاد بھائی سے متعہ کر لیا، بعد میں ہم ابھی مکہ سے باہر نہیں آئے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نکاح متعہ کو حرام قرار دیا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6991]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1406، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15346 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15420»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6992
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِعُسْفَانَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ فَقَالَ لَهُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ أَوْ مَالِكُ بْنُ سُرَاقَةَ شَكَّ عَبْدُ الْعَزِيزِ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنَا تَعْلِيمَ قَوْمٍ كَأَنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ عُمْرَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ قَالَ لَا بَلْ لِلْأَبَدِ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ طُفْنَا الْبَيْتَ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَمَرَنَا بِمُتْعَةِ النِّسَاءِ فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُنَّ قَدْ أَبَيْنَ إِلَّا إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى قَالَ فَافْعَلُوا قَالَ فَخَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي عَلَيَّ بُرْدٌ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ فَدَخَلْنَا عَلَى امْرَأَةٍ فَعَرَضْنَا عَلَيْهَا أَنْفُسَنَا فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَى بُرْدِ صَاحِبِي فَتَرَاهُ أَجْوَدَ مِنْ بُرْدِي وَتَنْظُرُ إِلَيَّ فَتَرَانِي أَشَبَّ مِنْهُ فَقَالَتْ بُرْدٌ مَكَانَ بُرْدٍ وَاخْتَارَتْنِي فَتَزَوَّجْتُهَا عَشْرًا بِبُرْدِي فَبِتُّ مَعَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ يَقُولُ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً إِلَى أَجَلٍ فَلْيُعْطِهَا مَا سَمَّى لَهَا وَلَا يَسْتَرْجِعْ مِمَّا أَعْطَاهَا شَيْئًا وَلْيُفَارِقْهَا فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ حَرَّمَهَا عَلَيْكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا سبرہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر نکلے، جب ہم عسفان میں تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمرہ حج میں داخل ہو چکا ہے۔ سراقہ بن مالک یا مالک بن سراقہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں اس طرح تعلیم دیں، جس طرح اس قوم کو تعلیم دی جاتی ہے جو آج پیدا ہوئی ہو، سوال یہ ہے کہ ہمارا یہ عمرہ اس سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہے۔ جب ہم مکہ میں پہنچے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے کی اجازت دے دی۔ ہم آپ کی طرف واپس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! عورتوں نے انکار کر دیا ہے، البتہ وہ مقررہ وقت تک ماننے کے لیے تیار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسے ہی کرلو۔ میں نکلا، میرے ساتھ ایک ساتھی بھی تھا، ایک چادر میرے اوپر تھی، ایک چادر اس کے اوپر تھی۔ ہم ایک عورت کے پاس گئے، ہم نے اپنے آپ کو اس پر پیش کیا، جب وہ عورت میرے ساتھی کی چادر کی جانب دیکھتی تواسے میری چادر سے عمدہ پاتی اور جب مجھے دیکھتی تو مجھے اس سے زیادہ جوان پاتی، بالآخر اس نے کہا: چادر تو چادر ہی ہے، آدمی کا بدل تو نہیں ہوتا، پس اس نے مجھے پسند کر لیا، میں نے اس سے دس دن کے لئے چادر کے عوض شادی کر لی، میں نے اس کے ساتھ ابھی تک ایک رات گزاری تھی کہ جب میں صبح کے وقت مسجد میں گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر پر پایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے کہ تم میں سے جس نے بھی کسی عورت سے وقت مقررہ تک شادی کی ہے، جو عوض مقرر کیا ہے،وہ اسے دے دے اور جو دے رکھا ہے، وہ واپس نہ لے اور اسے جدا کر دے، اللہ تعالی نے اس متعہ والے نکاح کو تم پر قیامت تک کے لئے حرام کر دیا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6992]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 1801، وابن ماجه: 1962، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15345 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15419»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے کسی راوی سے وہم ہو گیا ہے، جس سے ایک حدیث دوسری حدیث کے ساتھ خلط ملط ہو گئی ہے، عورتوں سے نکاح متعہ کا یہ معاملہ فتح مکہ کے موقع پر پیش آیا تھا، نہ کہ حجۃ الوداع کے موقع پر، نیز فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ احرام کی حالت میں نہیں تھے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6993
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ الْفَتْحِ
۔ سیدنا سبرہ سے اس طرح بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے دن نکاح متعہ سے منع کر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6993]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1406، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15337 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15412»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6994
عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ تَذَاكَرْنَا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمُتْعَةَ مُتْعَةَ النِّسَاءِ فَقَالَ رَبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَنْهَى عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ
۔ امام زہری کہتے ہیں: ہم نے عمر بن عبد العزیز کے پاس متعہ کا ذکرکیا، ربیع بن سبرہ نے کہا: میں نے اپنے باپ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃالوداع کے موقع پر متعہ کا نکاح حرام قرار دیا تھا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6994]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، وانظر الحديث السابق، أخرجه ابوداود: 2072، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15338 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15413»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6995
عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُتْعَةَ النِّسَاءِ عَامَ أَوْطَاسٍ
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اوطاس والے سال متعہ کی رخصت دی تھی۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6995]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1405، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16552 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16667»
وضاحت: فوائد: … اوطاس طائف میں ایک وادی کانام ہے،غزوۂ اوطاس اور فتح مکہ کے واقعات ایک سال میں پیش آئے، بلکہ بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ فتح مکہ رمضان ۸ میں اور غزوۂ اوطاس اگلے ماہ یعنی شوال رمضان ۸ میں، اس لیے غزوۂ اوطاس کے سال سے مراد فتح مکہ کا واقعہ ہے، کیونکہ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دنوں کے لیے متعہ کی رخصت دی اور پھر مکہ مکرمہ سے نکلنے سے پہلے اس سے منع کر دیا اور فرمایا: ((فَاِنَِّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَدْ حَرَّمَھَا عَلَیْکُمْ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) … بیشک اللہ تعالی نے اس کو قیامت کے دن تک حرام قرار دیا ہے۔ (حدیث نمبر (۶۹۹۲)کے آخر میںیہ الفاظ گزر چکے ہیں)
ذہن نشین رہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاحِ متعہ کے حرام ہو جانے کی بات کو تاکیدا دوہرایا تھا،تاکہ سب لوگوں کو علم ہو جائے، جس روایت میں حجۃ الوداع کے موقع پر متعہ کے حلال ہونے کا ذکر ہے، وہ خطا اور غلطی ہے۔
امام نووی نے کہا: صحیح اور راجح بات یہ ہے کہ متعہ کی اباحت اور حرمت دوبار پیش آئی،یہ نکاح غزوۂ خیبر سے پہلے حلال تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبرکے موقع پر اس سے منع فرما دیا، دوسری بار فتح مکہ کے موقع پر اس کو تین ایام کے لیے جائز قرار دیا اور پھر ہمیشہ کے لیے اس کی حرمت کا اعلان کر دیا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ مَا جَاءَ فِي نِكَاحِ الْمُحَلِلِ وَالْمُحْرِمِ
حلالہ کرنے والے اور احرام والے آدمی کے نکاح کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6996
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لئے حلالہ کیا جا رہا ہو، دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6996]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، أخرجه النسائي: 6/ 149، وابن ماجه: 2277، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4283 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4283»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6997
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَاحِبَ الرِّبَا وَآكِلَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَالْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان افراد پر لعنت کی ہے: سود والا (یعنی دینے والا)، سود کھانے والا، اس کے دو گواہ،حلالہ کرنے والا اور جس کے لئے حلالہ کیا جائے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6997]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن ماجه: 1935، والترمذي: 1119، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 721 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 721»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں