Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّضَاعِ الَّذِي لَا يَحْصُلُ بِهِ التَّحْرِيمُ
رضاعت کی وہ مقدار جس سے حرمت ثابت نہیں ہوتی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6978
وَعَنْهَا أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا تُحَرِّمُ الْإِمْلَاجَةُ وَلَا الْإِمْلَاجَتَيْنِ)).
۔ سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک یا دودفعہ دودھ پلانے سے رشتہ حرام نہیں ہوتا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6978]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1451، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26879 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27417»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6979
وَعَنْهَا أَيْضًا سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي لَفْظٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ) أَتُحَرِّمُ الْمَصَّةُ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا)).
۔ سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا اس طرح بھی بیان کرتی ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ کیا ایک دفعہ دودھ پینے سے حرمت ثابت ہو جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، ثابت نہیں ہوتی۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6979]
تخریج الحدیث: «أخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27424»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ ایک دو بار دودھ پلانے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی، پچھلے باب کے آخر میں اس مسئلہ کی وضاحت ہو چکی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ مَنْ تَجُوزُ شَهَادَتْهُ فِي الرَّضَاعَةِ
اس چیز کا بیان کہ رضاعت میں کس کی شہادت جائز ہو گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6980
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ عُقْبَةَ وَلَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ قَالَ: تَزَوَّجْتُ فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فُلَانَةَ ابْنَةَ فُلَانٍ فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ: إِنِّي أَرْضَعْتُكُمَا وَهِيَ كَافِرَةٌ، فَأَعْرَضَ عَنِّي فَأَتَيْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَقُلْتُ: إِنَّهَا كَاذِبَةٌ، فَقَالَ لِي: ((كَيْفَ بِهَا وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا دَعْهَا عَنْكَ)).
۔ سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں نے ایک عورت سے شادی کی، تو ایک سیاہ فام عورت ہمارے پاس آئی اور اس نے کہا: میں نے تم دونوں میاں بیوی کو دودھ پلایا ہے، میں یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا: میں نے فلاں کی بیٹی سے شادی کی ہے، اب ہمارے پاس ایک سیاہ فام عورت آئی ہے اور وہ کہتی ہے کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، جبکہ وہ بات کرنے والی کافرہ ہے، یہ سن کرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے رخ موڑ لیا، میں پھر آپ کے چہرۂ مبارک کے سامنے سے آ گیا اور میں نے کہا: وہ جھوٹ بول رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیسے جھوٹ بول رہی ہے، اب اس نے کہہ جو دیا ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، اب تو اس بیوی کو چھوڑ دے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6980]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5104، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16148 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16248»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6981
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ أَوْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ أُمَّ يَحْيَى ابْنَةَ أَبِي إِهَابٍ فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَعْرَضَ عَنِّي فَتَنَحَّيْتُ فَذَكَرْتُهُ لَهُ فَقَالَ فَكَيْفَ وَقَدْ زَعَمَتْ أَنْ قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا وَفِي لَفْظٍ فَكَيْفَ وَقَدْ قِيلَ فَنَهَاهُ عَنْهَا
۔ (دوسری سند) سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس نے ام یحیی بنتِ ابی اہاب سے شادی کی، لیکن ایک سیاہ فام عورت نے آ کر کہا: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، پھر جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے اعراض کیا، میں بھی اس جانب ہو گیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب کیا کریں، جبکہ اس کا خیال ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ ایک روایت میں ہے: اب کیا کریں،جبکہ دودھ پلانے کی بات کہی جا چکی ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6981]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16253»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے ثابت ہوا کہ مرضِعہ (دودھ پلانے والی) کی شہادت قبول کی جائے گی اور اس پر عمل کرنا واجب ہو جائے گا، الا یہ کہ ایسے قرائن موجود ہوں، جو واضح طور پر مرضِعہ کے جھوٹا ہونے پر دلالت کر رہے ہوں، مثلا مدت ِ رضاعت میں بچے اور اِس خاتون کا ایک علاقے میں جمع ہی نہ ہونا۔
رضاعت ایک پوشیدہ چیز ہے، اس کے گواہ ممکن نہیں، نہ ایسے مواقع پر گواہ بنائے جاتے ہیں، لہذا رضاعت پر گواہی طلب کرنا فضول ہے، مُرضِعہ کی بات کو معتبر سمجھا جائے گا، جس طرح پیدائش کے بارے میں دائی کی بات ہی معتبر ہوتی ہے اور اس سے گواہ طلب نہیں کیے جاتے، ان مواقع پر گواہی کو ضروری قرار دینا بہت سییقینی باتوں کو جھٹلانے کے مترادف ہو گا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نکاح فسخ کرنے کا حکم دے دیا۔
امام ابو حنیفہ نے اس سلسلے میں دو مردوں اور دو عورتوں کی شہادت کو ضروری قرار دیا ہے، لیکن مذکورہ بالا حدیث ِ مبارکہ سے یہ قید ثابت نہیں ہوتی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6982
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا يَجُوزُ فِي الرَّضَاعَةِ مِنَ الشُّهُودِ قَالَ رَجُلٌ أَوِ امْرَأَةٌ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ رضاعت میں کتنے گواہ ہوسکتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: ایک آدمی اور ایک عورت۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6982]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا لضعف الشيخ من اھل نجران، ومحمد بن عبد الرحمن بن البيلماني مجمع علي ضعفه، واتھمه ابن حبان بالوضع، وابوه ضعّفه غير واحد، أخرجه عبد الرزاق: 13982، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5877 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5877»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَاب مَا يَسْتَحِبُّ أَنْ تُعْطَى الْمُرْضِعَةُ عِندَ الفِطَامِ
دودھ چھڑاتے وقت عورت کو کچھ دینے کے مستحب ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6983
عَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعِ قَالَ غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ
۔ سیدنا حجاج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کونسی چیز ہے، جو دودھ پلانے والی کے حق کو مجھ سے ادا کر سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک غلام یا ایک لونڈی۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6983]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين، أخرجه ابوداود: 2064، والترمذي: 1153، والنسائي: 6/ 108، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15733 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15825»
وضاحت: فوائد: … اس حق سے مراد اجرت نہیں ہے، اجرت علیحدہ چیز ہے اور دودھ چھڑاتے وقت مرضِعہ کو عطیہ دینا علیحدہ چیز ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مدت ِ رضاعت کی تکمیل پر مرضِعہ کو ایک غلام یا لونڈی دے کر اس کے احسان کا جواب دیا جائے، جیسے اس نے بڑی احتیاط سے ایک بچے کو پالا پوسا اور اس کی خدمت کر کے اس کو سہارا دیا اور والدین کی اس مشقت سے مستغنی کیے رکھا، ایسے ہی غلام یا لونڈی کی صورت میں اس کو ایک نفس کا عطیہ دیا جائے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ الرُّحْصَةِ فِي نِكَاحَ الْمُتْعَةِ ثُمَّ نَسْخِهِ
ممنوعہ نکاحوں کا بیان نکاح متعہ کی رخصت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6984
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ لَنَا نِسَاءٌ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَسْتَخْصِي فَنَهَانَا عَنْهُ ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا بَعْدُ فِي أَنْ نَتَزَوَّجَ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ إِلَى أَجَلٍ ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ} [المائدة 87]
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد میں مصروف تھے، ہمارے پاس بیویاں نہیں تھیں، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم خصی نہ ہوجائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایسا کرنے سے منع کر دیا اور پھر ہمیں یہ اجازت دے دی کہ ہم مقررہ مدت تک کپڑے وغیرہ کے عوض میں عورتوں سے شادی کر سکتے ہیں، (جس کو متعہ کہتے ہیں)، پھر سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: اے ایمان والو! اللہ تعالی نے تمہارے لیے جو پاکیزہ چیزیں حلال کی ہیں، ان کو حرام نہ قرار دو اور زیادتی نہ کرو، بیشک اللہ تعالی زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۂ مائدہ: ۸۷) [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6984]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5075، ومسلم: 1404، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3986 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3986»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6985
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُنَّا فِي غَزَاةٍ فَجَاءَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اسْتَمْتِعُوا
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ اور سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک غزوہ میں تھے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قاصد ہمارے پاس آیا اور اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے ہیں کہ تم لوگ (نکاحِ متعہ کی صورت میں) فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6985]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5117، 5118، ومسلم: 1405، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16504 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16618»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6986
(وَعَنْهُمَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَا خَرَجَ عَلَيْنَا مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَادَى إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَذِنَ لَكُمْ فَاسْتَمْتِعُوا يَعْنِي مُتْعَةَ النِّسَاءِ
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کامنادی ہمارے پاس آیا اور اس نے یہ اعلان کیا: بے شک اللہ کے رسول نے تم کو اجازت دی ہے، پس تم فائدہ حاصل کر سکتے ہو، یعنی نکاح متعہ کی صورت میں۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6986]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16649»
وضاحت: فوائد: … یہ غزوۂ اوطاس کا واقعہ ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6987
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نَسْتَمْتِعُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالثَّوْبِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں کپڑے کے عوض نکاح متعہ کر لیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6987]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11182»
وضاحت: فوائد: … اتفاقی طور پر کپڑے کا ذکر کیا گیا ہے، وگرنہ عورت کی رضامندی کے مطابق کوئی چیز بھی دی جا سکتی تھی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں