Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. بَابُ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذُ وَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّا شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ» ‏‏‏‏
{اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗشَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ …} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8662
عَنْ سَهْلٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ آيَةُ الْعِزِّ {الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ} [الإسراء: 111] الْآيَةَ كُلَّهَا
۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عزت والی آیت یہ ہے: {وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ یَکُنْ لَّہ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ وَلَمْ یَکُنْ لَّہ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْہُ تَکْبِیْرًا۔}(سورۂ اسرائ: ۱۱۱) اور کہہ دے سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے نہ کوئی اولاد بنائی ہے اور نہ بادشاہی میں اس کا کوئی شریک ہے اور نہ عاجز ہوجانے کی وجہ سے کوئی اس کا مدد گار ہے اور اس کی بڑائی بیان کر، خوب بڑائی بیان کرنا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8662]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف زبان بن فائد، وسھل بن معاذ في رواية زبان عنه۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 430، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15634 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15719»
وضاحت: فوائد: … یہ آیت اللہ تعالی کے عزیز اور مُعِزّ ہونے پر دلالت کرتی ہے، اللہ تعالی کی کئی صفات عالیہ کو اس میں بیان کیا گیا ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِهَا
سورۂ کہف سورۂ کہف کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8663
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ قَرَأَ أَوَّلَ سُورَةِ الْكَهْفِ وَآخِرَهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا مِنْ قَدَمَيْهِ إِلَى رَأْسِهِ وَمَنْ قَرَأَهَا كُلَّهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ
۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے سورۂ کہف کی ابتدائی یا آخری آیات کی تلاوت کی تو اس کے قدم سے سر تک نور ہوگا، اور جس نے اس ساری سورت کی تلاوت کی، اس کے لیے زمین سے آسمان تک نور ہو گا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8663]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف زبان بن فائد، وسھل بن معاذ في رواية زبان عنه۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 443، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15626 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15711»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8664
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنْ الدَّجَّالِ
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے سورۂ کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کر لیں، وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8664]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 809، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27539 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28090»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8665
(وَعَنْهُ أَيْضًا) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ قَرَأَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ سُورَةِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے سورۂ کہف کی آخری آیات پڑھیں، وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8665]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، لكن شذَّ فيه شعبة فقال: من أواخر سورة الكھف،والمحفوظ لفظة من أول سورة الكھف۔ أخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28066»
وضاحت: فوائد: … صحیح بات یہی ہے کہ یہ فضیلت سورۂ کہف کی ابتدائی آیات کی ہے، جیسا کہ پچھلی حدیث میں گزرا ہے۔ جمعہ کے دن سورۂ کہف کی تلاوت کرنا مسنون عمل ہے، جیسا کہ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ قَرَأَ سُوْرَۃَ الْکَہْفِ فِیْیَوْمِ الْجُمُعَۃِ أَ ضَائَ لَہٗالنَّوْرَمَابَیْنَ الْجُمُعَتَیْنِ۔)) جس نے جمعہ کے دن سورۂ کہف کی تلاوت کی،تویہ عمل اس کے لیے دو جمعوں کے درمیان نور روشن کر دے گا۔ (الدعوات الکبیر للبیہقی، مشکوۃ المصابیح)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَابُ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: «وَالْبَاقِبَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابًا» ‏‏‏‏
{وَالْبَاقِیَاتُ الصَّالِحَاتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا …} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8666
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا وَإِنَّ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ هُنَّ الْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! یہ چار کلمات باقی رہنے والی نیکیاں ہیں: سُبْحَانَ اللّٰہِ،اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اور اللّٰہُ اَکْبَرُ۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8666]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18353 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18543»
وضاحت: فوائد: … درج ذیل آیات سے درج بالا آیت کا مفہوم سمجھنا آسان ہے: ارشادِ باری تعالی ہے: {وَاضْرِبْ لَہُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کَمَاء ٍ اَنْزَلْنٰہُ مِنَ السَّمَاء ِ فَاخْتَلَطَ بِہٖنَبَاتُالْاَرْضِفَاَصْبَحَہَشِیْمًا تَذْرُوْہُ الرِّیٰحُ وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْء ٍ مُّقْتَدِرًا۔ اَلْمَالُ وَالْبَنُوْنَ زِیْنَۃُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَالْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَّخَیْرٌ اَمَلًا۔} (سورۂ: ۴۵، ۴۶)
اور اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، انہیں حیات دنیا کی حقیقت اس مثال سے سمجھاؤ کہ آج ہم نے آسمان سے پانی برسا دیا تو زمین کی پود خوب گھنی ہو گئی، اور کل وہی نباتات بھس بن کر رہ گئی جسے ہوائیں اڑائے لیے پھرتی ہیں۔ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ یہ مال اور یہ اولاد محض دنیویزندگی کی ایک ہنگامی آرائش ہے۔ اصل میں تو باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیرے رب کے نزدیک نتیجے کے لحاظ سے بہتر ہیں اور انہی سے اچھی امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں۔
دنیا اپنے زوال، فنا، خاتمے اور بردباری کے لحاظ سے آسمانی بارش کی طرح ہے، جو زمین کے دانوں وغیرہ سے ملتی ہے اور ہزارہا پودے لہلہانے لگتے ہیں، تروتازگی اور زندگی کے آثار ہر چیز سے ظاہر ہونے لگتے ہیں، لیکن کچھ دنوں کے گزرتے ہی وہ سوکھ ساکھ کر چورا چورا ہو جاتے ہیں، اور ہوائیں انہیں دائیں بائیں اڑائے پھرتی ہیں۔ باقی رہنے والی چیزیں نیکیاں ہی ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ: «وَاذَ قَالَ مُوسَى لِفَتَاهُ» ‏‏‏‏ وَقِصَّةُ الْخَضِرِ مَعَ مُوسَى
خضر علیہ السلام کا موسی علیہ السلام کے ساتھ قصہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8667
حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِنَّ نَوْفًا الشَّامِيَّ يَزْعُمُ أَوْ يَقُولُ لَيْسَ مُوسَى صَاحِبُ خَضِرٍ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالَ كَذَبَ نَوْفٌ عَدُوُّ اللَّهِ حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ قَامَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ خَطِيبًا فَقَالُوا لَهُ مَنْ أَعْلَمُ النَّاسِ قَالَ أَنَا فَأَوْحَى اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَيْهِ إِنَّ لِي عَبْدًا أَعْلَمَ مِنْكَ قَالَ رَبِّ فَأَرِنِيهِ قَالَ قِيلَ تَأْخُذُ حُوتًا فَتَجْعَلُهُ فِي مِكْتَلٍ فَحَيْثُمَا فَقَدْتَهُ فَهُوَ ثَمَّ قَالَ فَأَخَذَ حُوتًا فَجَعَلَهُ فِي مِكْتَلٍ وَجَعَلَ هُوَ وَصَاحِبُهُ يَمْشِيَانِ عَلَى السَّاحِلِ حَتَّى أَتَيَا الصَّخْرَةَ رَقَدَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَاضْطَرَبَ الْحُوتُ فِي الْمِكْتَلِ فَوَقَعَ فِي الْبَحْرِ فَحَبَسَ اللَّهُ جِرْيَةَ الْمَاءِ فَاضْطَرَبَ الْمَاءُ فَاسْتَيْقَظَ مُوسَى فَقَالَ {لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا} [الكهف: 62] وَلَمْ يُصِبِ النَّصَبَ حَتَّى جَاوَزَ الَّذِي أَمَرَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَقَالَ {أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهِ إِلَّا الشَّيْطَانُ} [الكهف: 63] {فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا} [الكهف: 64] فَجَعَلَا يَقُصَّانِ آثَارَهُمَا {وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا} [الكهف: 61] قَالَ أَمْسَكَ عَنْهُ جِرْيَةَ الْمَاءِ فَصَارَ عَلَيْهِ مِثْلُ الطَّاقِ فَكَانَ لِلْحُوتِ سَرَبًا وَكَانَ لِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ عَجَبًا حَتَّى انْتَهَيَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِذَا رَجُلٌ مُسَجًّى عَلَيْهِ ثَوْبٌ فَسَلَّمَ مُوسَى عَلَيْهِ فَقَالَ وَأَنَّى بِأَرْضِكَ السَّلَامُ قَالَ أَنَا مُوسَى قَالَ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالَ نَعَمْ {أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا} [الكهف: 66] قَالَ يَا مُوسَى إِنِّي عَلَى عِلْمٍ مِنَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَا تَعْلَمُهُ وَأَنْتَ عَلَى عِلْمٍ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى عَلَّمَكَهُ اللَّهُ فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ عَلَى السَّاحِلِ فَمَرَّتْ سَفِينَةٌ فَعَرَفُوا الْخَضِرَ فَحُمِلَ بِغَيْرِ نَوْلٍ فَلَمْ يُعْجِبْهُ وَنَظَرَ فِي السَّفِينَةِ فَأَخَذَ الْقَدُّومَ يُرِيدُ أَنْ يَكْسِرَ مِنْهَا لَوْحًا فَقَالَ حُمِلْنَا بِغَيْرِ نَوْلٍ وَتُرِيدُ أَنْ تَخْرِقَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا {قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا} [الكهف: 71] قَالَ إِنِّي نَسِيتُ وَجَاءَ عُصْفُورٌ فَنَقَرَ فِي الْبَحْرِ قَالَ الْخَضِرُ مَا يُنْقِصُ عِلْمِي وَلَا عِلْمَكَ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ تَعَالَى إِلَّا كَمَا يُنْقِصُ هَذَا الْعُصْفُورُ مِنْ هَذَا الْبَحْرِ {فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا} [الكهف: 77] فَرَأَى غُلَامًا فَأَخَذَ رَأْسَهُ فَانْتَزَعَهُ فَقَالَ {أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا} [الكهف: 74] {قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا} [الكهف: 75] قَالَ سُفْيَانُ قَالَ عَمْرٌو وَهَذِهِ أَشَدُّ مِنْ الْأُولَى قَالَ فَانْطَلَقَا فَإِذَا جِدَارٌ يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ أَرَانَا سُفْيَانُ بِيَدِهِ فَرَفَعَ يَدَهُ هَكَذَا رَفْعًا فَوَضَعَ رَاحَتَيْهِ فَرَفَعَهُمَا لِبَطْنِ كَفَّيْهِ رَفْعًا فَقَالَ {لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا} [الكهف: 77] {قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ} [الكهف: 78] قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَانَتِ الْأَوْلَى نِسْيَانًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى لَوْ كَانَ صَبَرَ حَتَّى يَقُصَّ عَلَيْنَا مِنْ أَمْرِهِ
۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: نوف شامی کا خیال ہے کہ جس موسی کی خضر سے ملاقات ہوئی تھی، وہ بنو اسرائیل والے موسی نہیں ہیں، انھوں نے کہا: اللہ کے دشمن نوف نے جھوٹ بولا ہے، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک موسی علیہ السلام بنو اسرائیل میں خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، لوگوں نے ان سے پوچھا: لوگوں میں سب سے زیادہ علم رکھنے والا کون ہے؟ انھوں نے کہا: میں ہوں، اُدھر سے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کر دی کہ میرا ایک بندا تجھ سے زیادہ علم والا ہے، انھوں نے کہا: اے میرے ربّ! تو پھر وہ مجھے دکھاؤ، ان سے کہا گیا کہ تم ایک مچھلی پکڑو اور اس کو ایک ٹوکرے میں ڈالو، جہاں تم اس کو گم پاؤ گے، وہ وہاں ہو گا، پس انھوں نے مچھلی پکڑی اور اس کو ایک ٹوکرے میں رکھا اور انھوں نے اور ان کے ایک ساتھی نے ساحل کی طرف چلنا شروع کر دیا،یہاں تک کہ وہ ایک چٹان کے پاس پہنچ گئے، موسی علیہ السلام وہاں سو گئے، مچھلی نے ٹوکرے میں حرکت کی اور سمندر میں کود گئی، اللہ تعالیٰ نے مچھلی کے داخل ہونے والی جگہ کا پانی روک لیا (اور یوں ایک غار سی نظر آنے لگی)، جب پانی مضطرب ہوا تو موسی علیہ السلام بیدار ہو گئے (اور کہیں آگے جا کراپنے نوجوان سے) کہا: لا ہمارا کھانا دے، ہمیں تو اپنے اس سفر سے سخت تکلیف اٹھانی پڑی۔ موسی علیہ السلام نے اس مقام سے آگے گزر کر تھکاوٹ محسوس کی، جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا، آگے سے اس نوجوان نے جواب دیا کہ کیا آپ نے دیکھا بھی؟ جب کہ ہم چٹان پر ٹیک لگا کر آرام کر رہے تھے، وہیں میں مچھلی بھول گیا تھا، دراصل شیطان نے مجھے بھلا دیا۔ چنانچہ وہیں سے اپنے قدموں کے نشان ڈھونڈتے ہوئے واپس لوٹے۔ پس انھوں نے اپنے قدموں کے نشانات کو ڈھونڈنا شروع کر دیا، اور اس مچھلی نے انوکھے طور پر دریا میں اپنا راستہ بنا لیا۔ اور وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے پانی کا چلاؤ روک لیا اور وہ جگہ طاق کی طرح نظر آنے لگا، یہ مچھلی کے لیے انوکھا اور موسی علیہ السلام کے لیے عجیب کام تھا، بہرحال وہ دونوں بالآخر اس چٹان تک پہنچ گئے، مطلوبہ مقام پر پہنچ کر انھوں نے دیکھا کہ ایک آدمی ہے، اس نے کپڑا ڈھانپا ہوا ہے، موسی علیہ السلام نے اس کو سلام کہا، اس نے آگے سے کہا: تیرے علاقے میں سلام کیسے آ گیا؟ انھوں نے کہا: میں موسی علیہ السلام ہوں، خضر علیہ السلام نے کہا: بنو اسرائیل کا موسی؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں آپ کی تابعداری کروں کہ آپ مجھے اس نیک علم کو سکھا دیں۔ خضر علیہ السلام نے کہا: اے موسی! بیشک مجھے اللہ کی طرف سے ایسا علم دیا گیا ہے کہ تم اس کو نہیں جانتے اور تم کو اسی کی طرف سے ایسا علم دیا گیا ہے کہ میں اس کی معرفت نہیں رکھتا، پھر وہ دونوں ساحل پر چل پڑے (اور خضر علیہ السلام نے موسی علیہ السلام پر پابندی لگا کہ انھوں نے اس سے اس کے کیے کے بارے میں سوال نہیں کرنا)، وہاں سے ایک کشتی گزری، انھوں نے خضر علیہ السلام کو پہچان لیا، اس لیے ان کو بغیر کسی اجرت کے سوار کر لیا گیا، لیکن یہ چیز اسے اچھی نہ لگی پھر خضر علیہ السلام نے کشتی کو دیکھا اور کلہاڑا لے کر اس کی ایک تختی کو توڑنا چاہا، موسی علیہ السلام نے کہا: ان لوگوں نے ہمیں اجرت کے بغیر سوار کر لیا اور اب تم اس کشتی کو توڑ کر سب سواروں کو غرق کرنا چاہتے ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے تو پہلے ہی تجھ سے کہہ دیا تھا کہ تو میرے ساتھ ہر گز صبر نہ کر سکے گا۔ موسی علیہ السلام نے کہا: بیشک میں بھول گیا تھا، پھر ایک پرندہ آیا اور اس نے سمندر سے اپنی چونچ بھری، خضر علیہ السلام نے اس کو دیکھ کر کہا: اے موسی! میرے اور تیرے علم نے اللہ تعالیٰ کے علم میں صرف اتنی کمی کی ہے، جتنی کہ اس پرندے نے اس سمندر میں کی ہے، پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ وہ دونوں ایک گاؤں والوں کے پاس آئے ان سے کھانا طلب کیا، لیکن انھوں نے ان کی مہمان داری سے صاف انکار کر دیا۔ نیز خضر علیہ السلام نے وہاں ایک لڑکا دیکھا اور اس کو پکڑ کر اس کا سر اکھاڑ دیا، موسی علیہ السلام نے کہا: کیا تو نے ایک پاک جان کو بغیر کسی جان کے عوض مار ڈالا، بیشک تو نے تو بڑی ناپسندیدہ حرکت کی، انھوں نے کہا: کیا میں نے تم نہیں کہا تھا کہ تم میرے ہمراہ رہ کر ہر گز صبر نہیں کر سکتے۔ عمرو نے اپنی روایت میں کہا: یہ پہلے کام سے زیادہ سخت کام تھا، پھر وہ دونوں چل پڑے، جب خضر علیہ السلام نے دیوار کو گرتے ہوئے دیکھا تو انھوں نے اس کو سیدھا کر دیا، سفیان راوی نے اس کیفیت کو بیان کرتے ہوئے اپنے ہاتھ کو اس طرح بلند کیا، پھر اپنی ہتھیلیوں کو رکھا اور پھر ان کو ہتھیلیوں کی اندرونی سمت کی طرف سے بلند کیا، موسی علیہ السلام نے کہا: اگر آپ چاہتے تو اس پر اجرت لے لیتے، اس نے کہا: بس یہ جدائی ہے میرے اور تیرے درمیان۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: پہلی بار تو موسی علیہ السلام بھول گئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ موسی علیہ السلام پر رحم کرے، کاش وہ صبر کرتے تاکہ وہ ہم پر اپنے مزید معاملات بیان کرتے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8667]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 122، 3278، 3401، ومسلم: 2380، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21114 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21431»
وضاحت: فوائد: … مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: احادیث نمبر(۱۰۳۸۲، ۱۰۳۸۳)، خضر علیہ السلام کون تھے؟ دیکھیں: حدیث نمبر (۱۰۳۹۵)
اگر قارئین موسی علیہ السلام اور خضر علیہ السلام کا مکمل قصہ پڑھنا چاہیں تو سورۂ کہف کی آیت (۶۰تا ۸۲) اور کسی تفسیر کا مطالعہ کر لیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8668
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا عِنْدَهُ فَقَالَ الْقَوْمُ إِنَّ نَوْفًا الشَّامِيَّ يَزْعُمُ أَنَّ الَّذِي ذَهَبَ يَطْلُبُ الْعِلْمَ لَيْسَ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ مُتَّكِئًا فَاسْتَوَى جَالِسًا فَقَالَ كَذَلِكَ يَا سَعِيدُ قُلْتُ نَعَمْ أَنَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ ذَاكَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَذَبَ نَوْفٌ حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى صَالِحٍ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى أَخِي عَادٍ ثُمَّ قَالَ إِنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ بَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ قَوْمَهُ ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ قَالَ لَهُمْ مَا فِي الْأَرْضِ أَحَدٌ أَعْلَمُ مِنِّي وَأَوْحَى اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَيْهِ أَنَّ فِي الْأَرْضِ مَنْ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ وَآيَةُ ذَلِكَ أَنْ تُزَوَّدَ حُوتًا مَالِحًا فَإِذَا فَقَدْتَهُ فَهُوَ حَيْثُ تَفْقِدُهُ فَتَزَوَّدَ حُوتًا مَالِحًا فَانْطَلَقَ هُوَ وَفَتَاهُ حَتَّى إِذَا بَلَغَا الْمَكَانَ الَّذِي أُمِرَا بِهِ فَلَمَّا انْتَهَيَا إِلَى الصَّخْرَةِ انْطَلَقَ مُوسَى يَطْلُبُ وَوَضَعَ فَتَاهُ الْحُوتَ عَلَى الصَّخْرَةِ وَاضْطَرَبَ فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا قَالَ فَتَاهُ إِذَا جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدَّثْتُهُ فَأَنْسَاهُ الشَّيْطَانُ فَانْطَلَقَا فَأَصَابَهُمْ مَا يُصِيبُ الْمُسَافِرَ مِنْ النَّصَبِ وَالْكَلَالِ وَلَمْ يَكُنْ يُصِيبُهُ مَا يُصِيبُ الْمُسَافِرَ مِنْ النَّصَبِ وَالْكَلَالِ حَتَّى جَاوَزَ مَا أُمِرَ بِهِ فَقَالَ مُوسَى لِفَتَاهُ {آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا} [الكهف: 62] قَالَ لَهُ فَتَاهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ {أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ} [الكهف: 63] أَنْ أُحَدِّثَكَ {وَمَا أَنْسَانِيهِ إِلَّا الشَّيْطَانُ} [الكهف: 63] قَالَ أُخْبِرْتُ أَنَّ عِنْدَكَ عِلْمًا فَأَرَدْتُ أَنْ أَصْحَبَكَ {قَالَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا} [الكهف: 67] {قَالَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا} [الكهف: 69] قَالَ {فَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا} [الكهف: 68] قَالَ قَدْ أُمِرْتُ أَنْ أَفْعَلَهُ {قَالَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا} [الكهف: 69] {قَالَ فَإِنْ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا} [الكهف: 70] {فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا رَكِبَا فِي السَّفِينَةِ} [الكهف: 71] خَرَجَ مَنْ كَانَ فِيهَا وَتَخَلَّفَ لِيَخْرِقَهَا قَالَ فَقَالَ لَهُ مُوسَى تَخْرِقُهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا {لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا} [الكهف: 71] {قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا} [الكهف: 72] {قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلَا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا} [الكهف: 73] فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا عَلَى غِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ وَفِيهِمْ غُلَامٌ لَيْسَ فِي الْغِلْمَانِ غُلَامٌ أَنْظَفَ يَعْنِي مِنْهُ فَأَخَذَهُ فَقَتَلَهُ فَنَفَرَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ عِنْدَ ذَلِكَ وَقَالَ {أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا} [الكهف: 74] {قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا} [الكهف: 75] قَالَ فَأَخَذَتْهُ ذَمَامَةٌ مِنْ صَاحِبِهِ وَاسْتَحْيَا فَقَالَ {إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا} [الكهف: 76] {فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ} [الكهف: 77] لِئَامًا {اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا} [الكهف: 77] وَقَدْ أَصَابَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ جَهْدٌ فَلَمْ يُضَيِّفُوهُمَا {فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ} [الكهف: 77] قَالَ لَهُ مُوسَى مِمَّا نَزَلَ بِهِمْ مِنْ الْجَهْدِ {لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا} [الكهف: 77] {قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ} [الكهف: 78] فَأَخَذَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ بِطَرَفِ ثَوْبِهِ فَقَالَ حَدِّثْنِي فَقَالَ {أَمَّا السَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسَاكِينَ يَعْمَلُونَ فِي الْبَحْرِ} [الكهف: 79] {وَكَانَ وَرَاءَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا} [الكهف: 79] فَإِذَا مَرَّ عَلَيْهَا فَرَآهَا مُنْخَرِقَةً تَرَكَهَا وَرَقَّعَهَا أَهْلُهَا بِقِطْعَةِ خَشَبَةٍ فَانْتَفَعُوا بِهَا {وَأَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ فَخَشِينَا أَنْ يُرْهِقَهُمَا طُغْيَانًا وَكُفْرًا} [الكهف: 80] فَإِنَّهُ كَانَ طُبِعَ يَوْمَ طُبِعَ كَافِرًا وَكَانَ قَدْ أُلْقِيَ عَلَيْهِ مَحَبَّةٌ مِنْ أَبَوَيْهِ وَلَوْ أَطَاعَاهُ لَأَرْهَقَهُمَا طُغْيَانًا وَكُفْرًا {فَأَرَدْنَا أَنْ يُبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَبَ رُحْمًا} [الكهف: 81] وَوَقَعَ أَبُوهُ عَلَى أُمِّهِ فَعَلِقَتْ فَوَلَدَتْ مِنْهُ خَيْرًا مِنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَبَ رُحْمًا {وَأَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَامَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزٌ لَهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا فَأَرَادَ رَبُّكَ أَنْ يَبْلُغَا أَشُدَّهُمَا وَيَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا رَحْمَةً مِنْ رَبِّكَ وَمَا فَعَلْتُهُ عَنْ أَمْرِي ذَلِكَ تَأْوِيلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا} [الكهف: 82]
۔ سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے تھے،کچھ لوگوں نے بتایا کہ نوف شامی بکالی کہتا ہے کہ جو موسی حصولِ علم کے لئے سیدنا خضر علیہ السلام کے پاس گئے تھے، وہ بنی اسرائیل والے موسیٰ علیہ السلام نہ تھے، یہ سن کر سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور کہا: اے سعید! کیا وہ ایسا ہی کہتاہے؟ میں نے کہا: جی میں نے خود اس سے یہی سنا ہے، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: وہ غلط کہتا ہے، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہم پر اور صالح علیہ السلام پر رحمت کرے اور اللہ تعالیٰ ہم پر اور عاد قوم والے میرے پیغمبر بھائی ہود علیہ السلام پر رحمت کرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام نے ایک دفعہ اپنی قوم سے خطاب کیا اور ان سے کہا: روئے زمین میں مجھ سے بڑھ کر عالم کوئی نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کی جانب وحی کی کہ فلاں زمین میں تم سے زیادہ علم والا آدمی موجود ہے اوراس سے ملاقات کی علامت یہ ہے کہ ایک نمکین مچھلی لو، جہاں وہ ہاتھ سے نکل جائے، وہ وہاں ہوگا، پس موسیٰ علیہ السلام نے نمکین مچھلی لی اور اپنے نوجوان شاگرد یوشع بن نون کے ساتھ چل دئیے، جس جگہ کا حکم ملا تھا، جب وہاں پہنچے توایک چٹان تھی، جب اس تک گئے تو موسیٰ علیہ السلام کوئی چیز تلاش کرنے گئے اور ان کے شاگرد نے مچھلی چٹان پر رکھی، وہ حرکت میں آئی اور سمندر میں رستہ بنا لیا، شاگرد کہنے لگا کہ سیدنا موسیٰ آئیں گے تو انہیں بتادوں گا، لیکن شیطان نے اسے بھلا دیا اوروہ آگے کو چلتے رہے حتیٰ کہ جب انہیں مسافروں کی مانند تھکاوٹ محسوس ہوئی، اور تھکاوٹ مطلوبہ جگہ سے آگے گزر جانے کے بعد محسوس ہوئی، تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے شاگرد سے کہا: ہمیں کھانا دو، اس سفر نے تو ہمیں تھکا دیا ہے، شاگرد نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ کو معلوم ہے کہ جب ہم چٹان کے پاس ٹھہرے تھے، تو مچھلی نے وہاں حرکت کی، لیکن میں بتانا بھول گیا تھا، یہ شیطان ہی نے بھلایاہے تواس مچھلی نے سمندر میں جگہ بنا لی تھی، موسی علیہ السلام نے کہا کہ وہی مقام ہماری مطلوبہ جگہ ہے، اب پچھلے پاؤں انہی نشانات قدم پر واپس آئے، جب اسی چٹان تک پہنچے تووہاں گھومے، اچانک دیکھتے ہیں کہ خضر علیہ السلام کپڑا لئے موجود ہیں، موسیٰ علیہ السلام نے ان پر سلام کہا، انہوں نے سراٹھایا اور کہا: تم کون ہو؟ انھوں نے کہا: میں موسیٰ علیہ السلام ہوں، انھوں نے پوچھا: کون سا موسیٰ؟ انھوں نے کہا: بنو اسرائیل والے موسیٰ، پھر موسیٰ علیہ السلام نے کہا: تمہارے پاس علم ہے، میں چاہتاہوں کہ تمہاری رفاقت میں رہ کر وہ علم حاصل کروں، انہوں نے کہا: تم اس کے حصول کی طاقت نہیں رکھتے، انھوں نے کہا:آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے، میں تمہاری نافرمانی نہیں کروں گا، خضر علیہ السلام نے کہا:جس کی آپ کو خبر نہیں اس پر تم صبر نہیں کر سکو گے، موسیٰ علیہ السلام نے کہا: مجھے چونکہ حکم ملاہے، اس لئے میں صبر کروں گا، خضر علیہ السلام نے کہا: اگر تم میرے سنگ چلے ہو تو پھر جو بھی میں کرتا جاؤں، تم نے نہیں بولنا،میں خود ہی وضاحت کر دوں گا۔ اب دونوں چلے، کشتی میں سوار ہوئے، جب وہ رکی تو اس کی سواریاں باہر چلی گئیں تو یہ پیچھے رہ گئے اور انھوں نے اس میں سوراخ کر دیا۔ موسیٰ علیہ السلام بول پڑے کہ تم نے اس میں سوراخ کر دیا ہے، کشتی میں بیٹھنے والوں کو غرق کرنا چاہتے ہو، یہ تو اچھا کام نہیں کیا، خضر علیہ السلام نے کہا: میں نے تم سے کہاتھا کہ تم اس سفر میں میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا:میں بھول گیا ہوں، اس پرمؤاخذہ نہ کریں اور تنگ نہ ہوں، پھر چل پڑے اور سمندر کے کنارے پرپہنچ گئے، وہاں بچے کھیل رہے تھے، ان میں ایک بچہ سب سے زیادہ صاف ستھراتھا، خضر علیہ السلام نے اسے پکڑا اور قتل کر دیا، اب کی بار پھر موسیٰ علیہ السلام بول پڑے اورکہا: ایک ایسی جان کو قتل کر دیا ہے، جس کا کوئی قصور نہیں،یہ تو بہت بری چیز ہوئی ہے، خضر علیہ السلام کے تکرار سے کچھ شرم سی محسوس ہونے لگی، موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اگر میں اس کے بعد سوال کروں تو آپ مجھے ساتھ نہ لے جانا،آپ کا عذر معقول ہوگا۔ اب وہ دونوں چلے اور ایک بستی والوں کے پاس آئے اور ان سے کھانا طلب کیا، جبکہ موسیٰ علیہ السلام سخت تھک چکے تھے اور بھوک سے نڈھال تھے، انہوں نے میزبانی کرنے سے انکار کردیا، پھر خضر علیہ السلام نے دیکھا کہ ایک دیوار گرنا چاہتی ہے، پس انھوں نے اسے درست کر دیا، اس بار موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اتنی مشقت میں ہم مبتلاہیں، اگر تم چاہتے تو اس پر اجرت لے لیتے، خضر علیہ السلام نے کہا: یہ میرے اور تمہارے درمیان جدائی کا وقت آ گیا ہے، سید ناموسیٰ علیہ السلام نے ان کا دامن پکڑ لیا اور کہا: جو کچھ آپ نے کیا ہے، اس کاپس منظر تو بیان کردو، خضر علیہ السلام نے کہا: {اَمَّا السَّفِیْنَۃُ فَکَانَتْ لِمَسٰکِیْنَ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْرِ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَہَا وَکَانَ وَرَاء َہُمْ مَّلِکٌ یَّاْخُذُ کُلَّ سَفِیْنَۃٍ غَصْبًا۔} (اس کشتی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ چند غریب آدمیوں کی تھی جو دریا میں محنت مزدوری کرتے تھے۔ میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں، کیونکہ آگے ایک ایسے بادشاہ کا علاقہ تھا جو ہر کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔) اب جب وہ بادشاہ کے پاس سے گزرے گی اور وہ اس کو سوراخ زدہ دیکھے گا تو اس کو چھوڑ دے گا، اور (یہ نقص اتنا بڑا بھی نہیں ہے) اس کا مالک لکڑی کا ٹکڑا لگا کا اس کی مرمت کر لے گا اور پھر یہ لوگ فائدہ اٹھاتے رہیں گے، رہا مسئلہ بچے کو قتل کرنے کا تو اس پر کافر کی مہر لگ چکی تھی، جبکہ اس کے والدین اس سے محبت کرتے تھے، اگر اس معاملے وہ اس کی اتباع کرتے تو وہ ان کو کفر اور سرکشی میں پھنسا دیتا، پس{فَأَ رَدْنَا أَ نْ یُبْدِلَہُمَا رَبُّہُمَا خَیْرًا مِنْہُ زَکَاۃً وَأَ قْرَبَ رُحْمًا} (اس لیے ہم نے چاہا کہ ان کا رب اس کے بدلے ان کو ایسی اولاد دے جو اخلاق میں بھی اس سے بہتر ہو اور جس سے صلہ رحمی بھی زیادہ متوقع ہو۔)، اُدھر اس خاوند نے جب اپنی بیوی سے جماع کیا تو اسے حمل ہو گیا اور اس نے بہترین پاکیزگی والا اور بہت صلہ رحمی کرنے والا بچہ جنم دیا۔ {وَأَ مَّا الْجِدَارُ فَکَانَ لِغُلَامَیْنِ یَتِیمَیْنِ فِی الْمَدِینَۃِ، وَکَانَ تَحْتَہُ کَنْزٌ لَہُمَا، وَکَانَ أَ بُوہُمَا صَالِحًا، فَأَ رَادَ رَبُّکَ أَ نْ یَبْلُغَا أَ شُدَّہُمَا، وَیَسْتَخْرِجَا کَنْزَہُمَا، رَحْمَۃً مِنْ رَبِّکَ، وَمَا فَعَلْتُہُ عَنْ أَ مْرِی، ذٰلِکَ تَأْوِیلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَلَیْہِ صَبْرًا}۔ اور اس دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ یہ دو یتیم لڑکوں کی ہے جو اس شہر میں رہتے ہیں۔ اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لیے ایک خزانہ مدفون ہے اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا۔ اس لیے تمہارے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے بالغ ہوں اور اپنا خزانہ نکال لیں۔ یہ تمہارے رب کی رحمت کی بنا پر کیا گیا ہے، میں نے کچھ اپنے اختیار سے نہیں کر دیا ہے۔ یہ ہے حقیقت ان باتوں کی جن پر تم صبر نہ کر سکے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8668]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21118»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَابُ: «قَالَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبَنِي..»
{قَالَ اِنْ سَاَلْتُکَ عَنْ شَیْئٍ بَعْدَھَا فَلَا تُصَاحِبْنِیْ …} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8669
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَرَأَ {قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا} [الكهف: 76] يُثَقِّلُهَا
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت اس طرح پڑھی: {قَدْ بَلَّغْتَ مِن لَّدُنِّیْ عُذْرًا}،یعنی لَدُنِّیْ کو شد کے ساتھ پڑھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8669]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3985، والترمذي: 2933، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21124 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21442»
وضاحت: فوائد: … لَدُنِّیْ یہ جمہور کی قراء ت ہے، مزید دو قراء ات یہ ہیں: ‘لَدُنِیْ‘ اور ‘لَدْنِیْ‘

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8670
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَعَا لِأَحَدٍ بَدَأَ بِنَفْسِهِ فَذَكَرَ ذَاتَ يَوْمٍ مُوسَى فَقَالَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى مُوسَى لَوْ كَانَ صَبَرَ لَقَصَّ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْنَا مِنْ خَبَرِهِ وَلَكِنْ قَالَ {إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا} [الكهف: 76]
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی کے لئے دعاء کرتے تو اپنی ذات سے دعا کی ابتدا کرتے، ایک دن آپ نے موسیٰ علیہ السلام کی ذات کا ذکر کیا تو فرمایا: اللہ تعالیٰ ہم پر اور موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے، اگر وہ صبر کرتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں مزید معلومات عطا کرتے، لیکن انھوں نے یہ شرط باندھ لی: {إِنْ سَأَ لْتُکَ عَنْ شَیْئٍ بَعْدَہَا فَلَا تُصَاحِبْنِی، قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّی عُذْرًا} … موسیٰ(علیہ السلام) نے کہا اس کے بعد اگر میں آپ سے کچھ پوچھوں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں۔ لیجیے، اب تو میری طرف سے آپ کو عذر مل گیا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8670]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 3984، والترمذي: 3385، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21126 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21444»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ: «قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي» ‏‏‏‏
{قُلْ لَوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِکَلِمَاتِ رَبِّیْ …} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8671
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَتْ قُرَيْشٌ لِلْيَهُودِ أَعْطُونَا شَيْئًا نَسْأَلُ عَنْهُ هَذَا الرَّجُلَ فَقَالُوا سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ فَسَأَلُوهُ فَنَزَلَتْ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا [سورة الإسراء: ٨٥] قَالُوا أُوتِينَا عِلْمًا كَثِيرًا أُوتِينَا التَّوْرَاةَ وَمَنْ أُوتِيَ التَّوْرَاةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ [سورة الكهف: ١٠٩]
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قریش نے یہودیوں سے کہا: ہمیں کوئی ایسی بات بتاؤ، جس کے بارے میں ہم اس آدمی (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے سوال کریں (اور اس کو لا جواب کر دیں)، انہوں نے کہا: اس سے روح کے بارے میں سوال کرو، پس جب انہوں نے سوال کیا تو یہ آیت نازل ہوئی: {وَیَسْأَ لُونَکَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَ مْرِ رَبِّی وَمَا أُوتِیتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِیلًا} … یہ لوگ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، کہہ دو کہ روح میرے رب کا حکم ہے، تمہیں صرف تھوڑا سا علم دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا: ہمیں تو بہت زیادہ علم دیا گیا ہے، ہمیں تورات دی گئی اور جس کو تورات دے دی جائے، اس کو بہت زیادہ بھلائی دے دی جاتی ہے، ان کی اس بات کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار دی: {قُلْ لَّوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْتَنْفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّیْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِہٖ مَدَدًا} … کہہدےاگرسمندرمیرے رب کی باتوں کے لیے سیاہی بن جائے تو یقینا سمندر ختم ہوجائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں، اگرچہ ہم اس کے برابر اور سیاہی لے آئیں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8671]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 3140، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2309 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2309»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۸۶۵۸)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں