الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. بَابُ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ»
سورۂ المومنون {قَدْ اَفْلَحَ الْمؤْمِنُوْنَ … …}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8682
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ كَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ يُسْمَعُ عِنْدَ وَجْهِهِ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ فَمَكَثْنَا سَاعَةً فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ زِدْنَا وَلَا تَنْقُصْنَا وَأَكْرِمْنَا وَلَا تُهِنَّا وَأَعْطِنَا وَلَا تَحْرِمْنَا وَآثِرْنَا وَلَا تُؤْثِرْ عَلَيْنَا وَارْضَ عَنَّا وَأَرْضِنَا ثُمَّ قَالَ لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ عَشْرُ آيَاتٍ مَنْ أَقَامَهُنَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ حَتَّى خَتَمَ الْعَشْرَ [سورة المؤمنون: ١-١٠]
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جب وحی کا نزول ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب سے اس طرح بھنبھناہٹ سنی جاتی، جس طرح شہد کی مکھیوں کی آواز ہوتی ہے، پھر ہم کچھ دیر ٹھہر گئے اوردیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبلہ رخ ہوئے اور دونوں ہاتھ اٹھا لئے اور یہ دعا مانگی: اے ہمارے اللہ! ہمیں زیادہ دینا، کم نہ کرنا، ہمیں عزت دینا، ذلیل نہ کرنا، ہمیں عطا کرنا اور ہمیں ترجیح دینا اور ہم پر غیر کو ترجیح نہ دینا اور ہم سے راضی ہونا اور ہمیں راضی کرنا۔ اورپھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے اوپر دس آیات نازل ہوئی ہیں، جوان پر قائم رہے گا، وہ جنت میں داخل ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم پر {قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ} کی تلاوت کی،یہاں تک کہ دس آیات ختم کیں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8682]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالةيونس بن سليم۔ أخرجه النسائي في الكبري: 1439، والحاكم: 2/ 392، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 323 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 223»
وضاحت: فوائد: … یہ سورۂ مومنون کی ابتدائی دس آیات ہیں، ان میں مؤمنون کی صفات کا ذکر ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
31. بَابُ: «وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا أَتَوا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ»
{وَالَّذِیْنَیُؤْتُوْنَ مَا اُتَوْا وَّقُلُوْبُہُمْ وَجِلَۃٌ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8683
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ الْمَكِّيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو خَلَفٍ مَوْلَى بَنِي جُمَحٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي سَقِيفَةِ زَمْزَمَ لَيْسَ فِي الْمَسْجِدِ ظِلٌّ غَيْرُهَا فَقَالَتْ مَرْحَبًا وَأَهْلًا بِأَبِي عَاصِمٍ يَعْنِي عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزُورَنَا أَوْ تُلِمَّ بِنَا فَقَالَ أَخْشَى أَنْ أُمِلَّكِ فَقَالَتْ مَا كُنْتَ تَفْعَلُ قَالَ جِئْتُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا فَقَالَتْ أَيَّةُ آيَةٍ فَقَالَ الَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا أَوْ الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا أَتَوْا [سورة المؤمنون: ٦٠] فَقَالَتْ أَيَّتُهُمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ قُلْتُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَإِحْدَاهُمَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا أَوْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا قَالَتْ أَيَّتُهُمَا قُلْتُ الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا أَتَوْا قَالَتْ أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَذَلِكَ كَانَ يَقْرَؤُهَا وَكَذَلِكَ أُنْزِلَتْ أَوْ قَالَتْ أَشْهَدُ لَكَذَلِكَ أُنْزِلَتْ وَكَذَلِكَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا وَلَكِنَّ الْهِجَاءَ حَرْفٌ
۔ ابو خلف عبید بن عمیرکے ساتھ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس زمزم کے چبوترہ میں آئے، اس کے سوا اس وقت مسجد میں سایہ نہ تھا، سیدہ نے مرحبا اور خوش آمدید کہا اور کہا: ہماری ملاقات میں تمہیں کیا رکاوٹ ہے؟ عبید نے کہا: مجھے یہ اندیشہ رہتا ہے کہ میں آپ کو اکتاہٹ میں ڈال دوں گا،سیدہ نے کہا: کیسے آئے ہو؟ عبید نے کہا میں اس لئے آیا ہوں کہ آپ سے ایک آیت کے بارے میں سوال کرنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیسے پڑھا کرتے تھے۔سیدہ نے کہا: وہ کونسی آیت ہے، اس نے کہا: {الَّذِینَ یُؤْتُونَ مَا آتَوْا} یا {الَّذِینَ یَأْتُونَ مَا أَ تَوْا}سیدہ نے کہا: تمہیں ان میں سے کونسی تلاوت زیادہ پسند ہے؟ عبید نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!ان میں سے ایک قرأت مجھے دنیا وما فیہا سے زیادہ پسند ہے، سیدہ نے کہا: وہ کونسی قرأت ہے؟ عبید نے کہا: {الَّذِینَ یَأْتُونَ مَا أَ تَوْا} سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں گواہی دیتی ہوں کہ یہ آیت اسی طرح نازل ہوئی اور اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھا کرتے تھے، لیکن حروف تہجی والی بھی ایک قرأت ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8683]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو خلف مولي بني جمح مجھول الحال، واسماعيل المكي اختلف في تعيينه۔ أخرجه الحاكم: 2/ 235، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24641 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25148»
وضاحت: فوائد: … {الَّذِینَیُؤْتُونَ مَا آتَوْا} أَ وْ {الَّذِینَیَأْتُونَ مَا أَ تَوْا} پہلی قراء ت مد کے ساتھ اور دوسری مدّ کے بغیر، دوسری قراء ت زیادہ پسند تھی، کیونکہ اس کا معنی ہے: وہ جو اعمال بھی کرتے ہیں،یہ عموم نافرمانیوں کو بھی شامل ہے، اس طرح یہوسعت ِ رحمت پر دلالت کرتی ہے۔
فوائد: … اللہ تعالی اپنے بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: {وَالَّذِیْنَیُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُہُمْ وَجِلَۃٌ اَنَّہُمْ اِلٰی رَبِّہِمْ رٰجِعُوْنَ۔ اُولٰیِکَیُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَہُمْ لَہَا سٰبِقُوْنَ۔}
(سورۂ مومنون: ۶۰، ۶۱)
اور جن کا حال یہ ہے کہ دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل ان کے اس خیال سے کانپتے رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے۔ یہ لوگ ہیں جو نیک کاموں میں جلدی کرتے ہیں اور یہی ان کی طرف آگے نکلنے والے ہیں۔
درج ذیل حدیث میں اس آیت کامفہوم بیان کیا گیاہے۔
فوائد: … اللہ تعالی اپنے بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: {وَالَّذِیْنَیُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُہُمْ وَجِلَۃٌ اَنَّہُمْ اِلٰی رَبِّہِمْ رٰجِعُوْنَ۔ اُولٰیِکَیُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَہُمْ لَہَا سٰبِقُوْنَ۔}
(سورۂ مومنون: ۶۰، ۶۱)
اور جن کا حال یہ ہے کہ دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل ان کے اس خیال سے کانپتے رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے۔ یہ لوگ ہیں جو نیک کاموں میں جلدی کرتے ہیں اور یہی ان کی طرف آگے نکلنے والے ہیں۔
درج ذیل حدیث میں اس آیت کامفہوم بیان کیا گیاہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 8684
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ الَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ رَاجِعُونَ [سورة المؤمنون: ٦٠] يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ الَّذِي يَسْرِقُ وَيَزْنِي وَيَشْرَبُ الْخَمْرَ وَهُوَ يَخَافُ اللَّهَ قَالَ لَا يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ يَا بِنْتَ الصِّدِّيقِ وَلَكِنَّهُ الَّذِي يُصَلِّي وَيَصُومُ وَيَتَصَدَّقُ وَهُوَ يَخَافُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آیت: {الَّذِینَ یُؤْتُوْنَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُہُمْ وَجِلَۃٌ أَ نَّہُمْ إِلٰی رَبِّہِمْ رَاجِعُونَ} … اور جو لوگ دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل کپکپاتے ہیں (سورۂ مومنون: ۶۰) میں نے کہا: (اے اللہ کے رسول!) کیا اس آیت کا مصداق وہ آدمی ہے، جو چوری کرنے والا، زنا کرنے والا اور شراب پینے والا ہو، جبکہ وہ ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے بھی ڈر رہا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اے بنت ِ صدیق! اس آیت سے مراد وہ آدمی ہے، جو نماز بھی پڑھتا ہے، روزے بھی رکھتا ہے اور صدقہ بھی کرتا ہے، لیکن یہ ڈر بھی ہوتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ اعمال قبول ہی نہ ہوں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8684]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني أخرجه الترمذي: 3175، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25263 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25777»
وضاحت: فوائد: … امام البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: مومنوں کو نیک اعمال سر انجام دینے کے بعد یہ ڈر ہوتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے اعمال قبول ہی نہ ہوں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو پورا اجر نہ ملنے کا خطرہ ہوتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود وعدہ کرتے ہوئے فرمایا: {فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْہِمْ اُجُوْرَہُمْ } (سورۂ نسا: ۱۷۳)
پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے، ان کو ان کا پورا پورا ثواب عنایت فرمائے گا۔ بلکہ اضافے کے ساتھ اجر و ثواب عطا کرے گا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{لِیُوَفِّیَہُمْ اُجُوْرَہُمْ وَ یَزِیْدَہُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ } (سورۂفاطر: ۳۰)
تاکہ ان کو ان کی اجرتیں پوری دے اوران کو اپنے فضل سے اور زیادہ دے۔
اور اللہ تعالیٰ وعدے کی مخالفت نہیں کرتا۔ اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق قبولیت کا تعلق عملِ صالح کے صحیح سر انجام پانے سے ہے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے پاس اتنی طاقت ہی نہیں کہ وہ یہ کہہ دیں کہ ان کا عمل اللہ تعالیٰ کی مراد و منشا کے مطابق ہے، بلکہ ان کو یہ گمان ہوتا ہے کہ انھوں نے اس عمل کو پورا کرنے میں کوتاہی برتی
ہے، اس لیے وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں ایسانہ ہو کہ کسی کمی بیشی کی بنا پر اعمالِ صالحہ قبول ہی نہ ہوں۔ جب مومن یہ بات سوچتا ہے تو اس میں یہ حرص پیدا ہوتی ہے کہ اس کی عبادت میں اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق حسن پیدا ہونا چاہیے اور اس مقصد کو پورا کرنے کا طریقہیہہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت و کردار کی پیروی کی جائے اور پر خلوص انداز میں اعمالِ صالحہ سرانجام دیے جائیں۔ اللہ تعالیٰ کے درج ذیل فرمان کایہ مفہوم ہے: {فَمَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَآئَ رَبِّہٖفَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖٓ اَحَدًا} (سورۂ کہف: ۱۱۰)
جو بندہ اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہے، وہ نیک عمل کرے اور اپنے ربّ کی عبادت میں کسی کو شریک اور ساجھی نہ ٹھہرائے۔
امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے رسالے (التوبۃ) میں اس حدیث پر بڑا عمدہ کلام کیا ہے، اس کا مطالعہ کر لینا چاہیے۔ (صحیحہ: ۱۶۲)
یہ مومن کی پہچان ہے کہ نمازیں پڑھی ہیں، روزے رکھے ہیں اور صدقہ و خیرات جیسے عظیم اعمال میں حصہ لیا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ اندیشہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اعمال قبول ہی نہ کرے اور جب ہم اس کی بارگاہ میں اجر و ثواب وصول کرنے جائیں تو وہ ہمیں دھتکار دے۔ یہ فکر دامن گیر کر کے وہ نئے عزم اور نئے ولولے کے ساتھ حسنات و خیرات میں حصہ لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے درپے ہیں۔
پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے، ان کو ان کا پورا پورا ثواب عنایت فرمائے گا۔ بلکہ اضافے کے ساتھ اجر و ثواب عطا کرے گا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{لِیُوَفِّیَہُمْ اُجُوْرَہُمْ وَ یَزِیْدَہُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ } (سورۂفاطر: ۳۰)
تاکہ ان کو ان کی اجرتیں پوری دے اوران کو اپنے فضل سے اور زیادہ دے۔
اور اللہ تعالیٰ وعدے کی مخالفت نہیں کرتا۔ اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق قبولیت کا تعلق عملِ صالح کے صحیح سر انجام پانے سے ہے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے پاس اتنی طاقت ہی نہیں کہ وہ یہ کہہ دیں کہ ان کا عمل اللہ تعالیٰ کی مراد و منشا کے مطابق ہے، بلکہ ان کو یہ گمان ہوتا ہے کہ انھوں نے اس عمل کو پورا کرنے میں کوتاہی برتی
ہے، اس لیے وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں ایسانہ ہو کہ کسی کمی بیشی کی بنا پر اعمالِ صالحہ قبول ہی نہ ہوں۔ جب مومن یہ بات سوچتا ہے تو اس میں یہ حرص پیدا ہوتی ہے کہ اس کی عبادت میں اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق حسن پیدا ہونا چاہیے اور اس مقصد کو پورا کرنے کا طریقہیہہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت و کردار کی پیروی کی جائے اور پر خلوص انداز میں اعمالِ صالحہ سرانجام دیے جائیں۔ اللہ تعالیٰ کے درج ذیل فرمان کایہ مفہوم ہے: {فَمَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَآئَ رَبِّہٖفَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖٓ اَحَدًا} (سورۂ کہف: ۱۱۰)
جو بندہ اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہے، وہ نیک عمل کرے اور اپنے ربّ کی عبادت میں کسی کو شریک اور ساجھی نہ ٹھہرائے۔
امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے رسالے (التوبۃ) میں اس حدیث پر بڑا عمدہ کلام کیا ہے، اس کا مطالعہ کر لینا چاہیے۔ (صحیحہ: ۱۶۲)
یہ مومن کی پہچان ہے کہ نمازیں پڑھی ہیں، روزے رکھے ہیں اور صدقہ و خیرات جیسے عظیم اعمال میں حصہ لیا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ اندیشہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اعمال قبول ہی نہ کرے اور جب ہم اس کی بارگاہ میں اجر و ثواب وصول کرنے جائیں تو وہ ہمیں دھتکار دے۔ یہ فکر دامن گیر کر کے وہ نئے عزم اور نئے ولولے کے ساتھ حسنات و خیرات میں حصہ لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے درپے ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
32. بَابُ: «تَلْفَحُ وُجُوهَهُمُ النَّارُ وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ»
{تَلْفَحُ وُجُوْھَہُمُ النَّارُ وَھُمْ فِیْہَا کَالِحُوْنَ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8685
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ [سورة المؤمنون: ١٠٤] قَالَ تَشْوِيهِ النَّارُ فَتَقَلَّصُ شَفَتُهُ الْعُلْيَا حَتَّى تَبْلُغَ وَسَطَ رَأْسِهِ وَتَسْتَرْخِي شَفَتُهُ السُّفْلَى حَتَّى تَضْرِبَ سُرَّتَهُ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: {تَلْفَحُ وُجُوْہَہُمُ النَّارُ وَہُمْ فِیْہَا کٰلِحُوْنَ۔} … ان کے چہروں کو آگ جھلسائے گی اور وہ اس میں تیوری چڑھانے والے ہوں گے۔ کی تفسیریہ ہے کہ آگ انہیں بھون ڈالے گی، اوپر والا ہونٹ سکڑ کر سرکے درمیان تک پہنچ جائے گا اور نیچے والا ہونٹ لٹک جائے گا، یہاں تک کہ ناف سے جا ٹکرائے گا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8685]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجعف ابي السمح دراج بن سمعان في روايته عن ابي الھيثم۔ أخرجه الترمذي: 2587، 3176، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11836 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11858»
الحكم على الحديث: ضعیف
33. باب: «وَالزَّانِيَةُ لَا يَنكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ»
سورۂ نور {اَلزَّانِیَۃُ لَا یَنْکِحُہَا اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8686
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ إِنَّ رَجُلًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ اسْتَأْذَنَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ مَهْزُولٍ كَانَتْ تُسَافِحُ وَتَشْتَرِطُ لَهُ أَنْ تُنْفِقَ عَلَيْهِ وَأَنَّهُ اسْتَأْذَنَ فِيهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ ذَكَرَ لَهُ أَمْرَهَا فَقَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {الزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ} [النور: 3] قَالَ أُنْزِلَتْ {الزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ} [النور: 3] قَالَ أَبِي قَالَ عَارِمٌ سَأَلْتُ مُعْتَمِرًا عَنْ الْحَضْرَمِيِّ فَقَالَ كَانَ قَاصًّا وَقَدْ رَأَيْتُهُ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک مسلمان آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ کیا وہ ام مہزول نامی ایک عورت سے نکاح کر سکتا ہے، یہ خاتون زناکار تھی اور اس نے اس سے شرط لگائی تھی کہ وہ اس پر خرچ کرے گا، جب اس آدمی نے اس عورت سے نکاح کرنے کی اجازت طلب کی یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: {الزَّانِیَۃُ لَا یَنْکِحُہَا إِلَّا زَانٍ أَ وْ مُشْرِکٌ} … زناکار عورت سے صرف زنا کار یامشرک مرد ہی نکاح کر سکتا ہے۔ عارم کہتے ہیں: میں معتمر سے حضرمی کے بارے میں پوچھا، انھوں نے کہا: وہ ایک قصہ گو آدمی تھا اور میں نے اس کو دیکھا تھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8686]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه النسائي في الكبري: 11359، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7099 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7099»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ((أَ نَّ مَرْثَدَ بْنَ أَ بِی مَرْثَدٍ الْغَنَوِیَّ کَانَ یَحْمِلُ الْأُ سَارٰی بِمَکَّۃَ وَکَانَ بِمَکَّۃَ بَغِیٌّیُقَالُ لَہَا عَنَاقُ وَکَانَتْ صَدِیقَتَہُ۔ قَالَ جِئْتُ إِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَ نْکِحُ عَنَاقَ، قَالَ فَسَکَتَ عَنِّی فَنَزَلَتْ {وَالزَّانِیَۃُ لَا یَنْکِحُہَا إِلَّا زَانٍ أَ وْ مُشْرِکٌ} فَدَعَانِی فَقَرَأَ ہَا عَلَیَّ وَقَالَ: ((لَا تَنْکِحْہَا۔)) (ابوداود: ۱۷۵۵، نسائی: ۳۲۲۸) سیدنا مرثدغنوی رضی اللہ عنہ مسلمان قیدیوں کو مکہ مکرمہ سے منتقل کرتے تھے، جبکہ مکہ میں عناق نامی ایک زانی خاتون تھی، (دورِ جاہلیت میں) وہ ان کی سہیلی بنی ہوئی تھی، سیدنا مرثد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں عناق سے شادی کر لوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے خاموش ہو گئے، پس یہ آیت نازل ہوئی: اور زانی خاتون، اس سے کوئی شادی نہیں کرتا، مگر زانییا مشرک۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلایا،یہ آیتیں مجھے سنائیں اور فرمایا: تو اس سے شادی نہ کر۔
الحكم على الحديث: صحیح
34. بَابُ: «إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالافْكِ عُصْبَةٌ مِنكُمْ - الا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ»
لعان کی آیات کی تفسیر
حدیث نمبر: 8687
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي شَأْنِهِ مَا ذُكِرَ فِي الْقُرْآنِ مِنْ التَّلَاعُنِ فَقَالَ قَدْ قُضِيَ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ قَالَ فَتَلَاعَنَا وَأَنَا شَاهِدٌ ثُمَّ فَارَقَهَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس بارے میں بتائیں کہ ایک آدمی اپنی بیوی کے پاس کسی غیر آدمی کو پا لیتا ہے، کیا وہ اسے قتل کردے؟ اُدھر اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں قرآن مجید میں لعان سے متعلقہ آیات ناز ل فرما دیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا اور تیری بیوی کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ پس ان دونوں میاں بیوی نے لعان کیا، جبکہ میں (سہل) وہاں موجود تھا، پھراس آدمی نے اس عورت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں جدا کر دیا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8687]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 423، 4745، 4746، 5309، ومسلم: 1492، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22853 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23241»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۷۱۹۴)اور اس سے بعد والی احادیث میں لعان کی تفصیل ملاحظہ ہو۔
الحكم على الحديث: صحیح
35. بَابُ: «وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهَا آخَر»
{اِنَّ الَّذِیْنَ جَائُ وْا بِالْاِفْکِ عُصْبَۃٌ مِنْکُمْ … اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8688
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي حَدِيثِ الْإِفْكِ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنْ يَنْزِلَ فِي شَأْنِي وَحْيٌ يُتْلَى وَلَشَأْنِي كَانَ أَحْقَرَ فِي نَفْسِي مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيَّ بِأَمْرٍ يُتْلَى وَلَكِنْ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ يَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ رُؤْيَا يُبَرِّئُنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا رَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَجْلِسِهِ وَلَا خَرَجَ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ أَحَدٌ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّهِ وَأَخَذَهُ مَا كَانَ يَأْخُذُهُ مِنْ الْبُرَحَاءِ عِنْدَ الْوَحْيِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَتَحَدَّرُ مِنْهُ مِثْلُ الْجُمَانِ مِنْ الْعَرَقِ فِي الْيَوْمِ الشَّاتِي مِنْ ثِقَلِ الْقَوْلِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْهِ قَالَتْ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَكَانَ أَوَّلُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا أَنْ قَالَ أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ أَمَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَدْ بَرَّأَكِ فَقَالَتْ لِي أُمِّي قُومِي إِلَيْهِ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَقُومُ إِلَيْهِ وَلَا أَحْمَدُ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ بَرَاءَتِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ} [النور: 11] عَشْرَ آيَاتٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَاتِ بَرَاءَتِي قَالَتْ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ لِقَرَابَتِهِ مِنْهُ وَفَقْرِهِ وَاللَّهِ لَا أُنْفِقُ عَلَيْهِ شَيْئًا أَبَدًا بَعْدَ الَّذِي قَالَ لِعَائِشَةَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ} إِلَى قَوْلِهِ {أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ} [النور: 22] فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي فَرَجَعَ إِلَى مِسْطَحٍ النَّفَقَةَ الَّتِي كَانَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ وَقَالَ لَا أَنْزِعُهَا مِنْهُ أَبَدًا قَالَتْ عَائِشَةُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرِي وَمَا عَلِمْتِ أَوْ مَا رَأَيْتِ أَوْ مَا بَلَغَكِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحْمِي سَمْعِي وَبَصَرِي وَأَنَا مَا عَلِمْتُ إِلَّا خَيْرًا قَالَتْ عَائِشَةُ وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَصَمَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالْوَرَعِ وَطَفِقَتْ أُخْتُهَا حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ تُحَارِبُ لَهَا فَهَلَكَتْ فِيمَنْ هَلَكَ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَهَذَا مَا انْتَهَى إِلَيْنَا مِنْ أَمْرِ هَؤُلَاءِ الرَّهْطِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ حدیث الافک (یعنی بہتان والی بات) بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں: اللہ کی قسم! یہ بات میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ میرے بارے میں وحی نازل ہو گی، میں اپنے اس معاملہ کو اس سے کم تر سمجھتی تھی کہ اللہ تعالیٰ خود اس کے بارے میں کلام کریں گے اور پھر اس کلام کی تلاوت کی جائے گی، ہاں یہ مجھے امید تھی کہ میرے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواب دیکھیں گے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے بری کر دیں گے، اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نشست گاہ سے حرکت نہ کی تھی اور نہ ہی گھروالوں میں سے ابھی کوئی باہر گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل کر دی اور وحی کے وقت سخت بوجھ کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پسینہ آنا شروع ہو گیا، سردی کے سخت دن میں بھی وحی کے نازل ہوتے وقت آپ کی پیشانی سے پسینہ موتیوں کی طرح گرتا تھا، اس وحی کے بوجھ کی وجہ سے، جو آپ پر نازل ہو رہی ہوتی تھی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وحی کے نازل ہونے کی کیفیت ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا رہے تھے، سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وحی کے بعد جو بات کی، وہ یہ تھی: اے عائشہ! خوش ہوجاؤ، اللہ تعالیٰ نے تمہیں بری قرار دیا ہے۔ یہ سن کرمیری ماں نے کہا: عائشہ! کھڑی ہوجا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شکریہ ادا کر۔ لیکن میں نے کہا:میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شکریہ ادا کرنے کے لیے کھڑی نہیں ہوں گی، میں اپنے اس اللہ کی تعریف کروں گی، جس نے میری براء ت نازل کی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ بات نازل کر دیں: {إِنَّ الَّذِینَ جَاءُوْا بِالْإِفْکِ عُصْبَۃٌ مِنْکُمْ} [النور: ۱۱] یہ کل دس آیات تھیں۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ مسطح پر خرچ کیا کرتے تھے کیونکہ وہ فقیر تھااور ان کا رشتہ دار بھی تھا، اس نے بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں تہمت والی بات کر دی تھی، اس لیے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس پر آئندہ خرچ نہیں کروں گا، یہ اس حد تک چلا گیا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: {وَلَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ اَنْ یُّؤْتُوْٓا اُولِی الْقُرْبٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَالْمُہٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔} … اور تم میں سے فضیلت اور وسعت والے اس بات سے قسم نہ کھالیں کہ قرابت والوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دیں اور لازم ہے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخشے اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔ یہ آیت سن کر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں پسند کرتاہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے، پس انہوں نے جو مسطح کا خرچہ لگا رکھا تھا وہ دوبارہ جاری کر دیااورکہا اب میں اسے کبھی نہیں روکوں گا۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا سے میرے معاملہ کے بارے میں سوال کیا کہ تم اس بارے میں کیا جانتی ہو؟ یا کیا سمجھتی ہو؟ یا تم کو کون سی بات پہنچی ہے؟‘ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس بات سے اپنے کان اورآنکھ کو محفوظ رکھنا چاہتی ہوں! اللہ کی قسم، میری معلومات کے مطابق عائشہ رضی اللہ عنہا میں خیر ہی خیر ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: یہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا ہی امہات المومنین میں سے میرا مقابلہ کرتی تھیں،لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں تقویٰ کی بدولت اس معاملے میں پڑنے سے بچا لیا اور ان کی بہن سیدہ حمنہ بنت حجش رضی اللہ عنہا نے اپنی بہن کے ساتھ عصبیت اختیار کی اور ہلاک ہونے والوں میں شامل ہوگئی۔ ابن شہاب کہتے ہیں: اس گرو ہ کے بارے میں ہمیں یہی کچھ معلوم ہو سکا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8688]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2879، 4025، 4690، 4750، 6662، ومسلم: 2770، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26141 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26141»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عفت اور پاکدامنی کو ثابت کرنے کے موقع پر درج ذیل آیات نازل ہوئیں: {اِنَّ الَّذِیْنَ جَاء وْا بِالْاِفْکِ عُصْبَۃٌ مِّنْکُمْ لَا تَحْسَبُوْہُ شَرًّا لَّکُمْ بَلْ ہُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ لِکُلِّ امْرِ مِّنْہُمْ مَّا اکْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ وَالَّذِیْ تَوَلّٰی کِبْرَہ مِنْہُمْ لَہ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ لَوْلَآ اِذْ سَمِعْتُمُوْہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِہِمْ خَیْرًا وَّقَالُوْا ھٰذَآ اِفْکٌ مُّبِیْنٌ۔ لَوْلَا جَاء ُوْ عَلَیْہِ بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ فَاِذْ لَمْ یَاْتُوْا بِالشُّہَدَاء ِ فَاُولٰیِکَ عِنْدَ اللّٰہِ ہُمُ الْکٰذِبُوْنَ۔ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ لَمَسَّکُمْ فِیْ مَآ اَفَضْتُمْ فِیْہِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ اِذْ تَلَقَّوْنَہ بِاَلْسِنَتِکُمْ وَتَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاہِکُمْ مَّا لَیْسَ لَکُمْ بِہٖعِلْمٌوَّتَحْسَبُوْنَہہَیِّنًا وَّہُوَ عِنْدَ اللّٰہِ عَظِیْمٌ۔ وَلَوْلَآ اِذْ سَمِعْتُمُوْہُ قُلْتُمْ مَّا یَکُوْنُ لَنَآ اَنْ نَّتَکَلَّمَ بِھٰذَا سُبْحٰنَکَ ھٰذَا بُہْتَانٌ عَظِیْمٌ۔ یَعِظُکُمُ اللّٰہُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِہٖٓاَبَدًااِنْکُنْتُمْمُّؤْمِنِیْنَ۔ وَیُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ اِنَّ الَّذِیْنَیُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَۃُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۔ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہ وَاَنَّ اللّٰہَ رَء ُوْفٌ رَّحِیْمٌ۔ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ وَمَنْ یَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّہیَاْمُرُ بِالْفَحْشَاء ِ وَالْمُنْکَرِ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہ مَا زَکٰی مِنْکُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا وَّلٰکِنَّ اللّٰہَ یُزَکِّیْ مَنْ یَّشَائُ وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ وَلَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ اَنْ یُّؤْتُوْٓا اُولِی الْقُرْبٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَالْمُہٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔} (سورۂ نور: ۱۱۔ ۲۲) بے شک وہ لوگ جو بہتان لے کر آئے ہیں وہ تمھی سے ایک گروہ ہیں، اسے اپنے لیے برا مت سمجھو، بلکہ یہ تمھارے لیے بہتر ہے۔ ان میں سے ہر آدمی کے لیے گناہ میں سے وہ ہے جو اس نے گناہ کمایا اور ان میں سے جو اس کے بڑے حصے کا ذمہ دار بنا اس کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔ کیوں نہ ایسا ہوا کہ جب تم نے اسے سنا تو مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے نفسوں میں اچھا گمان کیا اور کہا کہ یہ صریح بہتان ہے۔ وہ اس پر چار گواہ کیوں نہ لائے، تو جب وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔ اور اگر دنیا اور آخرت میں تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو یقینا اس بات کی وجہ سے جس میں تم مشغول ہوئے، تم پر بہت بڑا عذاب پہنچتا۔ جب تم اسے ایک دوسرے سے اپنی زبانوں کے ساتھ لے رہے تھے اور اپنے مونہوں سے وہ بات کہہ رہے تھے جس کا تمھیں کچھ علم نہیں اور تم اسے معمولی سمجھتے تھے، حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی تھی۔ اور کیوں نہ جب تم نے اسے سنا تو کہا ہمارا حق نہیں ہے کہ ہم اس کے ساتھ کلام کریں، تو پاک ہے، یہ بہت بڑا بہتان ہے۔ اللہ تمھیں نصیحت کرتا ہے اس سے کہ دوبارہ کبھی ایسا کام کرو، اگر تم مومن ہو۔ اور اللہ تمھارے لیے آیات کھول کر بیان کرتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔ بے شک جو لوگ پسند کرتے ہیں کہ ان لوگوں میں بے حیائی پھیلے جو ایمان لائے ہیں، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور یہ کہ یقینا اللہ بے حد مہربان، نہایت رحم والا ہے (تو تہمت لگانے والوں پر فوراًعذاب آ جاتا)۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو اور جو شیطان کے قدموں کے پیچھے چلے تو وہ تو بے حیائی اور برائی کا حکم دیتا ہے اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی پاک نہ ہوتا اور لیکن اللہ جسے چاہتا ہے پاک کرتا ہے اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔اور تم میں سے فضیلت اور وسعت والے اس بات سے قسم نہ کھالیں کہ قرابت والوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دیں اور لازم ہے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخشے اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔
قارئین سے گزارش ہے کہ وہ ان آیات کی تفسیر کا مطالعہ بھی کر لیں، سبق آموز باتیں تو مذکورہ بالا حدیث اور آیات سے ہی سمجھ آجاتی ہیں، مزید تفصیل کتاب السیرۃ النبویۃ میں آئے گی۔
صحیح بخاری میں اس واقعہ کی تفصیلیہ ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے تہمت لگانے والوں کا واقعہ بیان کیا، لوگوں نے ان پر تہمت لگائی تھی، لیکن اللہ تعالی نے ان کی پاکیزگی کا اعلان کیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے، ان میں جس کا نام نکل آتا، اس کو ساتھ لے کر جاتے ایک جنگ (غزوہ بنی مصطلق) میں جانے کے لئے اسی طرح قرعہ اندازی کی،میرا نام نکل آیا، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلی گئی،یہ واقعہ پردہ کی آیت اترنے کے بعد کا ہے، میں ہودج میں سوار رہتی اور ہودج سمیت اتاری جاتی، ہم لوگ اسی طرح چلتے رہے، یہاں تک کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس غزوہ سے فارغ ہوئے اور لوٹے، (واپسی میں) ہم لوگ مدینہ کے قریب ہی پہنچے تھے کہ رات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روانگی کا اعلان کردیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روانگی کا اعلان کیا تو میں اٹھی اور چلی،یہاں تک کہ لشکر سے آگے بڑھ گئی، جب میں اپنی حاجت سے فارغ ہوئی اور اپنے ہودج کے پاس آئی تو میں نے اپنے سینہ پر ہاتھ پھیرا، معلوم ہوا کہ میرا اظفار کے موتیوں کا ہار ٹوٹ کر گر گیا، میں واپس ہوئی اور اپنا ہار ڈھونڈنے لگی، اس کی تلاش میں مجھے دیر ہوگئی، جو لوگ میرا ہودج اٹھاتے تھے، وہ آئے اور اس ہودج کو اٹھا کر اس اونٹ پر رکھ دیا، جس پر میں سوار ہوتی تھی، وہ لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ میں اس ہودج میں ہوں، اس زمانہ میں عورتیں عموماً ہلکی پھلکی ہوتی تھیں، بھاری نہیں ہوتی تھیں، ان کی خوراک قلیل تھی، اس لئے جب ان لوگوں نے ہودج کو اٹھایا، تو اس کا وزن انہیں خلاف معمول معلوم نہ ہوا اور اٹھا لیا، مزید برآں کہ میں ایک کم سن لڑکی تھی، چنانچہ یہ لوگ اونٹ کو ہانک کر روانہ ہوگئے، لشکر کے روانہ ہونے کے بعد میرا ہار مل گیا، میں ان لوگوں کے ٹھکانے پر آئی تو وہاں کوئی نہ تھا، میں نے اس مقام کا قصد کیا، جہاں میں تھی اور یہ خیال کیا کہ جب وہ مجھے نہیں پائیں گے تو تلاش کرتے ہوئے میرے پاس پہنچ جائیں گے، میں اسی انتظار میں بیٹھی ہوئی تھی کہ نیند آنے لگی اور میں سوگئی، سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ لشکر کے پیچھے تھے، صبح کو میری جگہ پر آئے اور دور سے انہوں نے ایک سویا ہوا آدمی دیکھا تو میرے پاس آئے اور (مجھ کو پہچان لیا) اس لئے کہ پردہ کی آیت اترنے سے پہلے وہ مجھے دیکھتے تھے، صفوان کے (انا للہ وانا الیہ راجعون) پڑھنے سے میں جاگ گئی، وہ میرا اونٹ پکڑ کر پیدل چلنے لگے، یہاں تک کہ ہم لشکر میں پہنچ گئے جب کہ لوگ ٹھیک دوپہر کے وقت آرام کرنے کے لئے اتر چکے تھے، تو ہلاک ہوگیا وہ شخص جس نے ہلاک ہی ہونا تھا اور تہمت لگانے والوں کا سردار عبداللہ بن ابی بن سلول تھا،خیر ہم لوگ مدینہ پہنچے اور میں ایک مہینہ تک بیمار رہی تہمت لگانے والوں کی باتیں لوگوں میں پھیلتی رہیں اور مجھے اپنی بیماری کی حالت میں شک پیدا ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس لطف سے پیش نہیں آتے تھے، جس طرح (اس سے قبل) بیماری کی حالت میں لطف و مہربانی سے پیش آیا کرتے تھے، بس اب تو صرف تشریف لاتے، سلام کرتے، پھر پوچھتے: تم کیسی ہو؟ (پھر چلے جاتے) مجھے تہمت کی بات کی خبر بالکل نہ تھی،یہاں تک کہ میں بہت کمزور ہوگئی (ایک رات) میں اور مسطح کی ماں مناصع کی طرف قضائے حاجت کے لئے نکلیں، ہم لوگ رات ہی کو جایا کرتے تھے اور یہ اس وقت کی بات ہے، جب کہ ہم لوگوں کے لیے قضائے حاجت کی جگہ ہمارے گھروں کے قریب نہ تھی اور عرب والوں کے پہلے معمول کے موافق ہم لوگ جنگل میںیا باہر جا کر رفع حاجت کرتے تھے، میں اور ام مسطح ہم دونوں چلے جا رہے تھے کہ وہ اپنی چادر میں پھنس کر گر پڑیں اور کہا: مسطح ہلاک ہوجائے، میں نے اس سے کہا: تو نے بہت بری بات کہی ہے، ایسے آدمی کو برا کہتی ہو جو بدر میں شریک ہوا، اس نے کہا: عائشہ! کیا تم نے نہیں سنا جو یہ لوگ کہتے ہیں؟ ساتھ ہی اس نے مجھے تہمت لگانے والوں کی بات بیان کر دی،یہ سن کر میرا مرض اور بڑھ گیا، جب میں اپنے گھر واپس آئی تو میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: تم کیسیہو؟ میں نے کہا: مجھے اپنے والدین کے پاس جانے کی اجازت دیجئے اور اس وقت میرا مقصد یہ تھا کہ اس خبر کی بابت ان کے پاس جا کر تحقیق کروں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ اجازت دے دی، میں اپنے والدین کے پاس آئی اور اپنی والدہ سے پوچھا کہ لوگ کیا بیان کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: بیٹی! تو ایسی باتوں کی پرواہ نہ کر، جو عورت حسین ہو اور اس کے شوہر کو اس سے محبت ہو اور اس کی سوکنیں ہوں، تو اس قسم کی باتیں بہت ہوا کرتی ہیں، میں نے کہا: سبحان اللہ! اس قسم کی بات سوکنوں نے تو نہیں کی،ایسی بات تو لوگوں میں مشہور ہو رہی ہے، میں نے وہ رات اس حال میں گزاری کہ نہ میرے آنسو تھمے اور نہ مجھے نیند آئی، پھر جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو جب وحی اترنے میں دیر ہوئی بلایا اور اپنی بیوی کو جدا کرنے کے بارے میں ان دونوں سے مشورہ کرنے لگے، اسامہ چونکہ جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی بیویوں سے محبت ہے، اس لئے انہوں نے ویسا ہی مشورہ دیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کی بیویوں میں بھلائی ہی جانتا ہوں۔ لیکن سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ!اللہ تعالیٰ نے آپ پر تنگی نہیں کی، ان کے علاوہ عورتیں بہت ہیں اور باقی آپ لونڈی (سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا) سے دریافت کر لیجئے، وہ آپ سے سچ سچ بیان کرے گی، رسول اللہV نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور فرمایا: اے بریرہ! کیا تو نے عائشہ میں کوئی ایسی بات دیکھی ہے، جو تجھے شبہ میں ڈال دے؟ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے ان میں کوئی ایسی بات نہیں دیکھی، جو عیب کی ہو، بجز اس کے کہ وہ کم سن ہیں اور گوندھا ہوا آٹا چھوڑ کر سوجاتی ہیں اور بکری آکر کھا جاتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی دن خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوگئے اور عبداللہ بن ابی بن سلول کے مقابلہ میں مدد طلب کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو میری مدد کرے گا، اس شخص کے مقابلہ میں جس نے مجھے میرے گھر والوں کے متعلق اذیت دی، حالانکہ اللہ کی قسم ہے، میں اپنے گھر والوں میں بھلائی ہیدیکھتا ہوں اور جس مرد کے ساتھ تہمت لگائی گئی ہے، اس میں بھی بھلائی ہی دیکھتا ہوں، وہ گھر میں میرے ساتھ ہی داخل ہوتا تھا؟ یہ سن کر سیدنا سعد بن معاذ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کی مدد کے لئے تیار ہوں، اگر وہ قبیلہ اوس کا ہے تو میں اس کی گردن اڑادوں گا اور اگر وہ ہمارے بھائی خزرج کے قبیلہ کا ہے، تو جیسا حکم دیں، عمل کروں گا، یہ سن کر سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جو قبیلہ خزرج کے سردار تھے، کھڑے ہوئے، اس سے پہلے وہ نیک آدمی تھے، لیکن حمیت نے انہیں اکسایا اور کہا: اللہ کی قسم! نہ تو اسے مار سکے گا اور نہ تو اس کے قتل پر قادر ہے، پھر سیدنا اسید بن حضیر کھڑے ہوئے اور کہا: تو جھوٹ کہتا ہے، اللہ کی قسم! ہم اس کو قتل کردیں گے، تو منافق ہے، منافقوں کی طرف سے جھگڑا کرتا ہے،دیکھتے ہی دیکھتے اوس اور خزرج دونوں لڑائی کے لئے ابھر گئے، یہاں تک کہ آپس میں لڑنے کا ارادہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر ہی تھے، بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر سے اترے اور ان سب کے اشتعال کو فرو کیایہاں تک کہ وہ لوگ خاموش ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی خاموش ہوگئے اور میں سارا دن روتی رہی، نہ تو میرے آنسو تھمتے اور نہ مجھے نیند آتی، صبح کو میرے پاس والدین آئے، میں دو رات اور ایک دن روتی رہی،یہاں تک کہ میں خیال کرنے لگی تھی کہ رونے سے میرا کلیجہ شق ہوجائے گا، وہ دونوں بیٹھے ہوئے تھے اور میں رو رہی تھی کہ اتنے میں ایک انصاری عورت نے اندر آنے کی اجازت مانگی، میں نے اسے اجازت دے دی، وہ بیٹھ گئی اور میرے ساتھ رونے لگی، ہم لوگ اس حال میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور بیٹھ گئے، حالانکہ اس سے پہلے جب سے کہ میرے متعلق تہمت لگائی گئی، کبھی نہیں بیٹھے تھے، ایک مہینہ تک انتظار کرتے رہے، لیکن میری شان میں کوئی وحی نازل نہیں ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبۂ شہادت پڑھا اور پھر فرمایا: اے عائشہ! تمہارے متعلق مجھ کو ایسی ایسی خبر ملی ہے، اگر تو بری ہے تو اللہ تعالیٰ تمہاری پاکیزگی ظاہر کردے گا اور اگر تو اس میں مبتلا ہوگئی ہے، تو اللہ سے مغفرت طلب کر اور توبہ کر اس لئے کہ جب بندہ اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہے، پھر توبہ کرلیتا ہے، تو اللہ اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی گفتگو ختم کی تو میرے آنسو دفعتہ رک گئے، یہاں تک کہ میں نے ایک قطرہ بھی محسوس نہیں کیا اور میں نے اپنے والد سے کہا کہ میری طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جواب دیجئے، لیکن انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا جواب دوں، پھر میں نے اپنی ماں سے کہا کہ تم میری طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جواب دو، انہوں نے کہا: واللہ! میں نہیں جانتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا کہوں، سیدہ عائشہ کہتی ہیں:میں کمسن تھی اور قرآن زیادہ نہیں پڑھا تھا، میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میں جانتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ چیز سن لی ہے، جو لوگوں میں مشہور ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں وہ بات بیٹھ گئی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو سچ سمجھ لیا ہے۔ اگر میںیہ کہوں کہ میں بری ہوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں بری ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری بات کو سچا نہ جانیں گے اور اگر میں کسی بات کا اقرار کرلوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے سچا سمجھیں گے، اللہ کی قسم! میں نے اپنی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مثال یوسف کے والد کے سوا نہیں پائی، جب کہ انہوں نے فرمایا تھا کہ صبر بہتر ہے اور اللہ ہی میرا مدد گار ہے، ان باتوں میں جو تم بیان کرتے ہو، پھر میں نے بستر پر کروٹ تبدیل کی، مجھے امید تھی کہ اللہ تعالیٰ میری پاکدامنی ظاہر فرما دے گا، لیکن اللہ کی قسم! مجھے یہ گمان نہ تھا کہ میرے متعلق وحی نازل ہوگی اور اپنے دل میں اپنے آپ کو اس قابل نہ سمجھتی تھی کہ میرے اس معاملہ کا ذکر قرآن میں ہوگا، بلکہ میں سمجھتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی خواب دیکھیں گے جس میں اللہ تعالیٰ میری پاکدامنی ظاہر کردے گا، پھر اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس جگہ سے ہٹے بھی نہ تھے اور نہ گھر والوں میں سے کوئی باہر گیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کی حالت طاری ہوگئی، جو نزول وحی کے وقت طاری ہوا کرتی تھی، سردی کے دن میں بھی، پھر جب وہ کیفیت ختم ہوئی تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ مبارک سے جو الفاظ نکلے وہ یہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عائشہ! اللہ کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہاری پاکدامنی بیان کردی ہے۔ مجھ سے میری ماں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑی ہوجا، میں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں کھڑی نہیں ہوں گی اور صرف اللہ کا شکریہ ادا کروں گی، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی {اِنَّ الَّذِیْنَ جَا ء ُوْ بِالْاِفْکِ عُصْبَۃٌ مِّنْکُمْ … }جب اللہ تعالیٰ نے میری براء ت میںیہ آیت نازل کی تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جو مسطح بن اثاثہ کی ذات پر اس کی قرابت کے سبب خرچ کرتے تھے، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اب میں مسطح کی ذات پر خرچ نہیں کروں گا، اس نے میرے بیٹی عائشہ پر تہمت لگائی ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: {وَلَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ اَنْ یُّؤْتُوْ ا اُولِی الْقُرْبٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَالْمُہٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ} سیدنا ابوبکر کہنے لگے:اللہ کی قسم! میں تو پسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو بخش دے، پھر مسطح کو وہی وظیفہ دینا شروع کردیا، جو برابر دیتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے میرے متعلق پوچھتے تھے اور فرماتے: اے زینب! کیا تو جانتی ہے؟ کیا تو نے کبھی کچھ دیکھا ہے؟ وہ جواباً کہتی: یا رسول اللہ! میں اپنے کان اور اپنی آنکھ کو بچاتی ہوں، اللہ کی قسم! میں تو عائشہ کو اچھا ہی جانتی ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: وہی میرے مقابلے میں تھیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو پرہیزگاری کے سبب سے بچا لیا۔
قارئین سے گزارش ہے کہ وہ ان آیات کی تفسیر کا مطالعہ بھی کر لیں، سبق آموز باتیں تو مذکورہ بالا حدیث اور آیات سے ہی سمجھ آجاتی ہیں، مزید تفصیل کتاب السیرۃ النبویۃ میں آئے گی۔
صحیح بخاری میں اس واقعہ کی تفصیلیہ ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے تہمت لگانے والوں کا واقعہ بیان کیا، لوگوں نے ان پر تہمت لگائی تھی، لیکن اللہ تعالی نے ان کی پاکیزگی کا اعلان کیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے، ان میں جس کا نام نکل آتا، اس کو ساتھ لے کر جاتے ایک جنگ (غزوہ بنی مصطلق) میں جانے کے لئے اسی طرح قرعہ اندازی کی،میرا نام نکل آیا، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلی گئی،یہ واقعہ پردہ کی آیت اترنے کے بعد کا ہے، میں ہودج میں سوار رہتی اور ہودج سمیت اتاری جاتی، ہم لوگ اسی طرح چلتے رہے، یہاں تک کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس غزوہ سے فارغ ہوئے اور لوٹے، (واپسی میں) ہم لوگ مدینہ کے قریب ہی پہنچے تھے کہ رات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روانگی کا اعلان کردیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روانگی کا اعلان کیا تو میں اٹھی اور چلی،یہاں تک کہ لشکر سے آگے بڑھ گئی، جب میں اپنی حاجت سے فارغ ہوئی اور اپنے ہودج کے پاس آئی تو میں نے اپنے سینہ پر ہاتھ پھیرا، معلوم ہوا کہ میرا اظفار کے موتیوں کا ہار ٹوٹ کر گر گیا، میں واپس ہوئی اور اپنا ہار ڈھونڈنے لگی، اس کی تلاش میں مجھے دیر ہوگئی، جو لوگ میرا ہودج اٹھاتے تھے، وہ آئے اور اس ہودج کو اٹھا کر اس اونٹ پر رکھ دیا، جس پر میں سوار ہوتی تھی، وہ لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ میں اس ہودج میں ہوں، اس زمانہ میں عورتیں عموماً ہلکی پھلکی ہوتی تھیں، بھاری نہیں ہوتی تھیں، ان کی خوراک قلیل تھی، اس لئے جب ان لوگوں نے ہودج کو اٹھایا، تو اس کا وزن انہیں خلاف معمول معلوم نہ ہوا اور اٹھا لیا، مزید برآں کہ میں ایک کم سن لڑکی تھی، چنانچہ یہ لوگ اونٹ کو ہانک کر روانہ ہوگئے، لشکر کے روانہ ہونے کے بعد میرا ہار مل گیا، میں ان لوگوں کے ٹھکانے پر آئی تو وہاں کوئی نہ تھا، میں نے اس مقام کا قصد کیا، جہاں میں تھی اور یہ خیال کیا کہ جب وہ مجھے نہیں پائیں گے تو تلاش کرتے ہوئے میرے پاس پہنچ جائیں گے، میں اسی انتظار میں بیٹھی ہوئی تھی کہ نیند آنے لگی اور میں سوگئی، سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ لشکر کے پیچھے تھے، صبح کو میری جگہ پر آئے اور دور سے انہوں نے ایک سویا ہوا آدمی دیکھا تو میرے پاس آئے اور (مجھ کو پہچان لیا) اس لئے کہ پردہ کی آیت اترنے سے پہلے وہ مجھے دیکھتے تھے، صفوان کے (انا للہ وانا الیہ راجعون) پڑھنے سے میں جاگ گئی، وہ میرا اونٹ پکڑ کر پیدل چلنے لگے، یہاں تک کہ ہم لشکر میں پہنچ گئے جب کہ لوگ ٹھیک دوپہر کے وقت آرام کرنے کے لئے اتر چکے تھے، تو ہلاک ہوگیا وہ شخص جس نے ہلاک ہی ہونا تھا اور تہمت لگانے والوں کا سردار عبداللہ بن ابی بن سلول تھا،خیر ہم لوگ مدینہ پہنچے اور میں ایک مہینہ تک بیمار رہی تہمت لگانے والوں کی باتیں لوگوں میں پھیلتی رہیں اور مجھے اپنی بیماری کی حالت میں شک پیدا ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس لطف سے پیش نہیں آتے تھے، جس طرح (اس سے قبل) بیماری کی حالت میں لطف و مہربانی سے پیش آیا کرتے تھے، بس اب تو صرف تشریف لاتے، سلام کرتے، پھر پوچھتے: تم کیسی ہو؟ (پھر چلے جاتے) مجھے تہمت کی بات کی خبر بالکل نہ تھی،یہاں تک کہ میں بہت کمزور ہوگئی (ایک رات) میں اور مسطح کی ماں مناصع کی طرف قضائے حاجت کے لئے نکلیں، ہم لوگ رات ہی کو جایا کرتے تھے اور یہ اس وقت کی بات ہے، جب کہ ہم لوگوں کے لیے قضائے حاجت کی جگہ ہمارے گھروں کے قریب نہ تھی اور عرب والوں کے پہلے معمول کے موافق ہم لوگ جنگل میںیا باہر جا کر رفع حاجت کرتے تھے، میں اور ام مسطح ہم دونوں چلے جا رہے تھے کہ وہ اپنی چادر میں پھنس کر گر پڑیں اور کہا: مسطح ہلاک ہوجائے، میں نے اس سے کہا: تو نے بہت بری بات کہی ہے، ایسے آدمی کو برا کہتی ہو جو بدر میں شریک ہوا، اس نے کہا: عائشہ! کیا تم نے نہیں سنا جو یہ لوگ کہتے ہیں؟ ساتھ ہی اس نے مجھے تہمت لگانے والوں کی بات بیان کر دی،یہ سن کر میرا مرض اور بڑھ گیا، جب میں اپنے گھر واپس آئی تو میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: تم کیسیہو؟ میں نے کہا: مجھے اپنے والدین کے پاس جانے کی اجازت دیجئے اور اس وقت میرا مقصد یہ تھا کہ اس خبر کی بابت ان کے پاس جا کر تحقیق کروں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ اجازت دے دی، میں اپنے والدین کے پاس آئی اور اپنی والدہ سے پوچھا کہ لوگ کیا بیان کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: بیٹی! تو ایسی باتوں کی پرواہ نہ کر، جو عورت حسین ہو اور اس کے شوہر کو اس سے محبت ہو اور اس کی سوکنیں ہوں، تو اس قسم کی باتیں بہت ہوا کرتی ہیں، میں نے کہا: سبحان اللہ! اس قسم کی بات سوکنوں نے تو نہیں کی،ایسی بات تو لوگوں میں مشہور ہو رہی ہے، میں نے وہ رات اس حال میں گزاری کہ نہ میرے آنسو تھمے اور نہ مجھے نیند آئی، پھر جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو جب وحی اترنے میں دیر ہوئی بلایا اور اپنی بیوی کو جدا کرنے کے بارے میں ان دونوں سے مشورہ کرنے لگے، اسامہ چونکہ جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی بیویوں سے محبت ہے، اس لئے انہوں نے ویسا ہی مشورہ دیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کی بیویوں میں بھلائی ہی جانتا ہوں۔ لیکن سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ!اللہ تعالیٰ نے آپ پر تنگی نہیں کی، ان کے علاوہ عورتیں بہت ہیں اور باقی آپ لونڈی (سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا) سے دریافت کر لیجئے، وہ آپ سے سچ سچ بیان کرے گی، رسول اللہV نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور فرمایا: اے بریرہ! کیا تو نے عائشہ میں کوئی ایسی بات دیکھی ہے، جو تجھے شبہ میں ڈال دے؟ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے ان میں کوئی ایسی بات نہیں دیکھی، جو عیب کی ہو، بجز اس کے کہ وہ کم سن ہیں اور گوندھا ہوا آٹا چھوڑ کر سوجاتی ہیں اور بکری آکر کھا جاتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی دن خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوگئے اور عبداللہ بن ابی بن سلول کے مقابلہ میں مدد طلب کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو میری مدد کرے گا، اس شخص کے مقابلہ میں جس نے مجھے میرے گھر والوں کے متعلق اذیت دی، حالانکہ اللہ کی قسم ہے، میں اپنے گھر والوں میں بھلائی ہیدیکھتا ہوں اور جس مرد کے ساتھ تہمت لگائی گئی ہے، اس میں بھی بھلائی ہی دیکھتا ہوں، وہ گھر میں میرے ساتھ ہی داخل ہوتا تھا؟ یہ سن کر سیدنا سعد بن معاذ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کی مدد کے لئے تیار ہوں، اگر وہ قبیلہ اوس کا ہے تو میں اس کی گردن اڑادوں گا اور اگر وہ ہمارے بھائی خزرج کے قبیلہ کا ہے، تو جیسا حکم دیں، عمل کروں گا، یہ سن کر سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جو قبیلہ خزرج کے سردار تھے، کھڑے ہوئے، اس سے پہلے وہ نیک آدمی تھے، لیکن حمیت نے انہیں اکسایا اور کہا: اللہ کی قسم! نہ تو اسے مار سکے گا اور نہ تو اس کے قتل پر قادر ہے، پھر سیدنا اسید بن حضیر کھڑے ہوئے اور کہا: تو جھوٹ کہتا ہے، اللہ کی قسم! ہم اس کو قتل کردیں گے، تو منافق ہے، منافقوں کی طرف سے جھگڑا کرتا ہے،دیکھتے ہی دیکھتے اوس اور خزرج دونوں لڑائی کے لئے ابھر گئے، یہاں تک کہ آپس میں لڑنے کا ارادہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر ہی تھے، بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر سے اترے اور ان سب کے اشتعال کو فرو کیایہاں تک کہ وہ لوگ خاموش ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی خاموش ہوگئے اور میں سارا دن روتی رہی، نہ تو میرے آنسو تھمتے اور نہ مجھے نیند آتی، صبح کو میرے پاس والدین آئے، میں دو رات اور ایک دن روتی رہی،یہاں تک کہ میں خیال کرنے لگی تھی کہ رونے سے میرا کلیجہ شق ہوجائے گا، وہ دونوں بیٹھے ہوئے تھے اور میں رو رہی تھی کہ اتنے میں ایک انصاری عورت نے اندر آنے کی اجازت مانگی، میں نے اسے اجازت دے دی، وہ بیٹھ گئی اور میرے ساتھ رونے لگی، ہم لوگ اس حال میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور بیٹھ گئے، حالانکہ اس سے پہلے جب سے کہ میرے متعلق تہمت لگائی گئی، کبھی نہیں بیٹھے تھے، ایک مہینہ تک انتظار کرتے رہے، لیکن میری شان میں کوئی وحی نازل نہیں ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبۂ شہادت پڑھا اور پھر فرمایا: اے عائشہ! تمہارے متعلق مجھ کو ایسی ایسی خبر ملی ہے، اگر تو بری ہے تو اللہ تعالیٰ تمہاری پاکیزگی ظاہر کردے گا اور اگر تو اس میں مبتلا ہوگئی ہے، تو اللہ سے مغفرت طلب کر اور توبہ کر اس لئے کہ جب بندہ اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہے، پھر توبہ کرلیتا ہے، تو اللہ اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی گفتگو ختم کی تو میرے آنسو دفعتہ رک گئے، یہاں تک کہ میں نے ایک قطرہ بھی محسوس نہیں کیا اور میں نے اپنے والد سے کہا کہ میری طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جواب دیجئے، لیکن انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا جواب دوں، پھر میں نے اپنی ماں سے کہا کہ تم میری طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جواب دو، انہوں نے کہا: واللہ! میں نہیں جانتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا کہوں، سیدہ عائشہ کہتی ہیں:میں کمسن تھی اور قرآن زیادہ نہیں پڑھا تھا، میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میں جانتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ چیز سن لی ہے، جو لوگوں میں مشہور ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں وہ بات بیٹھ گئی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو سچ سمجھ لیا ہے۔ اگر میںیہ کہوں کہ میں بری ہوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں بری ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری بات کو سچا نہ جانیں گے اور اگر میں کسی بات کا اقرار کرلوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے سچا سمجھیں گے، اللہ کی قسم! میں نے اپنی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مثال یوسف کے والد کے سوا نہیں پائی، جب کہ انہوں نے فرمایا تھا کہ صبر بہتر ہے اور اللہ ہی میرا مدد گار ہے، ان باتوں میں جو تم بیان کرتے ہو، پھر میں نے بستر پر کروٹ تبدیل کی، مجھے امید تھی کہ اللہ تعالیٰ میری پاکدامنی ظاہر فرما دے گا، لیکن اللہ کی قسم! مجھے یہ گمان نہ تھا کہ میرے متعلق وحی نازل ہوگی اور اپنے دل میں اپنے آپ کو اس قابل نہ سمجھتی تھی کہ میرے اس معاملہ کا ذکر قرآن میں ہوگا، بلکہ میں سمجھتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی خواب دیکھیں گے جس میں اللہ تعالیٰ میری پاکدامنی ظاہر کردے گا، پھر اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس جگہ سے ہٹے بھی نہ تھے اور نہ گھر والوں میں سے کوئی باہر گیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کی حالت طاری ہوگئی، جو نزول وحی کے وقت طاری ہوا کرتی تھی، سردی کے دن میں بھی، پھر جب وہ کیفیت ختم ہوئی تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ مبارک سے جو الفاظ نکلے وہ یہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عائشہ! اللہ کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہاری پاکدامنی بیان کردی ہے۔ مجھ سے میری ماں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑی ہوجا، میں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں کھڑی نہیں ہوں گی اور صرف اللہ کا شکریہ ادا کروں گی، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی {اِنَّ الَّذِیْنَ جَا ء ُوْ بِالْاِفْکِ عُصْبَۃٌ مِّنْکُمْ … }جب اللہ تعالیٰ نے میری براء ت میںیہ آیت نازل کی تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جو مسطح بن اثاثہ کی ذات پر اس کی قرابت کے سبب خرچ کرتے تھے، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اب میں مسطح کی ذات پر خرچ نہیں کروں گا، اس نے میرے بیٹی عائشہ پر تہمت لگائی ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: {وَلَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ اَنْ یُّؤْتُوْ ا اُولِی الْقُرْبٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَالْمُہٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ} سیدنا ابوبکر کہنے لگے:اللہ کی قسم! میں تو پسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو بخش دے، پھر مسطح کو وہی وظیفہ دینا شروع کردیا، جو برابر دیتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے میرے متعلق پوچھتے تھے اور فرماتے: اے زینب! کیا تو جانتی ہے؟ کیا تو نے کبھی کچھ دیکھا ہے؟ وہ جواباً کہتی: یا رسول اللہ! میں اپنے کان اور اپنی آنکھ کو بچاتی ہوں، اللہ کی قسم! میں تو عائشہ کو اچھا ہی جانتی ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: وہی میرے مقابلے میں تھیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو پرہیزگاری کے سبب سے بچا لیا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8689
عَنْ عُرْوَةَ مِنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَيْضًا قَالَ لَمْ يُسَمَّ مِنْ أَهْلِ الْإِفْكِ إِلَّا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ وَمِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ وَحَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ فِي نَاسٍ آخَرِينَ لَا عِلْمَ لِي بِهِمْ إِلَّا أَنَّهُمْ عُصْبَةٌ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنَّ كِبْرَ ذَلِكَ كَانَ يُقَالُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ سَلُولَ قَالَ عُرْوَةُ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَكْرَهُ أَنْ يُسَبَّ عِنْدَهَا حَسَّانُ وَتَقُولُ إِنَّهُ الَّذِي قَالَ فَإِنَّ أَبِي وَوَالِدَهُ وَعِرْضِي لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْكُمْ وِقَاءٌ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ تہمت کی باتیں کرنے والوں میں حسان بن ثابت، مسطح بن اثاہ اور حمنہ بنت حجش رضی اللہ عنہم کے نام لیے گئے، ان کے علاوہ اور لوگ بھی شامل تھے، لیکن مجھے ان کا علم نہیں ہے، بہرحال یہ ایک جماعت تھی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں عُصْبَۃٌ لفظ استعمال کیا ہے۔ سب سے زیادہ حصہ عبد اللہ بن ابی بن سلول کا تھا، عروہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ ناپسند کیا کرتی تھیں کہ ان کے ہاں سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا جائے، نیز وہ کہا کرتی تھیں کہ حسان رضی اللہ عنہ تو وہ ہے، جس نے کہا تھا: پس بیشک میرا باپ اور اس (باپ) کا باپ اور میری عزت، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت کو تم سے بچانے والی ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8689]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4141، 4680، 6662، 6679، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25624 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26142»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8690
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ رُمِيتُ بِمَا رُمِيتُ بِهِ وَأَنَا غَافِلَةٌ فَبَلَغَنِي بَعْدَ ذَلِكَ رَضْخٌ مِنْ ذَلِكَ فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدِي إِذْ أُوحِيَ إِلَيْهِ وَكَانَ إِذَا أُوحِيَ إِلَيْهِ يَأْخُذُهُ شِبْهُ السُّبَاتِ فَبَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدِي إِذْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فَرَفَعَ رَأْسَهُ وَهُوَ يَمْسَحُ عَنْ جَبِينِهِ فَقَالَ أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ فَقُلْتُ بِحَمْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا بِحَمْدِكَ فَقَرَأَ {الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ} حَتَّى بَلَغَ {مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ} [النور: 4-26]
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: مجھ پر تہمت لگائی گئی، جبکہ مجھے خبر تک نہ تھی، اس کے بعد مجھے بات پہنچی تو تھی، لیکن اس پر یقین نہیں آتا تھا، ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تھے،اسی اثنا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پروحی نازل ہونے لگی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہلکی نیند غالب آنے لگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھایا، اپنی پیشانی سے پسینہ صاف کیا اور فرمایا: اے عائشہ! خوش ہوجاؤ۔ میں نے کہا:اللہ تعالیٰ کی تعریف کے ساتھ، نہ کہ آپ کی تعریف کے ساتھ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان آیات کی تلاوت کی: {الَّذِینَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ … … حَتَّی بَلَغَ مُبَرَّءُ وْنَ مِمَّا یَقُولُوْنَ}۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8690]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون ذكر الآيات التي انزلت، وھذا اسناد ضعيف لضعف عمر بن ابي سلمة۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 23/ 156، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24720 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25227»
الحكم على الحديث: صحیح
36. بَابُ أَنَّ سُوْرَة الشُّعَرَاءِ مِنْ ذَوَاتِ الْمِائَتَيْنِ وَكَسْرٍ
سورۂ فرقان {وَالَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا آخَرَ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8691
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُّ الذَّنْبِ أَكْبَرُ قَالَ أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ قَالَ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مِنْ أَجْلِ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ قَالَ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَ ذَلِكَ فِي كِتَابِهِ {وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ} إِلَى قَوْلِهِ {وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا} [الفرقان: 68]
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ کونسا گناہ سب سے بڑاہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تو اللہ تعالیٰ کاشریک ٹھہرائے، حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اس نے کہا: اس کے بعد کون ساگناہ بڑاہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اپنی اولاد کو اس ڈر سے قتل کرے کہ وہ تیرے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائے گی۔ اس آدمی نے پھر کہا: اس کے بعدکونساگناہ بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تو اپنے ہمسائے کی بیوی کے ساتھ زنا کرے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ان باتوں کی تصدیق نازل کر دی اور فرمایا: {وَالَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ وَلَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا یَزْنُوْنَ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا۔} (سورۂ فرقان: ۶۸) اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور نہ اس جان کو قتل کرتے ہیں جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو یہ کرے گا اس کو سخت گناہ کو ملے گا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8691]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4761، 6811، ومسلم: 86، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3612 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3612»
الحكم على الحديث: صحیح