Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. بَابُ: «‏‏‏‏يَا أُخْتَ هَارُونَ»
سورۂ مریم {یَا اُخْتَ ھَارُوْنَ}کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8672
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى نَجْرَانَ قَالَ فَقَالُوا أَرَأَيْتَ مَا تَقْرَءُونَ يَا أُخْتَ هَارُونَ وَمُوسَى قَبْلَ عِيسَى بِكَذَا وَكَذَا قَالَ فَرَجَعْتُ فَذَكَرْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا أَخْبَرْتَهُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا يُسَمُّونَ بِالْأَنْبِيَاءِ وَالصَّالِحِينَ قَبْلَهُمْ
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے نجران کی جانب بھیجا تو ان لوگوں نے مجھ سے پوچھا: تم لوگ اس طرح پڑھتے ہو: {یَا اُخْتَ ھَارُوْنَ} … اے ہارون کی بہن! جبکہ موسی علیہ السلام تو عیسیٰ علیہ السلام سے طویل عرصہ پہلے گزرے تھے، (تو عیسی علیہ السلام کی ماں سیدہ مریم علیہا السلام ان کی بہن کیسے ہو گئی) جب میں واپس لوٹا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے انہیں بتانا تھا کہ وہ لوگ اپنے سے پہلے نیک لوگوں اور انبیائے کرام کے ناموں پرنام رکھتے تھے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8672]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2135، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18201 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18387»
وضاحت: فوائد: … عیسی علیہ السلام اور موسی علیہ السلام کے درمیان تقریباً تیرہ چودہ صدیوں کا فاصلہ ہے۔ سیدہ مریم رحمتہ اللہ علیہ کے کسی رشتہ دار کا نام ہارون تھا، جو ہارون علیہ السلام کے نام پر رکھا گیا تھا، آیت میں سیدہ مریم کو اسی رشتہ دار کی طرف منسوب کر کے اس کی بہن کہا گیا، نہ کہ موسی علیہ السلام کے بھائی ہارون علیہ السلام کیطرف منسوب کیا گیا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ: «وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ» ‏‏‏‏
{وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّکَ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8673
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيلَ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزُورَنَا أَكْثَرَ مِمَّا تَزُورُنَا قَالَ فَنَزَلَتْ وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَيْنَ ذَلِكَ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا [سورة مريم: ٦٤] قَالَ وَكَانَ ذَلِكَ الْجَوَابَ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا جبریل علیہ السلام سے فرمایا: تمہیں اس میں کوئی رکاوٹ ہے کہ اب جتنی ملاقات کرتے ہو، اس سے زیادہ کر لیا کرو؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: {وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَ مْرِ رَبِّکَ لَہُ مَا بَیْنَ أَ یْدِینَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَیْنَ ذٰلِکَ وَمَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا} … ہم تیرے رب کے حکم کے سوا نہیں اترتے،اسی کے لیے ہے، جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اورجو اس کے درمیان ہے اور تیرا رب بھولنے والا نہیں ہے۔ یہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے جواب تھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8673]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2135، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18201 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3365»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ: «‏‏‏‏وَانُ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا»
{وَاِنْ مِنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8674
عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ حَفْصَةَ يَقُولُ لَا يَدْخُلُ النَّارَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ أَحَدٌ الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَهَا فَقَالَتْ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ فَانْتَهَرَهَا فَقَالَتْ حَفْصَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا [سورة مريم: ٧١] فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا [سورة مريم: ٧٢]
۔ سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جن لوگوں نے حدیبیہ کے مقام پردرخت کے نیچے میری بیعت کی تھی، ان شاء اللہ ان میں سے کوئی بھی دوزخ میں داخل نہ ہو گا۔ سیدنا حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ڈانٹا تو انھوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَإِنْ مِنْکُمْ إِلَّا وَارِدُہَا} … اوربے شک تم میں سے ہر ایک دوزخ میں وارد ہونے والا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایاہے: {ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِینَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِینَ فِیہَا جِثِیًّا} … پھر ہم ان لوگوں کو جو پرہیز گار ہوئے، دوزخ سے نجات دیں گے اور ظالموں کو ہم اس میں گھٹنوں کے بل چھوڑ دیں گے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8674]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2496، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27362 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27906»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8675
عَنْ كَثِيرِ بْنِ زِيَادٍ الْبُرْسَانِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِي سُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اخْتَلَفْنَا هَاهُنَا فِي الْوُرُودِ فَقَالَ بَعْضُنَا لَا يَدْخُلُهَا مُؤْمِنٌ وَقَالَ بَعْضُنَا يَدْخُلُونَهَا جَمِيعًا ثُمَّ يُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا فَلَقِيتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّا اخْتَلَفْنَا فِي ذَلِكَ الْوُرُودِ فَقَالَ بَعْضُنَا لَا يَدْخُلُهَا مُؤْمِنٌ وَقَالَ بَعْضُنَا يَدْخُلُونَهَا جَمِيعًا فَأَهْوَى بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ وَقَالَ صُمَّتَا إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْوُرُودُ الدُّخُولُ لَا يَبْقَى بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ إِلَّا دَخَلَهَا فَتَكُونُ عَلَى الْمُؤْمِنِ بَرْدًا وَسَلَامًا كَمَا كَانَتْ عَلَى إِبْرَاهِيمَ حَتَّى إِنَّ لِلنَّارِ أَوْ قَالَ لِجَهَنَّمَ ضَجِيجًا مِنْ بَرْدِهِمْ ثُمَّ يُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَيَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا
۔ ابو سمیہ کہتے ہیں:ہم نے دوزخ میں وارد ہونے کے بارے میں اختلاف کیا، بعض نے کہا: اس میں مومن داخل نہ ہو گا، لیکن بعض نے کہا: سب داخل ہوں گے، پھر اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کو نجات دیں گے۔ میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہماسے ملا اور میں نے کہا: ہم نے دوزخ میں وارد ہونے کے بارے میں اختلاف کیا ہے، بعض کہتے ہیں کہ مومن اس میں داخل نہیں ہوں گے، لیکن بعض نے کہا کہ سب داخل ہوں گے، انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں کو لگائیں اور کہا: یہ بہرے ہو جائیں، اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہو: وارد ہونے سے مراد داخل ہونا ہے، ہر نیکو کار اور اور بدکار اس جہنم میں داخل ہو گا، لیکن وہ آگ ایمان والوں کے لیے اسی طرح ٹھنڈک اور سلامتی والی ہوگی، جیسے ابراہیم علیہ السلام پر تھی،یہاں تک کہ ٹھنڈک کی وجہ سے ان کی دوزخ میں آواز آئے گی، پھر یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ متقی لوگوں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل چھوڑیں گے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8675]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابي سمية۔ أخرجه الحاكم: 4/ 587، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14520 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14574»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8676
عَنِ السُّدِّيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ مُرَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا [سورة مريم: ٧١] قَالَ يَدْخُلُونَهَا أَوْ يَلِجُونَهَا ثُمَّ يَصْدُرُونَ مِنْهَا بِأَعْمَالِهِمْ قُلْتُ لَهُ إِسْرَائِيلُ حَدَّثَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ هُوَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ كَلَامًا هَذَا مَعْنَاهُ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان { وَإِنْ مِنْکُمْ إِلَّا وَارِدُہَا} کی تفسیر کرتے ہوئے کہتے ہیں: تمام لوگ اس میں داخل ہوں گے، پھر اپنے اعمال کے بل بوتے پر باہر آئیں گے، عبد الرحمن بن مہدی نے امام شعبہ سے کہا: اسرائیل تو اس کو مرفوع بیان کرتے ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے، یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام کے ہم معنی ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8676]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الترمذي: 3160، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4128 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4128»
وضاحت: فوائد: … جامع ترمذی میں یہ روایت مرفوعا ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں: اسرائیل سے مروی ہے کہ سدی کہتے ہیں: میں نے ہمدانی سے اللہ تعالی کے اس فرمان { وَإِنْ مِنْکُمْ إِلَّا وَارِدُہَا} کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: سیدنا عبدا للہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَرِدُ النَّاسُ النَّارَ ثُمَّ یَصْدُرُونَ مِنْہَا بِأَ عْمَالِہِمْ فَأَ وَّلُہُمْ کَلَمْحِ الْبَرْقِ ثُمَّ کَالرِّیحِ ثُمَّ کَحُضْرِ الْفَرَسِ ثُمَّ کَالرَّاکِبِ فِی رَحْلِہِ ثُمَّ کَشَدِّ الرَّجُلِ ثُمَّ کَمَشْیِہ۔)) … لوگ دوزخ پر وارد ہوں گے، اور پھر اپنے اپنے اعمال کے مطابق اس کو پار کریں گے، پہلا گروہ تو بجلی کی چمک کی طرح گزر جائے گا، دوسرا گروہ ہوا کی طرح، پھر گھوڑے کی رفتار کی طرح، پھر اونٹ کے سوار کی طرح، پھر انسان کی دوڑ کی مانند اور پھر انسان کے چلنے کی طرح دوزخ سے گزریں گے۔
ارشادِ باری تعالی ہیں: {وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا۔ ثُمَّ نُـنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّنَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْہَا جِثِیًّا}(سورۂ مریم: ۷۱، ۷۲)
تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو جہنم پر وارد نہ ہو، یہ تو ایک طے شدہ بات ہے جسے پورا کرنا تیرے رب کا ذمہ ہے۔ پھر ہم ان لوگوں کو بچا لیں گے جو دنیا میںمتقی تھے اور ظالموں کو اسی میں گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔ جن لوگوں نے جہنم میں جانا ہوا، وہ پل صراط کو عبور نہ کر سکیں گے اور اس سے نیچے جہنم میں گر جائیں گے، لیکن جن لوگوں نے جنت میں جانا ہوا، وہ اس پل سے گزر کر جائیں گے، ان آیات میں اسی گزرنے کا ذکر ہے، حافظ ابن حجر نے کہا: دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں ہے، جس نے جہنم میں داخل ہونے کی بات کی، اس کی مراد اس کے پل سے ہی گزرنا ہے، کیونکہ جو آدمی پل صراط کے اوپر سے گزرے گا، اس میں جہنم میں داخل ہونے کے معنی میں ہوگا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ: «أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتِيَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًا»
{اَفَرَاَیْتَ الَّذِیْ کَفَرَ بِآیَاتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًا} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8677
عَنْ مَسْرُوقٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ خَبَّابُ بْنُ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كُنْتُ قَيْنًا بِمَكَّةَ فَكُنْتُ أَعْمَلُ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ فَاجْتَمَعَتْ لِي عَلَيْهِ دَرَاهِمُ فَجِئْتُ أَتَقَاضَاهُ فَقَالَ لَا أَقْضِيَنَّكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَكْفُرُ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَمُوتَ ثُمَّ تُبْعَثَ قَالَ فَإِذَا بُعِثْتُ كَانَ لِي مَالٌ وَوَلَدٌ (وَفِي رِوَايَةٍ فَإِنِّي إِذَا مِتُّ ثُمَّ بُعِثْتُ وَلِيَ ثَمَّ مَالٌ وَوَلَدٌ فَأُعْطِيكَ) قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا حَتَّى بَلَغَ فَرْدًا [سورة مريم: ٧٧-٨٠]
۔ مسروق سے مروی ہے کہ سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے کہا: میں مکہ میں لوہار تھا، میں نے عا ص بن وائل کا کام کیا اور میرے کچھ درہم اس پر جمع ہوگئے، ایک دن میں ان کا تقاضا کرنے کے لیے اس کے پاس آیا، لیکن اس نے کہا: میں تجھے اس وقت تک یہ درہم نہیں دوں گا، جب تک تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کفر نہیں کرے گا، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس وقت تک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کفر نہیں کروں گا، یہاں تک کہ ایسا نہیں ہو جاتاکہ تو مر جائے اور پھر تجھے اٹھا دیا جائے، اس نے آگے سے کہا:جب مجھے دوبارہ اٹھایا جائے گا تو میرے لیے مال اور اولاد ہو گی، ایک روایت میں ہے: اس نے کہا: پس بیشک جب میں مر جاؤں گا اور پھر مجھے اٹھایا جائے گا تو وہاں میرا مال ہو گا اور میری اولاد ہوگی، اُس وقت میں تجھے یہ قرض چکا دوں گا، سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نے کہا: جب میں نے اس کی یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: {اَفَرَئَ یْتَ الَّذِیْ کَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّوَلَدًا۔ اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَہْدًا۔ کَلَّا سَنَکْتُبُ مَا یَقُوْلُ وَنَمُدُّ لَہ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا۔ وَّنَرِثُہ مَا یَقُوْلُ وَیاْتِیْنَا فَرْدًا۔} (سورۂ مریم: ۷۷ تا ۸۰) کیا تو نے اسے بھی دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور کہا کہ مجھے تو مال و اولاد ضرور ہی دی جائے گی، کیا وہ غیب پر مطلع ہے یا اللہ کا کوئی وعدہ لے چکا ہے؟ ہر گز نہیں،یہ جو بھی کہہ رہا ہے ہم اسے ضرور لکھ لیں گے اور اس کے لیے عذاب بڑھاتے چلے جائیں گے، یہ جن چیزوں کو کہہ رہا ہے، اسے ہم اس کے بعد لے لیں گے اور یہ تو بالکل اکیلا ہی ہمارے سامنے حاضر ہو گا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8677]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2091، 2275، 4733، ومسلم: 2795، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21068 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21382»
وضاحت: فوائد: … عمرو بن عاص کا یہ جواب طنز اور استہزاء پر مشتمل تھا۔
ان آیات کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی فرما رہے ہیں کہ عمر و بن عاص یہ جو دعوی کر رہا ہے، کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہاں بھی اس کے پاس مال اور اولاد ہو گی؟یا اللہ سے اس کا کوئی عہد ہے؟ ایسا ہر گز نہیں ہے، یہ صرف آیات ِ الہی کا استہزاء و تمسخر ہے، یہجس مال و اولاد کی بات کر رہا ہے، اس کے وارث تو ہم ہیں،یعنی مرنے کے ساتھ ان سے اس کا تعلق ختم ہو جائے گا اور ہماری بارگاہ میں یہ اکیلا آئے گا، نہ مال ساتھ ہو گا نہ اولاد اور نہ کوئی جتھہ، البتہ عذاب ہو گا، جو اس کے لیے اور ان جیسے لوگوں کے لیے ہم بڑھاتے رہیں گے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ: «يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدَا»
{یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8678
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا [سورة مريم: ٨٥] قَالَ لَا وَاللَّهِ مَا عَلَى أَرْجُلِهِمْ يُحْشَرُونَ وَلَا يُحْشَرُ الْوَفْدُ عَلَى أَرْجُلِهِمْ وَلَكِنْ عَلَى نُوقٍ لَمْ تَرَ الْخَلَائِقُ مِثْلَهَا عَلَيْهَا رَحَائِلُ مِنْ ذَهَبٍ فَيَرْكَبُونَ عَلَيْهَا حَتَّى يَضْرِبُوا أَبْوَابَ الْجَنَّةِ
۔ نعمان بن سعد سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے یہ آیت پڑھی: {یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِینَ إِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا} … ہم پرہیز گاروں کو رحمن کی طرف جماعتوں کی صورت میں اکٹھا کریں گے۔ پھرانہوں نے کہا: اللہ کی قسم! یہ لوگ اپنے پاؤں پریعنی پیدل جمع نہیں کئے جائیں گے،وہ ایسی اونٹنیوں پر سوار ہوں گے کہ لوگوں نے آج تک ان جیسی اونٹنیاں نہیں دیکھی ہوں گی، ان پر سونے کے کجاوے ہوں گے، وہ ان پر سوار ہو کر چل پڑیں گے، یہاں تک کہ جنت کے دروازوں پر دستک دیں گے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8678]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن اسحق، وجھالة النعمان بن سعد أخرجه ابن ابي شيبة: 13/ 119، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1333 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1333»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. بَابُ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَنْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ»
سورۂ حج {یَا اَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْ اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْئٌ عَظِیْمٌ}کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8679
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَقَدْ تَفَاوَتَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ السَّيْرُ رَفَعَ بِهَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ صَوْتَهُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ [سورة الحج: ١-٢] حَتَّى بَلَغَ آخِرَ الْآيَتَيْنِ قَالَ فَلَمَّا سَمِعَ أَصْحَابُهُ بِذَلِكَ حَثُّوا الْمَطِيَّ وَعَرَفُوا أَنَّهُ عِنْدَ قَوْلٍ يَقُولُهُ فَلَمَّا تَأَشَّبُوا حَوْلَهُ قَالَ أَتَدْرُونَ أَيَّ يَوْمٍ ذَاكَ قَالَ ذَاكَ يَوْمَ يُنَادَى آدَمُ فَيُنَادِيهِ رَبُّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَا آدَمُ ابْعَثْ بَعْثًا إِلَى النَّارِ فَيَقُولُ يَا رَبِّ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةٍ وَتِسْعِينَ فِي النَّارِ وَوَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ قَالَ فَأَبْلَسَ أَصْحَابُهُ حَتَّى مَا أَوْضَحُوا بِضَاحِكَةٍ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ اعْمَلُوا وَأَبْشِرُوا فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّكُمْ لَمَعَ خَلِيقَتَيْنِ مَا كَانَتَا مَعَ شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا كَثَرَتَاهُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَمَنْ هَلَكَ مِنْ بَنِي آدَمَ وَبَنِي إِبْلِيسَ قَالَ فَأُسْرِيَ عَنْهُمْ ثُمَّ قَالَ اعْمَلُوا وَأَبْشِرُوا فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّامَةِ فِي جَنْبِ الْبَعِيرِ أَوْ الرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الدَّابَّةِ
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ایک سفر میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھی چلنے میں دورجا چکے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بآواز بلند یہ دو آیتیں تلاوت کیں: {یَا أَ یُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْ إِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْئٌ عَظِیمٌ۔ یَوْمَ تَرَوْنَہَا تَذْہَلُ کُلُّ مُرْضِعَۃٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَہَا وَتَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی وَمَا ہُمْ بِسُکٰرٰی وَلٰکِنَّ عَذَابَ اللّٰہِ شَدِیْدٌ۔} … لوگو! اپنے رب کے غضب سے بچو، حقیقت یہ ہے کہ قیامت کا زلزلہ بڑی ہولناک چیز ہے۔ جس روز تم اسے دیکھو گے، حال یہ ہوگا کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے سے غافل ہو جائے گی، ہر حاملہ کا حمل گر جائے گا، اور لوگ تم کو مدہوش نظر آئیں گے، حالانکہ وہ نشے میں نہ ہوں گے، بلکہ اللہ کا عذاب ہی بہت سخت ہوگا۔ جب صحابہ کرام نے یہ آیات سنیں تو اپنی سواریوں کو ایڑیاں لگائیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی ضروری بات کہنا چاہتے ہیں، جب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد جمع ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: کیا تم جانتے ہو یہ کونسا دن ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ہی فرمایا: یہ وہ دن ہو گا کہ آدم علیہ السلام کو بلایا جائے گا، اللہ تعالیٰ ان کو آواز دیں گے: اے آدم! جہنم میں بھیجے جانے والوں کو جہنم میں بھیج دو، وہ کہیں گے: اے میرے رب! کتنی تعداد؟ اللہ تعالیٰ کہے گا: ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے دوزخ میں اور ایک جنت میں بھیج دو۔ یہ سن کر آپ کے صحابہ کرام حیران و ششدر رہ گئے اوران کی ہنسی بند ہو گی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ صورتحال دیکھی تو فرمایا: عمل کرو اور خوش ہو جاؤ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! تم دو قسم کی ایسی مخلوقات کے ساتھ ہو گے کہ وہ جس کے ساتھ ہوں، ان کی تعداد کو زیادہ کر دیتی ہیں،یعنی یاجوج ماجوج، بنو آدم میں سے ہلاک ہونے والے اور ابلیس کی اولاد۔ یہ سن کر صحابہ سے وہ کیفیت چھٹ گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمل کرو اور خوش ہوجاؤ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدکی جان ہے: تم ان لوگوں میں اونٹ کے پہلو میں چھوٹے سے نشان کی مانند ہو گے یا جانور کے گھٹنے میں نشان کی مثل ہوگے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8679]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الترمذي: 3169، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19901 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20143»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کی مزید توضیح درج ذیل روایت سے ہوگی:
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: یَاآدَمُ! قُمْ فَابْعَثْ بَعْثَ النَّارِ، فَیَقُوْلُ: لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ وَالْخَیْرُ فِیْیَدَیْکِ،یَا رَبِّ! وَمَا بَعْثُ النَّارِ، قَالَ: مِنْ کُلِّ اَلْفٍ تِسْعَمِائَۃِ وَ تِسْعَۃً وَتِسْعِیْنَ، قَالَ: فَحِیْنَئِذٍیَشِیْبُ الْمَوْلُوْدُ وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَہَا وَتَرٰی النَّاسَ سُکَارٰی وَمَا ھُمْ بِسُکَارٰی وَلٰکِنَّ عَذَابَ اللّٰہ شَدِیْدٌ۔)) قَالَ: فَیَقُوْلُ: فَاَیُّنَا ذٰلِکَ الْوَاحِدُ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((تِسْعَمِائَۃٍ وَتِسْعَۃً وَتِسْعِیْنَ مِنْ یَاْجُوْجَ وَمَاْجُوْجَ وَمِنْکُمْ وَاحِدٌ۔)) قَالَ: فَقَالَ النَّاسُ: اَللّٰہُ اَکْبَرُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((اَفَلَاتَرْضَوْنَ اَنْ تَکُوْنُوْا رُبُعَ اَھْلِ الْجَنَّۃِ وَاللّٰہِ! اِنِّی لَاَرْجُوْ اَنْ تَکُوْنُوْا رُبُعَ اَھْلِ الْجَنَّۃِ، وَاللّٰہِ! اِنِّیْ لَاَرْجُوْ اَنْ تَکُوْنُوْا ثُلُثَ اَھْلِ الْجَنَّۃِ، وَاللّٰہِ! اِنِّیْ لاَرْجُوْ اَنْ تَکُوْنُوْا نِصْفَ اَھْلِ الْجَنَّۃِ۔)) قَالَ: فَکَبَّرَ النَّاسُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((مَااَنْتُمْ یَوْمَئِذٍ فِی النَّاسِ اِلَّا کَالشَّعْرَۃِ الْبَیْضَائِ فِی الثَّوْرِ الْاَسْوَدِ اَوْ کَالشَّعْرَۃِ السَّوْدَائِ فِی الثَّوْرِ الْاَبْیَضِ۔)) (صحیح بخاری: ۳۳۴۸، ۴۷۴۱، صحیح مسلم: ۲۲۲)
قیامت کے دن اللہ تعالی فرمائے گا: اے آدم! اٹھ کر جہنم کا حصہ الگ کرو، وہ کہیں گے: اے میرے ربّ! میں حاضر ہوں، ہر بھلائی تیرے ہاتھ میںہے، جہنم کا حصہ کتنا ہے؟ اللہ تعالی فرمائے گا: ہر ہزار میں نو سو ننانوے۔ اس وقت (گھبراہٹ کا ایسا عالم طاری ہو گا کہ) بچے بوڑھے بن جائیں گے،ہر حاملہ اپنے حمل کو گرادے گی اور لوگ بے ہوش دکھائی دیں گے، حالانکہ وہ بے ہوش نہیں ہوں گے، درحقیقت اللہ تعالی کا عذاب بہت شدید اور سخت ہوگا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! نجات پانے والا وہ ایک آدمی ہم میں سے کون ہوگا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (تم میںیاجوج ماجوج کی تعداداتنی زیادہ ہو گی کہ) نو سو ننانوے افراد ان سے ہوں گے اور تم میں سے ایک ہو گا۔ یہ سن کر صحابہ کرام نے اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ جنت میں ایک چوتھائی تعداد تمہاری ہو گی، اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ جنت میں ایک چوتھائی تعداد تمہاری ہوگی، اللہ کی قسم! مجھے تو یہ امید ہے کہ جنت میں ایک تہائی تعداد تمہاری ہوگی، اللہ کی قسم! بلکہ مجھے تو یہ امید ہے کہ جنت میں نصف تعداد تمہاری ہوگی۔ یہ سن کر صحابہ کرام نے خوشی سے اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن دوسرے لوگوں کے بہ نسبت تمہاری تعداد یوں گی، جیسے سیاہ رنگ کے بیل کے جسم پر ایک سفید بال ہو یا سفید رنگ کے بیل کے جسم پر ایک سیاہ بال ہو۔
معلوم ہوا کہ حشر میں خلقت بڑی تعداد میں جمع ہو گی اور پھر ان میںیاجوج ماجوج اور ابلیس کی نسل کی بہت زیادہ تعداد ہو گی۔ یاجوج ماجوج کی تفصیل کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۱۳۰۲۳) کا باب

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. بَابُ: «وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِالْحَادِ بِظُلْمٍ»
{وَمَنْ یُرِدْ فِیْہٖ بِاِلْحَادٍ بِظُلْمٍ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8680
عَنِ السُّدِّيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ مُرَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَبِي شُعْبَةُ رَفَعَهُ وَأَنَا لَا أَرْفَعُهُ لَكَ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ [سورة الحج: ٢٥] قَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا هَمَّ فِيهِ بِإِلْحَادٍ وَهُوَ بِعَدَنِ أَبْيَنَ لَأَذَاقَهُ اللَّهُ عَذَابًا أَلِيمًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {وَمَنْ یُرِدْ فِیہِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْہُ مِنْ عَذَابٍ أَلِیمٍ} کے بارے میںکہتے ہیں: اگر کوئی آدمی حرم میں الحاد (ظلم) کا ارادہ کرتا ہے، جبکہ وہ عدن ابین میں ہو، تو اللہ تعالیٰ اسے بھی درد ناک عذاب چکھائیں گے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8680]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الحاكم: 2/388، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4071 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4071»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ یہ روایت مرفوع ہے۔ پوری آیتیوں ہے: {اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنٰہُ لِلنَّاسِ سَوَائَ نِ الْعَاکِفُ فِیْہِ وَالْبَادِ وَمَنْ یُّرِدْ فِیْہِ بِاِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُّذِقْہُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۔} بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور وہ اللہ کے راستے سے اور اس حرمت والی مسجد سے روکتے ہیں جسے ہم نے سب لوگوں کے لیے اس طرح بنایا ہے کہ اس میں رہنے والے اور باہر سے آنے والے برابر ہیں اور جو بھی اس میں کسی قسم کے ظلم کے ساتھ کسی کج روی کا ارادہ کرے گا ہم اسے درد ناک عذاب سے مزہ چکھائیں گے۔
یمن کے ایک شہر کا نام عدن ابین ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. بَابُ: «أَذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا» ‏‏‏‏
{اُذِنَ لِلَّذِیْن َیُقَاتَلُوْنَ بِاَنَّہُمْ ظُلِمُوْا …} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8681
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْرَجُوا نَبِيَّهُمْ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ لَيَهْلِكُنَّ فَنَزَلَتْ أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ [سورة الحج: ٣٩] قَالَ فَعُرِفَ أَنَّهُ سَيَكُونُ قِتَالٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هِيَ أَوَّلُ آيَةٍ نَزَلَتْ فِي الْقِتَالِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ہجرت کے لیے مکہ سے نکلے تو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ان لوگوں نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نکالا ہے، یہ ضرور ضرور ہلاک ہوں گے، پس یہ آیت نازل ہوئی: {أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُوْنَ بِأَ نَّہُمْ ظُلِمُوْا وَإِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِہِمْ لَقَدِیرٌ} … اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جارہی ہے، کیونکہ وہ مظلوم ہیں، اور اللہ یقینا ان کی مدد پر ہر طرح قادر ہے۔ انہوں نے اس وقت جان لیا تھا کہ عنقریب لڑائی ہوگی۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ لڑائی کی اجازت کے بارے میں پہلی آیت ہے، جو نازل ہوئی۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8681]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه الترمذي: 3171، والنسائي: 6/ 2، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1865 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1865»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں