الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلِهَا وَوَقْتِ نُزُولِهَا
سورۂ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم {فَہَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8753
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا خَلَقَ الْخَلْقَ قَامَتِ الرَّحِمُ فَأَخَذَتْ بِحَقْوِ الرَّحْمَنِ قَالَتْ هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ مِنَ الْقَطِيعَةِ قَالَ أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ)) اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ {فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا} [محمد: 22-24]
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا کی تو صلہ رحمی، رحمن کی کمر سے چمٹ گئی اور اس نے اللہ تعالیٰ سے کہا: یہ قطع رحمی سے پناہ لینے والے کا مقام ہے،اللہ تعالیٰ نے کہا: کیا تو یہ پسند کرتی ہے کہ جو تجھے ملائے گا، میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے کاٹے گا، میں بھی اس کو کاٹ دوں گا۔ اگر چاہتے ہو تو یہ آیات پڑھ لو: {فَہَلْ عَسَیْتُمْ إِنْ تَوَلَّیْتُمْ أَ نْ تُفْسِدُوْا فِی الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوْا أَ رْحَامَکُمْ، أُولَئِکَ الَّذِینَ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فَأَ صَمَّہُمْ وَأَ عْمٰی أَ بْصَارَہُمْ، أَ فَلَا یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَ مْ عَلٰی قُلُوبٍ أَ قْفَالُہَا} … پھر یقینا تم قریب ہو اگر تم حاکم بن جاؤ کہ زمین میں فساد کرو اور اپنے رشتوں کو بالکل ہی قطع کر دو۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی۔ پس انھیں بہرا کر دیا اور ان کی آنکھیں اندھی کر دیں۔ تو کیا وہ قرآن میں غور نہیں کرتے، یا کچھ دلوں پر ان کے تالے پڑے ہوئے ہیں؟ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8753]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4830، 4838، ومسلم: 2554، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8367 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8349»
وضاحت: فوائد: … صلہ رحمی کی بہت تاکید بیان کی گئی اور قطع رحمی کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
2. بَابُ: «وَهُوَ الَّذِينَ كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ»
سورۂ فتح سورۂ فتح کی فضیلت اور اس کے نزول کے وقت کا بیان
حدیث نمبر: 8754
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ قَالَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ شَيْءٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ قَالَ فَقُلْتُ لِنَفْسِي ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ نَزَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْكَ قَالَ فَرَكِبْتُ رَاحِلَتِي فَتَقَدَّمْتُ مَخَافَةَ أَنْ يَكُونَ نَزَلَ فِيَّ شَيْءٌ قَالَ فَإِذَا أَنَا بِمُنَادٍ يُنَادِي يَا عُمَرُ أَيْنَ عُمَرُ قَالَ فَرَجَعْتُ وَأَنَا أَظُنُّ أَنَّهُ نَزَلَ فِيَّ شَيْءٌ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((نَزَلَتْ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ سُورَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا {إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ} [الفتح: 1-2]))
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: حدیبیہ کے سفر میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک چیز کے متعلق تین بار سوال، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کچھ جواب نہ دیا،میں نے اپنے دل میں اپنے آپ سے کہا: اے خطاب کے بیٹے! تیری ماں تجھے گم پائے تین بار تو نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرنے میں اصرار کیا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ یہ سوچ کر میں اپنی سواری پر بیٹھا اور آگے نکل گیا، ڈر یہ تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے بارے میں کوئی وحی نازل ہو جائے، تو چانک ایک پکارنے والے نے پکارا: اے عمر! عمر کہاں ہو؟ میں واپس مڑا اور خیال یہی تھا کہ میرے بارے میں کچھ نازل ہوا ہے، جب میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج رات مجھ پر ایسی سورت نازل ہوئی ہے کہ وہ مجھے دنیا وما فیہا سے زیادہ پیاری ہے، یعنی: {إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِینًا لِیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَ خَّرَ} … بے شک ہم نے آپ کو واضح فتح عطا کی، تا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8754]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4177، 4833، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 209 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 209»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8755
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا} [الفتح: 1-2] قَالَ الْمُسْلِمُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَنِيئًا لَكَ مَا أَعْطَاكَ اللَّهُ فَمَا لَنَا فَنَزَلَتْ {لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَكَانَ ذَلِكَ عِنْدَ اللَّهِ فَوْزًا عَظِيمًا} [الفتح: 5]
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حدیبیہ سے واپس ہوئے تو یہ آیات اتریں: { إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِینًا۔ لِیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَ خَّرَ وَیُتِمَّ نِعْمَتَہُ عَلَیْکَ وَیَہْدِیَکَ صِرَاطًا مُسْتَقِیمًا} … بے شک ہم نے آپ کو واضح فتح عطا کی، تا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دے، اور آپ پر اپنی نعمت پوری کر دے اور آپ کو صراط ِ مستقیم کی طرف ہدایت دے۔ مسلمانوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو مبارک ہو، اس چیز پر جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کی ہے، اب ہمارے لیے کیا ہے؟ پس ان کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی: {لِیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِہَا الْأَ نْہَارُ خَالِدِینَ فِیہَا وَیُکَفِّرَ عَنْہُمْ سَیِّئَاتِہِمْ وَکَانَ ذٰلِکَ عِنْدَ اللّٰہِ فَوْزًا عَظِیمًا} … تاکہ اللہ تعالیٰ ایماندار مردوں اور ایماندار عورتوں کو بہشتوں میں داخل کرے، جن کے نیچے نہری بہتی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کے گناہ دور کر دے، یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑی کامیابی ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8755]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6559، ومسلم: 1786، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12226 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12251»
وضاحت: فوائد: … ذو القعدہ ۶ سن ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور (۱۴۰۰) کے قریب صحابہ عمرہ ادا کرنے کے ارادے سے مدینہ سے مکہ کو روانہ ہوئے، لیکن مشرکین مکہ نے راستے میں حدیبیہ کے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو روک دیا،پھر وہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوئے اور نبی کریم نے بھی اس بات پر کہ اگلے سال عمرہ ادا کریں گے، ان سے صلح کر لی، مزید بھی شرطیں طے کی گئی تھیں، لیکن صحابہ کی ایک بڑی جماعت اس صلح نامے کو ناپسند کر رہی تھی، جس میں قابل ذکر ہستی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے وہیں اپنے جانور ذبح کیے اور سر منڈوائے، واپس چل پڑے،لوٹتے ہوئے راستے میں یہ سورت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی، جس میں اس واقعہ کا ذکر ہے اور اس صلح کو بااعتبار نتیجہ کھلم کھلا فتح قرار دیا، اگلے سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرہ ادا کیا اور ۸ سن ہجری میںمکہ مکرمہ کو فتح کیا۔
الحكم على الحديث: صحیح
3. بَابُ: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أصْوَاتَكُمْ»
{وَھُوَ الَّذِیْنَ کَفَّ اَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ …} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8756
(وَعَنْهُ أَيْضًا) عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْحُدَيْبِيَةِ هَبَطَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ ثَمَانُونَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فِي السِّلَاحِ مِنْ قِبَلِ جَبَلِ التَّنْعِيمِ فَدَعَا عَلَيْهِمْ فَأُخِذُوا وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ} [الفتح: 24] قَالَ يَعْنِي جَبَلَ التَّنْعِيمِ مِنْ مَكَّةَ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صلح حدیبیہ والے دن مکہ والوں میں سے اسی (۸۰) ہتھیاروں سے لیس آدمی تنعیم پہاڑ کی جانب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام پر چڑھ آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر بددعا کی، پس ان کو گرفتا کر لیا گیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: { وَہُوَ الَّذِی کَفَّ أَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَأَ یْدِیَکُمْ عَنْہُمْ بِبَطْنِ مَکَّۃَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَ ظْفَرَکُمْ عَلَیْہِمْ} … وہی ہے جس نے خاص مکہ میں کافروں کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک لیا، اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان پر غلبہ دے دیا تھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8756]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1808، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12227 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12252»
وضاحت: فوائد: … جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام حدیبیہ میں تھے تو کافروں نے ۸۰ آدمی، جو ہتھیاروں سے لیس تھے، اس نیت سے بھیجے کہ اگر انہیں موقع مل جائے تو دھوکے سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کے خلاف کاروائی کریں، چنانچہ یہ مسلح جتھہ جبل تنعیم کی طرف سے حدیبیہ میں آیا، جس کا علم مسلمانوں کو بھی ہو گیا اور انھوں نے ہمت کر کے ان تمام آدمیوں کو گرفتار کر لیا اور بارگاہ رسالت میں پیش کر دیا، ان کا جرم تو شدید تھا اور ان کو جو بھی سزا دی جاتی، صحیح ہوتی،لیکن اس میں خطرہ یہی تھا کہ پھر جنگ ناگزیر ہو جاتی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس موقعے پر جنگ کے بجائے صلح چاہتے تھے، کیونکہ اسی میں مسلمانوں کا مفاد تھا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب کو معاف کر کے چھوڑ دیا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8757
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي أَصْلِ الشَّجَرَةِ الَّتِي قَالَ اللَّهُ تَعَالَى فِي الْقُرْآنِ وَكَانَ يَقَعُ مِنْ أَغْصَانِ تِلْكَ الشَّجَرَةِ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَسُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ((اكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ)) فَأَخَذَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو بِيَدِهِ فَقَالَ مَا نَعْرِفُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اكْتُبْ فِي قَضِيَّتِنَا مَا نَعْرِفُ قَالَ ((اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ)) فَكَتَبَ ((هَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ مَكَّةَ)) فَأَمْسَكَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو بِيَدِهِ وَقَالَ لَقَدْ ظَلَمْنَاكَ إِنْ كُنْتَ رَسُولَهُ اكْتُبْ فِي قَضِيَّتِنَا مَا نَعْرِفُ فَقَالَ ((اكْتُبْ هَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ)) فَكَتَبَ فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا ثَلَاثُونَ شَابًّا عَلَيْهِمُ السِّلَاحُ فَثَارُوا فِي وُجُوهِنَا فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِأَبْصَارِهِمْ فَقَدِمْنَا إِلَيْهِمْ فَأَخَذْنَاهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((هَلْ جِئْتُمْ فِي عَهْدِ أَحَدٍ أَوْ هَلْ جَعَلَ لَكُمْ أَحَدٌ أَمَانًا)) فَقَالُوا لَا فَخَلَّى سَبِيلَهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا} [الفتح: 24]
۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اس درخت کی جڑ کے نزدیک بیٹھے ہوئے تھے، جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکر کیا ہے، اس درخت کی شاخیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمر مبارک پر پڑ رہی تھیں، سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور قریش کے نمائندے سہیل بن عمرو آپ کے سامنے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: (معاہدہ لکھو)، لکھو بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ۔ لیکن سہیل بن عمرو نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا ہم بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ کونہیں جانتے، ہمارے صلح کے فیصلہ میں وہ لکھو جو ہم جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (چلو) بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لکھوایا کہ یہ وہ دستاویز ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ والوں سے صلح کی ہے۔ لیکن سہیل نے اس بار پھر ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: اگر آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم نے آپ کو روک کر آپ پر ظلم کیا ہے، ہم آپ کی رسالت کو نہیں مانتے، ہمارے اس صلح نامہ میں لکھو جو ہم پہنچانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے) لکھو، یہ وہ معاہدہ ہے، جس پر محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب نے صلح کی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لکھ دو، لکھ دو، جبکہ میں واقعی اللہ کا رسول ہوں اور میں محمد بن عبداللہ بھی ہوں۔ ہم صلح کی یہ شرائط لکھ رہے تھے کہ تیس (۳۰) نوجوان مسلح ہو کر ہمارے سامنے سے آ گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر بددعا کی، اللہ تعالیٰ نے ان کی بینائی ختم کر دی اور ہم نے آگے بڑھ کر ان کو گرفتار کر لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا: کیا تم کسی کے عہد میں ہو، کیا کسی نے تم کو امان دی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں چھوڑ دیا اوراللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری:{ وَہُوَ الَّذِی کَفَّ أَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَأَ یْدِیَکُمْ عَنْہُمْ بِبَطْنِ مَکَّۃَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَ ظْفَرَکُمْ عَلَیْہِمْ وَکَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیرًا۔} … وہی ہے جس نے خاص مکہ میں کافروں کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک لیا، اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان پر غلبہ دے دیا تھا اور تم جو کچھ کر رہے ہو، اللہ تعالیٰ اسے دیکھ خوب رہا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8757]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه النسائي في الكبري: 11511، والحاكم: 2/ 460، والطبري في التفسير: 26/ 94، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16800 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16923»
وضاحت: فوائد: … پچھلی حدیث میں حملہ آوروں کی تعداد (۸۰) بتائی گئی اور اس حدیث میں (۳۰)، اس کی توضیحیہ ہے کہ واقعی ان کی تعداد (۸۰) تھی، ہر صحابی نے اپنے علم کے مطابق خبر دی۔
الحكم على الحديث: صحیح
4. بَابُ: «وَإِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ»
سورۂ حجرات {یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَکُمْ …}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8758
عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ كَادَ الْخَيِّرَانِ أَنْ يَهْلِكَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفْدُ بَنِي تَمِيمٍ أَشَارَ أَحَدُهُمَا بِالْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ أَخِي بَنِي مُجَاشِعٍ وَأَشَارَ الْآخَرُ بِغَيْرِهِ قَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ إِنَّمَا أَرَدْتَ خِلَافِي فَقَالَ عُمَرُ مَا أَرَدْتُ خِلَافَكَ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ} إِلَى قَوْلِهِ {عَظِيمٌ} [الحجرات: 2] قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَكَانَ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِكَ وَلَمْ يَذْكُرْ ذَلِكَ عَنْ أَبِيهِ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ إِذَا حَدَّثَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ كَأَخِي السِّرَارِ لَمْ يَسْمَعْهُ حَتَّى يَسْتَفْهِمَهُ
۔ ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: قریب تھا کہ اس امت کے دو بہترین آدمی سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتے،ہوا یوں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بنو تمیم کا وفد آیا تو سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما میں سے ایک نے رائے دی کہ اقرع بن حابس حنظلی کو ان کا امیر مقرر کیا جائے، جبکہ دوسرے نے اور آدمی (قعقعاع بن معبد) کا نام پیش کیا، اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: تمہارا مقصد میری مخالفت کرنا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:، نہیں، میرا ارادہ تمہاری خلاف ورزی کرنا نہیں تھا، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں ان کی آوازیں بلند ہونے لگیں، سو یہ آیات نازل ہوئیں: {یَا أَ یُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا أَ صْوَاتَکُمْ … … عَظِیمٌ} ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہمانے کہا اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات کرتے تو ایک راز دان کی طرح کرتے، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بات کو دوہرانے کا مطالبہ کرتے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8758]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7302، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16133 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16232»
وضاحت: فوائد: … اس موقع پر دو آیات نازل ہوئی تھیں: {یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْـہَرُوْا لَہ بِالْقَوْلِ کَجَــہْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَــطَ اَعْمَالُکُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ۔ اِنَّ الَّذِیْنَیَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَہُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُولٰیِکَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ لِلتَّقْوٰی لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّاَجْرٌ عَظِیْمٌ۔}
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنی آوازیں نبی کی آواز کے اوپر بلند نہ کرو اور نہ بات کرنے میں اس کے لیے آواز اونچی کرو، تمھارے بعض کے بعض کے لیے آواز اونچی کرنے کی طرح، ایسا نہ ہوکہ تمھارے اعمال برباد ہو جائیں اور تم شعور نہ رکھتے ہو۔بے شک وہ لوگ جو اللہ کے رسول کے پاس اپنی آوازیں پست رکھتے ہیںیہی لوگ ہیں جن کے دل اللہ نے تقویٰ کے لیے آزمالیے ہیں، ان کے لیے بڑی بخشش اور بہت بڑا اجر ہے۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنی آوازیں نبی کی آواز کے اوپر بلند نہ کرو اور نہ بات کرنے میں اس کے لیے آواز اونچی کرو، تمھارے بعض کے بعض کے لیے آواز اونچی کرنے کی طرح، ایسا نہ ہوکہ تمھارے اعمال برباد ہو جائیں اور تم شعور نہ رکھتے ہو۔بے شک وہ لوگ جو اللہ کے رسول کے پاس اپنی آوازیں پست رکھتے ہیںیہی لوگ ہیں جن کے دل اللہ نے تقویٰ کے لیے آزمالیے ہیں، ان کے لیے بڑی بخشش اور بہت بڑا اجر ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8759
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ} إِلَى قَوْلِهِ {وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ} [الحجرات: 2] وَكَانَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ رَفِيعَ الصَّوْتِ فَقَالَ أَنَا الَّذِي كُنْتُ أَرْفَعُ صَوْتِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَبِطَ عَمَلِي أَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَجَلَسَ فِي أَهْلِهِ حَزِينًا فَتَفَقَّدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقَ بَعْضُ الْقَوْمِ إِلَيْهِ فَقَالُوا لَهُ تَفَقَّدَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا لَكَ فَقَالَ أَنَا الَّذِي أَرْفَعُ صَوْتِي فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَأَجْهَرُ بِالْقَوْلِ حَبِطَ عَمَلِي وَأَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ بِمَا قَالَ فَقَالَ ((لَا بَلْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ)) قَالَ أَنَسٌ وَكُنَّا نَرَاهُ يَمْشِي بَيْنَ أَظْهُرِنَا وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْيَمَامَةِ كَانَ فِينَا بَعْضُ الِانْكِشَافِ فَجَاءَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَقَدْ تَحَنَّطَ وَلَبِسَ كَفَنَهُ فَقَالَ بِئْسَمَا تُعَوِّدُونَ أَقْرَانَكُمْ فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْہَرُوْا لَہ بِالْقَوْلِ کَجَـہْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ۔} … اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنی آوازیں نبی کی آواز کے اوپر بلند نہ کرو اور نہ بات کرنے میں اس کے لیے آواز اونچی کرو، تمھارے بعض کے بعض کے لیے آواز اونچی کرنے کی طرح، ایسا نہ ہوکہ تمھارے اعمال برباد ہو جائیں اور تم شعور نہ رکھتے ہو۔ تو سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ، جو کہ بلند آواز والے تھے، یہ کہنے لگے: میری آواز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سے بلند ہے، میرے اعمال تو ضائع ہو گئے، میں تو دوزخی ہوا، یہ سوچ کر اور غمگین ہو کر گھر میں بیٹھ گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو گم پا کر ان کے بارے میں پوچھا، ایک آدمی (سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ) ان کے پاس گیا اور کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہیں گم پا کر تمہاری تلاش کر رہے ہیں، کیا وجہ ہے: کہنے لگے: میں وہ ہوں کہ میری آواز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سے بلند ہے، میں اس بلند آوازی کی وجہ سے دوزخی ہوا، میرے تو تمام اعمال ضائع ہوگئے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کی بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، وہ تو جنتی ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کے متعلق ہمارا یہی خیال تھا کہ وہ ہمارے درمیان چلتے تو تھے لیکن ہم یہی سمجھتے تھے کہ وہ جنتی ہیں۔ جب جنگ یمامہ ہوئی تو ہمارے درمیان شکست کے آثار نمودار ہوئے، سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے حنوط خوشبو لگا رکھی تھی اور کفن پہن رکھا تھا اور کہا: تم نے اپنے مد مقابل لوگوں کو بری عادت ڈالی ہے، پھر انھوں نے ان سے لڑائی کی،یہاں تک کہ وہ شہید ہوگئے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8759]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3613، 4846، ومسلم: 119، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12399 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12426»
وضاحت: فوائد: … صحابۂ کرام، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام و مرتبہ کے بارے میں بڑے محتاط تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (۱۱) سن ہجری کے اواخر میں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں مسیلمہ کذاب سے لڑنے کے لیے ایک جہادی لشکر روانہ کیا تھا، بہت سارے قراء اور حفاظ صحابۂ کرام اس جنگ میں شہید ہو گئے تھے، بالآخر مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی تھی اور مسلیمہ مارا گیا تھا، یہییمامہ کی لڑائی تھی۔ حنوط: وہ خوشبوئیں جو مردہ کے کفن اور بطورِ خاص مردہ کے جسم پر لگائی جاتی ہیں، جیسے مشک، عنبر، صندل اور کافور وغیرہ۔
الحكم على الحديث: صحیح
5. بَابُ: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَ كُمْ فَاسِقٌ بِنَيَا۔۔۔۔۔إِلَى۔۔۔۔۔ وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ»
{اِنَّ الَّذِیْنَیُنَادُوْنَکَ مِنْ وَرَائِ الْحُجُرَاتِ اَکْثَرُ ھُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8760
عَنِ الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ نَادَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يُجِبْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حَمْدِي زَيْنٌ وَإِنَّ ذَمِّي شَيْنٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمَا حَدَّثَ أَبُو سَلَمَةَ ((ذَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ))
۔ ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حجروں کے پیچھے کھڑے ہو کر یوں آوا ز دی: اے اللہ کے رسول! لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا، اس نے پھر پکارا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میری تعریف کرنا زینت ہے اور میری مذمت کرنا عیب ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ شان تو اللہ تعالیٰ کی ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8760]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو سلمة بن عبد الرحمن لم يثبت سماعه من الاقرع بن حابس۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 878، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15991 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16087»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {اِنَّ الَّذِیْنَیُنَادُوْنَکَ مِنْ وَرَائِ الْحُجُرَاتِ اَکْثَرُ ھُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۔ وَلَوْ اَنَّہُمْ صَبَرُوْا حَتّٰی تَخْرُجَ اِلَیْہِمْ لَکَانَ خَیْرًا لَّہُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔} (سورۂ حجرات: ۴،۵)
بے شک وہ لوگ جو تجھے دیواروں کے باہر سے آوازیں دیتے ہیں ان کے اکثر نہیں سمجھتے۔ اور اگر بے شک وہ صبر کرتے، یہاں تک کہ تو ان کی طرف نکلتا تو یقینا ان کے لیے بہتر ہوتا اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجروں کے پیچھے سے آپ کو آوازیں دیتے اور پکارتے ہیں، جس طرح بدو لوگوں میں دستور تھا، دراصل ان میں سے اکثر بے عقل ہیں، پھر اس کی بابت ادب سکھایا کہ چاہیے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتظار میں ٹھہر جاتے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر سے باہر تشریف لاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو بات کرنی ہوتی، کر لیتے، نہ کہ آوازیں دے کر باہر سے پکارتے، دنیا اور دین کی مصلحت اور بہتری اسی میں تھی، پھر اللہ تعالی نے حکم دیا کہ ایسے لوگوں کو توبہ اوراستغفار کرنا چاہیے، کیونکہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
بے شک وہ لوگ جو تجھے دیواروں کے باہر سے آوازیں دیتے ہیں ان کے اکثر نہیں سمجھتے۔ اور اگر بے شک وہ صبر کرتے، یہاں تک کہ تو ان کی طرف نکلتا تو یقینا ان کے لیے بہتر ہوتا اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجروں کے پیچھے سے آپ کو آوازیں دیتے اور پکارتے ہیں، جس طرح بدو لوگوں میں دستور تھا، دراصل ان میں سے اکثر بے عقل ہیں، پھر اس کی بابت ادب سکھایا کہ چاہیے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتظار میں ٹھہر جاتے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر سے باہر تشریف لاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو بات کرنی ہوتی، کر لیتے، نہ کہ آوازیں دے کر باہر سے پکارتے، دنیا اور دین کی مصلحت اور بہتری اسی میں تھی، پھر اللہ تعالی نے حکم دیا کہ ایسے لوگوں کو توبہ اوراستغفار کرنا چاہیے، کیونکہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
6. بَابُ: «وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا»
{یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اِنْ جَائَ کُمْ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ … اِلٰی … وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8761
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ثَنَا عِيسَى بْنُ دِينَارٍ ثَنَا أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ الْحَارِثَ بْنَ أَبِي ضِرَارٍ الْخُزَاعِيَّ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَانِي إِلَى الْإِسْلَامِ فَدَخَلْتُ فِيهِ وَأَقْرَرْتُ بِهِ فَدَعَانِي إِلَى الزَّكَاةِ فَأَقْرَرْتُ بِهَا وَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْجِعُ إِلَى قَوْمِي فَأَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَأَدْعُو إِلَى الزَّكَاةِ فَمَنِ اسْتَجَابَ لِي جَمَعْتُ زَكَاتَهُ فَيُرْسِلُ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا لِإِبَّانِ كَذَا وَكَذَا لِيَأْتِيَكَ مَا جَمَعْتُ مِنَ الزَّكَاةِ فَلَمَّا جَمَعَ الْحَارِثُ الزَّكَاةَ مِمَّنِ اسْتَجَابَ لَهُ وَبَلَغَ الْإِبَّانَ الَّذِي أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبْعَثَ إِلَيْهِ احْتَبَسَ عَلَيْهِ الرَّسُولُ فَلَمْ يَأْتِهِ فَظَنَّ الْحَارِثُ أَنَّهُ قَدْ حَدَثَ فِيهِ سَخْطَةٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ فَدَعَا بِسَرَوَاتِ قَوْمِهِ فَقَالَ لَهُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ وَقَّتَ لِي وَقْتًا يُرْسِلُ إِلَيَّ رَسُولَهُ لِيَقْبِضَ مَا كَانَ عِنْدِي مِنَ الزَّكَاةِ وَلَيْسَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْخُلْفُ وَلَا أَرَى حَبْسَ رَسُولِهِ إِلَّا مِنْ سَخْطَةٍ كَانَتْ فَانْطَلِقُوا فَنَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ إِلَى الْحَارِثِ لِيَقْبِضَ مَا كَانَ عِنْدَهُ مِمَّا جَمَعَ مِنَ الزَّكَاةِ فَلَمَّا أَنْ سَارَ الْوَلِيدُ حَتَّى بَلَغَ بَعْضَ الطَّرِيقِ فَرِقَ فَرَجَعَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْحَارِثَ مَنَعَنِي الزَّكَاةَ وَأَرَادَ قَتْلِي فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبَعْثَ إِلَى الْحَارِثِ فَأَقْبَلَ الْحَارِثُ بِأَصْحَابِهِ إِذِ اسْتَقْبَلَ الْبَعْثَ وَفَصَلَ مِنَ الْمَدِينَةِ لَقِيَهُمُ الْحَارِثُ فَقَالُوا هَذَا الْحَارِثُ فَلَمَّا غَشِيَهُمْ قَالَ لَهُمْ إِلَى مَنْ بُعِثْتُمْ قَالُوا إِلَيْكَ قَالَ وَلِمَ قَالُوا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ بَعَثَ إِلَيْكَ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ فَزَعَمَ أَنَّكَ مَنَعْتَهُ الزَّكَاةَ وَأَرَدْتَ قَتْلَهُ قَالَ لَا وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ مَا رَأَيْتُهُ بَتَّةً وَلَا أَتَانِي فَلَمَّا دَخَلَ الْحَارِثُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنَعْتَ الزَّكَاةَ وَأَرَدْتَ قَتْلَ رَسُولِي قَالَ لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا رَأَيْتُهُ وَلَا أَتَانِي وَمَا أَقْبَلْتُ إِلَّا حِينَ احْتَبَسَ عَلَيَّ رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَشِيتُ أَنْ تَكُونَ كَانَتْ سَخْطَةً مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ قَالَ فَنَزَلَتِ الْحُجُرَاتُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَنِعْمَةً وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ [الحجرات: 6-8]
۔ سیدنا حارث بن ضرار خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اسلام کی دعوت دی،سو میں دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے زکوٰۃ کی دعوت دی، میں نے اس کا بھی اقرار کیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنی قوم کی طرف لوٹتا ہوں اور انہیں دعوتِ اسلام دیتا ہوں اور انہیں زکوٰۃ ادا کرنے کا بھی حکم دیتا ہوں، جو میری بات مان لے گا، میں اس کی زکوٰۃ جمع کر رکھوں گا، پھر میرے پاس اتنی دیر تک اپنا نمائندہ بھیجنا تا کہ جو میں نے زکوٰۃ جمع کر رکھی ہو، و ہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آئے، جب سیدنا حارث رضی اللہ عنہ نے اور ان کی بات ماننے والوں نے زکوٰۃ جمع کرلی اور وہ مدت پوری ہوگئی، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمائندہ بھیجنے کا ارادہ ظاہر فرمایا تھا، وہ نمائندہ کسی وجہ سے رک گیا، نہ جا سکا، لیکن اُدھر سیدنا حارث رضی اللہ عنہ نے خیال کیا کہ میرے بارے میں اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول کے ہاں کوئی ناراضگی پیدا ہو گئی ہے، پس انہوں نے اپنی قوم کے سربر آور وہ افراد کو جمع کیا اوران سے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے پاس اتنی مدت میں نمائندہ بھیجنے کا فرمایا تھا، تا کہ وہ میرے پاس سے زکوٰۃ وصول کرے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی وعدہ خلافی بھی نہیں کرتے، نمائندہ روکنے کی وجہ میرے خیال کے مطابق یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناراض ہیں،چلو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلتے ہیں، (تاکہ سبب دریافت کر سکیں)، اُدھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (وعدہ کے مطابق) ولید بن عقبہ کو نمائندہ بنا کر حارث کے پاس بھیجا تھا تا کہ جو اس کے پاس زکوٰۃ کا مال جمع ہے، وہ لے آئے، جب ولید چلا، تو وہ ابھی راستے میں ہی تھاکہ ڈرا اور واپس چلا گیا اور آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! حارث نے مجھے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا ہے اور اس نے مجھے قتل کرنا چاہا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک جہادی دستہ حارث بن ضرار رضی اللہ عنہ کی جانب بھیجا، آگے سے حارث رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں سمیت آرہے تھے، جب اس کا سامنا اس دستے سے ہوا اور دستہ مدینہ سے باہر نکل چکا تھا، تو وہ کہنے لگے: حارث رضی اللہ عنہ تو یہ ہے، جب قریب ہوئے تو حارث رضی اللہ عنہ نے اس دستہ والوں سے پوچھا: تمہیں کہاں بھیجا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: تیری طرف، اس نے کہا: وہ کیوں؟ انھوں نے کہا: وجہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیری طرف ولید بن عقبہ کو بھیجا، لیکن اس کے بقول تو نے اس کو زکوٰۃ بھی نہیں دی او ر پھر اسے قتل بھی کرنا چاہا ہے۔ حارث رضی اللہ عنہ نے کہا:نہیں، اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق دے کر مبعوث کیا ہے، میں نے تو اسے دیکھا تک نہیں اور نہ ہی وہ میرے پاس آیا ہے۔ پھر جب حارث رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آےتو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تونے زکوٰۃ بھی روک لی اور میرے نمائندے کو قتل بھی کرنا چاہا۔ حارث رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کربھیجا ہے، میں نے تو اسے دیکھا تک نہیں اور نہ ہی وہ میرے پاس آیا ہے۔ میں تو صرف اس وقت آیا ہوں، جب میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نمائندہ نہیں آیا، رک گیا ہے، سو میں خوفزدہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالی ٰیا اللہ کے رسول مجھ سے ناراض ہو گئے ہوں، سو یہ آیات نازل ہوئیں: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا إِنْ جَائَ کُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَیَّنُوْا … … وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔} [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8761]
تخریج الحدیث: «حسن بشواهده دون قصة اسلام الحارث بن ضرار، وھذا اسناد ضعفے لجھالة دينار والد عيسي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18459 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18650»
وضاحت: فوائد: … یہ کل تین آیات تھیں، جو کہ درج ذیل ہے: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا إِنْ جَائَ کُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَیَّنُوْا أَ نْ تُصِیبُوْا قَوْمًا بِجَہَالَۃٍ فَتُصْبِحُوا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِیْنَ۔ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ فِیْکُمْ رَسُوْلَ اللّٰہِ لَوْ یُطِیْعُکُمْ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیْکُمُ الْاِیْمَانَ وَزَیَّنَۃُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَکَرَّہَ اِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْیَانَ اُولٰیِکَ ہُمُ الرّٰشِدُوْنَ۔ فَضْلًا مِّنَ اللّٰہِ وَنِعْمَۃً وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ}
(سورۂ حجرات: ۶، ۷، ۸)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تمھارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو لاعلمی کی وجہ سے نقصان پہنچا دو، پھر جو تم نے کیا اس پر پشیمان ہو جاؤ۔ اور جان لو کہ بے شک تم میں اللہ کا رسول ہے، اگر وہ بہت سے کاموں میں تمھارا کہا مان لے تو یقینا تم مشکل میں پڑ جاؤ اور لیکن اللہ نے تمھارے لیے ایمان کو محبوب بنا دیا اور اسے تمھارے دلوں میں مزین کر دیا اور اس نے کفر اور گناہ اور نافرمانی کو تمھارے لیے ناپسندیدہ بنا دیا،یہی لوگ ہدایت والے ہیں۔ اللہ کی طرف سے فضل اور نعمت کی وجہ سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ فاسق کی خبر پر اعتماد نہ کرو، جب تک پوری تحقیق و تفتیش سے اصل واقعہ صاف طور پر معلوم نہ ہو جائے، کوئی حرکت نہ کرو ممکن ہے کہ کسی فاسق شخص نے کوئی جھوٹی بات کہہ دی ہو یا خود اس سے غلطی ہوئی ہو اور تم اس کی خبر کے مطابق کوئی کام کر گزرو تو اصل اس کی پیروی ہو گی اور مفسد لوگوں کی پیروی حرام ہے، اسی آیت کو دلیل بنا کر بعض محدثین کرام نے اس شخص کی روایت کو بھی غیر معتبر بتایا ہے، جس کا حال معلوم نہ ہو، اس لئے کہ بہت ممکن ہے کہ یہ شخص فی الواقع فاسق ہو۔ مسلمان کو چاہیے کہ ہمیشہ صدق و صفا کومد نظر رکھے، سچی باتیںبیان کرے اور شرعی اصولوںکے مطابق سچی باتیں ہی سنے۔
(سورۂ حجرات: ۶، ۷، ۸)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تمھارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو لاعلمی کی وجہ سے نقصان پہنچا دو، پھر جو تم نے کیا اس پر پشیمان ہو جاؤ۔ اور جان لو کہ بے شک تم میں اللہ کا رسول ہے، اگر وہ بہت سے کاموں میں تمھارا کہا مان لے تو یقینا تم مشکل میں پڑ جاؤ اور لیکن اللہ نے تمھارے لیے ایمان کو محبوب بنا دیا اور اسے تمھارے دلوں میں مزین کر دیا اور اس نے کفر اور گناہ اور نافرمانی کو تمھارے لیے ناپسندیدہ بنا دیا،یہی لوگ ہدایت والے ہیں۔ اللہ کی طرف سے فضل اور نعمت کی وجہ سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ فاسق کی خبر پر اعتماد نہ کرو، جب تک پوری تحقیق و تفتیش سے اصل واقعہ صاف طور پر معلوم نہ ہو جائے، کوئی حرکت نہ کرو ممکن ہے کہ کسی فاسق شخص نے کوئی جھوٹی بات کہہ دی ہو یا خود اس سے غلطی ہوئی ہو اور تم اس کی خبر کے مطابق کوئی کام کر گزرو تو اصل اس کی پیروی ہو گی اور مفسد لوگوں کی پیروی حرام ہے، اسی آیت کو دلیل بنا کر بعض محدثین کرام نے اس شخص کی روایت کو بھی غیر معتبر بتایا ہے، جس کا حال معلوم نہ ہو، اس لئے کہ بہت ممکن ہے کہ یہ شخص فی الواقع فاسق ہو۔ مسلمان کو چاہیے کہ ہمیشہ صدق و صفا کومد نظر رکھے، سچی باتیںبیان کرے اور شرعی اصولوںکے مطابق سچی باتیں ہی سنے۔
الحكم على الحديث: صحیح
7. بَابُ: «وَلَا تَنَابَزُوا بِالالْقَابِ»
{وَاِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا …} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8762
حَدَّثَنَا عَارِمٌ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ أَنَّ أَنَسًا قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَتَيْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبَ حِمَارًا وَانْطَلَقَ الْمُسْلِمُونَ يَمْشُونَ وَهِيَ أَرْضٌ سَبِخَةٌ فَلَمَّا انْطَلَقَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِلَيْكَ عَنِّي فَوَاللَّهِ لَقَدْ آذَانِي رِيحُ حِمَارِكَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَاللَّهِ لَحِمَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَطْيَبُ رِيحًا مِنْكَ قَالَ فَغَضِبَ لِعَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ قَالَ فَغَضِبَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَصْحَابُهُ قَالَ وَكَانَ بَيْنَهُمْ ضَرْبٌ بِالْجَرِيدِ وَبِالْأَيْدِي وَالنِّعَالِ فَبَلَغَنَا أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِمْ وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا [الحجرات: 9]
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ آپ خود عبداللہ بن ابی کے پاس چلے جائیں، (تو شاید اس میں بہتری ہو)، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہو کر اس کے پاس پہنچ گئے، مسلمان بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے، زمین شور والی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چلنے سے گرد اٹھی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس شخص تک پہنچے تو اس نے کہا: ذرا دور رہو، اللہ کی قسم! مجھے آپ کے گدھے کی بو سے تکلیف ہوئی ہے۔ ایک انصاری آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گدھا تجھ سے زیادہ خوشبو والا ہے، اُدھر عبداللہ کے حمایتی لوگوں میں سے ایک آدمی جوش میں آ گیا، اِدھر سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حمایت میں پر جوش ہو گئے، دونوں کے حمایتی آپس میں گتھم گتھا ہو گئے، درخت کی ٹہنیوں، مکوں اور جوتوں کا استعمال ہوا،ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی تھی: {وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ اقْتَتَلُوْا فَأَ صْلِحُوْا بَیْنَہُمَا} … اگر ایمانداروں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دیا کرو۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8762]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2691، ومسلم: 1799، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12607 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12634»
الحكم على الحديث: صحیح