Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. بَابُ: «قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا»
{فَرَوْحٌ وَّرَیْحَانٌ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8782
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فَرُوحٌ وَرَيْحَانٌ [سورة الواقعة: ٨٩]
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پڑھا: {فَرُوْحٌ وَّ رَیْحَانٌ} (یعنی رائ پر ضمہ پڑھا)۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8782]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3991، والترمذي2938، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25785 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26304»
وضاحت: فوائد: … متواتر قراء ت میں رائ پر فتحہ ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ: «وَيَحْلِفُونَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ»
سورۂ مجادلہ {قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِہَا …} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8783
عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ ثَعْلَبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ وَاللَّهِ فِيَّ وَفِي أَوْسِ بْنِ صَامِتٍ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ صَدْرَ سُورَةِ الْمُجَادَلَةِ قَالَتْ كُنْتُ عِنْدَهُ وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ سَاءَ خُلُقُهُ وَضَجِرَ قَالَتْ فَدَخَلَ عَلَيَّ يَوْمًا فَرَاجَعْتُهُ بِشَيْءٍ فَغَضِبَ فَقَالَ أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي قَالَتْ ثُمَّ خَرَجَ فَجَلَسَ فِي نَادِي قَوْمِهِ سَاعَةً ثُمَّ دَخَلَ عَلَيَّ فَإِذَا هُوَ يُرِيدُنِي عَلَى نَفْسِي قَالَتْ فَقُلْتُ كَلَّا وَالَّذِي نَفْسُ خَوْلَةَ بِيَدِهِ لَا تَخْلُصُ إِلَيَّ وَقَدْ قُلْتَ مَا قُلْتَ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فِينَا بِحُكْمِهِ قَالَتْ فَوَاثَبَنِي وَامْتَنَعْتُ مِنْهُ فَغَلَبْتُهُ بِمَا تَغْلِبُ بِهِ الْمَرْأَةُ الشَّيْخَ الضَّعِيفَ فَأَلْقَيْتُهُ عَنِّي قَالَتْ ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى بَعْضِ جَارَاتِي فَاسْتَعَرْتُ مِنْهَا ثِيَابَهَا ثُمَّ خَرَجْتُ حَتَّى جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَذَكَرْتُ لَهُ مَا لَقِيتُ مِنْهُ فَجَعَلْتُ أَشْكُو إِلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَلْقَى مِنْ سُوءِ خُلُقِهِ قَالَتْ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَا خَوْلَةُ ابْنُ عَمِّكِ شَيْخٌ كَبِيرٌ فَاتَّقِي اللَّهَ فِيهِ قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا بَرِحْتُ حَتَّى نَزَلَ فِيَّ الْقُرْآنُ فَتَغَشَّى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ يَتَغَشَّاهُ ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ فَقَالَ لِي يَا خَوْلَةُ قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيكِ وَفِي صَاحِبِكِ ثُمَّ قَرَأَ عَلَيَّ قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ إِلَى قَوْلِهِ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ [سورة المجادلة: ١-٤] فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُرِيهِ فَلْيُعْتِقْ رَقَبَةً قَالَتْ فَقُلْتُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عِنْدَهُ مَا يُعْتِقُ قَالَ فَلْيَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ قَالَتْ فَقُلْتُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ شَيْخٌ كَبِيرٌ مَا بِهِ مِنْ صِيَامٍ قَالَ فَلْيُطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ قَالَتْ قُلْتُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا ذَاكَ عِنْدَهُ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّا سَنُعِينُهُ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ قَالَتْ فَقُلْتُ وَأَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ سَأُعِينُهُ بِعَرَقٍ آخَرَ قَالَ قَدْ أَصَبْتِ وَأَحْسَنْتِ فَاذْهَبِي فَتَصَدَّقِي عَنْهُ ثُمَّ اسْتَوْصِي بِابْنِ عَمِّكِ خَيْرًا قَالَتْ فَفَعَلْتُ قَالَ سَعْدٌ الْعَرَقُ الصِّنُّ
۔ سیدہ خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے سورۂ مجادلہ کا ابتدائی حصہ میرے اور میرے خاوند سیدنا اوس بن صامت رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل کیا، تفصیل یہ ہے: میں ان کی بیوی تھی، اوس بوڑھے اور ضعیف ہو گئے، جس کی وجہ سے بداخلاق ہو گئے تھے اور تنگ پڑ جاتے تھے، ایک دن میرے پاس آئے، میں نے ان سے تکرار کیا، وہ غصے میں آئے اور کہا:تو میرے اوپر میری ماں کی پشت کی مانند ہے، پھر باہر چلے گئے، کچھ دیر اپنی قوم کی مجلس میں بیٹھےرہے، پھر میرے پاس آئے اور مجھ سے صحبت کرنا چاہی، لیکن میں نے کہا: ہر گز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں خولہ رضی اللہ عنہاکی جان ہے! تو مجھ تک رسائی حاصل نہیں کر سکے گا، تو نے تو ابھی یہ کچھ کہا ہے،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فیصلہ نہ کردیں، وہ میری طرف کود پڑے، لیکن میں خود کو ان سے محفوظ کرنے میں کامیاب ہو گئی، جیسے ایک عورت اپنے بوڑھے خاوندپر غالب آ جاتی ہے، میں نے انہیں دور پھینکا اور میں باہر نکل گئی، اپنی ہمسائی سے کپڑے لیے اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ کر سارا واقعہ بیان کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اپنے خاوند کی بد خلقی کی شکایت کرنے لگی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے خولہ! وہ تیرا چچے کا بیٹا ہے اور بوڑھا ہو گیا ہے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ لیکن میں اسی طرح تکرار کرتی رہی حتیٰ کہ میرے بارے میں قرآن مجید نازل ہونے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وہ کیفیت طاری ہو گئی، جو وحی میں ہوتی تھی، پھر وہ کیفیت ختم ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے خولہ! تیرے اور تیرے خاوند کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا حکم نازل ہوگیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیات تلاوت کیں: {قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِی تُجَادِلُکَ فِی زَوْجِہَا وَتَشْتَکِیْ إِلَی اللّٰہِ وَاللّٰہُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَ کُمَا إِنَّ اللّٰہَ سَمِیعٌ بَصِیرٌ … … وَلِلْکَافِرِینَ عَذَابٌ أَ لِیمٌ}۔سیدنا خولہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: خاوند سے کہو کہ ایک گردن آزاد کرے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے پاس اتنی گنجائش تو نہیں ہے کہ وہ غلام آزاد کرسکے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اس سے کہو مسلسل دو ماہ کے روزے رکھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ تو بہت بوڑھا ہے اور وہ روزے کی طاقت بھی نہیں رکھتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اسے کہو کہ ساٹھ مسکینوں کو ایک وسق کھانا کھلا دے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بھی اس کے پاس نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک ٹوکرا کھجوروں کا میں تعاون کر دیتا ہوں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک ٹوکرا میں بھی مدد کر دیتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے بہت درست اور اچھا فیصلہ کیا ہے، اب جا اور اس کی طرف سے صدقہ کر، پھر اپنے چچے کے بیٹے سے ہمدردی کا برتاؤ کرنا۔ پس میں نے ایسا ہی کیا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8783]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة معمر بن عبد الله۔ أخرجه ابوداود: 2214، 2215، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27319 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27862»
وضاحت: فوائد: … یہ کل چار آیات تھیں، جو کہ درج ذیل ہیں: {قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِی تُجَادِلُکَ فِی زَوْجِہَا وَتَشْتَکِیْ إِلَی اللّٰہِ وَاللّٰہُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَ کُمَا إِنَّ اللّٰہَ سَمِیعٌ بَصِیرٌ۔ اَلَّذِیْنَیُظٰہِرُوْنَ مِنْکُمْ مِّنْ نِّسَایِــہِمْ مَّا ہُنَّ اُمَّہٰتِہِمْ اِنْ اُمَّہٰتُہُمْ اِلَّا ا وَلَدْنَہُمْ وَاِنَّہُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْکَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُوْرًا وَاِنَّ اللّٰہَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ۔ وَالَّذِیْنَیُظٰہِرُوْنَ مِنْ نِّسَائِہِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّـتَـمَاسَّا ذٰلِکُمْ تُوْعَظُوْنَ بِہٖوَاللّٰہُبِمَاتَعْمَلُوْنَخَبِیْرٌ۔ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَـاسَّا فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِـتِّیْنَ مِسْکِیْنًا ذٰلِکَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖوَتِلْکَحُدُوْدُاللّٰہِوَلِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔}
یقینا اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے خاوند کے بارے میں جھگڑ رہی تھی اور اللہ کی طرف شکایت کر رہی تھی اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا۔ بے شک اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ وہ لوگ جو تم میں سے اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیںوہ ان کی مائیں نہیں ہیں، ان کی مائیں ان کے سوا کوئی نہیں جنھوں نے انھیں جنم دیا اور بلاشبہ وہ یقینا ایک بری بات اور جھوٹ کہتے ہیں اور بلاشبہ اللہ یقینا بے حد معاف کرنے والا، نہایت بخشنے والا ہے۔ اور وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں، پھر اس سے رجوع کر لیتے ہیں جو انھوں نے کہا، تو ایک گردن آزاد کرنا ہے، اس سے پہلے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں،یہ ہے وہ (کفارہ) جس کے ساتھ تم نصیحت کیے جاتے ہو، اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، پوری طرح باخبر ہے۔پھر جو شخص نہ پائے تو دو پے درپے مہینوں کا روزہ رکھنا ہے، اس سے پہلے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، پھر جو اس کی (بھی) طاقت نہ رکھے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ یہ اس لیے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور یہ اللہ کی حدیں ہیں اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
ان آیات میں ظہار اور اس کے کفارے کا بیان ہے۔ ظہار یہ ہے کہ خاوند اپنی بیوی کو یوں کہے: اَنْتِ عَلَیَّ کَظَہْرِ اُمَّتِیْ۔ (تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے)۔ زمانۂ جاہلیت میں ظہار کو طلاق سمجھا جاتا تھا، سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا اسی وجہ سے سخت پریشان ہو گئی تھیں، اس وقت تک اس کی بابت کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا، اس لیے جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی کچھ توقف کیا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بحث و تکرار کرتی رہیں، بالآخر یہ آیات نازل ہوئیں، جس میں اس کے مسئلہ کی وضاحت کر دی گئی۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8784
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَسِعَ سَمْعُهُ الْأَصْوَاتَ لَقَدْ جَاءَتِ الْمُجَادِلَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تُكَلِّمُهُ وَأَنَا فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ مَا أَسْمَعُ مَا تَقُولُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا [سورة المجادلة: ١] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: تمام تعریفات اس اللہ کے لئے ہیں، جس کا سننا تمام آوازوں کو شامل ہے، بحث و تکرار کرنے والی (سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور گفتگو کرنے لگی، جبکہ میں گھر کے ایک کونے میں تھی، میں اس کی بات نہ سن سکی، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کر دیں: {قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِی تُجَادِلُکَ فِی زَوْجِہَا وَتَشْتَکِیْ إِلَی اللّٰہِ وَاللّٰہُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَ کُمَا إِنَّ اللّٰہَ سَمِیعٌ بَصِیرٌ۔} … یقینا اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے خاوند کے بارے میں جھگڑ رہی تھی اور اللہ کی طرف شکایت کر رہی تھی اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا۔بے شک اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8784]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 2220، وابن ماجه: 188، والنسائي: 6/ 168، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24195 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24699»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8785
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ وَعَلَيْكُمْ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ وَعَلَيْكُمُ السَّامُ وَالذَّامُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ لَا تَكُونِي فَاحِشَةً قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ قَالَ أَلَيْسَ قَدْ رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ الَّذِي قَالُوا قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ يَعْنِي فِي حَدِيثِ عَائِشَةَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ [سورة المجادلة: ٨] حَتَّى فَرَغَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ یہودی آئے اور کہا: اے ابو القاسم! اَلسَّامُ عَلَیْکَ (تجھ پر موت ہو)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں جواب دیا: وَعَلَیْکُم (اور تم پر بھی ہو)۔لیکن سیدہ عائشہ نے کہا: تم پر موت بھی ہو اور مذمت بھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! اتنی بد گوئی نہ کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے سنا نہیں کہ انھوں نے کیا کہا، ان لوگوں نے اَلسَّامُ عَلَیْکَ کہا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو کیا میں نے ان کا جواب دے نہیں دیا، میں نے کہہ تو دیا ہے: وَعَلَیْکُمْ۔ ابن نمیر راوی کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فحش اور بہ تکلف بدگوئی کو پسند نہیں کرتا۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی: {وَاِذَا جَاء ُوْکَ حَیَّوْکَ بِمَا لَمْ یُحَیِّکَ بِہِ اللّٰہُ وَیَقُوْلُوْنَ فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ لَوْلَا یُعَذِّبُنَا اللّٰہُ بِمَا نَقُوْلُ حَسْبُہُمْ جَہَنَّمُ یَصْلَوْنَہَا فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۔} … اور جب تیرے پاس آتے ہیں تو (ان لفظوں کے ساتھ) تجھے سلام کہتے ہیں جن کے ساتھ اللہ نے تجھے سلام نہیں کہا اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ اللہ ہمیں اس پر سزا کیوں نہیں دیتا جو ہم کہتے ہیں؟ انھیں جہنم ہی کافی ہے، وہ اس میں داخل ہوں گے، پس وہ برا ٹھکانا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8785]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2165، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25924 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26449»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8786
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ الْيَهُودَ كَانُوا يَقُولُونَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَامٌ عَلَيْكَ ثُمَّ يَقُولُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بِمَا نَقُولُ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ [سورة المجادلة: ٨] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہودی،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سَامٌ عَلَیْکَ (تجھ پر موت ہو)کہا کرتے تھے، پھر اپنے دل میں ہی کہتے: اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی وجہ سے عذاب کیوں نہیں دیتا جو ہم کہتے ہیں، پس یہ آیت نازل ہوئی: {وَاِذَا جَاء ُوْکَ حَیَّوْکَ بِمَا لَمْ یُحَیِّکَ بِہِ اللّٰہُ وَیَقُوْلُوْنَ فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ لَوْلَا یُعَذِّبُنَا اللّٰہُ بِمَا نَقُوْلُ حَسْبُہُمْ جَہَنَّمُ یَصْلَوْنَہَا فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۔} … اور جب تیرے پاس آتے ہیں تو (ان لفظوں کے ساتھ) تجھے سلام کہتے ہیں جن کے ساتھ اللہ نے تجھے سلام نہیں کہا اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ اللہ ہمیں اس پر سزا کیوں نہیں دیتا جو ہم کہتے ہیں؟ انھیں جہنم ہی کافی ہے، وہ اس میں داخل ہوں گے، پس وہ برا ٹھکانا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8786]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البزار: 2271، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6589 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6589»
وضاحت: فوائد: … یہیہودیوں کا خبث ِباطن تھا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً اپنے وقار کو برقرار رکھا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ: «مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَة» ‏‏‏‏
{وَیَحْلِفُوْنَ عَلَی الْکَذِبِ وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ}کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8787
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ظِلِّ حُجْرَةٍ مِنْ حُجَرِهِ وَعِنْدَهُ نَفَرٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَدْ كَادَ يَقْلِصُ عَنْهُمُ الظِّلُّ قَالَ فَقَالَ إِنَّهُ سَيَأْتِيكُمْ إِنْسَانٌ يَنْظُرُ إِلَيْكُمْ بِعَيْنَيْ شَيْطَانٍ فَإِذَا أَتَاكُمْ فَلَا تُكَلِّمُوهُ قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ أَزْرَقُ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَهُ قَالَ عَلَامَ تَشْتُمُنِي أَنْتَ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ نَفَرٌ دَعَاهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ قَالَ فَذَهَبَ الرَّجُلُ فَدَعَاهُمْ فَحَلَفُوا بِاللَّهِ وَاعْتَذَرُوا إِلَيْهِ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ [سورة المجادلة: ١٨] الْآيَةَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک حجرہ کے سائے میں تشریف فرما تھے، کچھ مسلمان بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اب سایہ سکڑرہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تمہارے پاس ایک آدمی آئے گا، جو تمہیں شیطان کی نظروں سے دیکھے گا، جب وہ تمہار پاس آئے تو اس سے بات نہ کرنا۔ اتنے میں ایک نیلی آنکھوں والا آدمی آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلایا اوراس سے بات کی اور فرمایا: تو اور فلاں فلاں آدمی مجھ کو برا بھلا کیوں کہتے ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چند افراد کے نام بھی لیے، وہ آدمی گیا اور ان سب کو بلا لایا، پھر انہوں نے اللہ کی قسم اٹھائی اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معذرت کی، اُدھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار دی: {یَوْمَیَبْعَثُہُمُ اللّٰہُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَہ کَمَا یَحْلِفُوْنَ لَکُمْ وَیَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ عَلٰی شَیْء ٍ اَلَآ اِنَّہُمْ ہُمُ الْکٰذِبُوْنَ۔} … جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو وہ اس کے سامنے قسمیں کھائیں گے جس طرح تمھارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں اور گمان کریں گے کہ بے شک وہ کسی چیز پر (قائم) ہیں، سن لو! یقینا وہی اصل جھوٹے ہیں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8787]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني: 12308، والبيھقي في الدلائل: 5/ 282، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2407 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2407»
وضاحت: فوائد: … ان لوگوں کی بدبختی اور سنگ دلی کی انتہا ہے کہ قیامت والے دن، جہاں کوئی چیز مخفی نہیںرہے گی، وہاںبھی اللہ تعالی کے سامنے جھوٹی قسمیں کھانے کی شوخ چشمانہ جسارت کریں گے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8787M
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْمُجَادَلَةِ وَيَحْلِفُونَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ [سورة المجادلة: ١٤] وَالْآيَةُ الْأُخْرَى
۔ (دوسری سند)اس میں ہے: پس سورۂ مجادلہ کییہ آیت نازل ہوئی: {اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مَا ہُمْ مِّنْکُمْ وَلَا مِنْہُمْ وَیَحْلِفُوْنَ عَلَی الْکَذِبِ وَہُمْ یَعْلَمُوْنَ۔} … کیا تو نے ان لوگوں کو نہیںدیکھا جنھوں نے ان لوگوں کو دوست بنا لیا جن پر اللہ غصے ہو گیا، وہ نہ تم سے ہیں اور نہ ان سے اور وہ جھوٹ پر قسمیں کھاتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8787M]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2147»
وضاحت: فوائد: … اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ وہ قسمیںکھا کر مسلمانوں کو باور کراتے ہیں کہ وہ بھی تمہاری طرح مسلمان ہیںیایہودیوں سے ان کے رابطے نہیں ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ: مَا جَاءَ فِي أَوَاخِرِ سُورَةِ الْحَشَرِ
سورۂ حشر {مَاقَطَعْتُمْ مِنْ لِیْنَۃٍ …} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8788
عَنْ نَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَّعَ وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ [سورة الحشر: ٥]
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بویرہ جگہ پر بنو نضیر کی کھجوروں کو جلایا اور ان کو کاٹ ڈالا، اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِینَۃٍ أَ وْ تَرَکْتُمُوْہَا قَائِمَۃً عَلَی أُصُولِہَا فَبِإِذْنِ اللّٰہِ وَلِیُخْزِیَ الْفَاسِقِینَ} … جو بھی کھجور کا درخت تم نے کاٹا،یا اسے اس کی جڑوں پر کھڑا چھوڑا تو وہ اللہ کی اجازت سے تھا اور تاکہ وہ نافرمانوں کو ذلیل کرے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8788]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4031، 4884، ومسلم: 1746، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6054 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6054»
وضاحت: فوائد: … مختصر قصہ یہ ہے کہ مدینہ میں آ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان یہودیوں سے صلح کر لی تھی کہ نہ آپ ان سے لڑیں نہ یہ آپ سے لڑیں، لیکن ان لوگوں نے اس عہد کو توڑ دیا تھا، جن کی وجہ سے اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان پر غالب کیا اور آپ نے انہیںیہاں سے نکال دیا، مسلمانوں کو کبھی اس کا خیال تک نہ تھا، خود یہیہود بھی سمجھ رہے تھے کہ ان مضبوط قلعوں کے ہوتے ہوئے کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، لیکن جب اللہ کی پکڑ آئییہ سب چیزیںیونہی رکھی کی رکھی رہ گئیں اور اچانک اس طرح گرفت میں آ گئے کہ حیران رہ گئے اور آپ نے انہیں مدینہ سے نکلوا دیا، بعض تو شام کی زراعتی زمینوں میں چلے گئے، جو حشر و نشر کی جگہ ہے اور بعض خیبر کی طرف جا نکلے، ان سے کہہ دیا گیا تھا کہ اپنے اونٹوں پر لاد کر جو سامان لے جا سکو اپنے ساتھ لے جاؤ، اس لئے انہوں نے اپنے گھروں کو توڑ پھوڑ کر جو چیزیں لے جا سکتے تھے، اپنے ساتھ اٹھالیں، جو رہ گئیں وہ مسلمانوں کے ہاتھ لگیں۔
اس آیت میںبنونضیر کا ذکر ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا محاصرہ کیا تو ان کے کھجور کے درختوں کو آگ لگا دی اور کچھ کاٹ ڈالے اور کچھ چھوڑ دیئے، جس سے مقصود دشمن کی آڑ کو ختم کرنا تھا اور یہ واضح کرنا تھا کہ اب مسلمان تم پر غالب آ گئے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ: «ولا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوْ كُمْ فى الدِّيْنِ»
سورۂ حشر کی آخری تین آیات کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8789
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ وَقَرَأَ الثَّلَاثَ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْحَشْرِ وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ حَتَّى يُمْسِيَ إِنْ مَاتَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ مَاتَ شَهِيدًا وَمَنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي كَانَ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ
۔ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو صبح کو تین بار کہتا ہے: أَ عُوذُ بِاللّٰہِ السَّمِیعِ الْعَلِیمِ مِنْ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ، اور پھر سورۂ حشر کی آخری تین آیات کی تلاوت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ستر ہزار (70000) فرشتے مقرر کرتا ہے، جوشام تک اس کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں، اگر وہ اس دن فوت ہو جائے تو وہ شہید فوت ہوگا اور جو شام کو پڑھے گا، وہ صبح تک اسی مرتبہ پر ہوگا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8789]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، خالد بن طھمان ضعّفه ابن معين۔ أخرجه الترمذي: 2922، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20306 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20572»
وضاحت: فوائد: … سورۂ حشر کی آخری تین آیات درج ذیل ہیں: {ہُوَ اللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۔ ہُوَ اللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ اَلْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُہَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ۔ ہُوَ اللّٰہُ الْخَالِقُ الْبَارِیُ الْمُصَوِّرُ لَہُ الْاَسْمَاء ُ الْحُسْنٰییُسَبِّحُ لَہ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔} … وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، ہر چھپی اور کھلی چیز کو جاننے والا ہے، وہی بے حد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاہ ہے، نہایت پاک، سلامتی والا، امن دینے والا، نگہبان، سب پر غالب، اپنی مرضی چلانے والا، بے حد بڑائی والا ہے، پاک ہے اللہ اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔ وہ اللہ ہی ہے جو خاکہ بنانے والا، گھڑنے ڈھالنے والا، صورت بنادینے والا ہے، سب اچھے نام اسی کے ہیں، اس کی تسبیح ہر وہ چیز کرتی ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ: «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَائَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَابِعْنَكَ»
سورۂ ممتحنہ {لَا یَنْہَا کُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْ کُمْ فِی الدِّیْنِ …} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8790
عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَتْ قُتَيْلَةُ ابْنَةُ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ عَبْدِ أَسْعَدَ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ حَسَلٍ عَلَى ابْنَتِهَا أَسْمَاءَ ابْنَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِهَدَايَا ضِبَابٍ وَأَقِطٍ وَسَمْنٍ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فَأَبَتْ أَسْمَاءُ أَنْ تَقْبَلَ هَدِيَّتَهَا وَتُدْخِلَهَا بَيْتَهَا فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ [سورة الممتحنة: ٨] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ فَأَمَرَهَا أَنْ تَقْبَلَ هَدِيَّتَهَا وَأَنْ تُدْخِلَهَا بَيْتَهَا
۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فتیلہ بنت عبدالعزیٰ گوہ، پنیر اور گھی جیسے تحائف لے کر اپنی بیٹی سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کے پاس آئی، جبکہ وہ فتیلہ مشرک خاتون تھی، اس لیے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے اس کے تحائف قبول کرنے سے انکار کر دیا اوراسے گھر میں بھی داخل ہونے سے روک دیا، پھر جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: {لَا یَنْہٰیکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْہُمْ وَتُقْسِطُوْٓا اِلَیْہِمْ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ۔} … اللہ تمھیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا بر تاؤ کرو جنہوں نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ نہیں کی ہے اور تمھیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا ہے۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کو حکم دیا کہ اس کا ہدیہ قبول کرلیں اور اپنے گھر میں داخل ہونے دیں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8790]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف مصعب بن ثابت۔ أخرجه ابوداود الطيالسي: 1639، والحاكم: 2/ 485، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16111 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16210»
وضاحت: فوائد: … اس آیت میں ان کافروں کے بارے میں ہدایات دی جا رہی ہیں، جو مسلمانوں سے محض دین اسلام کی وجہ سے بغض و عداوت نہیں رکھتے اور اس بنیاد پر مسلمانوں سے لڑتے نہیں،یہ پہلی شرط ہے، اگلی آیات میں دوسری شرائط کا بیان ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں