الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ: «فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ»
سورۂ قمر {اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8772
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ رَأَيْتُ رَجُلًا سَأَلَ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ وَهُوَ يُعَلِّمُ الْقُرْآنَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ كَيْفَ نَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ [القمر: 15] أَذَالٌ أَمْ دَالٌ فَقَالَ لَا بَلْ دَالٌ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا مُدَّكِرٍ دَالًا
۔ ابو اسحاق کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی کو دیکھا، اس نے اسود بن یزید،جو مسجد میں قرآن کی تعلیم دیتاتھا، سے سوال کیااور کہا: ہم اس آیت کو کیسے پڑھیں:{فَہَلْ مِنْ مُدَّکِرٍ} یہ ذ ہے یا د؟ انھوں نے کہا: نہیں،یہ د ہے، میں نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو {مُدَّکِرٍ}پڑھتے ہوئے سنا، یعنی د کے ساتھ۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8772]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4871، ومسلم: 823، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4401 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4401»
وضاحت: فوائد: … مُدَّکِر لفظ اصل میں مُذْتَکِر تھا، اس کی ادائیگی زبانوں پر ثقیل تھی، اس لیے پہلے ت کو د سے بدلا، پھر ذ کو د سے بدل کر ادغام کر دیا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8773
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ مُشْرِكُو قُرَيْشٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُخَاصِمُونَهُ فِي الْقَدَرِ فَنَزَلَتْ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ [القمر: 48-49]
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قریشی مشرک، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تقدیر کے بارے میں جھگڑنے لگے، پس یہ آیات نازل ہوئیں: {یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْھِمِ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ۔ اِنَّا کُلَّ شَیْئٍ خَلَقْنَاہٗ بِقَدَرٍ} … جس دن یہ چہرں کے بل دوزخ میں گھسیٹے جائیں گے، ان سے کہا جائے گا دوزخ کا عذاب چکھو۔ بے شک ہم نے ہر چیز کوتقدیر کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8773]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2656، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9736 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9734»
وضاحت: فوائد: … کتاب کے اوائل میں تقدیر کے مسئلہ کی وضاحت کی جا چکی ہے، حدیث نمبر (۱۸۰) سے تقدیر کے مسائل شروع ہو رہے ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
12. بَابُ: «فَيَوْمَئِذٍ لَا يُسْتَلُ عَنْ ذَنْبِهِ إِنَّسٌ وَلا جَانٌ»
سورۂ رحمن {فَبِاَیِّ آلائِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8774
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْرَأُ وَهُوَ يُصَلِّي نَحْوَ الرُّكْنِ قَبْلَ أَنْ يَصْدَعَ بِمَا يُؤْمَرُ وَالْمُشْرِكُونَ يَسْتَمِعُونَ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ [الرحمن: 13]
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حجر اسود کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس نماز میں اس آیت کی تلاوت کر رہے تھے: {فَبِأَ یِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ} اور مشرک غور سے سن رہے تھے، جبکہ ابھی تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو واضح طور پر تبلیغ کا حکم نہیں ہوا تھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8774]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف،يحيي بن اسحاق، وان كان من قدماء اصحاب ابن لھيعة، الا ان ابن لھيعة انفرد به، وھو ممن لايحتمل تفرده۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 24/ 231، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26955 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27495»
الحكم على الحديث: ضعیف
13. بَابُ: «وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَان»
{فَیَوْمَئِذٍ لَا یُسْئَلُ عَنْ ذَنْبِہٖاِنْسٌوَّلَاجَانٌّ …} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8775
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُحَاسَبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَدٌ فَيُغْفَرَ لَهُ يَرَى الْمُسْلِمُ عَمَلَهُ فِي قَبْرِهِ وَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيَوْمَئِذٍ لَا يُسْأَلُ عَنْ ذَنْبِهِ إِنْسٌ وَلَا جَانٌّ يُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِيمَاهُمْ [الرحمن: 39، 41]
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ نہیں ہوسکتا کہ بندے کا قیامت کے دن محاسبہ بھی ہو اور پھر اس کو بخش بھی دیا جائے، مسلمان قبر میں بھی اپنے عمل کو دیکھتا ہے، اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: {فَیَوْمَئِذٍ لَا یُسْأَلُ عَنْ ذَنْبِہِ إِنْسٌ وَلَا جَانٌّ } … اس دن کسی انسان اور کسی جن سے اس کے گناہوں کے متعلق پوچھا نہیں جائے گی۔ نیز فرمایا: {یُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِیمَاہُمْ} … گنہگار صرف حلیہ سے ہی پہچان لیے جائیں گے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8775]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24716 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25223»
وضاحت: فوائد: … مسلمان قبر میں بھی اپنے عمل کو دیکھتا ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ قبر میں بھی مسلمان کا کچھ محاسبہ ہو جاتاہے، تاکہ قیامت کے دن کا معاملہ کچھ آسان ہو جائے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
14. بَابُ: «ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَقَلِيلٌ مِّنَ الْآخِرِينَ»
{وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖجَنَّتَانِ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8776
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُصُّ عَلَى الْمِنْبَرِ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ [الرحمن: 46] فَقُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الثَّانِيَةَ فَقُلْتُ الثَّانِيَةَ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الثَّالِثَةَ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ فَقُلْتُ الثَّالِثَةَ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ نَعَمْ وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي الدَّرْدَاءِ
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر پر یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا: {وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتَانِ} … جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس کے لیے دو بہشتیں ہیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگرچہ وہ زنا بھی کرے اورچوری بھی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ یہی آیت پڑھی، میں نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! اگرچہ وہ زنا بھی کرے اورچوری بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسری بار یہی آیت پڑھی کہ {وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتَانِ}،لیکن میں نے بھی تیسری بار بھی کہہ دیا: اے اللہ کے رسول! اگرچہ وہ زنا بھی کرے اور چوری بھی، اب کی بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اگرچہ ابو درداء کی ناک خاک آلود ہو جائے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8776]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي في الكبري: 11561، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8683 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8668»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں خوفِ خدا کی فضیلت بیان کی گئی ہے، زنا اور چوری کی اجازت نہیں دی گئی، صحیح طریقہیہ ہے کہ جس حدیث ِ مبارکہ میں کسی چیز کی فضیلتیا مذمت بیان ہو رہی ہو تو اس کے موضوع کو سمجھ کر فضیلت والی چیز کو اپنایا جائے اور مذمت والی چیز سے اجتناب کیاجائے، مزید دیکھیں حدیث نمبر (۵۴۲۸، ۸۹۳۷) خوف ِ خدا اور خشیت ِ الٰہی ہی ایسی چیز ہے، جس کی وجہ سے نیکیوں کو سرانجام دینا اور برائیوں سے اجتناب کرنا بہت آسان ہو جاتا ہے، سینکڑوں آیات و احادیث میں اللہ تعالی سے ڈرنے کی فضیلت بیان کی گئی اور اس کا درس دیا گیا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
15. بَابُ: «وَظِلْ مَمْدُوْدِ»
سورۂ واقعہ {ثُلَّۃٌ مِنَ الْاَوَّلِیْنَ وَقَلِیْلٌ مِّنَ الْآخِرِیْنَ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8777
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَقَلِيلٌ مِنَ الْآخِرِينَ [الواقعة: 13-14] شَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَنَزَلَتْ ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِنَ الْآخِرِينَ [الواقعة: 39-40] فَقَالَ أَنْتُمْ ثُلُثُ أَهْلِ الْجَنَّةِ بَلْ أَنْتُمْ نِصْفُ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَتُقَاسِمُونَهُمُ النِّصْفَ الْبَاقِي
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {ثُلَّۃٌ مِنْ الْأَ وَّلِینَ وَقَلِیلٌ مِنْ الْآخِرِینَ} … (سبقت لے جانے والوں) کا بہت بڑا گروہ تو اگلے لوگوں میں سے ہو گا اور تھوڑے سے پچھلے لوگوں میں سے۔ تو یہ بات مسلمانوں پر بہت گراں گزری، پس یہآیات نازل ہوئیں: {ثُلَّۃٌ مِنْ الْأَ وَّلِینَ وَثُلَّۃٌ مِنْ الْآخِرِینَ} … (دائیں ہاتھ والوں کا) جم غفیر اگلوں میں سے ہے اور بہت بڑی جماعت پچھلوں میں سے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جنت والوں میں سے تیسرا حصہ ہو گے، بلکہ اہل جنت کا نصف حصہ تم ہو گے اور باقی نصف میں بھی تم ان کے حصہ دار ہو گے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8777]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9080 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9069»
الحكم على الحديث: صحیح
16. بَابُ: «وَفُرُشٍ مَرْفُوعَةٍ»
{وَظِلٍّ مَمْدُوْدٍ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8778
حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ وَظِلٍّ مَمْدُودٍ [الواقعة: 30] عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا قَالَ مَعْمَرٌ وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَيَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاقْرَأُوا إِنْ شِئْتُمْ وَظِلٍّ مَمْدُودٍ [الواقعة: 30]
۔ قتادہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {وَظِلٍّ مَمْدُودٍ} … اور لمبے لمبے سایوں میں کی تفسیر بیان کرتے ہوئے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا جنت میں ایک درخت ہے، سوار اس کے سائے میں ایک سو سال چلے گا، پھر بھی اسے طے نہ کر سکے گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے: اگر چاہتے ہو تو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھ لو: {وَظِلٍّ مَمْدُودٍ} … اور لمبے لمبے سایوں میں [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8778]
تخریج الحدیث: «أخرجه من حديث ابي ھريرة البخاري: 4881، ومسلم: 2826، و أخرجه من حديث انس الترمذي: 3293، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12707 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12706»
الحكم على الحديث: صحیح
17. بَابُ: «فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ»
{وَفُرُشٍ مَرْفُوْعَۃٍ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8779
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ وَفُرُشٍ مَرْفُوعَةٍ [الواقعة: 34] وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ ارْتِفَاعَهَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَإِنَّ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَمَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: {وَفُرُشٍ مَرْفُوعَۃٍ} … اور اونچے اونچے بستروں میں ہوں گے۔ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے: ان کی بلندی اتنی ہو گی، جیسے آسمان اور زمین کے درمیان بلندی ہے، جبکہ آسمان اور زمین کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8779]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، ولضعف رواية دراج عن ابي الھيثم۔ أخرجه الترمذي: 2540، 3294، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11719 ترقیم بيت الأفكار الدولية:»
الحكم على الحديث: ضعیف
18. بَابُ: «وَ تَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ»
{فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8780
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ [الواقعة: 74] قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اجْعَلُوهَا فِي رُكُوعِكُمْ لَمَّا نَزَلَتْ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى [الأعلى: 1] قَالَ اجْعَلُوهَا فِي سُجُودِكُمْ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ} … اپنے ربّ عظیم کے نام کی تسبیح بیان کرو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ اس کے مضمون کو اپنے رکوع میں پڑھنے کے لئے مقرر کر لو۔ اور جب یہ آیت اتری {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی} … اپنے بلند و بالا رب کے نام کے ساتھ تسبیح بیان کرو۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے مضمون کو اپنے سجدوں کے لیے مقرر کر لو۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8780]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين۔ أخرجه ابوداود: 869، وابن ماجه: 887، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17414 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17549»
الحكم على الحديث: صحیح
19. بَابُ: «فَرَوْحٌ وَّرَيـْحَانٗ»
{وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَکُمْ اَنَّکُمْ تُکَذِّبُوْنَ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8781
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ قَالَ شُكْرَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ [سورة الواقعة: ٨٢] يَقُولُونَ مُطِرْنَا بِنَوْءٍ كَذَا وَكَذَا بِنَجْمٍ كَذَا وَكَذَا
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: {وَتَجْعَلُونَ رِزْقَکُمْ أَ نَّکُمْ تُکَذِّبُونَ} … اور تم اپنے شکر کی بجائے یہی کرتے ہو کہ جھٹلاتے ہو۔ اور کہتے ہو: ہمیں تو فلاں ستارے کی وجہ سے بارش دی گئی، ہم پر فلاں ستارے کی وجہ سے بارش برسی ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8781]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الترمذي: 3295، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 849 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 849»
وضاحت: فوائد: … اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جب رزق ملنے کی وجہ سے شکر کرنے کی باری آتی ہے، اس وقت لوگ نعمتوں کو غیر اللہ کی طرف منسوب کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح