صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. بَابُ مَنْ تَمَطَّرَ فِي الْمَطَرِ حَتَّى يَتَحَادَرَ عَلَى لِحْيَتِهِ:
باب: اس شخص کے بارے میں جو بارش میں قصداً اتنی دیر ٹھہرا کہ بارش سے اس کی داڑھی (بھیگ گئی اور اس) سے پانی بہنے لگا۔
حدیث نمبر: 1033
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: أَصَابَتِ النَّاسَ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَامَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا أَنْ يَسْقِيَنَا، قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَمَا فِي السَّمَاءِ قَزَعَةٌ، قَالَ: فَثَارَ سَحَابٌ أَمْثَالُ الْجِبَالِ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِهِ حَتَّى رَأَيْتُ الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ، قَالَ: فَمُطِرْنَا يَوْمَنَا ذَلِكَ وَفِي الْغَدِ وَمِنْ بَعْدِ الْغَدِ وَالَّذِي يَلِيهِ إِلَى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى، فَقَامَ ذَلِكَ الْأَعْرَابِيُّ أَوْ رَجُلٌ غَيْرُهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَهَدَّمَ الْبِنَاءُ وَغَرِقَ الْمَالُ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَقَالَ: اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، قَالَ: فَمَا جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ السَّمَاءِ إِلَّا تَفَرَّجَتْ حَتَّى صَارَتْ الْمَدِينَةُ فِي مِثْلِ الْجَوْبَةِ حَتَّى سَالَ الْوَادِي وَادِي قَنَاةَ شَهْرًا"، قَالَ: فَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَّا حَدَّثَ بِالْجَوْدِ.
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام اوزاعی نے خبر دی، کہا کہ ہم سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ انصاری نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگوں پر ایک دفعہ قحط پڑا۔ انہی دنوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ ایک دیہاتی نے کھڑے ہو کر کہا یا رسول اللہ! جانور مر گئے اور بال بچے فاقے پر فاقے کر ہے ہیں، اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ پانی برسائے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر دعا کے لیے دونوں ہاتھ اٹھا دیئے۔ آسمان پر دور دور تک ابر کا پتہ تک نہیں تھا۔ لیکن (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے) پہاڑوں کے برابر بادل گرجتے ہوئے آ گئے ابھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے بھی نہیں تھے کہ میں نے دیکھا کہ بارش کا پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی سے بہہ رہا ہے۔ انس نے کہا کہ اس روز بارش دن بھر ہوتی رہی۔ دوسرے دن تیسرے دن، بھی اور برابر اسی طرح ہوتی رہی۔ اس طرح دوسرا جمعہ آ گیا۔ پھر یہی بدوی یا کوئی دوسرا شخص کھڑا ہوا اور کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (کثرت باراں سے) عمارتیں گر گئیں اور جانور ڈوب گئے، ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دونوں ہاتھ اٹھائے اور دعا کی «اللهم حوالينا ولا علينا» کہ اے اللہ! ہمارے اطراف میں برسا اور ہم پر نہ برسا۔ انس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں سے آسمان کی جس طرف بھی اشارہ کر دیتے ابر ادھر سے پھٹ جاتا، اب مدینہ حوض کی طرح بن چکا تھا اور اسی کے بعد وادی قناۃ کا نالہ ایک مہینہ تک بہتا رہا۔ انس نے بیان کیا کہ اس کے بعد مدینہ کے اردگرد سے جو بھی آیا اس نے خوب سیرابی کی خبر لائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1033]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک دفعہ سخت قحط پڑا، چنانچہ آپ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ اس دوران میں ایک دیہاتی کھڑا ہو کر عرض کرنے لگا: اللہ کے رسول! مال مویشی تباہ ہو گئے اور بچے بھوک سے مرنے لگے، آپ اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ ہم پر بارش برسائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ سن کر) دونوں ہاتھ اٹھا لیے جبکہ اس وقت آسمان پر بادل کا ایک ٹکڑا بھی نہیں تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بادل ایسے اٹھا جیسے پہاڑ ہوتے ہیں۔ ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے نہیں تھے کہ میں نے دیکھا بارش آپ کی داڑھی مبارک سے ٹپک رہی تھی۔ تمام دن بارش ہوتی رہی، کل، پرسوں اور ترسوں، بعد ازاں دوسرے جمعہ تک بارش ہوتی رہی۔ پھر وہی دیہاتی یا کوئی اور شخص کھڑا ہوا اور عرض کرنے لگا: اللہ کے رسول! مکانات گرنے لگے اور مویشی ڈوبنے لگے، اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعا فرمائیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور دعا کی: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا» ”اے اللہ! ہمارے اردگرد بارش برسا، ہم پر نہ برسا۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آسمان کی جس طرف اشارہ فرماتے ادھر سے بادل چھٹ جاتا حتی کہ مدینہ منورہ ڈھال کی طرح ہو گیا اور وادی قنات مہینہ بھر بہتی رہی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مدینے کے اطراف سے جو شخص بھی آتا وہ کثرت بارش کی خبر دیتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1033]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
25. بَابُ إِذَا هَبَّتِ الرِّيحُ:
باب: جب ہوا چلتی۔
حدیث نمبر: 1034
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا، يَقُولُ:" كَانَتْ الرِّيحُ الشَّدِيدَةُ إِذَا هَبَّتْ عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں محمد بن جعفر نے خبر دی، انہوں نے کہا مجھے حمید طویل نے خبر دی اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب تیز ہوا چلتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ڈر محسوس ہوتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1034]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب تیز آندھی چلتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر خوف کے آثار نمایاں ہوتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1034]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
26. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نُصِرْتُ بِالصَّبَا» :
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ پروا ہوا کے ذریعہ مجھے مدد پہنچائی گئی۔
حدیث نمبر: 1035
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ".
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے حکم سے بیان کیا، ان سے مجاہد نے، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے پروا ہوا کے ذریعہ مدد پہنچائی گئی اور قوم عاد پچھوا کے ذریعہ ہلاک کر دی گئی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1035]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”باد صبا سے میری مدد کی گئی اور قوم عاد کو مغربی ہوا سے ہلاک کیا گیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1035]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
27. بَابُ مَا قِيلَ فِي الزَّلاَزِلِ وَالآيَاتِ:
باب: بھونچال اور قیامت کی نشانیوں کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 1036
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقْبَضَ الْعِلْمُ وَتَكْثُرَ الزَّلَازِلُ وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ وَهُوَ الْقَتْلُ حَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمُ الْمَالُ فَيَفِيضُ".
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی، کہا کہ ہم سے ابوالزناد (عبداللہ بن ذکوان) نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک نہ آئے گی جب تک علم دین نہ اٹھ جائے گا اور زلزلوں کی کثرت نہ ہو جائے گی اور زمانہ جلدی جلدی نہ گزرے گا اور فتنے فساد پھوٹ پڑیں گے اور «هرج» کی کثرت ہو جائے گی اور «هرج» سے مراد قتل ہے۔ قتل اور تمہارے درمیان دولت و مال کی اتنی کثرت ہو گی کہ وہ ابل پڑے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1036]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہ ہو گی حتیٰ کہ علم اٹھا لیا جائے گا، زلزلے بکثرت آئیں گے، وقت کم ہوتا جائے گا، فتنوں کا ظہور ہو گا اور قتل و غارت عام ہو گی، یہاں تک کہ تمہارے ہاں مال و دولت کی بہتات ہو گی، یعنی وہ عام ہو جائے گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1036]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1037
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ:" اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا وَفِي يَمَنِنَا، قَالَ: قَالُوا: وَفِي نَجْدِنَا، قَالَ: قَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا وَفِي يَمَنِنَا، قَالَ: قَالُوا: وَفِي نَجْدِنَا، قَالَ: قَالَ: هُنَاكَ الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ وَبِهَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ".
مجھ سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حسین بن حسن نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن عون نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا اے اللہ! ہمارے شام اور یمن پر برکت نازل فرما۔ اس پر لوگوں نے کہا اور ہمارے نجد کے لیے بھی برکت کی دعا کیجئے لیکن آپ نے پھر وہی کہا ”اے اللہ! ہمارے شام اور یمن پر برکت نازک فرما“ پھر لوگوں نے کہا اور ہمارے نجد میں؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہاں تو زلزلے اور فتنے ہوں گے اور شیطان کا سینگ وہی سے طلوع ہو گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1037]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيْ شَأْمِنَا، وَفِيْ يَمَنِنَا» اے اللہ! ہمارے شام اور یمن میں برکت عطا فرما۔“ لوگوں نے عرض کیا: ہمارے نجد کے لیے بھی برکت کی دعا کریں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: ” «اللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيْ شَأْمِنَا، وَفِيْ يَمَنِنَا» اے اللہ! ہمارے شام اور یمن کو بابرکت فرما۔“ لوگوں نے پھر عرض کیا: اور ہمارے نجد میں بھی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہاں زلزلے اور فتنے برپا ہوں گے، نیز شیطان کا گروہ بھی وہیں ہو گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1037]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
28. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ}:
باب: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی «وتجعلون رزقكم أنكم تكذبون» ۔
حدیث نمبر: Q1038
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ شُكْرَكُمْ.
یعنی تمہارا شکر یہی ہے کہ تم اللہ کو جھٹلاتے ہو (یعنی تمہارے حصہ میں جھٹلانے کے سوا اور کچھ آیا ہی نہیں) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہمارے رزق سے مراد شکر ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: Q1038]
حدیث نمبر: 1038
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ عَلَى إِثْرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلَةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ".
ہم سے اسماعیل بن ایوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، انہوں نے صالح بن کیسان سے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے بیان کیا، ان سے زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں ہم کو صبح کی نماز پڑھائی۔ رات کو بارش ہو چکی تھی نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا معلوم ہے تمہارے رب نے کیا فیصلہ کیا ہے؟ لوگ بولے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پروردگار فرماتا ہے آج میرے دو طرح کے بندوں نے صبح کی۔ ایک مومن ہے ایک کافر۔ جس نے کہا اللہ کے فضل و رحم سے پانی پڑا وہ تو مجھ پر ایمان لایا اور ستاروں کا منکر ہوا اور جس نے کہا فلاں تارے کے فلاں جگہ آنے سے پانی پڑا اس نے میرا کفر کیا، تاروں پر ایمان لایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1038]
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حدیبیہ کے مقام پر ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی جبکہ رات کو بارش ہو چکی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فراغت کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور دریافت کیا: ”تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے اس وقت کیا فرمایا ہے؟“ لوگوں نے جواب دیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(رب تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ) کچھ میرے بندے مجھ پر ایمان لانے والے بنے اور کچھ نے میرے ساتھ کفر کیا، جنہوں نے کہا کہ ہم پر صرف اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے مینہ برسا ہے تو وہ مجھ پر ایمان لانے والے اور ستاروں سے کفر کرنے والے ہیں اور جنہوں نے کہا کہ فلاں ستارے کے باعث بارش ہوئی ہے وہ میرے ساتھ کفر کرنے والے اور ستاروں پر ایمان لانے والے ٹھہرے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1038]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
29. بَابُ لاَ يَدْرِي مَتَى يَجِيءُ الْمَطَرُ إِلاَّ اللَّهُ:
باب: اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کو معلوم نہیں کہ بارش کب ہو گی۔
حدیث نمبر: Q1039
وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا پانچ چیزیں ایسی ہیں جنہیں اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: Q1039]
حدیث نمبر: 1039
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مِفْتَاحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا اللَّهُ، لَا يَعْلَمُ أَحَدٌ مَا يَكُونُ فِي غَدٍ، وَلَا يَعْلَمُ أَحَدٌ مَا يَكُونُ فِي الْأَرْحَامِ، وَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ، وَمَا يَدْرِي أَحَدٌ مَتَى يَجِيءُ الْمَطَرُ".
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غیب کی پانچ کنجیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ کسی کو نہیں معلوم کہ کل کیا ہونے والا ہے، کوئی نہیں جانتا کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے، کل کیا کرنا ہو گا، اس کا کسی کو علم نہیں۔ نہ کوئی یہ جانتا ہے کہ اسے موت کس جگہ آئے گی اور نہ کسی کو یہ معلوم کہ بارش کب ہو گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1039]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غیب کی چابیاں پانچ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا: کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہوگا؟ کوئی نہیں جانتا کہ شکمِ مادر میں کیا ہے؟ کسی کو پتہ نہیں کہ وہ کل کیا کرے گا؟ کسی کو علم نہیں کہ وہ کہاں مرے گا؟ کسی کو خبر نہیں کہ بارش کب برسے گی؟“ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1039]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة