الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنْ قَطْعِ صِلَةِ الرَّحِيمِ
قطع رحمی سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9690
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مَرِيضٌ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَصَلَتْكَ رَحِمٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا الرَّحْمَنُ خَلَقْتُ الرَّحِمَ وَشَقَقْتُ لَهَا مِنْ اسْمِي فَمَنْ يَصِلْهَا أَصِلْهُ وَمَنْ يَقْطَعْهَا أَقْطَعْهُ فَأَبُتَّهُ أَوْ قَالَ مَنْ يَبُتَّهَا أَبُتَّهُ
۔ عبداللہ بن قارظ، سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، جبکہ وہ مریض تھے، انھوں نے آگے سے اس کو کہا:صلہ رحمی تجھ تک پہنچ گئی ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں رحمن ہوں۔ میں نے رحم (یعنی قرابتداری) کو پیدا کیااور اپنے نام سے اُس کا اشتقاق کیا، جس نے اُس کو ملایا میں اُس کو ملاؤں گااورجس نے اُس کو کاٹا میں اُس کو کاٹ دوں گا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9690]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 841، والحاكم: 4/ 157، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1659 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1659»
وضاحت: فوائد: … زندگی کا گراں مایہ متاع عزت ہے، یہ سرمایۂ حیات چھن جائے تو اس کا ازالہ نہیں کیا جا سکتا، الا ماشاء اللہ۔ لہٰذا ہر مسلمان کے لیے دوسرے مسلمان کی عزت، جان اور مال کو معزز قرار دیا گیا ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((… کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ عِرْضُہٗوَمَالُہٗوَدَمُہٗ … بِحَسْبٍامْرِیئٍ مِّنَ الشَّرِّ اَنْ یَّحْقِرَ اَخَاہُ الْمُسْلِمَ۔)) (ترمذی) … ایک مسلمان کی عزت، اس کا مال اور اس کا خون دوسرے مسلمان پر حرام ہے … کسی آدمی کے برا ہونے کے لیےیہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر خیال کرے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9691
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تُوضَعُ الرَّحِمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهَا حُجْنَةٌ كَحُجْنَةِ الْمِعْزَلِ تَتَكَلَّمُ بِلِسَانٍ طَلْقٍ ذَلْقٍ فَتَصِلُ مَنْ وَصَلَهَا وَتَقْطَعُ مَنْ قَطَعَهَا وَقَالَ عَفَّانُ الْمِعْزَلُ وَقَالَ بِأَلْسِنَةٍ لَهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صلہ رحمی کو روزِ قیامت اس طرح رکھا جائے گا کہ کاتنے کی مشین کے تکلے کے سر پر لگی ہوئی ٹیڑھی کی طرح اس کی ایک چیز ہو گی، وہ جلدی اور فصاحت کے ساتھ باتیں کرے گی اور اس چیز کے ساتھ صلہ رحمی کرنے والے کو ملا لے گی اور اس کو نہ ملانے والے کو کاٹ دے گی۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9691]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابي ثمامة الثقفي، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 538، والحاكم: 4/ 162، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6774 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6774»
وضاحت: فوائد: … اللہ کے نام رحمن کا مادہ بھی ر ح م اور رشتہ داری کے لیے عربی میں استعمال ہونے والے لفظ رَحِم کا مادہ بھی ر ح م ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 9692
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ ذَنْبٍ أَحْرَى أَنْ يُعَجِّلَ اللَّهُ بِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةَ مَعَ مَا يُؤَخِّرُ (وَفِي رِوَايَةٍ مَعَ مَا يُدَّخَرُ) لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ بَغْيٍ أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ
۔ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بغاوت (وظلم) اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی ایسا گناہ نہیں کہ جس کے بارے میں زیادہ مناسب یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کے مرتکب کو دنیا میں بھی سزا دینے میں جلدی کرے اور آخرت میں بھی (عذاب دینے کے لیے) اس (گناہ) کو ذخیرہ کر لے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9692]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 4902، والترمذي: 2511، وابن ماجه: 4211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20374 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20645»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9693
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَنْبَانِ مُعَجَّلَانِ لَا يُؤَخَّرَانِ الْبَغْيُ وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو گناہوں کی سزا جلدی دی جاتی ہے، اس میں تاخیر نہیں کی جاتی: بغاوت (وظلم) اور قطع رحمی۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9693]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20651»
وضاحت: فوائد: … ہمارے معاشرے میں انسانیت دو طبقوں میں منقسم ہے: (۱) ابتدائے حیات سے الجھنوں میں الجھی ہوئی اور (۲) ابتدائے زندگی سے عیش و عشرت میں پلی ہوئی۔
پہلی قسم کو راحت و استراحت کا، جبکہ دوسری قسم کو کلفت و مشقت کا کوئی اندازہ نہیں ہوتا ہے۔
ایک دوسرے لحاظ سے بھی دو قسمیں ہیں: (۱)مجبور و مقہور و مظلوم اور (۲) ظالم و جابر و بد معاش
پہلے طبقے کو آزادی و خود مختاری کا اور دوسرے کو اللہ تعالیٰ کی بندگی اور بندوں کی غلامی کا کوئی احساس نہیں ہوتا۔
مذکورہ بالا حدیث کی حقانیت ان چار طبقوں کے لیے غیر واضح ہے، یہ اور اس قسم کی دوسری احادیث اس بندے کے لیے سبق آموز ہو سکتی ہیں، جس کو نیکی کی وجہ سے ذہنی تسکین نصیب ہوتی ہو اور برائی کی وجہ سے قلق و اضطراب ہوتا ہے اور وہ اپنے نقصانات کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے والا اور ان کے اسباب پر غور کرنے والا ہو، جبکہ وہ نیکیوں اور برائیوں کی تمام صورتوں کو سمجھنے والا ہو۔
صلہ رحمی اور تمام رشتہ داروں سے تعلق قائم رکھنا بہت بڑی نیکی اور عظیم خصلت ہے، لیکن اِس وصف سے عاری ہونے کا اور پھر اس کے انجام بد کا احساس صرف اُس فرد کو ہو گا جو شریعت کی روشنی میں کچھ زمانے تک صلہ رحمی کے تمام تقاضے پورے کرتا ہے۔ یہی معاملہ ظلم اور بغاوت کا ہے کہ لِکُلِّ عُرُوْجٍ زَوَالٌ کے تحت ظالموں کو اپنی زندگی میں ہی بے بسی، لاچارگی، ذہنی اذیت اور حقارت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ابو جہل و فرعون جیسے جابروں کی مثالیں کافی ہیں۔ ہر ملک کے ظالم حکمران کی آخری زندگی پر غور کریں، شاید وہ اس بات کے متمنّی ہوں کہ کاش ان کے نصیبے میں مسندِ حکومت سرے سے نہ آتا۔
پہلی قسم کو راحت و استراحت کا، جبکہ دوسری قسم کو کلفت و مشقت کا کوئی اندازہ نہیں ہوتا ہے۔
ایک دوسرے لحاظ سے بھی دو قسمیں ہیں: (۱)مجبور و مقہور و مظلوم اور (۲) ظالم و جابر و بد معاش
پہلے طبقے کو آزادی و خود مختاری کا اور دوسرے کو اللہ تعالیٰ کی بندگی اور بندوں کی غلامی کا کوئی احساس نہیں ہوتا۔
مذکورہ بالا حدیث کی حقانیت ان چار طبقوں کے لیے غیر واضح ہے، یہ اور اس قسم کی دوسری احادیث اس بندے کے لیے سبق آموز ہو سکتی ہیں، جس کو نیکی کی وجہ سے ذہنی تسکین نصیب ہوتی ہو اور برائی کی وجہ سے قلق و اضطراب ہوتا ہے اور وہ اپنے نقصانات کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے والا اور ان کے اسباب پر غور کرنے والا ہو، جبکہ وہ نیکیوں اور برائیوں کی تمام صورتوں کو سمجھنے والا ہو۔
صلہ رحمی اور تمام رشتہ داروں سے تعلق قائم رکھنا بہت بڑی نیکی اور عظیم خصلت ہے، لیکن اِس وصف سے عاری ہونے کا اور پھر اس کے انجام بد کا احساس صرف اُس فرد کو ہو گا جو شریعت کی روشنی میں کچھ زمانے تک صلہ رحمی کے تمام تقاضے پورے کرتا ہے۔ یہی معاملہ ظلم اور بغاوت کا ہے کہ لِکُلِّ عُرُوْجٍ زَوَالٌ کے تحت ظالموں کو اپنی زندگی میں ہی بے بسی، لاچارگی، ذہنی اذیت اور حقارت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ابو جہل و فرعون جیسے جابروں کی مثالیں کافی ہیں۔ ہر ملک کے ظالم حکمران کی آخری زندگی پر غور کریں، شاید وہ اس بات کے متمنّی ہوں کہ کاش ان کے نصیبے میں مسندِ حکومت سرے سے نہ آتا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9694
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا خَلَقَ الْخَلْقَ قَامَتِ الرَّحِمُ فَأَخَذَتْ بِحَقْوِ الرَّحْمَنِ قَالَتْ هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ مِنَ الْقَطِيعَةِ قَالَ أَمَا تَرْضَى أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ {فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتَقْطَعُوا أَرْحَامَكُمْ أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا} {محمد: 22-24}
۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو صلہ رحمی اللہ کی کمر پکڑکر کھڑی ہو گئی اور کہا: قطع رحمی سے پناہ طلب کرنے والے کا یہ مقام ہے، اللہ نے فرمایا: ہاں۔کیا تو (اس منقبت پر)راضی نہیں ہو گی کہ جس نے تجھے ملایا میں بھی اُس کو ملاؤںگا اور جس نے تجھے کاٹا میں بھی اُسے کاٹ دوں گا؟ اگر تم چاہتے ہو تو قرآن کی یہ آیت پڑھ لو: اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کر دو اور رشتے ناطے توڑ ڈالو۔ یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ہے اور جن کی سماعت اور آنکھوں کی بصارت اللہ تعالیٰ نے چھین لی ہے۔ کیایہ قرآن میں غور وفکر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے لگ گئے ہیں۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9694]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4830، 4831، 4832، ومسلم: 2554، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8367 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8349»
وضاحت: فوائد: … یہ دو ایسے گناہ ہے کہ دنیا میں بھی ان کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے اور آخرت میں بھی ان کی سزاسے دوچار ہونا پڑتاہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9695
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَعْمَالَ بَنِي آدَمَ تُعْرَضُ كُلَّ خَمِيسٍ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ فَلَا يُقْبَلُ عَمَلُ قَاطِعِ رَحِمٍ
۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہرجمعرات یعنی جمعہ والی رات کو بنو آدم کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں، قطع رحمی کرنے والے کا عمل قبول نہیں ہوتا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9695]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البيھقي: 7965، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10272 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10277»
وضاحت: فوائد: … رحم (رشتے داری) کا اس طرح بولنا اور اللہ تعالیٰ سے مکالمہ کرنااللہ تعالیٰ کے لیے کوئی مشکل بات نہیں ہے، وہ ہر ایک میں قوتِ گویائی اور ادراک و شعور پیدا کرنے پر قادر ہے، جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب منبر پر جلوہ افروز ہوئے تو جس تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے، اس نے رونا شروع کر دیا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9696
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الرَّحِمُ شُجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ تَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَقُولُ يَا رَبِّ قُطِعْتُ يَا رَبِّ ظُلِمْتُ يَا رَبِّ أُسِيءَ إِلَيَّ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ قَالَ) فَيُجِيبُهَا الرَّبُّ أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكَ وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رشتہ داری، رحمن کی ایک شاخ ہے، یہ قیامت کے دن آ کر کہے گی: اے میرے ربّ! مجھے کاٹ دیا گیا، اے میرے ربّ! مجھ پر ظلم کیا گیا، اے میرے ربّ! میرے ساتھ برا سلوک کیا گیا، پس اللہ تعالیٰ اس کو جواب دے گا: کیا تو اس بات پر راضی ہو جائے گی کہ جس نے تجھے ملایا، میں بھی اس کو ملا لوں اور جس نے تجھے کاٹا، میں بھی اس کو کاٹ دوں۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9696]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطيالسي: 2543، وابن حبان: 442، والحاكم: 4/ 162، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9871 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9871»
وضاحت: فوائد: … اللہ اکبر، کتنی سخت وعید ہے، قطع رحمی خود جرم بھی ہے اور دوسرے اعمال صالحہ کے قبولیت کے لیے رکاوٹ بھی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9697
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الرَّحِمُ مَنْ وَصَلَهَا وَصَلَهُ اللَّهُ وَمَنْ قَطَعَهَا قَطَعَهُ اللَّهُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو رشتہ داری کو ملائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو ملا لے گا اور جو رشتہ داری کو کاٹے گا، اللہ تعالیٰ اس کو کاٹ دے گا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9697]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5989، ومسلم: 2555، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24336 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24840»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9698
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِيَنَّ جَارَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ (وَفِي رِوَايَةٍ أَوْ لِيَصْمُتْ)
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ ہر گز اپنے ہمسائے کو تکلیف نہ دے، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ خیر و بھلائی والی بات کرےیا پھر خاموش رہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9698]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6138، ومسلم: 47، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9595 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9593»
الحكم على الحديث: صحیح
4. بَابُ الترهيب مِنْ إِبْدَاءِ الْجَارِ وَالتَّعْلِيفِ فِيهِ
ہمسائے کو تکلیف دینے سے ترہیب اور اس معاملے میں سختی کا بیان
حدیث نمبر: 9699
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فُلَانَةَ يُذْكَرُ مِنْ كَثْرَةِ صَلَاتِهَا وَصِيَامِهَا وَصَدَقَتِهَا غَيْرَ أَنَّهَا تُؤْذِي جِيرَانَهَا بِلِسَانِهَا قَالَ هِيَ فِي النَّارِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّ فُلَانَةَ يُذْكَرُ مِنْ قِلَّةِ صِيَامِهَا وَصَدَقَتِهَا وَصَلَاتِهَا وَإِنَّهَا تَصَدَّقُ بِالْأَثْوَارِ مِنَ الْأَقِطِ وَلَا تُؤْذِي جِيرَانَهَا قَالَ هِيَ فِي الْجَنَّةِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں عورت کی نماز، روزے اور صدقے کی تو بڑی مشہوری ہے، لیکن وہ زبان سے اپنے ہمسائیوں کو تکلیف دیتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جہنمی ہے۔ اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں عورت کے بارے یہ بات تو کہی جاتی ہے کہ اس کے روزوں، صدقے اور نماز کی مقدار کم ہے، وہ صرف پنیر کے ٹکڑوں کا صدقہ کرتی ہے، البتہ وہ ہمسائیوں کو تکلیف نہیں دیتی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جنتی ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9699]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن حبان: 5764، والبزار: 1902، والحاكم: 4/ 166، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9675 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9673»
وضاحت: فوائد: … آج کے مفاد پرستانہ اور ابن الوقتی دور میں ہمسائیوں کے حقوق کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے، ان کے حقوق کی ادائیگی تو کجا، سرے سے ان کی شناخت ہی نہیں کی جاتی۔گلی کے ایک کونے میں صف ِ ماتم بچھی ہوتی ہے تو دوسرے کونے پہ شادی کی رسومات رقص کناں ہوتی ہیں۔ حالانکہ ان کے حقوق کا تو یہ عالم ہے کہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے خلیل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے وصیت کرتے ہوئے فرمایا: ((اِذَا طَبَخْتَ مَرَقًا فَاَکْثِرْ مَائَ ھَا ثُمَّ انْظُرْ اَھْلَ بَیْتٍ مِنْ جِیْرَانِکَ، فَاَصِبْھُمْ مِنْھَا بِمَعْرُوْفٍ۔)) (مسلم) … جب تم شوربے (والا سالن) پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ کر لیا کرو، پھر اپنے پڑوسیوں کا کوئی گھر دیکھو اور ان کو بھلائی کے ساتھ اس میں سے کچھ حصہ پہنچاؤ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَایَمْنَعْ جَارٌ جَارَہٗاَنْیَغْرِزَ خَشَبَۃً فِیْ جِدَارِہٖ۔)) (بخاری، مسلم) … کوئی پڑوسی اپنے پڑوسی کودیوار میں لکڑی گاڑنے سے نہ روکے۔ یعنی اگر کوئی ہمسایہ چھپر وغیرہ کا شہتیر اپنے ہمسائے کے مکان کی دیوار پر رکھنا چاہتا ہے تو اس کو نہیں روکا جا سکتا۔
درج ذیل حدیث ِ مبارکہ بھی انتہائی قابل غور ہے:
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((کَمْ مِنْ جَارٍ مُتَعَلِّقٌ بِجَارِہِ یَقُوْلُ: یَارَبِّ! سَلْ ھٰذٰا لِمَ أغْلَقَ عَنِّی بَابَہُ وَمَنَعَنِیْ فَضْلَہُ۔)) … کتنے ہی پڑوسی (ایسے ہوں گے جو) اپنے پڑوسی (کے حقوق کے سلسلے میں) لٹکے ہوئے ہوں گے۔ پڑوسی کہے گا: اے میرے رب! اس سے سوال کرو کہ اس نے اپنا دروازہ مجھ سے کیوں بند کر دیا تھااور بچا ہوا مال مجھ سے کیوں روک لیا تھا۔ (الادب المفرد للبخاری: ۱۱۱، صحیحہ:۲۶۴۶)
درج ذیل حدیث ِ مبارکہ بھی انتہائی قابل غور ہے:
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((کَمْ مِنْ جَارٍ مُتَعَلِّقٌ بِجَارِہِ یَقُوْلُ: یَارَبِّ! سَلْ ھٰذٰا لِمَ أغْلَقَ عَنِّی بَابَہُ وَمَنَعَنِیْ فَضْلَہُ۔)) … کتنے ہی پڑوسی (ایسے ہوں گے جو) اپنے پڑوسی (کے حقوق کے سلسلے میں) لٹکے ہوئے ہوں گے۔ پڑوسی کہے گا: اے میرے رب! اس سے سوال کرو کہ اس نے اپنا دروازہ مجھ سے کیوں بند کر دیا تھااور بچا ہوا مال مجھ سے کیوں روک لیا تھا۔ (الادب المفرد للبخاری: ۱۱۱، صحیحہ:۲۶۴۶)
الحكم على الحديث: صحیح