Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ الترهيب مِنْ إِبْدَاءِ الْجَارِ وَالتَّعْلِيفِ فِيهِ
ہمسائے کو تکلیف دینے سے ترہیب اور اس معاملے میں سختی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9700
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ خَصْمَيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جَارَانِ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت والے دن سب سے پہلے دو جھگڑا کرنے والے دو ہمسائے ہوں گے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9700]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الطبراني في الكبير: 17/ 852، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17372 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17507»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9701
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ جَارِ الْمَقَامِ فَإِنَّ جَارَ الْمُسَافِرِ إِذَا شَاءَ أَنْ يُزَالَ زَالَ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اپنی مستقل) قیام گاہ کے پڑوسی کے شرّ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو، کیونکہ اگر آدمی مسافر ہو تو وہ (برے پڑوسی) سے جب چاہے جدا ہو سکتا ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9701]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الحاكم: 1/ 532، وابويعلي: 6536، وابن حبان: 1033، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8553 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8534»
وضاحت: فوائد: … ہمسائیوں کے حقوق بہت زیادہ ہیں، جبکہ ان کی ادائیگی کرنے والے لوگ بہت کم ہیں۔ نیک پڑوسی جنت ہے، لیکن برا پڑوسی قیامت سے پہلے ایک قیامت ہے، لیکن نیک بنے کون؟

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9702
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ قَالُوا وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْجَارُ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا بَوَائِقُهُ قَالَ شَرُّهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! وہ آدمی مؤمن نہیں ہو سکتا، اللہ کی قسم! وہ آدمی صاحب ِ ایمان نہیں ہو سکتا، اللہ کی قسم! وہ شخص ایمان دار نہیں ہو سکتا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ہمسایہ کہ جس کے شرور سے اس کے ہمسائے امن میں نہ ہوں۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بَوَائِق سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا شر۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9702]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الحاكم: 1/ 10، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7878 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7865»
وضاحت: فوائد: … نیک پڑوسی اللہ تعالیٰ کی نعمت ِ عظمی ہے، اس سے نہ صرف آدمی کو ذہنی سکون ملتا ہے، بلکہ اس کی عزتیں محفوظ رہتی ہے، کیونکہ نیک پڑوسی دوسرے پڑوسیوں کا بھی رکھوالا ہوتا ہے، اس کے برعکس برے پڑوسی کے نقصانات اور نحوستیں عیاں ہیں، اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنا چاہئے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کے مصداق کے مطابق سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کییہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا پڑھتے تھے: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ یَوْمِ السُّوْئِ، وَمِنْ لَیْلَۃِ السُّوْئِ، وَمِنْ سَاعَۃِ السُّوْئِ، وَمِنْ صَاحِبِ السُّوْئِ، وَمِنْ جَارِ السُّوْئِ فِیْ دَارِ الْمُقَامِ۔ … اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں برے دن سے، بری رات سے، بری گھڑی سے، برے ساتھی سے اور مستقل قیام گاہ کے برے پڑوسی سے۔ (صحیحہ: ۱۴۴۳ کے تحت۔ بحوالہ طبرانی)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9703
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَبْدٌ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ بندہ جنت میں نہیں جائے گا، جس کے ہمسائے اس کے شرّ سے محفوظ نہ ہوں۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9703]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الحاكم: 1/ 11، والبزار: 21، وابويعلي: 4187، وابن حبان: 510، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12561 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12589»
وضاحت: فوائد: … انسان کی عزت و حرمت، مال و دولت اور جان و جیون کو دوسرے انسان کے شرّ سے بچانے کے لیے اسلام نے بہت سخت قوانین وضع کئے ہیں۔ انسانیت کے احترام کا اس سے بڑا لحاظ کیا ہو سکتا ہے کہ صرف پڑوس کی بنا پر اسے حسنِ سلوک کا اوّلین مستحق ٹھہرا دیا جائے اور تحائف و ہدایا کا پہلا حقدار قرار دیا جائے۔ اس سے بڑی بشارت کیا ہو سکتی ہے کہ پڑوسیوں کے حق میں بہتری کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے ہاں آدمی کے مقام و مرتبہ میں اضافہ ہو جائے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9704
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ لِي أَنْ أَعْلَمَ إِذَا أَحْسَنْتُ وَإِذَا أَسَأْتُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَمِعْتَ جِيرَانَكَ يَقُولُونَ قَدْ أَحْسَنْتَ فَقَدْ أَحْسَنْتَ وَإِذَا سَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ قَدْ أَسَأْتَ فَقَدْ أَسَأْتَ
۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول!جب میں نیکی کروں اور جب میں برائی کروں تو مجھے کیسے معلوم ہو گا کہ میں نے نیکی یا برائی کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو اپنے پڑوسیوں کو یوں کہتا سنے کہ تو نے نیکی ہے، تو تونے نیکی کی ہو گی اور جب ان کو یوں کہتا سنے کہ تو نے برائی کی ہے تو تو نے برائی کی ہو گی۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9704]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن ماجه: 4223، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3808 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3808»
وضاحت: فوائد: … اگر کوئی ہمسایہ اپنے کسی ہمسائے کی بدسلوکی کی وجہ سے تنگ ہے تو اس میں مرکزی کردار ظالم کی زبان کا ہو گا، اس حدیث میں پڑوسی کی خیرو بھلائی کو کامیابی و کامرانی کا معیار قرار دیا گیا ہے، وہ اس طرح کہ ایمان کی بنیاد دل کیراستی پر ہے، دل کی درستی کا دارمدار زبان کی اصلاح پر ہے اور زبان کے خیر و شرّ کا تعلق پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک یا بدسلوکی سے ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9705
عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَدُوسٍ يُقَالُ لَهُ دَيْسَمٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْنَا لِبَشِيرِ بْنِ الْخَصَاصِيَةِ قَالَ وَمَا كَانَ اسْمُهُ بَشِيرًا فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَشِيرًا إِنَّ لَنَا جِيرَةً مِنْ بَنِي تَمِيمٍ لَا تَشُذُّ لَنَا قَاصِيَةٌ إِلَّا ذَهَبُوا بِهَا وَإِنَّهَا تُخَالِفُنَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ أَشْيَاءَ أَفَنَأْخُذُ قَالَ لَا
بنو سدوس کے دیسم نام کےایک آدمی سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: ہم نے سیدنا بشیر بن خصاصیہ سے کہا، یہ ان کا نام نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام بشیر رکھا تھا، بہرحال ہم نے کہا: بنوتمیم کے کچھ لوگ ہمارے ہمسائے ہیں، ہماری جو بکری ریوڑ سے دور ہو جائے، وہ اس کو لے جاتے ہیں، پھر جب ہمارے پاس ان کے مالوں میں بعض چیزیں آتی ہیں تو ہم ان پر قبضہ کر لیں؟ انھوں نے کہا: جی نہیں۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9705]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ديسم في عداد المجھولين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20785 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21066»
وضاحت: فوائد: … اس آدمی کے سوال کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ کوئی ایسا کام کرے، جس کا شرعی حسن یا قباحت مخفی ہو، تو اسے ایسے کام کے بارے میں کیسے علم ہو گا کہ وہ اچھا ہے یا برا ہے، کیونکہ شریعت میں واضح طور پر جن امور کو نیکی اور جن امور کو برا قرار دیا گیا ہے، اس کے بارے میں لوگوں کی رائے کی کوئی ضرورت نہیں۔ نیز ایسے کام کو اچھا یا برا کہنے والے لوگ سلیم الفطرت اور نیکو کار ہونے چاہئیں، جو نیکی و بدی میں شریعت کا مزاج سمجھتے ہوں۔
بنو سدوس کے دیسم نام ایک آدمی سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: ہم نے سیدنا بشیر بن خصاصیہ سے کہا، یہ ان کا نام نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام بشیر رکھا تھا، بہرحال ہم نے کہا: بنوتمیم کے کچھ لوگ ہمارے ہمسائے ہیں، ہماری جو بکری ریوڑ سے دور ہو جائے، وہ اس کو لے جاتے ہیں، پھر جب ہمارے پاس ان کے مالوں میں بعض چیزیں آتی ہیں تو ہم ان پر قبضہ کر لیں؟ انھوں نے کہا: جی نہیں۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ الرَّيَاءِ وَهُوَ الشَّرْكُ الْخَفِيُّ نَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنْهُ
ریاکاری سے ترہیب کا بیان،یہی شرک ِ خفی ہے، ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9706
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ بَكَى فَقِيلَ لَهُ مَا يُبْكِيكَ قَالَ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ فَذَكَرْتُهُ فَأَبْكَانِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَتَخَوَّفُ عَلَى أُمَّتِي الشِّرْكَ وَالشَّهْوَةَ الْخَفِيَّةَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُشْرِكُ أُمَّتُكَ مِنْ بَعْدِكَ قَالَ نَعَمْ أَمَا إِنَّهُمْ لَا يَعْبُدُونَ شَمْسًا وَلَا قَمَرًا وَلَا حَجَرًا وَلَا وَثَنًا وَلَكِنْ يُرَاؤُونَ بِأَعْمَالِهِمْ وَالشَّهْوَةُ الْخَفِيَّةُ أَنْ يُصْبِحَ أَحَدُهُمْ صَائِمًا فَتَعْرِضُ لَهُ شَهْوَةٌ مِنْ شَهَوَاتِهِ فَيَتْرُكُ صَوْمَهُ
۔ عبادہ بن نُسی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ رونے لگے، کسی نے ان سے کہا: تم کیوں روتے ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، وہ یاد آ گئی تھی، اس لیے رونے لگ گیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: میں اپنی امت پر شرک اور مخفی شہوت کے بارے میں ڈرتا ہوں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کی امت آپ کے بعد شرک کرے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، خبردار! وہ سورج، چاند، پتھراور بت کی عبادت نہیں کرے گی، وہ اپنے اعمال کے ذریعے ریاکاری کریں گے اور مخفی شہوت یہ ہے کہ بندہ صبح کو روزہ رکھے، پھر اس کی کوئی شہوت اس پر غالب آجاتی ہے اور وہ روزہ توڑ دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9706]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدّا، عبد الواحد بن زيد البصري متروك الحديث، أخرجه ابن ماجه: 4205، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17120 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17250»
وضاحت: فوائد: … دکھاوے، تصنع، عدم خلوص، نفاق، نمود و نمائش اور شہرت طلبی جیسے امورِ خبیثہ کو سامنے رکھ کر کوئی ایسا کام کرنا، جو اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے حصول کے لیے سرانجام دیا جاتا ہے، اسے ریاکاری کہتے ہیں۔
سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَیْکُمُ الشِّرْکُ اْلأَصْغَرُ۔)) قَالُوْا: وَمَا الشِّرْکُ الأَصْغَرُ؟ قال: ((اَلرِّیَائُ،یقولُ اللّٰہُ عزَّ وجلَّ لِأَصْحَابِ ذَالِکَ یومَ القِیامَۃِ إِذَا جَازٰی النَّاسَ: اِذْھَبُوْا إِلٰی الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تُرَاؤُوْنَ فِی الدُّنْیَا، فَانْظُرُوْا ھَلْ تَجِدُوْنَ عِنْدَھُمْ جَزَائً؟)) … مجھے تمھارے حق میں سب سے زیادہ ڈر شرکِ اصغر کا ہے۔ صحابہ نے عرض کی: شرکِ اصغر کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ریاکاری کو کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن جب لوگوں کو بدلہ دے گا تو ریاکاروں سے کہے گا: ان ہستیوں کی طرف چلے جاؤ، جن کے سامنے دنیا میں ریاکاری کرتے تھے اور دیکھ آؤ کہ آیا ان کے پاس کوئی بدلہ ہے؟ (أحمد: ۵/۴۲۸و۴۲۹، صحیحہ: ۹۵۱)
امام مبارکپوریl نے کہا: لوگوں کو دکھانے کی خاطر عبادت کا اظہار کرنا، تاکہ لوگ اس عبادت گزار کی تعریف کریں۔ جبکہ امام غزالیl نے کہا: ریاکاری کا اصل معنی لوگوں کو محمود اور قابل تعریف خصائل دکھا کر ان کے دلوں میں مقام حاصل کرنا ہے، تو ریاکاری کی تعریفیہ ہوئی کہ لوگوں کو دکھانے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت کے امور سر انجام دینا۔ (تحفۃ الاحوذی: ۳/ ۲۷۹)
ریاکار عارضی طور پر لوگوں کی نظروں میں تو متقی اور پارسا بن جاتا ہے، لیکن اپنے عمل کو برباد اور اس کے اجر کو ضائع کر دیتا ہے، یہ ریاکاری کی شناعت و قباحت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی عبادات میں اخلاص پیدا کریں اور ریاکاری، خوشامد اور چاپلوسی جیسے غیر اخلاقی امور سے مکمل اجتناب کریں۔
شرک اکبر اور شرک صریح کا مرتکب دائمی جہنمی ہے۔ ریاکاری جیسا شرک اصغر قابل معافی جرم ہے، اگر معاف نہ ہوا تو اس کی سزا بھگتنے کے لیے عارضی طور پر جہنم میں جانا پڑے گا۔
آج کل مقابلہ بازی کا دور ہے اور ہمارے ہاں کئی اعمال کی بنیاد دوسرے کو دکھانے اور اپنے آپ کو ظاہر کرنے پر ہے، مثلا نمازِ جنازہ میں شرکت، کسی کی دعوت کرنا یا کسی کی دعوت قبول کرنا، کسی سے حسن اخلاق سے پیش آنا، یہ امور اللہ تعالیٰ کی محبت کے لیے نہیں، بلکہ ذاتی دوستی و دشمنی کی بنا پر سر انجام دیئے جا رہے ہیں۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9707
عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ مِنَ الصَّحَابَةِ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا جَمَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ يُنَادِي مُنَادٍ مَنْ كَانَ أَشْرَكَ فِي عَمَلٍ عَمِلَهُ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَحَدًا فَلْيَطْلُبْ ثَوَابَهُ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ
۔ صحابی ٔ رسول سیدنا ابی سعید بن ابو فضالہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ پہلوں اور پچھلوں کو اس دن جمع کرے گا، جس میں کوئی شک نہیں ہے، تو ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: جس بندے نے اللہ تعالیٰ کے لیے عمل کیا، لیکن اس نے اس میں کسی اور کو بھی شریک کر دیا تھا تو وہ اُسی غیر اللہ کے پاس اس کا ثواب تلاش کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں: میں شریکوں میں شرک سے سب سے بڑھ کر غنی ہوں۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9707]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 3154، وابن ماجه: 4203، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17888 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18047»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9708
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا خَيْرُ الشُّرَكَاءِ مَنْ عَمِلَ لِي عَمَلًا فَأَشْرَكَ غَيْرِي فَأَنَا مِنْهُ بَرِيءٌ وَهُوَ لِلَّذِي أَشْرَكَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میں شرکاء میں بہترین شریک ہوں، جو میرے لیے عمل کرتا ہے اور پھر اس میں میرے غیر کو بھی شریک کر لیتا ہے تو میں اس سے بری ہو جاتا ہوں اور وہ اسی کے لیے ہو جاتا ہے، جس کو وہ شریک کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9708]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2985، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8000 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7987»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9709
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ ثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ بَهْرَامَ قَالَ قَالَ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ قَالَ ابْنُ غَنَمٍ لَمَّا دَخَلْنَا مَسْجِدَ الْجَابِيَةِ أَنَا وَأَبُو الدَّرْدَاءِ لَقِينَا عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ فَأَخَذَ يَمِينِي بِشِمَالِهِ وَشِمَالَ أَبِي الدَّرْدَاءِ بِيَمِينِهِ فَخَرَجَ يَمْشِي بَيْنَنَا وَنَحْنُ نَتَنَاجَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ فِيمَا نَتَنَاجَى وَذَلِكَ قَوْلُهُ فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ لَئِنْ طَالَ بِكُمَا عُمْرُ أَحَدِ كُمَا أَوْ كِلَا كُمَا لَتُوشِكَانِ أَنْ تَرَيَا الرَّجُلَ مِنْ ثَبَجِ الْمُسْلِمِينَ يَعْنِي مِنْ وَسَطٍ قَرَأَ الْقُرْآنَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ (وَفِي رِوَايَةٍ عَلَى لِسَانِ أَخِيهِ قِرَاءَةً عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) فَأَعَادَهُ وَأَبْدَاهُ وَأَحَلَّ حَلَالَهُ وَحَرَّمَ حَرَامَهُ وَنَزَلَ عِنْدَ مَنَازِلِهِ لَا يَحُورُ فِيكُمْ إِلَّا كَمَا يَحُورُ رَأْسُ الْحِمَارِ الْمَيِّتِ قَالَ فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ طَلَعَ شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ وَعَوْفُ بْنُ مَالِكٍ فَجَلَسَا إِلَيْنَا فَقَالَ شَدَّادٌ إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ لَمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مِنَ الشَّهْوَةِ الْخَفِيَّةِ وَالشِّرْكِ فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ وَأَبُو الدَّرْدَاءِ اللَّهُمَّ غُفْرًا أَوَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ حَدَّثَنَا أَنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَئِسَ أَنْ يُعْبَدَ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ فَأَمَّا الشَّهْوَةُ الْخَفِيَّةُ فَقَدْ عَرَفْنَاهَا هِيَ شَهَوَاتُ الدُّنْيَا مِنْ نِسَائِهَا وَشَهَوَاتِهَا فَمَا هَذَا الشِّرْكُ الَّذِي تُخَوِّفُنَا بِهِ يَا شَدَّادُ فَقَالَ شَدَّادٌ أَرَأَيْتُكُمْ لَوْ رَأَيْتُمْ رَجُلًا يُصَلِّي لِرَجُلٍ أَوْ يَصُومُ لَهُ أَوْ يَتَصَدَّقُ لَهُ أَتَرَوْنَ أَنَّهُ قَدْ أَشْرَكَ قَالُوا نَعَمْ وَاللَّهِ إِنَّ مَنْ صَلَّى لِرَجُلٍ أَوْ صَامَ لَهُ أَوْ تَصَدَّقَ لَهُ فَقَدْ أَشْرَكَ فَقَالَ شَدَّادٌ فَإِنِّي قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَلَّى يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ وَمَنْ صَامَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ وَمَنْ تَصَدَّقَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ فَقَالَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ عِنْدَ ذَلِكَ أَفَلَا يَعْمِدُ إِلَى مَا ابْتُغِيَ فِيهِ وَجْهُهُ مِنْ ذَلِكَ الْعَمَلِ كُلِّهِ فَيَقْبَلَ مَا خَلَصَ لَهُ وَيَدَعَ مَا يُشْرِكُ بِهِ فَقَالَ شَدَّادٌ عِنْدَ ذَلِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَنَا خَيْرُ قَسِيمٍ لِمَنْ أَشْرَكَ بِي مَنْ أَشْرَكَ بِي شَيْئًا فَإِنَّ حَشْدَهُ عَمَلَهُ قَلِيلَهُ وَكَثِيرَهُ لِشَرِيكِهِ الَّذِي أَشْرَكَ بِهِ وَأَنَا عَنْهُ غَنِيٌّ
۔ ابن غنم کہتے ہیں: جب میں اور سیدنا ابو درداء جابیہ کی مسجد میں داخل ہوئے تو سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو ملے، انھوں نے بائیں ہاتھ سے میرا دایاں ہاتھ اور دائیں ہاتھ سے سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کا بایاں ہاتھ پکڑ لیا اور ہمارے درمیان چلنے لگے، ہم سرگوشی کرنے لگے اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ ہم کس چیز میں سرگوشی کر رہے تھے، سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم میں سے ایک کی یا دونوں کی عمر لمبی ہو گئی تو ممکن ہے کہ تم یہ دیکھو کہ درمیانے قسم کے مسلمانوں سے تعلق رکھنے والا ایک آدمی ہو گا، وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان کے مطابق قرآن مجید پڑھے گا، پھر وہ اس کو بار بار پڑھے گا اور اس کو ظاہر کرے گا اور اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھے گا اور اس کے احکام کا پابند رہے گا، لیکن پھر بھی وہ تمہارے پاس اتنی خیر لائے گا، جتنی کہ مردار گدھے کا سر لاتا ہے، (یعنی وہ آدمی ذرا برابر خیر و بھلائی لے کر نہیں آئے گا)۔ ہم اسی اثنا میں تھے کہ سیدنا شداد بن اوس اور سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہما ہمارے پاس آ کر بیٹھ گئے، سیدنا شداد رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ ڈر اس چیز کا ہے، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مخفی شہوت اور شرک ہے۔ سیدنا عبادہ بن صامت اور سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہما نے کہا: اے اللہ! بخشنا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ شیطان اس چیز سے ناامید ہو گیا ہے کہ جزیرۂ عرب میں اس کی عبادت کی جائے؟ البتہ مخفی شہوت کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ دنیا کی شہوات ہوتی ہیں، ان کا تعلق عورتوں سے اور ان کی شہوات سے ہوتا ہے، لیکن شداد! یہ شرک کیا چیز ہے، جس کے بارے میں تم ہمیں ڈرا رہے ہو؟ سیدنا شداد رضی اللہ عنہ نے کہا: اچھا اس کے بارے میں تم مجھے بتلاؤ کہ اگر کوئی آدمی کسی آدمی کی خاطر نماز پڑھ رہا ہو، یا روزہ رکھ رہا ہو، یا صدقہ کر رہا ہو، کیا اس کے بارے میں تمہاری رائے یہی ہے کہ اس نے شرک کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! جس آدمی نے کسی آدمی کو دکھانے کے لیے نماز پڑھی،یا روزہ رکھا، یا صدقہ کیا تو اس نے شرک کیا۔ سیدنا شداد رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے ریاکاری کرتے ہوئے نماز پڑھی، اس نے شرک کیا، جس نے ریاکاری کرتے ہوئے روزہ رکھا، اس نے شرک کیا، جس نے ریاکاری کرتے ہوئے صدقہ کیا، اس نے شرک کیا۔ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: کیااس طرح نہیں ہو گا کہ اس کے وہ اعمال دیکھے جائیں جو اس نے خالصتاً اللہ تعالیٰ کے لیے کیے ہوں اور ان کو قبول کر لیا جائے اور شرکیہ اعمال کو چھوڑ دیا جائے؟ سیدنا شداد رضی اللہ عنہ نے جواباً کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے میرے ساتھ شرک کیا، میں اس کا سب سے بہترین قسیم اور حصہ دار ہوں، جس نے میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرایا تو اس آدمی کے اعمال کی ساری جمع پونجی، وہ تھوڑی ہو یا زیادہ، اس کے اس ساجھی کے لیے ہو جائے گی، جس کے ساتھ وہ شرک کرے گا اور میں (اللہ) اس سے غنی ہوں گا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9709]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب، أخرجه الطبراني في الكبير: 7139، والحاكم: 4/ 329، والطيالسي: 1120، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17140 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17270»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں