Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيْبِ مِنْ خِصَالٍ مِنْ كِبْرِيَاتِ الْمَعَاصِي مُجْتَمِعَةٍ وَوَعِيدِ فَاعِلِهَا
مطلق طور پر نافرمانیوں سے ڈرانے اور ان کا ارتکاب کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی غیرت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9680
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْكَبَائِرُ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ أَوْ قَتْلُ النَّفْسِ شُعْبَةُ الشَّاكُّ الْيَمِينُ الْغَمُوسُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کبیرہ گناہ یہ ہیں: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا یا جان کو قتل کرنا اور جھوٹی قسم۔ امام شعبہ کو شک ہوا ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9680]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6870، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6884 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6884»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9681
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَلَا إِنَّمَا هُنَّ أَرْبَعٌ أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا تَزْنُوا وَلَا تَسْرِقُوا قَالَ فَمَا أَنَا بِأَشَحَّ عَلَيْهِنَّ مِنِّي إِذَا سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ
۔ سیدنا سلمہ بن قیس اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: خبر دار! صرف چار چیزیں ہیں: یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرو، اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ جان کو قتل نہ کرو مگر حق کے ساتھ، زنا نہ کرو اور چوری نہ کرو۔ پھر سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ہی ان کا سب سے بڑا حریص ہوں، کیونکہ میں نے خود ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9681]
تخریج الحدیث: «اسناده صححيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18990 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19199»
وضاحت: فوائد: … کبیرہ گناہوں کی تعداد کے بارے میں مختلف روایات ہیں، مثلا سات، تین، چار۔ ان میں جمع تطبیق کی صورت یہ ہے کہ کبیرہ گناہوں کو اس تعداد کے ساتھ منحصر نہیں کیا گیا، بلکہ حالات و حاضرین کے تقاضوں کے مطابق ان گناہوں کی مثالیں بیان کی گئیں، کسی مقام پر سات قسمیں بیان کرنا زیادہ مناسب تھا اور کسی مقام پر تینیا چار، وگرنہ کبیرہ گناہوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9682
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَإِيَّاكُمْ الْفُحْشَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ وَإِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ أَمَرَهُمْ بِالْقَطِيعَةِ فَقَطَعُوا وَأَمَرَهُمْ بِالْبُخْلِ فَبَخِلُوا وَأَمَرَهُمْ بِالْفُجُورِ فَفَجَرُوا قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ قَالَ أَنْ يَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِكَ وَيَدِكَ (الْحَدِيثَ)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:ظلم کرنے سے بچو! اس لیے کہ ظلم قیامت والے دن (کئی) ظلمتوں کا باعث بنے گا، بدگوئی سے بچو، بیشک اللہ تعالیٰ بدزبانی اور فحش گوئی کو پسند نہیں کرتا اور مال کی شدید محبت سے بچو! اس لیے کہ اس چیز نے تم سے پہلے والے لوگوں کو ہلاک کیا، اس نے ان کو قطع رحمی کا حکم دیا، پس انھوں نے قطع رحمی کی، اِس نے ان کو بخل پر آمادہ کیا، پس انھوں نے بخل کیا اور اس نے ان کو برائیوں کا حکم دیا، پس انھوں نے برائیاں کیں۔ ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: کون سا اسلام افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ دوسرے مسلمان تیری زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9682]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن حبان: 5176، والحاكم: 1/11، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6487 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6487»
وضاحت: فوائد: … بخل اور حرص جیسے اوصاف انسان کے کمینہ ہونے کے لیے کافی ہیں، بخیل آدمی سنگ دل بن جاتا ہے، دوسروں کی خوشی و غمی سے مستغنی ہو جاتا ہے، اپنے روپے پیسے کو بچانے یا اس کو بڑھانے کے لیے وہ قتل و غارت گری جیسے اقدامات کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے اور شریعت میں گنجائشیں تلاش کر تے کرتے اللہ تعالیٰ کی حدود کو پھلانگنا شروع کر دیتا ہے۔ مال کی شدید محبت کو شُحّ کہتے ہیں۔ جب انسان کے دل میں دنیا اور دنیا کے مال و اسباب کی محبت حد سے تجاوز کر کے شدید ہو جائے تو انسان حرام اور حلال کے درمیان تمیز بھی نہیں کرتا اور دسرے انسانوں کا خون بہانے سے گریز بھی نہیں کرتا۔ جیسے آج کل ہمارے معاشرے کا حال ہے اور یہ حالت اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ اس معاشرے کی بقا کی کوئی ضمانت نہیں ہے، یہ دیریا سویر ہلاکت سے دو چار ہو کر ہی رہے گا۔
دنیا میں کیا گیا ایک ظلم، روزِ قیامت کئی ظلمتوں کا سبب بنے گا، جیسے اگر کوئی آدمی گائے کی خیانت کرتا ہے تو وہ اسے اپنے کندھوں پر اٹھا کر میدانِ حشر میں آئے گا، جبکہ وہ گائے بلبلا رہی ہو گی،یہی معاملہ ہر جانور اور دوسری خیانتوں کا ہے۔ کسی چیز کو بے موقع یا بے محل رکھنا ظلم کہلاتا ہے، اس اعتبار سے برائیوں کا ارتکاب کرنا اور فرائض و واجبات کی ادائیگی میں غفلت برتنا ظلم ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنْ عُقُوقِ الْوَالِدَيْنِ
والدین کی نافرمانی سے ترہیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9683
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا رَفَعَهُ سُفْيَانُ وَوَقَفَهُ مِسْعَرٌ قَالَ مِنَ الْكَبَائِرِ أَنْ يَشْتِمَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قَالُوا وَكَيْفَ يَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قَالَ يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ أَبَاهُ وَيَسُبُّ أُمَّهُ فَيَسُبُّ أُمَّهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا اپنے والدین کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ لوگوں نے کہا: بھلا آدمی اپنے والدین کو کیسے گالیاں دیتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کسی کے باپ کو برا بھلا کہتا ہے، وہ جواباً اس کے باپ کو برا بھلا کہتاہے، یہ کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے اور وہ جواباً اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔سفیان راوی نے اس حدیث کو مرفوعاً اور مسعر نے موقوفاً بیان کیا ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9683]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 90، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6529 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6529»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کے حقوق کے بعد والدین کا حق سب سے مقدم ہے، قرآن مجید میں کئی مقامات پر جہاں اللہ تعالیٰ کی الوہیت و عبودیت کا حکم دیا گیا، وہاں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنے کی تلقین بھی کی گئی۔ مسلمان والدین کے احترام و اکرام کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر والدین مشرک اور کافر بھی ہوں، تب بھی ان کی خدمت اور ان سے حسنِ سلوک کرنا ضروری ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ اِنْ جَاہَدٰکَ عَلٰٓی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَالَیْسَ لَکَ بِہٖعِلْمٌفَـلَاتُطِعْہُمَاوَصَاحِبْہُمَافِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا } (سورۂ لقمان: ۱۵) … اور اگر وہ (والدین) تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے، جس کا تجھے علم نہ ہو تو ان کا کہنا نہ ماننا، ہاں دنیا میں ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آنا۔
جب تک اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ ہو، اس وقت تک والدین کی اطاعت کرنا، ان کی خدمت کرنا اور ان کی رضامندی
چاہنا مطلوبِ شریعت ہے۔ جب تک شریعت کے کسی حکم کی مخالفت نہ ہو، اس وقت تک والدین کا ہر مطالبہ پورا کر کے ان کو راضی کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ کتنی غور طلب بات ہے کہ مشرک اور شرک پر مجبور کرنے والے والدین کے ساتھ بھی ہمیں حسنِ سلوک کرنے کا درس دیا گیا ہے، مسلمان والدین کے مقام و مرتبہ کا خود اندازہ لگا لیں۔
والدین کی رفعت و منزلت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ جو بچہ اپنی زندگی میں اپنے ماں باپ دونوں یا کسی ایک کو پا لیتا ہے اور پھر ان کی خدمت کر کے جنت میں داخل ہونے کے اسباب پیدا نہیں کرتا تو نبی مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے لیے ذلالت، ہلاکت اور رحمت ِ الہی سے دوری کی بد دعا کرتے ہیں۔
اگر اس سلسلے میں شریعت خاموش ہی رہتی تب بھی عقل و شعور کا فیصلہیہی ہوتا کہ ماں باپ کی نافرمانی کرنا مروّت نہیں اور ذوقِ سلیم اور وجدان بھییہی کہتا اور انسانیت کا بھییہی تقاضا ہوتا کہ جن پاک نفوس نے بچپن میں اولاد کے ساتھ حسنِ سلوک کیا، اولاد کو بھی چاہئے کہ وہ {ھَلْ جَزَائُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ}کے تحت ان کے سامنے عاجزی و فرمانبرداری کے بازو بچھا دے۔
امام مبارکپوریؒ نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھا، جس میں والدین کی رضامندی میں اللہ تعالیٰ کی رضامندی قرار دیا گیا ہے: چونکہ اللہ تعالیٰ نے خود والدین کی اطاعت کرنے اور ان کی تکریم کرنے کا حکم دیا ہے، اس لیے جو اپنے والدین کو ناراض کرے گا، وہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ کو ناراض کر دے گا، یہ سخت وعید ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ والدین کی نافرمانی کبیرہ گناہ ہے۔ (تحفۃ الاحوذی)
لیکن افسوس کہ آجکل لوگوں نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک یا بد سلوکی سے پیش آنے کے لیے اپنے بیوی بچوں اور دوستوں کو معیار قرار دیا ہے، اپنی بیوی کے ہر قسم کے ناز نخرے پورے کئے جاتے ہیں، لیکن والدین پر ہونے والے اخراجات کو بوجھ سمجھا جاتا ہے، اگرچہ ان کی مقدار بھی کم ہوتی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9684
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَكْبَرَ الْكَبَائِرِ عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ قَالَ قِيلَ مَا عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ قَالَ يَسُبُّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فَيَسُبُّ أَبَاهُ وَيَسُبُّ أُمَّهُ فَيَسُبُّ أُمَّهُ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک والدین کی نافرمانی کرنا سب سے بڑا کبیرہ گناہ ہے۔ کسی نے کہا: والدین کی نافرمانی سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کسی دوسرے آدمی کو برا بھلا کہے اور وہ جوابی کاروائی کرتے ہوئے اس کے باپ کو برا بھلا کہے، اور یہ اُس کی ماں کو گالی دے اور وہ جواباً اس کی ماں کو گالی دے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9684]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7004»
وضاحت: فوائد: … والدین کو براہِ راست برا بھلا کہنے والا تو لعنتی ہے ہی سہی، جیسا کہ اگلی حدیث سے معلوم ہو رہا ہے، کسی طرح سے والدین کی اذیت کا سبب بننے والا بھی کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9685
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَلْعُونٌ مَنْ سَبَّ أَبَاهُ مَلْعُونٌ مَنْ سَبَّ أُمَّهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے باپ کو گالی دی، وہ ملعون ہے، جس نے اپنی ماں کو برا بھلا کہا، اس پر لعنت کی گئی ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9685]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الطبراني: 11546، والحاكم: 4/ 356، والبيھقي: 8/ 231، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1875 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1875»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9686
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَلِجُ حَائِطَ الْقُدْسِ مُدْمِنُ خَمْرٍ وَلَا الْعَاقُّ لِوَالِدَيْهِ وَلَا الْمَنَّانُ عَطَاءَهُ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شراب پینے پر ہمیشگی کرنے والا، والدین کی نافرمانی کرنے والا اور اپنے دیئے پر احسان جتلانے والا پاکیزہ باغ یعنی جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9686]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه البزار: 2931، والطبراني في الاوسط: 8587، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13360 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13393»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9687
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ وَلَا مُكَذِّبٌ بِقَدَرٍ
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: والدین کی نافرمانی کرنے والا، شراب پر ہمیشگی اختیار کرنے والا اور تقدیر کو جھٹلانے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9687]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره دون قوله: ولا مكذب بقدر فقد تفرد بھا سليمان بن عتبة الدمشقي، وھو ممن لايحتمل تفرده، أخرجه البزار: 2182، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27484 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28032»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9688
عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عِبَادًا لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ قِيلَ لَهُ مَنْ أُولَئِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مُتَبَرٍّ مِنْ وَالِدَيْهِ رَاغِبٌ عَنْهُمَا وَمُتَبَرٍّ مِنْ وَلَدِهِ وَرَجُلٌ أَنْعَمَ عَلَيْهِ قَوْمٌ فَكَفَرَ نِعْمَتَهُمْ وَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ
۔ سیدنا معاذبن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن نہ ان سے کلام کرے گا، نہ ان کو پاک صاف کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: والدین سے براء ت کا اظہار کرنے والا، ان سے بے رغبتی کرنے والا، اپنی اولاد سے اظہارِ براء ت کرنے والا اور وہ آدمی جس پر کسی قوم نے انعام کیا، لیکن وہ ان کے انعام کی ناشکری کرے اور ان سے براء ت کا اظہار کر دے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9688]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف زبان بن فائد و سھل بن معاذ في رواية زبان عنه، أخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 20/ 437، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15636 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15721»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنْ قَطْعِ صِلَةِ الرَّحِيمِ
قطع رحمی سے ترہیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9689
عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مِنْ أَرْبَى الرِّبَا الْإِسْتَطَالَةُ فِي عِرْضِ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقٍّ وَإِنَّ هَذِهِ الرَّحِمَ شِجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ فَمَنْ قَطَعَهَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ
۔ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے بڑی زیادتی یہ ہے کہ آدمی کسی حق کے بغیر اپنے بھائی کی عزت پر دست درازی کرے، اور بے شک یہ صلہ رحمی رحمن کی شاخ ہے، جو اس کو کاٹے گا، اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دے گا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9689]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 4876، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1651 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1651»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں