الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الْمَدْحِ
تعریف کی جائز صورتوں کا بیان
حدیث نمبر: 10027
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا أَحَدَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلَا أَحَدَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت مند نہیں ہے، اسی لیے اس نے ظاہر ی اور باطنی ہر قسم کی بری چیزکو حرام قرار دیا ہے اور کوئی بھی ایسا نہیں ہے، جس کو اللہ تعالیٰ کی بہ نسبت تعریف زیادہ پسند ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10027]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4634، 4637، ومسلم: 2760، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3616 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3616»
وضاحت: فوائد: … جب خاوند اپنی بیوییا بیٹی کے پاس کوئی غیر آدمی دیکھتا ہے تو اس میں جلن پیدا ہوتی ہے، اسی کو غیرت کہتے ہیں۔ اسی طرح جب بندہ نافرمانی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو غیرت آتی ہے کہ وہی اس کا خالق،ربّ اور مالک ہے، اسی کا کھاتا، پیتا اور پہنتا ہے، لیکن اس کے باجود یہ اس کی نافرمانی کرتاہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10028
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) مِثْلُهُ وَزَادَ وَلِذَلِكَ مَدَحَ نَفْسَهُ بَعْدَ قَوْلِهِ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس کے آخر میں یہ زائد الفاظ ہیں: اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10028]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4153»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10029
عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أُنْشِدُكَ مَحَامِدَ حَمِدْتُ بِهَا رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ أَمَا إِنَّ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الْمَدْحَ
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس کے آخر میں یہ زائد الفاظ ہیں: اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف کی ہے۔کے ذریعے میں نے اپنے ربّ کی تعریف کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! بیشک تیرا ربّ تعریف کو پسند کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10029]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع من الاسود بن سريع أخرجه النسائي في الكبري: 7745، والطبراني في الكبير: 820، والحاكم: 3/ 614، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15586 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15671»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 10030
عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَدْ وَفَدَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ قَالَ فَأَتَيْنَاهُ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَقُلْنَا أَنْتَ وَلِيُّنَا وَأَنْتَ سَيِّدُنَا وَأَنْتَ أَطْوَلُ عَلَيْنَا قَالَ يُونُسُ وَأَنْتَ أَطْوَلُ عَلَيْنَا طَوْلًا وَأَنْتَ أَفْضَلُ عَلَيْنَا فَضْلًا وَأَنْتَ الْجَفْنَةُ الْغَرَّاءُ فَقَالَ قُولُوا قَوْلَكُمْ وَلَا يَسْتَجْرِيَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ قَالَ وَرُبَمَا قَالَ وَلَا يَسْتَهْوِيَنَّكُمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ بنو عامر کے چند ساتھیوں سمیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آیا اور اس واقعہ کو یوں بیان کیا: پس ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: آپ ہمارے دوست ہیں، آپ ہمارے سردار ہیں، آپ ہم پر مہربانی و کرم کرنے میں بہت مہربان ہیں، آپ فضیلت میں ہم سے زیادہ ہیں اور آپ بہت بڑے سخی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی مقصد کی بات کرو، ہرگز شیطان تم کو اپنے جال میں نہ پھنسانے پائے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10030]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه مختصرا ابوداود: 4806، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16311 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16420»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جو صفات بیان کی گئی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدرجۂ اتم ان سے متصف تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ نہیں چاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے تعریف کی جائے۔
عرب لوگ بہت زیادہ کھلانے والے سردار کو جَفْنَہ کہتے تھے، جس کے لفظی معنی ٹب کے ہیں اور غَرّائ کا معنی سفید ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ٹب چربی اور تیل سے بھرا ہوا ہو، ہم نے ان الفاظ کا مفہومی ترجمہ کیا ہے۔
عرب لوگ بہت زیادہ کھلانے والے سردار کو جَفْنَہ کہتے تھے، جس کے لفظی معنی ٹب کے ہیں اور غَرّائ کا معنی سفید ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ٹب چربی اور تیل سے بھرا ہوا ہو، ہم نے ان الفاظ کا مفہومی ترجمہ کیا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10031
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْتَ سَيِّدُ قُرَيْشٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ السَّيِّدُ اللَّهُ فَقَالَ أَنْتَ أَفْضَلُهَا فِيهَا قَوْلًا وَأَعْظَمُهَا فِيهَا طَوْلًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيَقُلْ أَحَدُكُمْ بِقَوْلِهِ وَلَا يَسْتَجِرَّنَّهُ الشَّيْطَانُ أَوِ الشَّيَاطِينُ
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: آپ قریش کے سردار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سردار تو اللہ ہے۔ پھر اس نے کہا: آپ بات کے لحاظ سے ہم میں سب سے افضل ہیں، مہربانی و کرم میں سب سے زیادہ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر کوئی اپنے مقصد کی بات کرے اور ہر گز شیطان کسی کو اپنے تابع فرمان نہ کرنے پائے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10031]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16425»
وضاحت: فوائد: … جب لفظ سردار کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو گی تو اس کی شان و عظمت کے لائق اس کا معنی ہو گا اور جب اس کی نسبت بندوں کی طرف ہو گی تو ان کی حیثیت کے مطابق اس کا معنی کیا جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود فرمایا: ((اَنَا سَیِّدُ وُلْدِ آدَمَ، وَلَا فَخْرَ)) … میں اولادِ آدم کا سردار ہوں اور مجھے اس پر فخر نہیں ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10032
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ زُهَيْرٍ الثَّقَفِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالنَّبَاءَةِ أَوِ النَّبَاوَةِ شَكَّ نَافِعٌ مِنَ الطَّائِفِ وَهُوَ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تُوشِكُونَ أَنْ تَعْرِفُوا أَهْلَ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ أَوْ قَالَ خِيَارَكُمْ مِنْ شِرَارِكُمْ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بِالثَّنَاءِ السَّيِّئِ وَالثَّنَاءِ الْحَسَنِ وَأَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ
۔ سیدنا زہیر ثقفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے طائف میں نباوہ مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: لوگو! بیشک قریب ہے کہ تم جنت والوں اور جہنم والوں یا نیکوکاروں اور بدکاروں کو پہچان لو۔ ایک بندے نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بری اور اچھی تعریف کے ذریعے، دراصل تم ایک دوسرے پر گواہی دینے میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10032]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 4221، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15439 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15518»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10033
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يَعْمَلُ الْعَمَلَ فَيَحْمَدُهُ النَّاسُ عَلَيْهِ وَيُثْنُونَ عَلَيْهِ بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ عَاجِلُ بُشْرَى الْمُؤْمِنِ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آدمی عمل کرتا ہے اور لوگ اس کی وجہ سے اس کی تعریف اور مدح سرائی کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ مؤمن کے لیے جلدی مل جانے والی خوشخبری ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10033]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2642، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21380 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21708»
وضاحت: فوائد: … قارئین کرام! کسی آدمی کے منہ پر اس کی تعریف کرنا بھی سخت منع ہے، مدح سرائی کا خواہش مند ہونا بھی قابل مذمت ہے اور ریاکاری کرنا بھی باعث ِ ہلاکت ہے، تو پھر اس حدیث میں مذکورہ خوشخبری کون سی ہے؟ دراصل یہ مدح سرائی اس محبت کا اثر ہے، جو اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں اپنے خاص بندے کے لیے الہام کر دیتا ہے، جبکہ وہ آدمی خلوص کے ساتھ اور لوگوں سے بے پروا ہو کر عمل بھی کرتا ہے اور اپنے سامنے تعریفی کلمات سننا بھی گوارہ نہیں کرتا، اس کے باوجود جب وہ دیکھتا ہے کہ سنجیدہ لوگ اپنی مجلسوں میںیا ایک دوسرے کے ساتھ اس کا تذکرۂ خیر کرتے ہیں تو وہ اس کو اپنے حق میں خوشخبری سمجھتا ہے، لیکن ریاکاری، عجب پسندی، تکبر اور خودنمائی سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
2. بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِينَ الْمَدْحِ
تعریف کی ناجائز صورتیں
حدیث نمبر: 10034
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ ذَكَرُوا رَجُلًا عِنْدَهُ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مِنْ رَجُلٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْهُ فِي كَذَا وَكَذَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَيْحَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ مِرَارًا يَقُولُ ذَلِكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا أَخَاهُ لَا مَحَالَةَ فَلْيَقُلْ أَحْسِبُ فُلَانًا إِنْ كَانَ يَرَى أَنَّهُ كَذَاكَ وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ تَبَارَكَ أَحَدًا وَحَسِيبُهُ اللَّهُ أَحْسَبُهُ كَذَا وَكَذَا
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں ایک آدمی کا تذکرہ کیا اور ایک شخص نے اس کے بارے میں کہا: اے اللہ کے رسول! کوئی شخص نہیں ہے، جو فلاں فلاں عمل میں اللہ کے رسول کے بعد افضل ہو، مگر وہی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ہلاک ہو جائے، تو نے تو اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی بار یہ بات ارشاد فرمائی اور پھر فرمایا: اگر کسی نے لامحالہ طور پر کسی کی تعریف کرنی ہی ہو تو وہ یوں کہے: میرا گمان ہے کہ وہ آدمی ایسے ایسے ہے اور میں اللہ تعالیٰ پر کسی کا تزکیہ نہیں کر سکتا، دراصل اس کا محاسب اللہ تعالیٰ ہے، بہرحال میں اس کو ایسے ایسے گمان کرتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10034]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6061، ومسلم: 3000، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20422 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20693»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10035
- (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقِ ثَانِ، عَنْ أَبِيهِ) أَنَّ رَجُلًا مَدَحَ صَاحِبًا لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((وَيْلَكَ قَطَعْتَ عُنُقَهُ، إِنْ كُنْتَ مَادِحًا لَا مَحَالَةَ فَقُلْ أَحْسِبُهُ كَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ حَسِيبُهُ وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ تَعَالَى أَحَدًا)).
۔ (دوسری سند) ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اپنے ایک ساتھی کی تعریف کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ہلاک ہو جائے، تو نے تو اس کی گردن کاٹ کے رکھ دی ہے، اگر تو نے لامحالہ طور پر تعریف کرنی ہی ہے تو اس طرح کہہ: میرا گمان ہے کہ وہ شخص ایسے ایسے ہے اور اس کا محاسب اللہ تعالیٰ ہے اور میں اللہ تعالیٰ پر کسی کا تزکیہ نہیں کر سکتا۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10035]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20758»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10036
عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ كَانَ رَجُلٌ يَمْدَحُ ابْنَ عُمَرَ قَالَ فَجَعَلَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ هَكَذَا يَحْثُو فِي وَجْهِهِ التُّرَابَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا رَأَيْتُمُ الْمَدَّاحِينَ فَاحْثُوا فِي وُجُوهِهِمِ التُّرَابَ
۔ عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں: ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماکی تعریف کی اور انھوں نے اس کے چہرے پر مٹی پھینکی اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب تم تعریف کرنے والوں کو پاؤ تو ان کے چہروں پر مٹی ڈالا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10036]
تخریج الحدیث: «صححيح لغيره، أخرجه ابن حبان: 5769، وابن ابي شيبة: 9/7، والطبراني في الكبير: 13589، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5684 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5684»
الحكم على الحديث: صحیح