الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي ذَمُ الْمَالِ
مال کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 10067
عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ امْرَأَةِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى حَمْزَةَ فَتَذَاكَرَا الدُّنْيَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بُورِكَ لَهُ فِيهَا وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللَّهِ وَمَالِ رَسُولِهِ لَهُ النَّارُ يَوْمَ يَلْقَى اللَّهَ
۔ سیدنا حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور پھر دونوں نے دنیا کا ذکر کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ دنیا سر سبزو شاداب، میٹھی (اور پر کشش) ہے، جو اس کو اس کے حق کے ساتھ لے گا، اس کے لیے اس میں برکت کی جائے گی اور کئی لوگ ایسے ہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے مال میں گھس تو جاتے ہیں، لیکن جس دن وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کریں گے، اس دن ان کے لیے آگ ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10067]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 2374، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27054 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27594»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10068
عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ ثَامِرٍ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ وَإِنَّ رِجَالًا يَتَخَوَّضُونَ فِي مَالِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِغَيْرِ حَقٍّ لَهُمُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
۔ سیدہ خولہ بنت ثامر انصاریہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ دنیا سر سبزو شاداب، میٹھی (اور پر کشش) ہے اور جو لوگ بغیر حق کے اللہ کے مال میں گھس جاتے ہیں، ان کے لیے قیامت کے دن آگ ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10068]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3118، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27318 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27861»
وضاحت: فوائد: … اس دور میں پائی جانے والی ایک بدخصلت یہ بھی ہے کہ کئی لوگ مال و دولت کے حصول کے معاملے میں حلت و حرمت کا خیال نہیں رکھتے۔
الحكم على الحديث: صحیح
7. بَابُ مَا جَاءَ فِي ذَمُ الدُّنْيَا
دنیا کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 10069
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا يُخْرِجُ اللَّهُ مِنْ نَبَاتِ الْأَرْضِ وَزَهْرَةِ الدُّنْيَا فَقَالَ رَجُلٌ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ أَوَ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ فَسَكَتَ حَتَّى رَأَيْنَا أَنَّهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ قَالَ وَغَشِيَهُ بُهْرٌ وَعَرِقَ فَقَالَ أَيْنَ السَّائِلُ فَقَالَ هَا أَنَا وَلَمْ أُرِدْ إِلَّا خَيْرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِالْخَيْرِ إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِالْخَيْرِ إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِالْخَيْرِ وَلَكِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ وَكُلُّ مَا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ إِلَّا آكِلَةَ الْخَضِرِ فَإِنَّهَا أَكَلَتْ حَتَّى امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا وَاسْتَقْبَلَتِ الشَّمْسَ فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ ثُمَّ عَادَتْ فَأَكَلَتْ فَمَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بُورِكَ لَهُ فِيهَا وَمَنْ أَخَذَهَا بِغَيْرِ حَقِّهَا لَمْ يُبَارَكْ لَهُ وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْإِمَامِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ قَالَ أَبِي قَالَ سُفْيَانُ وَكَانَ الْأَعْمَشُ يَسْأَلُنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر فرمایا: بیشک مجھے سب سے زیادہ ڈر اس چیز کے بارے میں ہے، جو اللہ تعالیٰ زمین کی انگوریوں اور دنیا کے مال و متاع کی صورت میں نکالے گا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا خیر بھی شرّ کو لاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے، یہاں تک کہ ہم نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سانس پھولنے لگا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت زیادہ پسینہ آ گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: سائل کہاں ہے؟ اس نے کہا: جی میں ہوں اور میرا ارادہ صرف خیر کا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک خیر صرف خیر لاتی ہے، بیشک خیر صرف خیر کو لاتی ہے، بیشک خیر صرف خیر کو ہی لاتی ہے، اصل بات یہ ہے کہ یہ دنیا سر سبزو شاداب اور میٹھی ہے، موسم بہار جو کچھ اگاتا ہے، وہ سوجن کی وجہ سے یا تو قتل کر دیتا ہے، یا قتل کے قریب کر دیتا ہے، ایک جانور چارہ کھاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کی کوکھیں بھر جاتی ہیں، پھر وہ سورج کے سامنے لیٹ جاتا ہے اورپتلا پاخانہ اور پیشاب کر کے پھر کھانا شروع کر دیتا ہے، بات یہ ہے کہ جو آدمی دنیا کو اس کے حق کے ساتھ حاصل کرے گا، اس کے لیے اس میں برکت کی جائے گی اور جو بغیر حق کے لے گا، اس کے لیے اس میں برکت نہیں کی جائے گی، بلکہ وہ اس آدمی کی طرح ہو گا جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10069]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 921، ومسلم: 1052، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11035 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11049»
وضاحت: فوائد: … موسم بہار میں بہت سی انگوریاں اگتی ہیں، جو جانور ضرورت کے مطابق چرتا رہے، اس کو ان انگوریوں کا فائدہ ہو گا، لیکن جو جانور اپنی ضرورت سے زیادہ کھائے گا، وہ بیمار پڑ جائے گا اور بالآخر مر جائے گا یا مرنے کے قریب ہو جائے گا، یہی معاملہ دنیوی مال و دولت کا ہے، جو آدمی ضرورت کے مطابق اس کو حاصل کرے گا، اس کو اس سے بڑا فائدہ ہو گا اور جو حرص میں پڑ کر اس کے پیچھے پڑ جائے گا اور اس کے معاملے میں شرعی حدود کا خیال بھی نہیں رکھے گا، اس کے لیےیہ نقصان دہ ثابت ہو گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10070
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِ سِنِينَ كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ إِنِّي فَرَطُكُمْ وَأَنَا عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ وَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْحَوْضُ وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَيْهِ وَلَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا أَوْ قَالَ تَكْفُرُوا وَلَكِنِ الدُّنْيَا أَنْ تَتَنَافَسُوا فِيهَا
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آٹھ برسوں کے بعد غزوۂ احد کے مقتولین کی نماز جنازہ پڑھی، ایسے لگ رہا تھا کہ آپ زندوں اور مردوں کو الوداع کہہ رہے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: میں تمہارا پیش رو ہوں گا اور تمہارے حق میں گواہی دوں گا، بیشک تمہارے وعدے کی جگہ حوض ہے اور میں اس حوض کی طرف دیکھ رہا ہوں، مجھے تمہارے بارے میں شرک کا ڈر نہیں ہے، بلکہ دنیا کا ڈر ہے کہ تم اس میں پڑ جاؤ گے۔ ایک روایت میں شرک کے بجائے کفر کے الفاظ ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10070]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4042، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17402 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17537»
وضاحت: فوائد: … جو دنیا میں پڑ گیا، اس نے اپنی شہوات کو پورا کرنے کی کوشش کی، نتیجتاً وہ معصیتوں میں پڑ گیا اور آخرت کے لیے عمل کرنے کے لیے فارغ نہ ہو سکا، سو اس نے اپنے نفس کے ذریعے اپنی آخرت کو نقصان دیا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10071
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحَبَّ دُنْيَاهُ أَضَرَّ بِآخِرَتِهِ وَمَنْ أَحَبَّ آخِرَتَهُ أَضَرَّ بِدُنْيَاهُ فَآثِرُوا مَا يَبْقَى عَلَى مَا يَفْنَى
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنی دنیا سے محبت کی، اس کی آخرت کو نقصان پہنچا اور جس نے اپنی آخرت کو پسند کیا، اس کی دنیا کو نقصان پہنچا، پس تم باقی رہنے والی چیز کو فنا ہونے والی چیز پر ترجیح دو۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10071]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره،أخرجه الحاكم: 4/ 319، وابن حبان: 709، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19697 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19933»
وضاحت: فوائد: … چشم فلک اور ہر صاحب ِ بصارت کی بصیرت گواہ ہے کہ دنیوی آسائشوں کی وجہ سے عبادات کا سلسلہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا، یہی وجہ ہے کہ آج مساجد میں نمازیوں کی تعداد بہت کم ہو گئی ہے اور اچھے خاصے نمازی لوگ صرف اس وجہ سے نمازِ فجر کی ادائیگی کے لیے مسجد میں حاضر نہیں ہوتے
مذکورہ بالا حدیث کو دیکھا جائے تو کہنا پڑے گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ تھا کہ معمولی نیند کر کے جسم کا حق ہی ادا کرنا ہے نا، اتنا نرم و ملائم بچھونا استعمال کرنے سے نیند میں اضافہ ہو گا، سستی بڑھے گی اور دنیوی آسائشوں کی طرف میلان میں اضافہ ہو گا۔
مذکورہ بالا حدیث کو دیکھا جائے تو کہنا پڑے گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ تھا کہ معمولی نیند کر کے جسم کا حق ہی ادا کرنا ہے نا، اتنا نرم و ملائم بچھونا استعمال کرنے سے نیند میں اضافہ ہو گا، سستی بڑھے گی اور دنیوی آسائشوں کی طرف میلان میں اضافہ ہو گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10072
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَانَ هَمُّهُ الْآخِرَةَ جَمَعَ اللَّهُ شَمْلَهُ وَجَعَلَ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ وَمَنْ كَانَ نِيَّتُهُ الدُّنْيَا فَرَّقَ اللَّهُ عَلَيْهِ ضَيْعَتَهُ وَجَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَلَمْ يَأْتِهِ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا مَا كُتِبَ لَهُ
۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کی فکر آخرت ہو، اللہ تعالیٰ اس کے امور کی شیرازہ بندی کر دیتا ہے، اس کے دل کو غنی کر دیتا ہے اور دنیا ذلیل ہو کر (اس کے مقدر کے مطابق) اس کے پاس پہنچ جاتی ہے، لیکن جس آدمی کا رنج و غم دنیا ہی دنیا ہو، اللہ تعالیٰ اس پر اس کے معاملات کو منتشر کر دیتا ہے، اس کی فقیری و محتاجی کو اس کی آنکھوں کے درمیان رکھ دیتا ہے اور اسے دنیا سے بھی وہی کچھ ملتا ہے جو اس کے مقدر میں لکھا جا چکا ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10072]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 3660، وابن ماجه: 4105، والترمذي: 2656، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21590 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21925»
وضاحت: فوائد: … حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ اپنی عبادات و معاملات کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کے احکام کو مدنظر رکھے۔ اپنی عبادات میں حسن پیدا کرے اور جائز و مباح اسباب کے ذریعے حصولِ رزق کے لیے کوشاں رہے۔ روزی کے حصول کے لیے کبھی بھی حرام وسیلہ استعمال نہ کرے، نیز اگر اپنے کام کاج کے دوران اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی دوسری ذمہ داری عائد کر دی جاتی ہے تو اپنے مصروفیات کو بالائے طاق رکھ کر پہلے اس ذمہ داری کو پورا کرے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو کبھی بھی اس کی دنیوی ضروریات پوری نہیں ہوں گی۔ اس کا ذہن مزید، مزید اور مزید کی تلاش میں لگا رہے گا اور اچانک اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغامِ اجل آ جائے گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10073
عَنْ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ يَا سَامِعَ الْأَشْعَرِيِّينَ لِيُبَلِّغْ مِنْكُمُ الْغَائِبَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حُلْوَةُ الدُّنْيَا مُرَّةُ الْآخِرَةِ وَمُرَّةُ الدُّنْيَا حُلْوَةُ الْآخِرَةِ
۔ عبید حضرمی سے روایت ہے کہ جب سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انھوں نے کہا: اے اشعریوں کی جماعت! موجودہ لوگ، غائب لوگوں تک میری بات پہنچا دیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: دنیا کی لذت آخرت کی کڑواہٹ ہے اور دنیا کی تلخی آخرت کی لذت و شیری ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10073]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه،، شريح بن عبيد لم يسمع ابا مالك الاشعري، أخرجه الحاكم: 4/ 310، والبيھقي في الشعب: 10336، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22899 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23287»
وضاحت: فوائد: … حقیقت میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فرمانبرداری میں آخرت میں تو کجا، دنیا میں بھی لذت ہی لذت اور حلاوت ہی حلاوت نصیب ہوتی ہے۔ لیکن عام لوگ جن پر نیکی کرنا اور برائی ترک کرنا گراں گزرتا ہے، انھیں سمجھانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ لوگ اپنے ذہن کے مطابق جس چیز کو کڑوا اورکٹھن سمجھتے ہیں، حقیقت میں وہی ان کی سعادت کیعلامت ہو گی اور جو چیز زیادہ مرغوب اور پسندیدہ لگے، لیکن بندے کی آخرت کے لیے مضر ہو تو اسے ترک کرنے میں اگرچہ تکلیف ہو گی، لیکنیہ تکلیف کئی رحمتوں کا سبب بن جاتی ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 10074
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِثَوْبَانَ كَيْفَ أَنْتَ يَا ثَوْبَانُ إِذَا تَدَاعَتْ عَلَيْكُمُ الْأُمَمُ كَتَدَاعِيكُمْ عَلَى قَصْعَةِ الطَّعَامِ يُصِيبُونَ مِنْهُ قَالَ ثَوْبَانُ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ قِلَّةٌ بِنَا قَالَ لَا أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ وَلَكِنْ يُلْقَى فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنُ قَالُوا وَمَا الْوَهْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ حُبُّكُمُ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَتُكُمْ لِلْقِتَالِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے ثوبان! اس وقت تمہارا کیا بنے گا، جب دوسری امتوں کے لوگ تم پر یوں ٹوٹ پڑیں گے، جیسے تم کھانے کے پیالے پر ٹوٹ پڑتے ہو سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تمھاری بہت زیادہ تعداد ہو گی، دراصل تمھارے دلوں میں وہنڈال دیا جائے گا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہن کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا کی محبت اور جہاد کی کراہیت کو وہن کہتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10074]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8713 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8698»
وضاحت: فوائد: … عصر حاضر دنیائے اسلام اس حدیث کی مصداق بن چکی ہے، مسلمانوں نے دنیوی محبت، موت کی کراہت اور دشمنوں کے رعب کی وجہ سے جہاد ترک کر دیا، جس کی وجہ سے نہ صرف مسلمانوں اور اسلامی مملکتوں کا رعب ختم ہو چکا ہے، بلکہ وہ دشمنوں کے سامنے بری طرح مرعوب ہو چکے ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10075
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا مؤمن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10075]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه مسلم: 2956، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10288 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10293»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کا مصداق دنیا کے ظاہری حالات ہیں، وگرنہ دنیا میں جو تسکین مومن کو نصیب ہوتی ہے، اس کا کسی نافرمان کو احساس تک نہیں ہو سکتا، اگر ایک آدمی صدقہ کر کے سکون حاصل کر رہا ہو اور دوسرا دولت جمع کر کے خوش ہو رہا ہو تو صدقہ کرنے والے کا سکون زیادہ ہو گا، اسی طرح اگر ایک آدمی نماز فجر ادا کر کے تسکین حاصل کر رہا ہے اور دوسرا نیند کے ذریعے آرام کر رہا ہو تو نماز ادا کرنے والے کا سکون بہت زیادہ ہو گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10076
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَسَنَتُهُ فَإِذَا فَارَقَ الدُّنْيَا فَارَقَ السِّجْنَ وَالسَّنَةَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا مؤمن کے لیے قیدخانہ اور قحط سالی ہے، جب وہ دنیا سے جدا ہوتا ہے تو وہ قید خانے اور قحط سالی سے الگ ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10076]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الله بن جنادة المعافري، لم يوثقه غير ابن حبان، أخرجه الحاكم: 4/ 315، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6855 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6855»
الحكم على الحديث: ضعیف