Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي دَمُ النِّسَاءِ
عورتوں کی مذمت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10047
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ وَاطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے جہنم میں جھانکا اور دیکھا کہ اس کی اکثریت عورتوں پر مشتمل تھی اور پھر میں نے جنت میں جھانکا اور دیکھا کہ اس میں فقیر لوگوں کی اکثریت تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10047]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5198، 6546، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19852 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20092»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10048
عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفًا يُحَدِّثُ أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ قَالَ فَجَاءَ إِلَى إِحْدَاهُمَا قَالَ فَجَعَلَتْ تَنْزِعُ بِهِ عِمَامَتَهُ وَقَالَتْ جِئْتَ مِنْ عِنْدِ امْرَأَتِكَ قَالَ جِئْتُ مِنْ عِنْدِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فَحَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحْسِبُ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أَقَلَّ سَاكِنِي الْجَنَّةِ النِّسَاءُ
۔ ابو تیاح بیان کرتے ہیں کہ مطرف کی دو بیویاں تھیں، جب وہ ایک بیوی کے پاس گئے اور اس نے ان کی پگڑی اتاری تو اس نے کہا: آپ تو اپنی بیوی کے پاس سے آئے ہیں، انھوں نے کہا: میں سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس سے آیا ہوں، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث بیان کی، میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت کے باسیوں میں عورتیں کم تعداد ہوں گی۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10048]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2738، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19837 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20076»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. مَعَ زَوْجَتِهِ مُعَاذَةً
عبد اللہ بن اعور اعشی اور ان کی بیوی معاذہ کا قصہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10049
عَنْ نَضْلَةَ بْنِ طَرِيفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ الْأَعْشَى وَاسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَعْوَرِ كَانَتْ عِنْدَهُ امْرَأَةٌ يُقَالُ لَهَا مُعَاذَةُ خَرَجَ فِي رَجَبٍ يَمِيرُ أَهْلَهُ مِنْ هَجَرَ فَهَرَبَتِ امْرَأَتُهُ بَعْدَهُ نَاشِزًا عَلَيْهِ فَعَاذَتْ بِرَجُلٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ مُطَرِّفُ بْنُ بُهْصُلِ بْنِ كَعْبِ بْنِ قُمَيْشَعِ بْنِ دُلَفِ بْنِ أَهْضَمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحِرْمَازِ فَجَعَلَهَا خَلْفَ ظَهْرِهِ فَلَمَّا قَدِمَ وَلَمْ يَجِدْهَا فِي بَيْتِهِ وَأُخْبِرَ أَنَّهَا نَشَزَتْ عَلَيْهِ وَأَنَّهَا عَاذَتْ بِمُطَرِّفِ بْنِ بُهْصُلٍ فَأَتَاهُ فَقَالَ يَا ابْنَ الْعَمِّ أَعِنْدَكَ امْرَأَتِي مُعَاذَةُ فَادْفَعْهَا إِلَيَّ فَقَالَ لَيْسَتْ عِنْدِي وَلَوْ كَانَتْ عِنْدِي لَمْ أَدْفَعْهَا إِلَيْكَ قَالَ وَكَانَ مُطَرِّفٌ أَعَزَّ مِنْهُ فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَاذَ بِهِ وَأَنْشَأَ يَقُولُ
۔ سیدنا نضلہ بن طریف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم میں ایک آدمی تھا، عام طور پر اس کو اعشی کہا جاتا تھا، اس کا نام عبد اللہ بن اعور تھا، اس کی معاذہ نامی ایک بیوی تھی، وہ اپنے اہل و عیال کے لیے کھانے لینے کی خاطر رجب میں ہجر گیا، پیچھے اس کی بیوی بغاوت کر کے کہیں بھاگ گئی اور مطرف بن بُہصُل نامی آدمی کے ہاں جا کر پناہ لی، اس نے اس کو اپنی کمر کے پیچھے بٹھا لیا، جب اعشی واپس آیا، اس نے اپنی بیوی کو اپنے گھر میں نہ پایا اور اس کو بتلایا گیا کہ وہ بغاوت کر گئی ہے اور مطرف بن بُہصُل کی پناہ میں ہے، چنانچہ وہ مطرف کے پاس گیا اور اس سے کہا: اے چچا زاد! کیا تیرے پاس میری بیوی معاذہ ہے؟ اگر ہے تو مجھے دے دے، اس نے کہا: وہ میرے پاس نہیں ہے اور اگر وہ میری پاس ہوتی تو میں نے تجھ کو نہیں دینی تھی۔ دراصل مطرف، اعشی سے زیادہ عزت و قوت والا تھا، پس اعشی نکل پڑا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پناہ طلب کی اور پھر یہ اشعار پڑھے:
اے لوگوں کے سردار! اور عربوں پر غالب آ جانے والے! میں آپ سے خائن عورتوں میں سے ایک خائن عورت کی شکایت کرتا ہوں
گہری سیاہی والی مادہ بھیڑیئے کی طرح، جو بِل کے سائے میں ہو، میں اس کے لیے غلہ طلب کرنے کے لیے رجب میں نکلا
اس نے جھگڑنے اور بھاگنے کی صورت میں اپنے حق میں میرے ظن کی مخالفت کی، اس نے وعدہ خلافی کی ہے اور اس نے اپنی دم کو بند کر لیا ہے
اس نے مجھے کثیر مقدار کے گھنے درختوں میں پھینک دیا ہے، یہ اس شخص کے حق میں بدترین غلبہ پا لینے والی ہیں، جس پر غلبہ پا لیں
یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ خواتین اس شخص کے حق میں بدترین غلبہ پانے والی ہیں، جس پر یہ غلبہ پا لیں۔ پھر اعشی نے اپنی بیوی اور اس کاروائی کا شکوہ کیا اور بتلایا کہ اب وہ ہمارے قبیلے کے مطرف بن بہصل نامی آدمی کے پاس ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مطرف کی طرف یہ خط لکھا: تو اس کی بیوی تلاش کر کے اس کو واپس کر دے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط اُس آدمی کے پاس پہنچا اور اس پر پڑھا گیا تو اس نے اسی خاتون سے کہا: اے معاذہ! یہ تیرے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط موصول ہوا ہے، اس کی وجہ سے میں تجھے اس کے سپرد کرنے والا ہوں۔ اس خاتون نے کہا: تو پھر تو میرے حق میں اس سے پختہ عہد اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امان لے لے، تاکہ وہ مجھے میرے کیے پر سزا نہ دے، پس مطرف نے اعشی سے یہ عہد و پیمان لیا اور پھر اس کی بیوی کو اس کے سپرد کر دیا، اعشی نے اپنی بیوی وصول کی اور یہ شعر پڑھنے لگا:
تیری عمر کی قسم! معاذہ سے میری محبت ایسی نہیں ہے کہ جس کو چغل خور اورزمانے کا گزرنا کم کر دے
نہ وہ برائی اس کو کم کر سکے گی، جو معاذہ نے کی ہے، کیونکہ گمراہ لوگوں نے اس کو پھسلا دیا تھا، جب وہ میرے جانے کے بعد اس سے سرگوشیاں کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10049]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة اكثر رواته، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6886 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6885»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10050
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ صَدَقَةَ بْنِ طَيْسَلَةَ حَدَّثَنِي مَعْنُ بْنُ ثَعْلَبَةَ الْمَازِنِيُّ وَالْحَيُّ بَعْدُ قَالَ حَدَّثَنِي الْأَعْشَى الْمَازِنِيُّ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَنْشَدْتُهُ: «يَامَالِكَ النَّاسِ وَدَيَّانَ الْعَرَبْ!
اِنِّيْ لَقِيْتُ ذِرْبَةً مِنَ الذِّرَبْ
غَدَوْتُ اَبْغِيْهَا الطَّعَامَ فِيْ رَجَبْ
فَخَلَفَتْـنِيْ بِنِـزَاعٍ وَهَـَربْ»
۔ (دوسری سند) اعشی کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور یہ اشعا ر پڑھے:
اے لوگوں کے مالک اور عربوں پر غالب آ جانے والے! خائن عورتوں میں سے ایک خائن عورت سے میرا واسطہ پڑا ہے
میں اس کے لیے اناج لانے کے لیے رجب میں نکلا لیکن وہ جھگڑنے اور بھاگنے کی صورت میں میرا نائب بنی
اس نے وعدہ خلافی کی اور اپنی دُم کو بند کر دیایہ اس شخص کے حق میں بدترین غلبہ پا لینے والی ہیں، جس پر غلبہ پا لیں۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10050]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6885»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. فَصْلٌ مِنْهُ أَيْضًا فِي عَدْمِ صَلَاحِيَّةِ النِّسَاءِ لِوَلايَةِ الْأُمُورِ
عورتوں کا امور کی ولایت کے لیے نا اہل ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10051
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ بَشِيرٌ يُبَشِّرُهُ بِظَفَرِ جُنْدٍ لَهُ عَلَى عَدُوِّهِمْ وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَامَ فَخَرَّ سَاجِدًا ثُمَّ أَنْشَأَ يُسَائِلُ الْبَشِيرَ فَأَخْبَرَهُ فِيمَا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَلِيَ أَمْرَهُمُ امْرَأَةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْآنَ هَلَكَتِ الرِّجَالُ إِذَا أَطَاعَتِ النِّسَاءَ هَلَكَتِ الرِّجَالُ إِذَا أَطَاعَتِ النِّسَاءَ ثَلَاثًا
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے کہ خوشخبری دینے والا ایک آدمی یہ خوشخبری دینے کے لیے آیا کہ وہ دشمن پر کامیاب ہو گئے ہیں، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر مبارک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی گودی میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے، سجدہ کیا اور پھر خوشخبری دینے والے سے سوال جواب کرنے لگے، اس نے ایک بات یہ بھی بتلائی کہ اُن لوگوں کی ذمہ دار خاتون تھی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس وقت مرد ہلاک ہو جائیں گے، جب عورتوں کی اطاعت کریں گے، اس وقت مرد ہلاک ہو جائیں گے، جب عورتوں کی اطاعت کریں گے۔ تین بار ارشاد فرمایا۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10051]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف بكار بن عبد العزيز، وابوه عبد العزيز روي عنه جمع، وذكره ابن حبان والعجلي في الثقات، أخرجه البزار: 3692، والحاكم: 4/ 291، وأخرج قصة سجود الشكر ابوداود: 2774، والترمذي: 1578، وابن ماجه: 1394، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20455 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20729»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10052
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ فَارِسَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ قَتَلَ رَبَّكَ قَالَ وَقِيلَ لَهُ يَعْنِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَدِ اسْتَخْلَفَ ابْنَتَهُ قَالَ فَقَالَ لَهُ لَا يُفْلِحُ قَوْمٌ تَمْلِكُهُمُ امْرَأَةٌ
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل فارس کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: میرے ربّ نے تیرے رب کو ہلاک کر دیا ہے۔ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: وہ تو اپنی بیٹی اپنا نائب بنا گیا ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ قوم فلاح نہیں پا سکتی، جن کی حکمران عورت ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10052]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البزار: 3647، وأخرج القطعة الثانية منه الترمذي: 2262، والنسائي: 8/ 227، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20438 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20710»
وضاحت: فوائد: … جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شاہِ ایران کسری کو دعوت ِ اسلام دینے کے لیے خط لکھا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نامۂ مبارک چاک کر دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر بد دعا کی تھی، جو قبول ہوئی۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت امارت اور قضا کی اہل نہیں ہے، بلکہ عورت تو خود اپنی شادی بھی نہیں کر سکتی۔
قارئین کرام! مرد اور عورت، دونوں اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہیں، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے دونوں کی ذمہ داریاں بھی بیان کی ہیں اور دونوں کے حقوق بھی اور عورت کو اس اعتبار سے منفرد اور بے فکر قرار دیا ہے کہ اس کے تمام اخراجات کا ذمہ دار مرد ہے، لیکن دیکھایہگیا ہے کہ عورت نے اپنے حقوق پر قناعت نہیں کی اور اپنے دائرۂ کار سے باہر نکلنے کی کوشش کی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي ذَمُ الْمَالِ
مال کی مذمت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10053
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ ثَنَا هَمَّامُ أَنَا قَتَادَةُ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْرَأُ {أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ} [سورة التكاثر: 1-2] قَالَ فَقَالَ يَقُولُ ابْنُ آدَمَ مَالِي مَالِي وَهَلْ لَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ وَكَانَ قَتَادَةُ يَقُولُ كُلُّ صَدَقَةٍ لَمْ تُقْبَضْ فَلَيْسَ بِشَيْءٍ
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر داخل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ آیات تلاوت کر رہے تھے: زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کر دیا،یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم کہتا ہے: میرا مال، میرا مال، اے ابن آدم! تیرے مال میں سے تیرا مال نہیں ہے، مگر وہ جو تونے کھا کر ختم کر دیا،یا پہن کر بوسیدہ کر دیا،یا صدقہ کر کے آگے بھیج دیا۔ قتادہ کہا کرتے تھے: وہ صدقہ کچھ نہیں ہے، جس کو قبضے میں نہیں لیا گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10053]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2958، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16327 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16436»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10054
عَنْ كَعْبِ بْنِ عِيَاضٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ فِتْنَةً وَإِنَّ فِتْنَةَ أُمَّتِي الْمَالُ
۔ سیدنا کعب بن عیاض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ہر امت کا فتنہ ہوتا ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10054]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 2336، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17471 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17610»
وضاحت: فوائد: … وہ مال و دولت فتنہ ہے، جو عبادات، معاملات اور اخلاق کے واجبات و مستحبات میںکوتاہی کرنے پر اور محرمات و مکروہات کا ارتکاب کرنے پر آمادہ کرتا ہے اور مال داروں کی اکثریت اس فتنے میں مبتلا رہی ہے، لیکن وہ خود نہ اس نقطے کو سمجھ سکتے ہیں اور نہ سمجھنے کے لیے کوشش کرتے ہیں۔
قارئین کرام! کسی معاشرے پر تبصرہ کرتے وقت اس کی اکثریت کو دیکھا جاتا ہے، نہ کہ چند افراد کو۔ اس امت کا فتنہ مال ہے، اس ضمن میں درج ذیل چند اقتباسات پر غور کریں:
اس سلسلے میں یہ حقیقت ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ مال و دولت کی کثرت و بہتات نے زیادہ تر لوگوں کے مزاجوں کو تبدیل کیا ہے۔ ان کی ترجیحات تبدیل ہو کر رہ گئی ہیں، امیر لوگ اپنی امیری کی بنا پر ناز کرتے ہوئے اپنے آپ کو بلند مرتبت اور کم آمدنی والوں کو کم تر سمجھتے ہیں اور ان سے حسن سلوک سے پیش نہیں آتے، ان کے تعلق یا دوستی کی بنیاد روپے پیسے پر ہوتی ہے، یہ لوگ اپنے جیسے مالداروں، جاگیرداروں، بڑے سیاسی رہنماؤں اور اعلی منصب داروں کا خوشامد کی حد تک احترام کریں گے اور بھرپور انداز میں ان کی ضیافت کریں گے، لیکنجب کوئی غریب اور نیک آدمی ان کے دروازے پر آئے تو اپنے نوکروں چاکروں کے ذریعے ڈیل کرنے کو کافی سمجھ کر اس کو دروازے سے واپس کرنے کی کوشش کریں گے۔ کم ہی دیکھا گیا ہے کہ وہ کسی نیک آدمی کی عزت اس کی نیکی کی وجہ سے کریںیا اس سے مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ ملاقات ہی کر لیں، بلکہ زیادہ تر اِن کو مذہبی لوگوں پر کیچڑ اچھالتے ہوئے پایا جاتا ہے۔ اگر عبادات کے معاملے کو سامنے رکھیں تو عام لوگوں کی فتح نظر آتی ہے، کسی مسجد کے نمازیوں کی تعداد میں عام لوگوں اور سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونے والوں کا تناسب دیکھا جا سکتا ہے، تلاوتِ قرآنِ اور حفظ ِ قرآن کے سلسلے میں موازنہ کیا جا سکتا ہے، میں نے اپنی زندگی میں چند امیرافراد پائے جنہوں نے قرآن مجید حفظ کیا اور اسے بھی آرام پرستی کی وجہ سے بھلا دیا۔ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث کی درس و تدریس اور تحقیق و تفتیش کا معاملہ ہے۔ علی ہذا القیاس۔
چشم فلک اور ہر صاحب ِ بصارت کی بصیرت گواہ ہے کہ دنیوی آسائشوں کی وجہ سے عبادات کا سلسلہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا، یہی وجہ ہے کہ آج مساجد میں نمازیوں کی تعداد بہت کم ہو گئی ہے اور اچھے خاصے نمازی لوگ صرف اس وجہ سے نمازِ فجر کی ادائیگی کے لیے مسجد میںحاضر نہیں ہوتے کہ شام کو خوب پیٹ بھر کر کھاتے ہیں اور نرم گدے بچھا کر اور ملائم کمل اوڑھ کر اور پنکھے، روم کولر یا اے سی وغیرہ چلا کر سوتے ہیں، ایسے ماحول میں نیند کا کردار نشہ سے کم نہیں ہوتا،
نیند پورا ہونے کا نام نہیں لیتی، اعضا ڈھیلے پڑ جاتے ہیں،نتیجتاً فجر کی جماعت یا سرے سے نمازِ فجر سے ہی محروم ہو جاتے ہیں۔ میں بالیقین کہتا ہوں کہ بظاہر انتہائی پر سکون ماحول میں سونے والوں کی نیند کی مقدار کہیں زیادہ ہوتی ہے، جبکہ انہی کی طرح کے انسان دن میں چار، پانچ، چھ گھنٹے سو کر ان سے زیادہ صحت مند نظر آتے ہیں۔
رہا مسئلہ قلت ِ مال یا کثرتِ مال کے بہتر ہونے کا، تو یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس سے انکار کرنا ناممکن ہے کہ دین کی حفاظت کے لیے، ارکانِ اسلام کی ادائیگی کے لیے اور کئی مفاسد سے بچنے کے لیے قلت ِ مال بہترین ذریعہ ہے اور رہا ہے، یقین مانیے کہ اگر گزر بسر کے بقدر رزق نصیب ہو جائے تو دنیا کا حقیقی سکون مل جاتا ہے۔ یہ غربت ہی ہے جو بچوں کو دینی تعلیم دینے، قرآن مجید حفظ کرنے اور قرآن و حدیث کی تعلیم کے حصول پر آمادہ کرتی ہے اور یہی لوگ ہیں کہ دین کو اگلی نسلوں تک منتقل کرنے کے لیے جن کی اکثریت کو استعمال کیا گیا۔مزاج میں سادگی اور ہر آدمی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملنا ان ہی لوگوں کا وطیرہ ہے۔ اس سے بڑا انعام کیا ہو سکتا ہے کہ مسکین لوگ امیر لوگوں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ بہرحال یہ ایسے حقائق ہیں جو امیر زادوں اور مال و دولت کے طلبگاروں کے لیے ناقابل تسلیم ہیں۔
قارئین کرام! آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ مال و دولت کی کثرت و وسعت کا بندے کو جہاد سمیت شرعی واجبات سے روک دیناباعث ِ ہلاکت ہے، جس کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ} (سورۂ بقرہ: ۱۹۵) … اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔
بہرحال سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ان کے مال کی وجہ سے ہی غنی کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے، وہ مالدار بڑے خوش بخت ہیں جو اپنی اوقات کو اور اپنے ماضی کو نہیں بھولتے اور اپنے مال و دولت کے تقاضے اور بلا تفریق اہل اسلام کے حقوق ادا کرتے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10055
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ الْعَبْدُ مَالِي مَالِي وَإِنَّ مَالَهُ مِنْ ثَلَاثٍ مَا أَكَلَ فَأَفْنَى أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَى أَوْ أَعْطَى فَأَقْنَى مَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ ذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاسِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندہ کہتا ہے: میرا مال، میرا مال، حالانکہ بندے کے مال کی صرف تین صورتیں ہیں،جو وہ کھا کر ختم کر دے، یا پہن کر بوسیدہ کر دے، یا وہ کسی کو دے کر ختم کر دے، اس کے علاوہ جو مال ہے، اس کو وہ لوگوں کے لیے چھوڑ کر چلا جانے والا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10055]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2959، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8813 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8799»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10056
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَّا أُنْزِلَتْ {الَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ} [سورة التوبة: 34] قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ قَدْ نَزَلَ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ مَا نَزَلَ فَلَوْ أَنَّا عَلِمْنَا أَيَّ الْمَالِ خَيْرٌ اتَّخَذْنَاهُ فَقَالَ أَفْضَلُهُ لِسَانًا ذَاكِرًا وَقَلْبًا شَاكِرًا وَزَوْجَةً مُؤْمِنَةً تُعِينُهُ عَلَى إِيمَانِهِ
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: وہ لوگ جو سونے اور چاندی کا خزانہ کرتے ہیں اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔ اس وقت ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے، ہم میں سے بعض افراد نے بعض سے کہا: سونے اور چاندی کے بارے میں تو یہ کچھ نازل ہو چکا ہے، اب اگر ہمیں پتہ چل جائے کہ کون سا مال بہتر ہے، تاکہ اس کا اہتمام کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین مال ذکر کرنے والی زبان، شکر کرنے والا دل اور صاحب ِ ایمان بیوی، جو بندے کے ایمان پر اس کا تعاون کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10056]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 3094، وابن ماجه: 1856، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22392 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22751»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں