صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
10. ذكر خبر ثان يصرح بأن الزجر عن المزارعة وكراء الأرض إنما زجر إذا كان ذلك على شرط غير معلوم-
- یہ دوسری خبر جو واضح کرتی ہے کہ مزارعت یا زمین کے کرایے سے ممانعت صرف اس صورت میں ہے جب شرط غیر واضح ہو۔
حدیث نمبر: 5198
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ ، قَالَ: كَانَ أَحَدُنَا إِذَا اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ وَافْتَقَرَ إِلَيْهَا غَيْرُهُ زَارَعَهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ، وَكَانَ يَشْتَرِطُ ثَلاثَ جَدَاوِلَ، وَمَا سَقَى الرَّبِيعِ، وَكُنَّا نُعَالِجُهَا عِلاجًا شَدِيدًا بِالْبَقَرِ وَالْحَدِيدِ وَبِأَشْيَاءَ، وَكُنَّا نُصِيبُ مِنْهَا، فَأَتَانَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، فَقَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ يَنْفَعُكُمْ عَنِ الْحَقْلِ، وَالْحَقْلُ الثُّلُثُ وَالرُّبُعُ، فَمَنْ كَانَ لَهُ أَرْضٌ فَاسْتَغْنَى عَنْهَا، فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ أَوْ لِيَزْرَعْ، وَنَهَاكُمْ عَنِ الْمُزَابَنَةِ" .
سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پہلے ہم میں سے کسی ایک شخص کو اگر زمین کی ضرورت نہ ہوتی اور کسی دوسرے شخص کو وہاں کھیتی باڑی کی ضرورت ہوتی تو وہ ایک تہائی یا ایک چوتھائی یا نصف پیداوار کے عوض میں معاہدہ کر لیتا تھا اور وہ تین نالیوں کے (آس پاس کی جگہ) کی شرط عائد کرتا تھا یا بڑی نالی کے آس پاس کی جگہ کی شرط عائد کرتا تھا (یعنی وہاں کی پیداوار میری ہوگی)، ہم لوگ گائے، لوہے اور دیگر اشیاء کے ذریعے بڑی محنت سے وہاں کام کرتے تھے پھر ہمیں اس میں سے کچھ ملتا تھا۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایک ایسی چیز سے منع کیا ہے جو تمہارے لیے حقل کے حوالے سے فائدہ مند تھی،“ «الْحَقْلُ» (حقل) سے مراد ایک تہائی یا ایک چوتھائی پیداوار کے عوض میں (زمین ٹھیکے پر دینا ہے)، ”تو جس شخص کے پاس کوئی زمین ہو اور اسے اس کی ضرورت نہ ہو تو وہ اسے اپنے بھائی کو (بلا معاوضہ طور پر عارضی استعمال کے لیے) دے دے یا اس میں خود کھیتی باڑی کرے۔“ نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْمُزَابَنَةُ» (مزابنہ) سے منع فرمایا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب المزارعة/حدیث: 5198]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2191، 2383، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1540، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5002، 5198، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3872، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3363، 3400، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1303، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2267، 2449، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10767، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2939، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16057» «رقم طبعة با وزير 5175»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (5/ 300).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
11. ذكر خبر ثالث يصرح بأن الزجر عن المخابرة والمزارعة اللتين نهى عنهما إنما زجر عنه إذا كان على شرط مجهول-
- یہ تیسری خبر جو بتاتی ہے کہ ممانعت صرف ان دو صورتوں (مخابرہ و مزارعت) میں ہے جن میں شرط غیر معلوم ہو۔
حدیث نمبر: 5199
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ أَبُو يَزِيدَ الْمُعَدَّلُ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فِيمَا يَحْسِبُ أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ حَتَّى أَلْجَأَهُمْ إِلَى قَصْرِهِمْ، فَغَلَبَ عَلَى الأَرْضِ وَالزَّرْعِ وَالنَّخْلِ، فَصَالَحُوهُ عَلَى أَنْ يُجْلَوْا مِنْهَا وَلَهُمْ مَا حَمَلَتْ رِكَابُهُمْ، وَلِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّفْرَاءُ وَالْبَيْضَاءُ، وَيَخْرُجُونَ مِنْهَا، فَاشْتَرَطَ عَلَيْهِمْ أَنْ لا يَكْتُمُوا وَلا يُغَيِّبُوا شَيْئًا، فَإِنْ فَعَلُوا فَلا ذِمَّةَ لَهُمْ وَلا عِصْمَةَ، فَغَيَّبُوا مَسْكًا فِيهِ مَالٌ وَحُلِيٌّ لِحُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ كَانَ احْتَمَلَهُ مَعَهُ إِلَى خَيْبَرَ حِينَ أُجْلِيَتِ النَّضِيرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّ حُيَيٍّ: مَا فَعَلَ مَسْكُ حُيَيٍّ الَّذِي جَاءَ بِهِ مِنَ النَّضِيرِ؟ فَقَالَ: أَذْهَبَتْهُ النَّفَقَاتُ وَالْحُرُوبُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعَهْدُ قَرِيبٌ وَالْمَالُ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ، فَدَفَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، فَمَسَّهُ بِعَذَابٍ، وَقَدْ كَانَ حُيَيٌّ قَبْلَ ذَلِكَ قَدْ دَخَلَ خَرِبَةً، فَقَالَ: قَدْ رَأَيْتُ حُيَيًّا يَطُوفُ فِي خَرِبَةٍ هَاهُنَا، فَذَهَبُوا فَطَافُوا، فَوَجَدُوا الْمَسْكَ فِي خَرِبَةٍ فَقَتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَيْ أَبِي حَقِيقٍ وَأَحَدُهُمَا زَوْجُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ، وَسَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُمْ وَذَرَارِيَّهُمْ، وَقَسَمَ أَمْوَالَهُمْ لِلنَّكْثِ الَّذِي نَكَثُوهُ، وَأَرَادَ أَنْ يُجْلِيَهُمُ مِنْهَا، فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ دَعْنَا نَكُونُ فِي هَذِهِ الأَرْضِ نُصْلِحُهَا، وَنَقُومُ عَلَيْهَا، وَلَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلا لأَصْحَابِهِ غِلْمَانُ يَقُومُونَ عَلَيْهَا فَكَانُوا لا يَتَفَرَّغُونَ أَنْ يَقُومُوا، فَأَعْطَاهُمْ خَيْبَرَ عَلَى أَنَّ لَهُمُ الشَّطْرَ مِنْ كُلِّ زَرْعٍ وَنَخْلٍ وَشَيْءٍ مَا بَدَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ يَأْتِيهِمْ كُلَّ عَامٍ يَخْرُصُهَا عَلَيْهِمْ، ثُمَّ يُضَمِّنُهُمُ الشَّطْرَ، قَالَ: فَشَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِدَّةَ خَرْصِهِ، وَأَرَادُوا أَنْ يَرْشُوهُ، فَقَالَ: يَا أَعْدَاءَ اللَّهِ، أَتُطْعِمُونِي السُّحْتَ، وَاللَّهِ لَقَدْ جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَلأَنْتُمْ أَبْغَضُ إَلَيَّ مِنْ عِدَّتِكُمْ مِنَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ، وَلا يَحْمِلُنِي بُغْضِي إِيَّاكُمْ وَحُبِّي إِيَّاهُ عَلَى أَنْ لا أَعْدِلَ عَلَيْكُمْ، فَقَالُوا: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ. قَالَ: وَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَيْنَيْ صَفِيَّةَ خُضْرَةً، فَقَالَ: يَا صَفِيَّةُ، مَا هَذِهِ الْخُضَرَةُ؟ فَقَالَتْ: كَانَ رَأْسِي فِي حِجْرِ بْنِ أَبِي حَقِيقٍ وَأَنَا نَائِمَةٌ، فَرَأَيْتُ كَأَنَّ قَمَرًا وَقَعَ فِي حِجْرِي، فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَلَطَمَنِي، وَقَالَ: تَمَنَّيْنَ مَلِكَ يَثْرِبَ؟ قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَبْغَضِ النَّاسِ إِلَيَّ قَتَلَ زَوْجِي وَأَبِي وَأَخِي، فَمَا زَالَ يَعْتَذِرُ إِلَيَّ، وَيَقُولُ: إِنَّ أَبَاكِ أَلَّبَ عَلَيَّ الْعَرَبَ وَفَعَلَ وَفَعَلَ حَتَّى ذَهَبَ ذَلِكَ مِنْ نَفْسِي، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ ثَمَانِينَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ كُلَّ عَامٍ وَعِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ شَعِيرٍ. فَلَمَّا كَانَ زَمَنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ غَشُّوا الْمُسْلِمِينَ، وَأَلْقَوْا ابْنَ عُمَرَ مِنْ فَوْقِ بَيْتٍ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: مَنْ كَانَ لَهُ سَهْمٌ مِنْ خَيْبَرَ فَلْيَحْضُرْ حَتَّى نَقْسِمَهَا بَيْنَهُمْ، فَقَسَمَهَا عُمَرُ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ رَئِيسُهُمْ: لا تُخْرِجْنَا دَعْنَا نَكُونُ فِيهَا كَمَا أَقَرَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ عُمَرُ لِرَئِيسِهِمْ: أَتَرَاهُ سَقَطَ عَنِّي قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَ: كَيْفَ بِكَ إِذَا أَفَضَتْ بِكَ رَاحِلَتُكَ نَحْوَ الشَّامِ يَوْمًا ثُمَّ يَوْمًا، وَقَسَمَهَا عُمَرُ بَيْنَ مَنْ كَانَ شَهِدَ خَيْبَرَ مِنْ أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر کے ساتھ جہاد کیا یہاں تک کہ جب ان لوگوں نے اپنے قلعے میں پناہ لے لی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی زمین، کھیتوں اور کھجوروں کے باغات پر غالب آ گئے تو ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس شرط پر صلح کر لی کہ انہیں وہاں سے جلا وطن کر دیا جائے اور وہ اپنی سواریوں پر جو کچھ لاد کر لے جا سکتے ہیں اسے لے جا سکیں گے، البتہ سونا اور چاندی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملیں گے۔ وہ لوگ وہاں سے نکلنے کے لیے تیار ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر یہ شرط عائد کی تھی کہ وہ کوئی چیز چھپائیں گے نہیں اور کوئی چیز غائب نہیں کریں گے، اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو پھر ان کے لیے کوئی ذمہ اور کوئی پناہ نہیں ہو گی۔ انہوں نے اس میں سے ایک تھیلے کو غائب کر دیا جس میں کچھ مال اور زیورات تھے، وہ حیی بن اخطب کے تھے جو وہ اپنے ساتھ اس تھیلے کو اٹھا کر خیبر لایا تھا اس وقت جب بنو نضیر کو جلا وطن کیا گیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حیی کے چچا سے پوچھا: ”حیی کے اس تھیلے کا کیا بنا جو وہ بنو نضیر سے لے کر آیا تھا؟“ تو اس کے چچا نے کہا: اخراجات اور جنگوں نے سب کچھ خرچ کروا دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی تو اتنا زیادہ وقت نہیں گزرا، وہ مال اس سے زیادہ تھا (کہ ختم ہو جاتا)۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اسے مارا پیٹا، حیی بن اخطب اس سے پہلے ایک کھنڈر میں داخل ہو چکا تھا تو اس نے کہا: میں نے حیی کو یہاں کے ایک کھنڈر میں چکر لگاتے ہوئے دیکھا تھا۔ لوگ گئے اور وہاں چکر لگایا تو انہیں اس کھنڈر میں سے وہ تھیلا مل گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوحقیق کے دونوں بیٹوں کو قتل کروا دیا، ان میں سے ایک حیی بن اخطب کی صاحب زادی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا شوهر بھی تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی خواتین اور بچوں کو قیدی بنا لیا اور ان کے اموال لوگوں میں تقسیم کر دیے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو وہاں سے جلا وطن کرنے کا ارادہ کیا تو ان لوگوں نے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ہمیں ہماری سرزمین پر رہنے دیں، ہم یہاں کام کاج کریں گے اور اس کی دیکھ بھال کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کے پاس ایسے لوگ نہیں تھے جو زمین کی دیکھ بھال کرتے اور وہاں کی نگرانی کرتے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی سرزمین ان لوگوں کو اس شرط پر دی کہ وہاں کی زراعت، کھجوروں اور دیگر چیزوں میں سے نصف حصہ ان لوگوں کو ملے گا (اور نصف حصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا جائے گا) جب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں گے (یعنی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں گے یہ معاہدہ ختم کر دیں گے)۔ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ ہر سال وہاں آیا کرتے تھے اور ان کی پیداوار کا اندازہ لگاتے تھے، پھر وہ ان لوگوں کو نصف ادائیگی کا پابند کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: ان لوگوں نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے اندازے کی سختی کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی، انہوں نے پہلے انہیں رشوت دینے کی بھی کوشش کی تھی، تو سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے دشمنو! کیا تم مجھے حرام کھلانا چاہتے ہو؟ اللہ کی قسم! میں تمہارے پاس اس ہستی کی طرف سے آیا ہوں جو میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہیں اور تم لوگ میرے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہو، یہاں تک کہ بندروں اور خنزیروں سے بھی زیادہ ناپسندیدہ ہو، لیکن اس کے باوجود تمہارے ساتھ میری نفرت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میری محبت بھی مجھے اس چیز پر آمادہ نہیں کر سکی کہ میں تمہارے ساتھ نا انصافی کروں، تو ان لوگوں نے کہا: اسی (ایمان داری کی وجہ سے) آسمان اور زمین قائم ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی دونوں آنکھوں پر سبز رنگ کا نشان دیکھا تو دریافت کیا: ”اے صفیہ! یہ سبز رنگ کا نشان کسی وجہ سے ہے؟“ تو انہوں نے بتایا کہ میرا سر ابوحقیق کے صاحب زادے (یعنی میرے سابقہ شوہر) کی گود میں تھا اور میں اس وقت سوئی ہوئی تھی، میں نے خواب میں دیکھا کہ چاند میری گود میں آ گیا ہے، (بیدار ہونے کے بعد) میں نے اپنے شوہر کو اس بارے میں بتایا تو اس نے مجھے ایک طمانچہ لگایا اور بولا: تم یثرب کے بادشاہ (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کی آرزو مند ہو۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ شخصیت تھے کیونکہ انہوں نے میرے شوہر، میرے والد اور میرے بھائی کو قتل کروایا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل میرے سامنے عذر بیان کرتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے: ”تمہارے والد نے تمام عربوں کو میرے خلاف کر دیا تھا، اس نے یہ کیا تھا، اس نے وہ کیا تھا (اس وجہ سے میں اس سے لڑنے پر مجبور ہوا تھا)“ یہاں تک کہ میرے دل میں (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو ناپسندیدگی تھی) وہ ختم ہو گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج میں سے ہر خاتون کو ہر سال کھجور کے اسی (80) وسق اور جو کے بیس (20) وسق دیا کرتے تھے، جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا عہد خلافت آیا اور (خیبر کے یہودیوں نے) مسلمانوں کے ساتھ دھوکا کرنا شروع کیا اور انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے صاحب زادے کو گھر کی چھت سے نیچے گرا دیا تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس شخص کا خیبر میں مخصوص حصہ ہے وہ آ جائے تاکہ ہم اسے ان کے درمیان تقسیم کر دیں، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے ان لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیا۔ ان کے سردار نے کہا: آپ ہمیں (خیبر سے) نہ نکالیں، آپ ہمیں یہاں رہنے دیں جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہمیں یہاں رہنے دیا تھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے سردار سے کہا: کیا تم اس کے بارے میں یہ رائے رکھتے ہو کہ میں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے برخلاف کیا ہے؟ اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب تمہاری سواری تمہیں لے کر شام کی طرف بڑھ رہی ہو گی؟ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہاں کی زمین ان لوگوں کے درمیان تقسیم کر دی جو صلح حدیبیہ میں موجود تھے اور غزوہ خیبر میں شریک ہوئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب المزارعة/حدیث: 5199]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2285، 2328، 2329، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1551، وابن الجارود فى "المنتقى"، 718، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5199، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3939، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3006، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1383، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2656، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2467، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11735، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2944، وأحمد فى (مسنده) برقم: 91» «رقم طبعة با وزير 5176»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «صحيح أبي داود» (2658).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
12. ذكر التغليظ على من لم يترك المخابرة التي ذكرناها بعد علمه بالنهي عنها-
- یہ بیان کہ جو شخص ممانعت کے علم کے باوجود مذکورہ مزارعت ترک نہ کرے، اس پر سختی کی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 5200
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ لَمْ يَذَرِ الْمُخَابَرَةَ فَلْيَأْذَنْ بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ" ، هُوَ إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص «الْمُخَابَرَةَ» (مخابرہ) کو ترک نہیں کرتا وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ کا اعلان کرتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) راوی کا نام اسحاق بن ابو اسرائیل ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب المزارعة/حدیث: 5200]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5200، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3147، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3406، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11810، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 2030، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 5927، 5928» «رقم طبعة با وزير 5177»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الضعيفة» (990)، «البيوع».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
13. ذكر خبر ينفي الريب عن الخلد أن نهي المصطفى صلى الله عليه وسلم عن المخابرة كان للعلة التي وصفناها-
- یہ خبر جو ہر شبہے کو دور کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت کی علت وہی تھی جو ہم نے بیان کی۔
حدیث نمبر: 5201
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قال: " كُنَّا نُكْرِي الأَرْضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا عَلَى السَّوَاقِي مِنَ الزَّرْعِ وَبِمَا سُقِيَ بِالْمَاءِ مِنْهَا، فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، وَرَخَّصَ لَنَا أَنْ نُكْرِيَهَا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ" .
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پہلے ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں زمین کو کرائے پر دیتے تھے کہ کھیت کا جو حصہ بارانی پانی یا نالی کے پانی کے قریب ہے (اس کی پیداوار مالک کو ملے گی) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات کی اجازت دی کہ ہم سونے یا چاندی کے عوض میں زمین کو کرائے پر دے سکتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب المزارعة/حدیث: 5201]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5201، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3903، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3391، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2660، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11840، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1561» «رقم طبعة با وزير 5178»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الصحيحة» (2027)، «التعليق على الروضة الندية»، «البيوع».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف