🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. ذكر الإخبار عن أكل ما يجوز استعماله مما حبس الكلاب على أربابها-
- ذکر خبر کہ اس شکار کو کھانا جائز ہے جو کتوں نے اس کے مالک کے لیے پکڑا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5879
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيَّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ ، يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا بِأَرْضٍ مِنْ أَهْلِ كِتَابٍ نَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ، وَإِنَّ أَرْضَنَا أَرْضُ صَيْدٍ، أَصِيدُ بِقَوْسِي، وَبِالْكَلْبِ الْمُكَلَّبِ، وَبِالْكَلْبِ الَّذِي لَيْسَ بِمُكَلَّبٍ، فَأَخْبِرْنِي مَاذَا يَحِلُّ لَنَا مِمَّا يَحْرُمُ عَلَيَّ مِنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكُمْ بِأَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ تَأْكُلُونَ فِي آنِيَتِهِمْ، فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ فَلا تَأْكُلُوا فِيهَا، وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَ آنِيَتِهِمْ فَاغْسِلُوهَا وَكُلُوا فِيهَا، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الصَّيْدِ، فَمَا صِدْتَ بِقَوْسِكَ فَكُلْ مِنْهُ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَأَمَّا مَا أَصَابَ كَلْبُكَ الْمُكَلَّبُ، فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكَ عَلَيْكَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَأَمَّا مَا أَصَابَ كَلْبُكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُكَلَّبٍ، فَإِنْ أَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ، وَمَا لَمْ تُدْرِكْ ذَكَاتَهُ فَلا تَأْكُلْ" .
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اہل کتاب کی سرزمین پر رہتے ہیں، ہم ان کے برتنوں میں کھا لیتے ہیں، ہمارا علاقہ ایسا ہے جہاں شکار بہت ہوتا ہے، میں اپنی کمان کے ذریعے شکار کرتا ہوں اور تربیت یافتہ کتے کے ذریعے بھی کرتا ہوں اور غیر تربیت یافتہ کتے کے ذریعے بھی کرتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بتائیے کہ ان میں سے کون سی چیز میرے لیے حرام ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جہاں تک تم نے اس بات کا ذکر کیا ہے تم اہل کتاب کی سرزمین پر رہتے ہو اور ان کے برتنوں میں کھاتے ہو، تو اگر تمہیں ان کے برتنوں کے علاوہ برتن مل جاتے ہیں تو تم ان کے برتنوں میں نہ کھاؤ، لیکن اگر تمہیں ان برتنوں کے علاوہ اور برتن نہیں ملتے تو تم ان کے برتنوں کو دھو کر ان میں کھا لو۔ جہاں تک تم نے شکار کا ذکر کیا ہے، تو جس چیز کو تم اپنی کمان کے ذریعے شکار کرتے ہو اسے تم کھا لو، اس پر اللہ کا نام لے لو، اور جو شکار تربیت یافتہ کتا تمہارے لیے محفوظ رکھتا ہے، تم اللہ کا نام لے کر اس میں سے کھا لو، اور جو شکار غیر تربیت یافتہ کتے کے ذریعے ہوتا ہے، اگر تمہیں اس شکار کو ذبح کرنے کا موقع مل جاتا ہے، تو اسے کھا لو اور جسے ذبح کرنے کا موقع نہیں ملتا، اسے تم نہ کھانا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصيد/حدیث: 5879]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5478، 5488، 5496، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1930، وابن الجارود فى "المنتقى"، 985، 986، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5879، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 504، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4277، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1464، 1560، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2831، 3207، 3211، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2749، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 132، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4801، 4802، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18008» «رقم طبعة با وزير 5849»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2544): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. ذكر الإخبار عما لا يجوز أكله من الصيد الذي صيد بالقسي والكلاب المعلمة-
- ذکر خبر کہ اس شکار کو کھانا جائز نہیں جو تیر اور تربیت یافتہ کتوں سے شکار کیا گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5880
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ ، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَرْمِي بِسَهْمِي فَأُصِيبُ، فَلا أَقْدِرُ عَلَيْهِ إِلا بَعْدَ يَوْمٍ أَوِ اثْنَيْنِ، قَالَ: " إِنْ قَدَرْتَ عَلَيْهِ وَلَيْسَ بِهِ أَثَرٌ، وَلا خَدْشٌ إِلا رَمْيَتُكَ فَكُلْ، وَإِنْ وَجَدْتَ بِهِ أَثَرًا غَيْرَ رَمْيَتِكَ فَلا تَأْكُلْ، وَإِنْ أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَأَدْرَكْتَهُ قَبْلَ أَنْ يَقْتُلَهُ فَذَكِّهِ، وَإِنْ أَدْرَكْتَهُ قَدْ قَتَلَهُ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ شَيْئًا فَكُلْهُ، وَإِنْ أَدْرَكْتَهُ وَقَدْ أَكَلَ مِنْهُ فَلا تَأْكُلْ، فَإِنَّهُ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ"، قَالَ عَدِيٌّ: فَإِنِّي أُرْسِلُ كِلابِي وَأَذْكُرُ اسْمَ اللَّهِ، فَتَخْتَلِطُ بِكِلابِ غَيْرِي، فَيَأْخُذْنَ الصَّيْدَ فَيَقْتُلْنَهُ، قَالَ:" فَلا تَأْكُلْ، فَإِنَّكَ لا تَدْرِي: كِلابُكَ قَتَلَتْهُ أَمْ كِلابُ غَيْرِكَ".
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میں اپنے تیر کے ذریعے شکار کرتا ہوں، بعض اوقات وہ تیر شکار کو لگ جاتا ہے، لیکن ایک یا دو دن گزرنے کے بعد مجھے وہ شکار ملتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر وہ تمہیں ایسی حالت میں ملتا ہے کہ اس پر تمہارے تیر کے نشان کے سوا کوئی اور نشان یا زخم نہ ہو تو تم اسے کھا لو، اور اگر تمہیں اپنے تیر کے نشان کے علاوہ کوئی اور نشان اس پر مل جائے تو تم اسے نہ کھاؤ۔ اور اگر تم اپنے کتے کو چھوڑتے ہوئے اللہ کا نام ذکر کر دیتے ہو اور تمہیں وہ شکار مل جاتا ہے اور اس کتے نے اسے مارا نہیں تھا، تو تم اسے ذبح کر لو، اگر وہ تمہیں ایسی حالت میں ملتا ہے کہ کتے نے اسے مار دیا تھا اور خود اس میں سے کچھ نہیں کھایا تھا تو تم اسے کھا لو، اور اگر تمہیں ایسی حالت میں ملتا ہے کہ کتے نے اس میں سے کچھ کھا لیا تھا، تو تم اسے نہ کھاؤ کیونکہ یہ شکار اس نے اپنے لیے کیا تھا۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اگر میں اپنے کتے کو چھوڑتا ہوں اور اس پر اللہ کا نام بھی لے لیتا ہوں پھر میرے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا بھی ساتھ مل جاتا ہے اور وہ دونوں شکار کرتے ہیں اور شکار کو مار دیتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اسے نہ کھاؤ کیونکہ تم یہ بھی نہیں جانتے کہ کیا تمہارے کتے نے اسے قتل کیا ہے یا دوسرے کتے نے اسے مارا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصيد/حدیث: 5880]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 175، 2054، 5475، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1929، وابن الجارود فى "المنتقى"، 983، 984، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5880، 5881، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4274، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2847، 2848، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1465، 1465 م، 1468، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3208، 3212، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18934، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4798، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18534» «رقم طبعة با وزير 5850»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. ذكر الإباحة للمرء أكل ما حبس عليه كلبه المعلم إذا ذكر اسم الله عليه-
- ذکر اجازت کہ انسان اس شکار کو کھائے جو اس کے تربیت یافتہ کتے نے پکڑا ہو اگر اس پر اللہ کا نام پڑھا گیا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5881
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرْسِلُ الْكِلابَ الْمُعَلَّمَةَ فَيُمْسِكْنَ عَلَيَّ، وَأَذْكُرُ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، قَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلِّمَ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلْ"، قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلْنَ؟ قَالَ:" وَإِنْ قَتَلْنَ، مَا لَمْ يَشْرَكْهَا كَلْبٌ لَيْسَ مَعَهَا"، قُلْتُ لَهُ: فَإِنِّي أَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ الصَّيْدَ فَأُصِيبُ، قَالَ:" إِذَا رَمَيْتَ بِالْمِعْرَاضِ، فَخَزَقَ فَكُلْهُ، وَإِنْ أَصَابَهُ بِعَرْضِهِ فَلا تَأْكُلْهُ" .
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنے تربیت یافتہ کتے کو چھوڑتا ہوں، وہ میرے لیے شکار روک لیتا ہے اور میں اس پر اللہ کا نام بھی ذکر کر دیتا ہوں (تو اس کا کیا حکم ہو گا)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم اپنے تربیت یافتہ کتے کو چھوڑتے وقت اس پر اللہ کا نام لے لو، تو تم اسے کھا لو۔ میں نے عرض کی: اگرچہ اس نے شکار کو مار دیا ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگرچہ اس نے شکار کو مار دیا ہو، بشرطیکہ اس کے ہمراہ کوئی ایسا کتا شریک نہ ہو جو ان میں شامل نہیں تھا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: میں بعض اوقات تیر مارتا ہوں جو اسے لگ جاتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم تیر کو چوڑائی کی سمت میں مارتے ہو اور وہ اسے پھاڑ دیتا ہے تو تم اسے کھا لو، لیکن اگر وہ اس کو چوڑائی کی سمت میں لگتا ہے (اور جانور چوٹ لگنے سے مرتا ہے) تو تم اسے نہ کھاؤ۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصيد/حدیث: 5881]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 175، 2054، 5475، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1929، وابن الجارود فى "المنتقى"، 983، 984، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5880، 5881، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4274، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2847، 2848، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1465، 1465 م، 1468، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3208، 3212، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18934، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4798، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18534» «رقم طبعة با وزير 5851»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2537): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. ذكر ما يحكم لمن اصطاد الصيد فانفلت منه بشبكته فظفر به آخر غيره-
- ذکر اس حکم کا جو اس شخص کے لیے ہے جس نے شکار کیا اور وہ اس کے جال سے نکل گیا اور دوسرے نے اسے پکڑ لیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5882
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَسْمُولٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَوَّلٍ الْبَهْزِيَّ ثُمَّ السُّلَمِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ وَالإِسْلامَ، يَقُولُ: " نَصَبْتُ حَبَائِلَ لِي بِالأَبْوَاءِ، فَوَقَعَ فِي حَبْلِي مِنْهَا ظَبْيٌ، فَأَفْلَتَ بِهِ، فَخَرَجْتُ فِي إِثْرِهِ، فَوَجَدْتُ رَجُلا قَدْ أَخَذَهُ، فَتَنَازَعْنَا فِيهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدْنَاهُ نَازِلا بِالأَبْوَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ يَسْتَظِلُّ بِنِطَعٍ، فَاخْتَصَمْنَا إِلَيهِ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَنَا شَطْرَيْنَ" . قُلْتُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَلْقَى الإِبِلَ، وَبِهَا لَبُونٌ، وَهِيَ مُصَرَّاةٌ، وَهُمْ مُحْتَاجُونَ، قَالَ: " فَنَادِ صَاحِبَ الإِبِلِ ثَلاثًا، فَإِنْ جَاءَ، وَإِلا فَاحْلُلْ صِرَارَهَا، ثُمَّ اشْرَبْ، ثُمَّ صُرَّ، وَأَبْقِ لِلَّبَنِ دَوَاعِيَهُ" . قُلْتُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الضَّوَالُّ تَرِدُ عَلَيْنَا، هَلْ لَنَا أَجْرٌ أَنْ نَسْقِيَهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ، فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ" . ثُمَّ أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُنَا، قَالَ: " سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، خَيْرُ الْمَالِ فِيهِ غَنَمٌ بَيْنَ الْمَسْجِدَيْنِ، تَأْكُلُ مِنَ الشَّجَرِ، وَتَرِدُ الْمَاءَ، يَأْكُلُ صَاحِبُهَا مِنْ رِسْلِهَا، وَيَشْرَبُ مِنْ لِبَانِهَا، وَيَلْبسُ مِنْ أَصْوَافَهَا، أَوْ قَالَ: مِنَ أَشْعَارِهَا، وَالْفِتَنُ تَرْتَكِسُ بَيْنَ جَرَاثِيمِ الْعَرَبِ، وَاللَّهِ" . قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْصِنِي، قَالَ: " أَقِمِ الصَّلاةَ، وَآتِ الزَّكَاةَ، وَصُمْ رَمَضَانَ، وَحُجَّ الْبَيْتَ، وَاعْتَمِرْ، وَبِرَّ وَالِدَيْكَ، وَصِلْ رَحِمَكَ، وَاقْرِ الضَّيْفَ، وَمُرْ بِالْمَعْرُوفِ، وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَزُلْ مَعَ الْحَقِّ حَيْثُ زَالَ" .
قاسم بن مخول بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا، انہیں زمانہ جاہلیت اور اسلام دونوں کو دیکھنے کا موقع ملا ہے، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے ابواء کے مقام پر کچھ رسیاں باندھ دیں، ان رسیوں میں ایک ہرن پھنس گیا، پھر وہ وہاں سے نکل گیا، میں اس کی تلاش میں نکلا تو مجھے ایک شخص ملا جس نے اسے پکڑ لیا تھا، ہم اس ہرن کے بارے میں اپنا مقدمہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابواء میں ایک درخت کے نیچے پڑاؤ کیے ہوئے پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چمڑے کے ٹکڑے کے ذریعے سایہ کیا ہوا تھا، ہم نے اپنا مقدمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا کہ وہ تم دونوں کے درمیان برابر تقسیم ہوگا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بعض اوقات ہمیں کچھ اونٹ ملتے ہیں جن میں دودھ والی اونٹنیاں بھی ہوتی ہیں جن کے تھنوں میں دودھ رکا ہوا ہوتا ہے اور ہمیں اس کی شدید ضرورت بھی ہوتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم تین مرتبہ اونٹوں کے مالک کو پکارو، اگر وہ آ جائے تو ٹھیک ہے، ورنہ اس کا دودھ دوہ کر پی لو اور پھر دوہ لو اور پھر کچھ دودھ (اس کے تھنوں میں) باقی رہنے دو۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بعض اوقات کوئی دوسرا جانور ہمارے پاس آ جاتا ہے، تو اگر ہم اسے کچھ پلاتے ہیں تو کیا ہمیں اس کا اجر ملے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں، ہر جاندار کے ساتھ (اچھائی کرنے کا اجر ملتا ہے)۔ پھر اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ بات چیت کرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ جب سب سے بہترین مال بکریاں ہوں گی جو دو سجدوں کے درمیان ہوں گی، وہ درختوں سے (پتے) کھا لیں گی، پانی تک آ جائیں گی، ان کا مالک ان کے پیچھے پیچھے آئے گا اور ان کا دودھ پی لے گا، ان کی اون کے ذریعے کپڑے پہنے گا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ان کے بالوں کے ذریعے کپڑے پہنے گا، جبکہ اللہ کی قسم! فتنے عربوں کے اندر سرایت کر چکے ہوں گے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اس بارے میں تلقین کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نماز ادا کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو، بیت اللہ کا حج کرو اور عمرہ کرو، اور اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو، رشتے داری کے حقوق کا خیال رکھو، مہمان کی عزت افزائی کرو، نیکی کا حکم دو، برائی سے منع کرو اور حق کے ساتھ رہو خواہ وہ جہاں بھی ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصيد/حدیث: 5882]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5882، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7277، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19719، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1568» «رقم طبعة با وزير 5852»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الضعيفة» (3501). * [الْقَاسِمَ بْنَ مُخَوَّلٍ الْبَهْزِيَّ] قال الشيخ: القاسم - هذا - مَجهولٌ لا يُعرَفُ إِلاَّ برواية مُحمَّد بن سليمان بن مسمول - هذا - وهو ضعيف؛ كما صرَّح الحافظ وغيره. ولذلك أوردت الحديث في «ضعيف الجامع»، ووقع هناك في أصله: «الجامع» معزوّا لـ (تخ، ك) عن ابن عباس، وهو كذلك في «الجامع الكبير»، وهو وَهَمٌ في اسم الصحابي؛ فاقتضى التنبيه عليه ثَمَّةَ؛ فإِنَّه في «تاريخ البخاري» (4/ 2 / 30)، والحاكم (4/ 134) مِنَ الوجه المذكور هنا: مِنْ حديث مُخَوَّلٍ البهزي، لا ابن عباس. وسكت عنه الحاكم والذهبيُّ على ما في مطبوعة «المستدرك»! لكنَّ الظاهرَ أَنَّ فيه سقطاً، فقد ذَكَرَ المُناوِيُّ أَنَّ الحاكم صحَّحه، وأنَّه اغترَّ به السيوطي، فرمز لِصِحَّتِه، وما درى أنَّ الذهبي ردَّ على الحاكم تصحيحه؛ بأنَّ فيه ابن مسمول؛ ضعيف.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں