صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
10. ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة الحديث أن الخبر الذي ذكرناه موهوم-
- ذکر خبر جو حدیث کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتی ہے کہ ہمارے ذکر کردہ خبر موہوم ہے
حدیث نمبر: 5893
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، يُخْبِرُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ جَارِيَةً لَهُمْ كَانَتْ تَرْعَى بِسَلْعٍ، فَرَأَتْ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا مَوْتًا، فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهِ، فَقَالَ لأَهْلِهِ: لا تَأْكُلُوا مِنْهُ حَتَّى آتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ جَارِيَةً لَنَا كَانَتْ تَرْعَى بِسَلْعٍ، فَأَبْصَرَتْ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا مَوْتًا، فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهِ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَكْلِهَا" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الْخَبَرُ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ.
نافع بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ بتاتے ہوئے سنا کہ ان کے والد (یعنی سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ) نے انہیں بتایا کہ ان کی ایک کنیز تھی جو ”سلع“ پہاڑ کے پاس بکریاں چرا رہی تھی، اس نے اپنی بکریوں میں سے ایک بکری کو مرنے کے قریب دیکھا تو ایک پتھر توڑ کر اس کے ذریعے اسے ذبح کر لیا، پھر سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر والوں سے کہا: ”تم اس کا گوشت اس وقت تک نہ کھاؤ جب تک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت نہ کر لوں۔“ چنانچہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہماری ایک کنیز ”سلع“ پہاڑ کے پاس بکریاں چرا رہی تھی، اس نے ان بکریوں میں سے ایک بکری کو قریبِ مرگ دیکھا تو پتھر توڑ کر اس کے ذریعے اسے ذبح کر لیا۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس (بکری) کا گوشت کھانے کی اجازت دی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت نافع کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے اور نافع کے حوالے سے سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کے حوالے سے ان کے والد سے بھی منقول ہے، تو اس کے تمام طرق محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الذبائح/حدیث: 5893]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2304، 5501، 5502، وابن الجارود فى "المنتقى"، 965، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5892، 5893، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2014، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3182، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19214، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4687» «رقم طبعة با وزير 5863»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» -أيضا-: خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
11. ذكر الزجر عن ذبح المرء شيئا من الطيور عبثا دون القصد في الانتفاع به-
- ذکر منع کہ انسان کسی پرندے کو عبث ذبح کرے بغیر اس سے نفع اٹھانے کے قصد کے
حدیث نمبر: 5894
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ ، عَنْ خَلَفِ بْنِ مِهْرَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَامِرٌ الأَحْوَلُ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّرِيدَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا عَبَثًا عَجَّ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَقُولُ: يَا رَبِّ، إِنَّ فُلانًا قَتَلَنِي عَبَثًا، وَلَمْ يَقْتُلْنِي مَنْفَعَةً" .
سیدنا عمرو بن شرید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص بلاوجہ کسی چڑیا کو مار دیتا ہے، تو وہ چڑیا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں فریاد کرے گی: اے میرے پروردگار! فلاں شخص نے مجھے بلاوجہ مار دیا تھا، اس نے کسی فائدے کے لیے مجھے نہیں مارا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الذبائح/حدیث: 5894]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5894، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4458، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4520، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19779، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 873، والطبراني فى(الكبير) برقم: 7245، 7246» «رقم طبعة با وزير 5864»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «غاية المرام» (46).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
12. ذكر البيان بأن ذبح المرء الذبيحة باسم الله وملة الإسلام من الإيمان-
- ذکر بیان کہ انسان کا اللہ کے نام اور اسلام کی ملت کے ساتھ ذبح کرنا ایمان سے ہے
حدیث نمبر: 5895
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَإِذَا شَهِدُوا أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا، وَأَكَلُوا ذَبِيحَتَنَا، وَصَلُّوا صَلاتَنَا، فَقَدْ حُرِّمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ، لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ، وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَيْهِمْ" . مَا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ إِلا ثَلاثَةُ نَفَرٍ مِنَ الْغُرَبَاءِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ سُمَيْعٍ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرتا رہوں، جب تک وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اور جب وہ اس بات کی گواہی دے دیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، وہ ہمارے قبلہ کی طرف رخ کر لیں، ہمارے ذبیحہ کو کھائیں، ہماری نماز کے مطابق نماز ادا کریں، تو ان کی جانیں اور مال ہمارے لیے قابل احترام ہو جائیں گے، انہیں وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو مسلمانوں کو حاصل ہوتے ہیں اور ان پر وہ تمام پابندیاں عائد ہوں گی جو مسلمانوں پر عائد ہوتی ہیں۔“ یہ روایت حمید طویل کے حوالے سے صرف تین آدمیوں نے نقل کی ہے: عبداللہ بن مبارک، یحییٰ بن ایوب عجلی اور محمد بن عیسیٰ بن قاسم بن سمیع۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الذبائح/حدیث: 5895]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 391، 392، 393، 393 م، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5895، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2641، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2608، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2232، والدارقطني فى (سننه) برقم: 893، وأحمد فى (مسنده) برقم: 13256» «رقم طبعة با وزير 5865»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (303)، «صحيح أبي داود» (2374): خ نحوه مختصرا، دون الرسالة، وقوله: «لهم ما للمسلمين ... »، وهو عنده معلَّق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
13. ذكر لعن المصطفى صلى الله عليه وسلم المهل لغير الله-
- ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو لعنت کی جو اللہ کے علاوہ کے لیے ذبح کرتا ہے
حدیث نمبر: 5896
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ الْبَلَدِيُّ بِوَاسِطَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ زَيْدٍ الْخَطَّابِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : عِنْدَكُمْ شَيْءٌ سِوَى كِتَابِ اللَّهِ؟ قَالَ: لا، إِلا مَا فِي قِرَابِ هَذَا السَّيْفِ صَحِيفَةً صَغِيرَةً، قَالَ: فَوَجَدْنَا فِيهَا " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ أَهَلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ تَوَلَّى لِغَيْرِ مَوَالِيهِ" .
ابوطفیل بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا آپ کے پاس اللہ کی کتاب کے علاوہ کوئی اور چیز بھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں، ماسوائے اس چیز کے، جو تلوار کے میان کے اندر ایک چھوٹا سا صحیفہ موجود ہے۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے اس میں یہ بات پائی: ”اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو غیر اللہ کے نام پر جانور قربان کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو اپنے اصل آقا کی بجائے کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الذبائح/حدیث: 5896]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 111، 1870، 3047، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1370، 1978، وابن الجارود فى "المنتقى"، 857، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3716، 3717، 5896، 6604، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2639، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4434، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2034، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1412، 2127، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2658، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10062، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3152، وأحمد فى (مسنده) برقم: 609» «رقم طبعة با وزير 5866»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح