🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6084
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عُرِضَتْ عَلَيَّ الأُمَمُ بِالْمَوْسِمِ، فَرَأَيْتُ أُمَّتِي، فَأَعْجَبَتْنِي كَثْرَتُهُمْ، وَهَيْئَتُهُمْ، قَدْ مَلَئُوا السَّهْلَ وَالْجَبَلَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَرَضِيتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ أَيْ رَبِّ، قَالَ: وَمَعَ هَؤُلاءِ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، الَّذِينَ لا يَسْتَرْقُونَ، وَلا يَكْتَوُونَ، وَلا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ" ، فَقَالَ عُكَّاشَةُ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ:" اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ"، ثُمَّ قَالَ رَجُلٌ آخَرُ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ:" سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: میرے سامنے مختلف امتوں کو پیش کیا گیا، جب میں نے اپنی امت کو دیکھا، تو ان کی کثرت اور ان کی حالت مجھے بہت اچھی لگی، انہوں نے راستوں اور پہاڑوں کو بھر دیا تھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: محمد! کیا تم راضی ہو؟ میں نے عرض کی: جی ہاں، اے میرے پروردگار! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ان کے ہمراہ ستر ہزار لوگ کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو (زمانہ جاہلیت کے طریقے کے مطابق) جھاڑ پھونک نہیں کرتے، (علاج کے طور پر) داغ نہیں لگواتے اور فال نہیں نکالتے اور وہ اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہیں۔ سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر لے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: اے اللہ! تو اسے ان میں شامل کر لے۔ پھر ایک اور صاحب نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر لے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عکاشہ تم پر سبقت لے گیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6084]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6084، 6431، 7346، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8372، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2166، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3882» «رقم طبعة با وزير 6052»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - انظر التعليق. * [حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ] قال الشيخ: ومن طريقه: أخرجه البخاري في «الأدب المفرد» (911)، وأحمد (1/ 403 و 454)، وأبو يعلى (9/ 233 / 5340)، وابن عبد البر في «التمهيد» (5/ 267) كلهم من طرقٍ عنه. وهذا إسناد حسن. وتابعه همَّام: ثنا عاصمٌ ... به مُختصرا نحوه، دون قوله: «لا يسترقون ... ». وأخرجه الحاكم (4/ 415) من الوجه الأول، وقال «صحيح الإسناد»، ووافقه الذهبي. ثُمَّ أخرجه هو (4/ 577)، والمؤلِّف - فيما يأتي (8/ 115 و 9/ 220) -، وأحمد (1/ 401 و 420)، وأبو يعلى (9/ 231 / 5339)، وابن عبد البرِّ (5/ 266) من طريقٍ عن قتادة عن الحسن، [والعلاء بن زياد]، عن عمران بن حصين، عن ابن مسعود به ... مطولاً. والزيادة للمؤلف والحاكم، وصححه هو والذهبي، وهو كما قالا. ورواه البزَّار - أيضاً - (4/ 203 - 204) ... بالزيادة.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6085
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي يَدِ رَجُلٍ حَلَقَةً، فَقَالَ: " مَا هَذَا؟" قَالَ: مِنَ الْوَاهِنَةِ، قَالَ:" مَا تَزِيدُكَ إِلا وَهْنًا، انْبِذْهَا عَنْكَ، فَإِنَّكَ إِنْ تَمُتْ وَهِيَ عَلَيْكَ وُكِلْتَ عَلَيْهَا" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ہاتھ میں چھلا دیکھا، تو دریافت فرمایا: یہ کس وجہ سے ہے؟ اس نے بتایا کہ یہ «الْوَاهِنَةُ» کمزوری کی وجہ سے ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تیری کمزوری میں صرف اضافہ ہی کرے گا، اسے تم اتار دو، کیونکہ اگر تم ایسی حالت میں مر گئے کہ تم نے یہ پہنا ہوا تو پھر تمہیں اسی کے سپرد کر دیا جائے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6085]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6085، 6088، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7597، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3531، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19668، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20319» «رقم طبعة با وزير 6053»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الضعيفة» (1029)، «غاية المرام» (181/ 296).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات رجال الشيخين غير مبارك بن فضالة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. ذكر الزجر عن تعليق التمائم التي فيها الشرك بالله جل وعلا-
- ذکر منع کہ انسان ایسی تمائم لٹکائے جن میں اللہ جل وعلا کے ساتھ شرک ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6086
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ عُبَيْدٍ الْمَعَافِرِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَلا أَتَمَّ اللَّهُ لَهُ، وَمَنْ عَلَّقَ وَدَعَةً فَلا وَدَعَ اللَّهُ لَهُ" .
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص (زمانہ جاہلیت کے رواج کے مطابق) تعویذ لٹکائے تو اللہ تعالیٰ اس کے (مقصد کو) پورا نہ کرے اور جو شخص (زمانہ جاہلیت کے رواج کے مطابق) دھاگہ لٹکائے تو اللہ تعالیٰ اس کو پورا نہ کرے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6086]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6086، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7596، 8383، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19664، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17676، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1759، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 7172، والطبراني فى(الكبير) برقم: 820» «رقم طبعة با وزير 6054»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الضعيفة» (1266).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. ذكر الزجر عن الاسترقاء بلفظة مطلقة أضمرت كيفيتها فيها-
- ذکر منع کہ انسان ایسی رقیت کرے جس کی کیفیت ایک مجمل لفظ میں مضمر ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6087
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ اكْتَوَى أَوِ اسْتَرْقَى فَقَدْ بَرِئَ مِنَ التَّوَكُّلِ" .
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص (علاج کے طور پر) داغ لگواتا ہے یا (زمانہ جاہلیت کے دستور کے مطابق) جھاڑ پھونک کرتا ہے وہ توکل سے لاتعلق ہو جاتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6087]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6087، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8373، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7561، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2055، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3489، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19603، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18467» «رقم طبعة با وزير 6055»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (244).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. ذكر العلة التي من أجلها زجر عن هذا الفعل-
- ذکر وجہ جس کی بنا پر اس فعل سے منع کیا گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6088
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي عَضُدِهِ حَلَقَةٌ مِنْ صُفْرٍ، فَقَالَ: " مَا هَذِهِ؟" قَالَ: مِنَ الْوَاهِنَةِ؟ قَالَ: أَيَسُرُّكَ أَنْ تُوكَلَ إِلَيْهَا؟! انْبِذْهَا عَنْكَ" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے کلائی پر پیتل کا کڑا پہنا ہوا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: یہ کس وجہ سے ہے؟ انہوں نے عرض کی: کمزوری کی وجہ سے ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ تمہیں اس کے سپرد کر دیا جائے؟ تم اسے اتار دو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6088]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6085، 6088، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7597، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3531، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19668، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20319» «رقم طبعة با وزير 6056»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - انظر (6053). تنبيه!! رقم (6053) = (6085) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. ذكر الخبر الدال على صحة تلك العلة التي هي مضمرة في نفس الخطاب-
- ذکر خبر جو اس مضمر علّت کی صحت کی طرف اشارہ کرتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6089
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ أَبِي الصَّهْبَاءِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عُرِضَ عَلَيَّ اللَّيْلَةَ الأَنْبِيَاءُ، فَكَانَ الرَّجُلُ يَجِيءُ مَعَهُ الرَّجُلُ، وَيَجِيءُ مَعَهُ الرَّجُلانِ، وَيَجِيءُ مَعَهُ النَّفَرُ كَذَلِكَ حَتَّى رَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا، فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ أُمَّتِي، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلاءِ؟ فَقِيلَ: هَؤُلاءِ قَوْمُ مُوسَى، ثُمَّ رَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا قَدْ سَدَّ أُفُقَ السَّمَاءِ، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلاءِ؟ فَقِيلَ: هَؤُلاءِ مِنْ أُمَّتِكَ، فَفَرِحْتُ بِذَلِكَ، وَسُرِرْتُ بِهِ، ثُمَّ قِيلَ: إِنَّهُ يَدْخُلُ بَعْدَ هَؤُلاءِ مِنْ أُمَّتِكَ الْجَنَّةَ سَبْعُونَ أَلْفًا لا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلا عَذَابَ"، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْقَوْمُ: مَنْ هَؤُلاءِ؟ فَتَرَاجَعُوا، ثُمَّ أَجْمَعَ رَأْيُهُمْ أَنَّهُمْ مَنْ وُلِدَ فِي الإِسْلامِ وَثَبَتَ فِيهِ، وَلَمْ يُدْرِكْ شَيْئًا مِنَ الشِّرْكِ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ عَنْهُمْ، فَقَالَ:" الَّذِينَ لا يَكْتَوُونَ، وَلا يَسْتَرْقُونَ، وَلا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ" . قَالَ الشَّيْخُ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الْعِلَّةُ فِي الزَّجْرِ عَنِ الاكْتِوَاءِ، وَالاسْتِرْقَاءِ هِيَ أَنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا وَيَرَوْنَ الْبُرْءَ مِنْهُمَا مِنْ غَيْرِ صُنْعِ الْبَارِي جَلَّ وَعَلا فِيهِ، فَإِذَا كَانَتْ هَذِهِ الْعِلَّةُ مَوْجُودَةً، كَانَ الزَّجْرُ عَنْهُمَا قَائِمًا، وَإِذَا اسْتَعْمَلَهُمَا الْمَرْءُ وَجَعَلَهُمَا سَبَبَيْنِ لِلْبُرْءِ الَّذِي يَكُونُ مِنْ قَضَاءِ اللَّهِ دُونَ أَنْ يَرَى ذَلِكَ مِنْهُمَا كَانَ ذَلِكَ جَائِزًا.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گزشتہ رات میرے سامنے انبیاء کو پیش کیا گیا، تو کسی نبی کے ساتھ ایک شخص تھا، کسی نبی کے ساتھ دو شخص تھے، کسی نبی کے ساتھ کچھ لوگ تھے، یہاں تک کہ میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا، میں نے یہ گمان کیا کہ شاید یہ میری امت ہے۔ میں نے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں؟ تو بتایا گیا: یہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے افراد ہیں۔ پھر میں نے بہت زیادہ لوگوں کو دیکھا جنہوں نے آسمان کے افق کو بھر دیا تھا، میں نے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں؟ تو بتایا گیا: یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے۔ میں اس بات پر بہت خوش ہوا، مسرور ہوا۔ پھر بتایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ان لوگوں کے بعد ستر ہزار لوگ جنت میں داخل ہوں گے جن سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا اور انہیں کوئی عذاب نہیں ہو گا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر تشریف لے گئے۔ حاضرین نے سوچا: یہ کون لوگ ہوں گے؟ وہ آپس میں اس بارے میں بات چیت کرتے رہے، پھر ان سب نے اس بارے میں اتفاق کیا کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے اور ہمیشہ مسلمان رہے، جنہوں نے شرک کا زمانہ پایا ہی نہیں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان لوگوں کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہوں گے جو (علاج میں) داغ نہیں لگواتے ہوں گے، اور (زمانہ جاہلیت کے رواج کے مطابق) جھاڑ پھونک نہیں کرتے ہوں گے، اور فال نہیں نکالتے ہوں گے، اور اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہوں گے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) داغ لگوانے اور جھاڑ پھونک کرنے میں ممانعت کی علت یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ اس پر عمل کرتے تھے اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر وہ لوگ محض ان دو چیزوں سے ٹھیک ہو جاتے ہیں، تو جب یہ علت موجود ہو گی ان دونوں چیزوں سے ممانعت باقی رہی، لیکن جب کوئی شخص ان پر عمل کرے اور ان دونوں کو ایسا سبب قرار دے جو اللہ کے فیصلے کے مطابق آدمی کی تندرستی کے لیے سبب بنتا ہے اور وہ شخص یہ نہ سمجھے کہ محض ان دونوں کاموں کی وجہ سے (فائدہ ہوتا ہے) تو ایسا کرنا جائز ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6089]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 218، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6089، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20232» «رقم طبعة با وزير 6057»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الضعيفة» تحت الحديث (4613).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. ذكر التغليظ على من قال بالرقى والتمائم متكلا عليها-
- ذکر شدت کہ جو رقیت اور تمائم پر بھروسہ کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6090
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، قَالَ: دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ عَلَى امْرَأَةٍ وَفِي عُنُقِهَا شَيْءٌ مَعَقُودٌ، فَجَذَبَهُ فَقَطَعَهُ، ثُمَّ قَالَ: لَقَدْ أَصْبَحَ آلُ عَبْدِ اللَّهِ أَغْنِيَاءَ أَنْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ" ، قَالُوا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، هَذِهِ الرُّقَى وَالتَّمَائِمُ قَدْ عَرَفْنَاهَا، فَمَا التِّوَلَةُ؟ قَالَ: شَيْءٌ يَصْنَعُهُ النِّسَاءُ يَتَحَبَّبْنَ إِلَى أَزْوَاجِهِنَّ.
یزید بن جزار بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ایک خاتون کے پاس تشریف لے گئے جس نے اپنی گردن میں تعویذ باندھا ہوا تھا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے کھینچ کر کاٹ دیا، پھر انہوں نے فرمایا: عبداللہ کے گھر والے اس بات سے بے نیاز ہیں کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک قرار دیں جب تک اس بارے میں کوئی دلیل نازل نہیں ہوتی، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: بے شک جھاڑ پھونک، تعویذ اور تولہ شرک ہے۔ لوگوں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! جھاڑ پھونک اور تعویذ کا تو ہمیں علم ہے، لیکن یہ لفظ «تِّوَلَة» کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ وہ کام ہے جو خواتین کرتی ہیں تاکہ اپنے شوہروں کی محبت حاصل کر لیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6090]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6090، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7599، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3883، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3530، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19662، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3685» «رقم طبعة با وزير 6058»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره المرفوع فقط - «الصحيحة» (331 و 2972)، «غاية المرام» (299)، «تخريج الإيمان لابن سلام» (87/ 81).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات رجال الصحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6091
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى بِالْمَوْصِلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّقَى، وَلِي خَالٌ يَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ، فَلْيَفْعَلْ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھاڑ پھونک سے منع کیا ہے، میرے ماموں بچھو کے کاٹے کا دم کیا کرتے تھے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے جو شخص اپنے کسی بھائی کو کوئی بھی فائدہ پہنچا سکتا ہو اسے وہ کرنا چاہیے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6091]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2199، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 532، 6091، 6097، 6102، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8371، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7498، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3515، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14451» «رقم طبعة با وزير 6059»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (472): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. ذكر الخبر الدال على أن الرقى المنهي عنها إنما هي الرقى التي يخالطها الشرك بالله جل وعلا دون الرقى التي لا يشوبها شرك-
- ذکر خبر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ منع شدہ رقیت وہ ہیں جن میں اللہ جل وعلا کے ساتھ شرک ہو، نہ کہ وہ جو شرک سے پاک ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6092
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنِ الْجَرَّاحِ بْنِ الضَّحَّاكِ ، عَنْ كُرَيْبٍ الْكِنْدِيِّ ، قَالَ: أَخَذَ بِيَدِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، فَانْطَلَقْنَا إِلَى شَيْخٍ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ ابْنُ أَبِي حَثْمَةَ يُصَلِّي إِلَى أُسْطُوَانَةٍ، فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى عَلِيًّا انْصَرَفَ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ حَدِّثْنَا حَدِيثَ أُمُّكَ فِي الرُّقْيَةِ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا كَانَتْ تَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا جَاءَ الإِسْلامُ قَالَتْ: لا أَرْقِي حَتَّى أَسْتَأْذِنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَتْهُ فَاسْتَأْذَنَتْهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْقِي، مَا لَمْ يَكُنْ فِيهَا شِرْكٌ" .
کریب کندی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم لوگ قریش سے تعلق رکھنے والے ایک عمر رسیدہ صاحب کے پاس چلے گئے، ان کا نام ابن ابی حثمہ تھا، وہ ستون کی طرف منہ کر کے نماز ادا کر رہے تھے، ہم ان کے پاس بیٹھ گئے، جب انہوں نے امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو نماز ختم کر کے ان کے پاس آئے۔ امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ دم کرنے کے بارے میں اپنی والدہ کی نقل کردہ روایت ہمیں بیان کیجئے، تو انہوں نے بتایا کہ میری والدہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ وہ زمانہ جاہلیت میں دم کیا کرتی تھیں، جب اسلام آ گیا تو انہوں نے یہ کہا: میں اس وقت تک دم نہیں کروں گی جب تک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں اجازت نہیں لیتی، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم دم کرو جب کہ اس کے الفاظ میں شرک نہ ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6092]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6092، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6981، والطبراني فى(الكبير) برقم: 796» «رقم طبعة با وزير 6060»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «الصحيحة» (178).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح بطرقه وشواهده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. ذكر استعمال المصطفى صلى الله عليه وسلم الرقية التي أباح استعمال مثلها لأمته صلى الله عليه وسلم-
- ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی رقیت استعمال کی جس کی اجازت انہوں نے اپنی امت کو دی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6093
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بِفَمِ الصِّلْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " لَدَغَتْنِي عَقْرَبٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَقَانِي وَمَسَحَهَا" .
قیس بن طلق اپنے والد (رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک بچھو نے مجھے ڈنک مار دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دم کیا اور (اس جگہ پر) دست مبارک پھیرا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6093]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6093، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8375، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16556، 24456» «رقم طبعة با وزير 6061»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح الإسناد - «صحيح أبي داود» (176).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں