🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب اسْتِحْبَابِ الْوِتْرِ
باب: وتر کے مستحب ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1416
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ، أَوْتِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے قرآن والو! ۱؎ وتر پڑھا کرو اس لیے کہ اللہ وتر (طاق) ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1416]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے قرآن والو! وتر پڑھا کرو۔ بلاشبہ اللہ عزوجل وتر (اکیلا) ہے، وتر کو پسند کرتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1416]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 216، (453)، سنن النسائی/قیام اللیل 25 (1674)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 114 (1169)،(تحفة الأشراف:10135)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/86، 98، 100، 107، 110، 115، 120، 143، 144، 148)، سنن الدارمی/الصلاة 209 (1621) (صحیح)» ‏‏‏‏ (ابو اسحاق مختلط اور مدلس ہیں، اور عاصم میں قدرے کلام ہے، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: یہاں اہل قرآن سے مراد قرّاء و حفاظ کی جماعت ہے نہ کہ عام مسلمان، اس سے علماء نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ وتر واجب نہیں، اگر وتر واجب ہوتی تو یہ حکم عام ہوتا، اہل قرآن (یعنی قراء و حفاظ و علماء) کے ساتھ خاص نہ ہوتا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعرابی سے «ليس لك ولا لأصحابك» جو فرمایا وہ بھی اسی پر دلالت کرتا ہے، امام طیبی کے نزدیک وتر سے مراد تہجد ہے اسی لئے قراء سے خطاب فرمایا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (453) نسائي (1676) ابن ماجه (1169)
أبو إسحاق السبيعي مدلس وعنعن
وللحديث شواھد ضعيفة عند أحمد (1/ 107) وأبي نعيم (حلية الأولياء 313/7) وغيرهما
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 57

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1417
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ، عَنْ الْأَعْمَشِ،عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ، زَادَ: فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا تَقُولُ؟ فَقَالَ: لَيْسَ لَكَ، وَلَا لِأَصْحَابِكَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں اتنا مزید ہے: ایک اعرابی نے کہا: آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ تو عبداللہ بن مسعود نے کہا: یہ حکم تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے لیے نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1417]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی روایت کی ہے اور مزید یہ اضافہ کیا ہے کہ ایک دیہاتی بولا: آپ کیا کہتے ہیں؟ (سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: یہ حکم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کے لیے نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1417]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 114 (1170)، (تحفة الأشراف:9627) (صحیح)» ‏‏‏‏ (متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث بھی صحیح ہے ورنہ ابوعبیدہ کا اپنے والد ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1170)
أبو عبيدة عن أبيه منقطع كما
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 57

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1418
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، الْمَعْنَى قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَاشِدٍ الزَّوْفِيِّ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُرَّةَ الزَّوْفِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ، قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ الْعَدَوِيُّ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَمَدَّكُمْ بِصَلَاةٍ وَهِيَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ، وَهِيَ الْوِتْرُ، فَجَعَلَهَا لَكُمْ فِيمَا بَيْنَ الْعِشَاءِ إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ".
خارجہ بن حذافہ عدوی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اللہ نے ایک ایسی نماز کے ذریعے تمہاری مدد کی ہے جو سرخ اونٹوں سے بھی تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اور وہ وتر ہے، اس کا وقت اس نے تمہارے لیے عشاء سے طلوع فجر تک مقرر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1418]
خارجہ بن حذافہ عدوی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ایک (مزید اضافی) نماز سے تمہاری مدد فرمائی ہے اور یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بھی بڑھ کر ہے۔ یہ نماز وتر ہے اور اس کا وقت عشاء سے طلوع فجر کے درمیان مقرر فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1418]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 215، الوتر 1 (452)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 114 (1168)، (تحفة الأشراف:3450)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة 208 (1617) (صحیح)» ‏‏‏‏ (لیکن «هي خير لكم من حمر النعم» کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے، کیوں کہ اس ٹکڑے کے متابعات اور شواہد موجود نہیں ہیں، یعنی یہ حدیث خود ضعیف ہے، اس کے راوی عبد اللہ بن راشد مجہول ہیں لیکن متابعات اور شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (452) ابن ماجه (1168) انظر (ص581)
وقال ابن حبان : ’’ إسناد منقطع و متن باطل‘‘ (كتاب الثقات 45/5)
وروي أحمد (7/6) بسند صحيح عن رسول اللّٰه ﷺ قال : ((إن اللّٰه زادكم صلاة ھي الوتر فصلوھا بين العشاء إلي صلاة الفجر))
تعديلات:
عبد اللّٰه راشد الزوفي لا يعرف سماعه من عبد اللّٰه بن أبي مرة الزوفي فالسند منقطع
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 57

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. باب فِيمَنْ لَمْ يُوتِرْ
باب: جو شخص وتر نہ پڑھے وہ کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1419
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَتَكِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ،عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا، الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا، الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: وتر حق ہے ۱؎ جو اسے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں، وتر حق ہے، جو اسے نہ پڑھے ہم میں سے نہیں، وتر حق ہے، جو اسے نہ پڑھے ہم سے نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1419]
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، ان کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: وتر حق ہے، جو وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں، وتر حق ہے، جو وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں، وتر حق ہے، جو وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1419]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:1986)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/357) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی عبیداللہ العتکی ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث ضعیف ہے، اگر صحیح ہوتی تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ وتر کا پڑھنا ثابت ہے، اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس کی تخریج ابن المنذر نے ان الفاظ میں کی ہے «الوتر حق وليس بواجب» یعنی وتر ایک ثابت شدہ امر ہے لیکن واجب نہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
أبو المنيب حسن الحديث في غير ما أنكر عليه
انظر تحفة الأقوياء في تحقيق كتاب الضعفاء للبخاري (215) وھذا الحديث مما أنكر عليه
انظر ميزان الإعتدال (11/3)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 57

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1420
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي كِنَانَةَ يُدْعَى الْمَخْدَجِيّ سَمِعَ رَجُلًا بِالشَّامِ يُدْعَى أَبَا مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: إِنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ، قَالَ الْمَخْدَجِيُّ: فَرُحْتُ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ عُبَادَةُ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللَّهُ عَلَى الْعِبَادِ، فَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ".
ابن محیریز کہتے ہیں کہ بنو کنانہ کے ایک شخص نے جسے مخدجی کہا جاتا تھا، شام کے ایک شخص سے سنا جسے ابومحمد کہا جاتا تھا وہ کہہ رہا تھا: وتر واجب ہے، مخدجی نے کہا: میں یہ سن کر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے بیان کیا تو عبادہ نے کہا: ابو محمد نے غلط کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: پانچ نمازیں ہیں جو اللہ نے بندوں پر فرض کی ہیں، پس جس شخص نے ان کو اس طرح ادا کیا ہو گا کہ ان کو ہلکا سمجھ کر ان میں کچھ بھی کمی نہ کی ہو گی تو اس کے لیے اللہ کے پاس جنت میں داخل کرنے کا عہد ہو گا، اور جو شخص ان کو ادا نہ کرے گا تو اس کے لیے اللہ کے پاس کوئی عہد نہیں، اللہ چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو اسے جنت میں داخل کرے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1420]
ابن محیریز سے مروی ہے کہ بنو کنانہ کے ایک شخص مخدجی نامی نے شام میں ایک شخص کو سنا جسے ابو محمد کہا جاتا تھا، وہ کہتا تھا کہ وتر واجب ہے۔ مخدجی نے کہا کہ میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور انہیں ابو محمد کی بات بتائی۔ تو سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ابو محمد نے غلط کہا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: پانچ نمازیں ہیں جو اللہ نے بندوں پر فرض کی ہیں۔ جس نے انہیں ادا کیا اور ان کا حق ہلکا سمجھتے ہوئے ان میں سے کچھ ضائع نہ کیا تو ایسے شخص کے لیے اللہ کے ذمے یہ عہد ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔ اور جس نے ان کو ادا نہ کیا تو ایسے شخص کے لیے اللہ کے ہاں کوئی عہد نہیں، چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو جنت میں داخل کر دے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1420]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الصلاة 6 (462)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 194 (1401)، (تحفة الأشراف: 5122)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ صلاة اللیل 3 (14)، مسند احمد (5/315، 319، 322)، سنن الدارمی/الصلاة 208 (1618) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر کا ذکر نہیں کیا ہے، اگر یہ واجب ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے بھی ضرور بیان فرماتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (570)
أخرجه النسائي (462 وسنده حسن) وله شاھد انظر الحديث السابق (425)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب كَمِ الْوِتْرُ
باب: وتر میں کتنی رکعت ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1421
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ بِأُصْبُعَيْهِ هَكَذَا:" مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ دیہات کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تہجد کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ نے اپنی دونوں انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس طرح دو دو رکعتیں ہیں اور آخر رات میں وتر ایک رکعت ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1421]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس طرح دو دو رکعت، اور وتر ایک رکعت ہے رات کے آخر میں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1421]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 20 (749)، سنن النسائی/ قیام اللیل 32 (1692)، (تحفة الأشراف:7267)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/40، 58، 71، 76، 79، 81، 100) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: وتر کی رکعتوں کی تعداد کے سلسلہ میں متعدد روایتیں آئی ہیں جن میں ایک رکعت سے لے کر تیرہ رکعت تک کا ذکر ہے ان روایات کو صحیح مان کر انہیں اختلاف احوال پر محمول کرنا مناسب ہو گا، اور یہ واضح رہے کہ وتر کا مطلب دن بھر کی سنن و نوافل اور تہجد (اگر پڑھتا ہے تو) کو طاق بنا دینا ہے، اب چاہے اخیر میں ایک رکعت پڑھ کر طاق بنا دے یا تین یا پانچ، اور اسی طرح طاق رکعتیں ایک ساتھ پڑھ کر، اور یہ سب صورتیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں، نیز یہ بھی واضح رہے کہ وتر کا لفظ تہجد کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے، پانچ، سات، نو، یا تیرہ رکعت وتر کا یہی مطلب ہے، نہ کہ تہجد کے علاوہ مزید پانچ تا تیرہ وتر الگ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (749)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1422
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنِي قُرَيْشُ بْنُ حَيَّانَ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوِتْرُ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلَاثٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيَفْعَلْ".
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وتر ہر مسلمان پر حق ہے جو پانچ پڑھنا چاہے پانچ پڑھے، جو تین پڑھنا چاہے تین پڑھے اور جو ایک پڑھنا چاہے ایک پڑھے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1422]
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وتر نماز ہر مسلمان پر حق ہے، چنانچہ جو پانچ پڑھنا چاہے، (پانچ) پڑھ لے۔ اور جو تین پڑھنا چاہے، (تین) پڑھ لے۔ اور جو ایک پڑھنا چاہے، وہ ایک پڑھ لے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1422]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/قیام اللیل 34 (171)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 123 (1190)، (تحفة الأشراف:3480)، وقد أخرجہ: مسند احمد 5/418، سنن الدارمی/الصلاة 210(1626) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1265)
أخرجه النسائي (1712) والزھري صرح بالسماع عند ابن ماجه (1190 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. باب مَا يُقْرَأُ فِي الْوِتْرِ
باب: وتر میں کون سی سورۃ پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1423
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ. ح وحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَنَسٍ وَهَذَا لَفْظُهُ، عَنْ الْأَعْمَشِ،عَنْ طَلْحَةَ، وَزُبَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا و اللَّهُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ.
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «قل للذين كفروا» (یعنی «قل ياأيها الكافرون») اور «الله الواحد الصمد» (یعنی «قل هو الله أحد») پڑھا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1423]
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز وتر میں ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] ، ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] اور ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] پڑھا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1423]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/قیام اللیل 34 (1700، 1701، 1702)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 115 (1172)، (تحفة الأشراف:54)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/123) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ مستحب ہے اگر کوئی شخص ان رکعتوں میں مذکورہ سورتوں کے علاوہ دوسری سورتیں پڑھے تو کوئی حرج کی بات نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وللحديث شواھد عند الحاكم (1/ 305، 2/ 520) وغيره، قال معاذ علي زئي: أخرجه الطحاوي في معاني الآثار (1/ 292 ح 1737، وسنده حسن) من حديث زبيد بن الحارث اليامي به

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1424
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ: بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يُوتِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، قَالَ:" وَفِي الثَّالِثَةِ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ و الْمُعَوِّذَتَيْنِ".
عبدالعزیز بن جریج کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں کون سی سورتیں پڑھتے تھے؟ پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی، اور کہا تیسری رکعت میں آپ «قل هو الله أحد» اور معوذتین (یعنی «قل اعوذ برب الفلق» اور «قل اعوذ برب الناس») پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1424]
عبدالعزیز بن جریج کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتروں میں کیا پڑھا کرتے تھے؟ تو مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا اور کہا: تیسری رکعت میں ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] اور معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) پڑھا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1424]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 223 (الوتر 9) (463)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 115 (1173)، (تحفة الأشراف:16306)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/227) (صحیح)» ‏‏‏‏ (متابعات کی بنا پر یہ روایت بھی صحیح ہے ورنہ عبدالعزیز ابن جریج کی ملاقات عائشہ رضی اللہ عنہا سے ثابت نہیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (463) ابن ماجه (1173)
خصيف ضعيف،ضعفه الجمهور،وله شاهد حسن لذاته عند ابن حبان (2423) دون قوله: ’’والمعوذتين‘‘ انظر مشكوة المصابيح (1/ 420 ح 1269)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 57

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. باب الْقُنُوتِ فِي الْوِتْرِ
باب: نماز وتر میں قنوت پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1425
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ، قَالَ: قَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي الْوِتْرِ، قَالَ ابْنُ جَوَّاسٍ: فِي قُنُوتِ الْوِتْرِ،" اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ".
حسن بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چند کلمات سکھائے جنہیں میں وتر میں کہا کرتا ہوں (ابن جواس کی روایت میں ہے جنہیں میں وتر کے قنوت میں کہا کروں) وہ کلمات یہ ہیں: «اللهم اهدني فيمن هديت، وعافني فيمن عافيت، وتولني فيمن توليت، وبارك لي فيما أعطيت، وقني شر ما قضيت إنك تقضي ولا يقضى عليك، وإنه لا يذل من واليت، ولا يعز من عاديت، تباركت ربنا وتعاليت» ۱؎۔ اے اللہ! مجھے ہدایت دے ان لوگوں میں (داخل کر کے) جن کو تو نے ہدایت دی ہے اور مجھے عافیت دے ان لوگوں میں (داخل کر کے) جن کو تو نے عافیت دی ہے اور میری کارسازی فرما ان لوگوں میں (داخل کر کے) جن کی تو نے کارسازی کی ہے اور مجھے میرے لیے اس چیز میں برکت دے جو تو نے عطا کی ہے اور مجھے اس چیز کی برائی سے بچا جو تو نے مقدر کی ہے، تو فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ جسے تو دوست رکھے وہ ذلیل نہیں ہو سکتا اور جس سے تو دشمنی رکھے وہ عزت نہیں پا سکتا، اے ہمارے رب تو بابرکت اور بلند و بالا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1425]
ابواسحاق نے برید بن ابی مریم سے، انہوں نے ابوالحوراء سے روایت کی کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ کلمات تعلیم فرمائے جنہیں میں وتر میں کہا کروں۔ (استاد) ابن جواس کے لفظ ہیں میں انہیں وتر کے قنوت میں پڑھا کروں۔ اور وہ یہ ہیں: «اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ» اے اللہ! جن لوگوں کو تو نے ہدایت دی ہے مجھے بھی ان کے ساتھ ہدایت دے، اور جن کو تو نے عافیت دی ہے مجھے بھی ان کے ساتھ عافیت دے (یعنی ہر قسم کی برائیوں اور پریشانیوں وغیرہ سے) اور جن کا تو والی (دوست اور محافظ) بنا ہے ان کے ساتھ میرا بھی والی بن، اور جو نعمتیں تو نے عنایت فرمائی ہیں ان میں مجھے برکت دے، اور جو فیصلے تو نے فرمائے ہیں ان کے شر سے مجھے محفوظ رکھ، بلاشبہ فیصلے تو ہی کرتا ہے، تیرے مقابلے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوتا، اور جس کا تو والی اور محافظ ہو وہ کہیں ذلیل نہیں ہو سکتا، اور جس کا تو مخالف ہو وہ کبھی عزت نہیں پا سکتا، بڑی برکتوں (اور عظمتوں) والا ہے تو اے ہمارے رب! اور بہت بلند و بالا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1425]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 224 (الوتر 9) (464)، سنن النسائی/قیام اللیل 42 (1746)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 117 (1178)، (تحفة الأشراف:3404)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/199، 200)، سنن الدارمی/الصلاة 214 (1632) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: حافظ ابن حجر نے بلوغ المرام میں نسائی کے حوالہ سے «وصلى الله على النبي محمد» کا اضافہ کیا ہے مگر اس کی سند ضعیف ہے، علامہ عزالدین بن عبدالسلام نے فتاویٰ (۱/۶۶) میں لکھا ہے کہ قنوت وتر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (صلاۃ) بھیجنا ثابت نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں اپنی طرف سے کسی چیز کا اضافہ کرنا مناسب نہیں، علامہ البانی لکھتے ہیں کہ صحیح ابن خزیمہ (۱۰۹۷) میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی ماہ رمضان میں امامت والی حدیث میں ہے کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں قنوت وتر کے آخر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (صلاۃ) بھیجتے تھے نیز اسی طرح اسماعیل قاضی کی فضل صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم (۱۰۷) وغیرہ میں ابو سلمہ معاذ بن حارث انصاری سے عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں تراویح کی امامت میں قنوت وتر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (صلاۃ) بھیجنا ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (1273)
أبو إسحاق تابعه ابنه يونس عند أحمد (1/ 199 ح 1718، وسنده صحيح) ويونس برئ من التدليس، وصححه ابن خزيمة (1096 وسنده صحيح، 1095)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں