المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. سَيِّدُ الْأَيَّامِ يَوْمُ الْجُمُعَةِ وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ
دنوں کا سردار جمعہ کا دن ہے، اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔
حدیث نمبر: 1039
حدثنا أبو العباس محمدُ بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني ابن أبي الزِّناد، عن أبيه، عن موسى بن أبي عثمان، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسولُ الله ﷺ:"سيِّدُ الأيام يومُ الجُمُعة، فيه خُلِقَ آدم، وفيه أُدخِلَ الجنة، وفيه أُخرِجَ منها، ولا تقومُ الساعةُ إلّا يومَ الجمعة" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد استشهد بعبد الرحمن بن أبي الزِّناد ولم يُخرجا:"سيّد الأيام".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1026 - واستشهد مسلم بابن أبي الزناد
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد استشهد بعبد الرحمن بن أبي الزِّناد ولم يُخرجا:"سيّد الأيام".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1026 - واستشهد مسلم بابن أبي الزناد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام دنوں کا سردار جمعہ کا دن ہے، اسی میں آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے، اسی میں وہ جنت میں داخل کیے گئے، اسی میں وہاں سے نکالے گئے، اور قیامت بھی جمعہ ہی کے دن قائم ہوگی۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، انہوں نے عبدالرحمن بن ابی زناد سے استشہاد کیا ہے، لیکن شیخین نے ”سیّد الایام“ (دنوں کا سردار) کے الفاظ روایت نہیں کیے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1039]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، انہوں نے عبدالرحمن بن ابی زناد سے استشہاد کیا ہے، لیکن شیخین نے ”سیّد الایام“ (دنوں کا سردار) کے الفاظ روایت نہیں کیے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1039]
2. تُبْعَثُ الْأَيَّامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى هَيْئَاتِهَا وَالْجُمُعَةُ زَهْرَاءُ
قیامت کے دن دنوں کو ان کی ہیئتوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا، اور جمعہ روشن و تابناک ہوگا۔
حدیث نمبر: 1040
أخبرنا أبو النَّضر محمدُ بن محمد بن يوسف الفَقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارمي، حدثنا أبو تَوْبةَ الرَّبيع بن نافع الحَلَبي، حدثنا الهيثم بن حُمَيد، حدثني أبو مُعَيد حفص بن غَيلان، عن طاووس، عن أبي موسى الأشعري قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ الله يَبعثُ الأيام يومَ القيامة على هَيْئتها، ويبعث الجمعةَ زهراءَ مُنيرةً، أهلُها يَحُفُّون بها كالعَروس تُهدَى إلى كَريمِها، تُضيءُ لهم يمشون في ضَوئِها، ألوانهم كالثَّلج بياضًا، ورِيحُهم يَسطَع كالمِسك، يخوضون في جبال الكافور، يَنظُر إليهم الثَّقَلان لا يَطْرِفون تعجُّبًا حتى يدخلوا الجنة، لا يخالطُهم أحدٌ إلّا المؤذِّنون المحتسِبون" (1) .
هذا حديث شاذٌّ (2) صحيح الإسناد. فإنَّ أبا مُعَيد من ثقات الشاميين الذين يُجمَعُ حديثهم، والهيثم بن حُمَيد من أعيان أهل الشام غير أنَّ الشيخين لم يخرجا عنهما.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1027 - خبر شاذ صحيح السند
هذا حديث شاذٌّ (2) صحيح الإسناد. فإنَّ أبا مُعَيد من ثقات الشاميين الذين يُجمَعُ حديثهم، والهيثم بن حُمَيد من أعيان أهل الشام غير أنَّ الشيخين لم يخرجا عنهما.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1027 - خبر شاذ صحيح السند
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام دنوں کو ان کی اصل حالت میں اٹھائے گا اور جمعہ کے دن کو نہایت چمکدار اور روشن اٹھائے گا، جمعہ والے اسے اس طرح گھیرے ہوئے ہوں گے جیسے دلہن کو اس کے معزز شوہر کی طرف رخصت کیا جاتا ہے، وہ دن ان کے لیے روشنی کرے گا اور وہ اس کے نور میں چلیں گے، ان کے رنگ برف کی طرح سفید ہوں گے اور ان کی خوشبو مشک کی طرح مہک رہی ہوگی، وہ کافور کے پہاڑوں میں گھوم رہے ہوں گے، جن و انس انہیں حیرت سے پلک جھپکائے بغیر دیکھ رہے ہوں گے یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے، ان کے ساتھ صرف خالص نیت سے اذان دینے والے (مؤذن) ہی شامل ہوں گے۔“
یہ ایک شاذ لیکن صحیح الاسناد حدیث ہے، کیونکہ ابو معید شامیوں کے ان ثقہ راویوں میں سے ہیں جن کی حدیث جمع کی جاتی ہے، اور ہیثم بن حمید بھی اکابرینِ شام میں سے ہیں، مگر شیخین نے ان دونوں سے روایت نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1040]
یہ ایک شاذ لیکن صحیح الاسناد حدیث ہے، کیونکہ ابو معید شامیوں کے ان ثقہ راویوں میں سے ہیں جن کی حدیث جمع کی جاتی ہے، اور ہیثم بن حمید بھی اکابرینِ شام میں سے ہیں، مگر شیخین نے ان دونوں سے روایت نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1040]
3. فَضَائِلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ
جمعہ کے دن کی فضیلتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1041
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن موسى القاضي إملاءً، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا [أبو] (1) الرَّبيع الزَّهراني ويحيى بن المغيرة، قالا: حدثنا جَرِير بن عبد الحميد، عن منصور، عن أبي مَعْشَر، عن إبراهيم، عن علقمة، عن قَرْثَعٍ الضَّبِّي -وكان قرثعٌ من القرّاء الأولين- عن سلمان قال: قال لي رسولُ الله ﷺ:"يا سلمانُ، ما يومُ الجمعة؟" قلت: الله ورسوله أعلم، قال:"يا سلمانُ، يومُ الجمعة فيه جُمِع أبوك -أو أبوكم- وأنا أُحدِّثك عن يوم الجمعة: ما من رجلٍ يَتطهَّرُ يومَ الجمعة كما أُمِرَ، ثم يَخرُج من بيته حتى يأتيَ الجمعةَ فيقعدَ فيُنصِتَ حتى يَقضِيَ صلاته إلّا كان كفَّارةً لما قبلَه مِن الجمعة" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، واحتجَّ الشيخان بجميع رواته غير قرثع، سمعتُ أبا علي القارئ يقول: أردت أن أجمَع مسانيد قرثع الضَّبِّي، فإنه من زهّاد التابعين، فلم يُسنِد تمامَ العشرة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1028 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، واحتجَّ الشيخان بجميع رواته غير قرثع، سمعتُ أبا علي القارئ يقول: أردت أن أجمَع مسانيد قرثع الضَّبِّي، فإنه من زهّاد التابعين، فلم يُسنِد تمامَ العشرة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1028 - صحيح
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے سلمان! کیا تمہیں معلوم ہے کہ جمعہ کا دن کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے سلمان! جمعہ وہ دن ہے جس میں تمہارے باپ (آدم علیہ السلام) کو پیدا کیا گیا -یا انہیں جمع کیا گیا- اور میں تمہیں جمعہ کے دن کی فضیلت بتاتا ہوں: جو شخص جمعہ کے دن اس طرح طہارت حاصل کرتا ہے جیسا کہ اسے حکم دیا گیا ہے، پھر اپنے گھر سے نکل کر جمعہ کی نماز کے لیے آتا ہے اور خاموشی سے بیٹھ کر غور سے (خطبہ) سنتا ہے یہاں تک کہ اپنی نماز پوری کر لے، تو یہ عمل اس کے لیے پچھلے جمعہ سے لے کر اب تک کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، شیخین نے قرثع کے علاوہ اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، میں نے ابوعلی القاری کو کہتے سنا کہ میں نے قرثع الضبی کی تمام مسانید جمع کرنے کا ارادہ کیا کیونکہ وہ زاہد تابعین میں سے ہیں، لیکن ان کی مرویات کی کل تعداد دس تک بھی نہیں پہنچی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1041]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، شیخین نے قرثع کے علاوہ اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، میں نے ابوعلی القاری کو کہتے سنا کہ میں نے قرثع الضبی کی تمام مسانید جمع کرنے کا ارادہ کیا کیونکہ وہ زاہد تابعین میں سے ہیں، لیکن ان کی مرویات کی کل تعداد دس تک بھی نہیں پہنچی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1041]
4. الْأَمْرُ بِكَثْرَةِ الصَّلَاةِ فِي الْجُمُعَةِ
جمعہ کے دن کثرت سے درود پڑھنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 1042
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو جعفر أحمد بن عبد الحميد الحارثي، حدثنا الحسين بن علي الجُعْفي، حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، عن أبي الأشْعَث الصَّنعاني، عن أوس بن أوس الثَّقَفي قال: قال لي رسولُ الله ﷺ:"إنَّ من أفضلِ أيامِكم يومَ الجُمُعة، فيه خُلِق آدمُ، وفيه قُبِض، وفيه النَّفخةُ، وفيه الصَّعْقة، فأكثِروا عليَّ من الصلاة فيه، فإنَّ صلاتكم معروضةٌ عليَّ" قالوا: وكيف تُعرَض صلاتُنا عليك وقد أَرَمْتَ؟ فقال:"إنَّ الله ﷿ قد حرَّم على الأرض أن تأكلَ أجسادَ الأنبياءِ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1029 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1029 - على شرط البخاري
سیدنا اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تمہارے بہترین دنوں میں سے ایک جمعہ کا دن ہے، اسی میں آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے، اسی میں ان کی روح قبض کی گئی، اسی میں صور پھونکا جائے گا اور اسی میں سخت آواز (صعقہ) ہوگی، لہٰذا اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو کیونکہ تمہارا درود میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارا درود آپ کے سامنے کیسے پیش کیا جائے گا جبکہ آپ (کی ہڈیاں) بوسیدہ ہو چکی ہوں گی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ عزوجل نے زمین پر انبیاء کے جسموں کو کھانا حرام کر دیا ہے۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1042]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1042]
حدیث نمبر: 1043
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الرَّبيع بن سليمان، أخبرنا الشافعي، أخبرنا مالك. وحدثنا أبو بكر أحمد بن سَلْمان الفقيه، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى البِرْتي وإسماعيل بن إسحاق القاضي، قالا: حدثنا القَعْنَبي، عن مالك. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن، عن مالك، عن يزيد بن عبد الله بن الهاد، عن محمد بن إبراهيم التَّيمي، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"خيرُ يومٍ طَلَعَتْ فيه الشمس يومُ الجمعة، فيه خُلقَ آدم، وفيه أُهبِط، وفيه تِيبَ عليه، وفيه مات، وفيه تقوم الساعةُ، وما من دابةٍ إلّا وهي مُصِيخةٌ يومَ الجمعة مِن حينِ تُصبِحُ حتى تَطلُعَ الشمسُ، شَفَقًا من الساعة إلّا الجنَّ والإنسَ، وفيها ساعةٌ لا يُصادِفُها عبدٌ مسلمٌ وهو يُصلِّي يسأل اللهَ شيئًا، إلّا أعطاه إياه". قال كعب: ذلك في كلِّ سنةٍ يومٌ، فقلت: بل في كلِّ جمعة، قال: فقرأ كعبٌ التوراةَ، فقال: صدق رسولُ الله ﷺ. قال أبو هريرة: ثم لقيتُ عبدَ الله بن سَلَام فحدَّثتُه بمجلسي مع كعب، فقال عبد الله بن سَلَام: قد علمتُ أيَّةَ ساعة هي، قال أبو هريرة: فقلت له: فأخبِرْني بها؟ فقال عبدُ الله بنُ سَلَام: هي آخر ساعةٍ في يوم الجمعة، فقلت: كيف هي آخرُ ساعة في يومِ الجمعة وقد قال رسول الله ﷺ:"لا يُصادِفُها عبدٌ مسلم وهو يصلِّي"، وتلك الساعة لا يُصلَّى فيها؟ فقال عبد الله بن سَلَام: ألم يقل رسول الله ﷺ:"مَن جَلَس مجلسًا ينتظرُ الصلاةَ، فهو في صلاةٍ حتى يُصلِّيَ"؟! (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، إنما اتفقا على أحرفٍ من أوله في حديث الأعرج عن أبي هريرة:"خيرُ يومٍ طلعت فيه الشمسُ يوم الجمعة" (1) . وقد تابع محمدُ بنُ إسحاق يزيدَ بنَ الهاد على روايته عن محمد بن إبراهيم التَّيمي بالزيادات فيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1030 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، إنما اتفقا على أحرفٍ من أوله في حديث الأعرج عن أبي هريرة:"خيرُ يومٍ طلعت فيه الشمسُ يوم الجمعة" (1) . وقد تابع محمدُ بنُ إسحاق يزيدَ بنَ الهاد على روايته عن محمد بن إبراهيم التَّيمي بالزيادات فيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1030 - على شرطهما
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوا وہ جمعہ کا دن ہے، اسی میں آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے، اسی میں وہ (زمین پر) اتارے گئے، اسی میں ان کی توبہ قبول ہوئی، اسی میں ان کی وفات ہوئی، اور اسی دن قیامت قائم ہوگی، اور ہر جانور جمعہ کے دن صبح سے لے کر سورج طلوع ہونے تک قیامت کے خوف سے کان لگائے (ڈر رہا) ہوتا ہے سوائے جن اور انسان کے، اور اس دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو مسلمان بندہ اسے پا لے اور وہ نماز پڑھتے ہوئے اللہ سے کسی چیز کا سوال کر رہا ہو تو اللہ اسے وہ ضرور عطا فرماتا ہے۔“ کعب احبار نے کہا: یہ سال میں کسی ایک دن ہوتا ہے، تو میں نے کہا: نہیں بلکہ یہ ہر جمعہ میں ہوتا ہے، پھر کعب نے تورات پڑھی تو کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں عبداللہ بن سلام سے ملا اور انہیں کعب کے ساتھ اپنی گفتگو کے بارے میں بتایا تو عبداللہ بن سلام نے کہا: مجھے معلوم ہے کہ وہ کون سی گھڑی ہے، ابوہریرہ کہتے ہیں: میں نے ان سے کہا: مجھے وہ گھڑی بتا دیں؟ تو عبداللہ بن سلام نے کہا: وہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہے، میں نے کہا: وہ آخری گھڑی کیسے ہو سکتی ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”وہ اسے اس حال میں پائے کہ وہ نماز پڑھ رہا ہو“، اور اس وقت تو نماز نہیں پڑھی جاتی؟ تو عبداللہ بن سلام نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: ”جو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا رہے وہ نماز ہی میں ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ نماز پڑھ لے“؟!
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، ان دونوں نے صرف اس کے ابتدائی کلمات پر اتفاق کیا ہے جو الاعرج کی روایت میں ابوہریرہ سے مروی ہیں کہ ”بہترین دن جس میں سورج طلوع ہوا وہ جمعہ ہے“، اور محمد بن اسحاق نے یزید بن الہاد کی متابعت کی ہے جس میں مزید تفصیلات بھی مذکور ہیں: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1043]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، ان دونوں نے صرف اس کے ابتدائی کلمات پر اتفاق کیا ہے جو الاعرج کی روایت میں ابوہریرہ سے مروی ہیں کہ ”بہترین دن جس میں سورج طلوع ہوا وہ جمعہ ہے“، اور محمد بن اسحاق نے یزید بن الہاد کی متابعت کی ہے جس میں مزید تفصیلات بھی مذکور ہیں: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1043]
5. سَاعَةُ الْإِجَابَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی کا بیان۔
حدیث نمبر: 1044
أخبرَناه أبو جعفرٍ محمد بن عليٍّ الشَّيبانيّ بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفَاريّ، حدثنا يعلى بن عُبيد، حدثنا محمد بن إسحاق، عن محمد بنِ إبراهيم بن الحارث التَّيميّ، عن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن، عن أبي هُريرة قال: جئتُ الطُّورَ فلقيتُ هناك كعبَ الأحبار، فحدّثتُه عن رسول الله ﷺ، وحدَّث عن التوراة، فما اختَلَفا حتى مررتُ بيوم الجمعة، قال: قلت: قال رسول الله ﷺ:"في كلِّ يومِ جمعةٍ ساعةٌ لا يوافقُها مؤمنٌ وهو يصلِّي، يسألُ الله شيئًا إلا أعطاه إياه"، فقال كعب: تلك في كلِّ سنة، فقلت: ما كذلك قال رسول الله ﷺ، فرجع فتَلَا، ثم قال: صَدَقَ رسولُ الله ﷺ، في كلِّ جمعة. قال أبو هريرة: ثم لقيتُ عبدَ الله بن سَلَامٍ فحدثتُه بمجلسي مع كعب. فذكر الحديث بنحوٍ من حديث مالك (2) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں کوہِ طور گیا تو وہاں کعب الاحبار سے ملا، میں نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سنائیں اور انہوں نے مجھے تورات کی باتیں سنائیں، ان میں کوئی اختلاف نہیں تھا یہاں تک کہ جب میں نے جمعہ کے دن کا ذکر کیا تو میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر جمعہ کے دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ کوئی مومن بندہ اسے نماز کی حالت میں پائے اور اللہ سے کسی چیز کا سوال کرے تو اللہ اسے وہ ضرور عطا کرتا ہے“، کعب نے کہا: وہ سال بھر میں صرف ایک بار ہوتی ہے، میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں فرمایا، پھر انہوں نے (تورات) کی تلاوت کی تو کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا، وہ ہر جمعہ میں ہوتی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں عبداللہ بن سلام سے ملا اور انہیں کعب کے ساتھ اپنی مجلس کا حال بتایا، پھر راوی نے امام مالک کی حدیث کی طرح پوری روایت ذکر کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1044]
حدیث نمبر: 1045
أخبرنا أبو النَّضْر محمد بن محمد الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارمي، حدثنا أحمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، أخبرني عَمرو بن الحارث، أنَّ الجُلَاح أبا كثير، أخبره، أنَّ أبا سلمة بن عبد الرحمن حدَّثه عن جابر بن عبد الله، عن رسول الله ﷺ أنه قال:"يومُ الجمعة ثِنتا عَشْرة -يريد ساعةً- ولا يوجدُ عبدٌ مسلمٌ يسألُ اللهَ شيئًا إلّا آتاه الله، فالتَمِسُوها آخرَ الساعةِ بعد العصر" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ بالجُلاح أبي كثير، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1032 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ بالجُلاح أبي كثير، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1032 - على شرط مسلم
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے دن بارہ گھنٹے ہوتے ہیں، ان میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ کوئی مسلمان بندہ ایسا نہیں جو اس وقت اللہ سے کسی چیز کا سوال کرے اور اللہ اسے وہ عطا نہ فرمائے، پس تم اسے عصر کے بعد دن کی آخری گھڑی میں تلاش کرو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، انہوں نے جلاح ابوکثیر سے احتجاج کیا ہے، تاہم شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1045]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، انہوں نے جلاح ابوکثیر سے احتجاج کیا ہے، تاہم شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1045]
حدیث نمبر: 1046
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبيد الله (2) بن أبي داود المُنادي، حدثنا يونس بن محمد المؤدِّب، حدثنا فُلَيح بن سليمان، عن سعيد بن الحارث، عن أبي سَلَمة قال: قلت: والله لو جئتُ أبا سعيدٍ الخدري فسألتُه عن هذه الساعة، لعلَّه أن يكون عنده منها عِلْم، فأتيتُه فقلت: يا أبا سعيد، إنَّ أبا هريرة حدَّثَنا عن الساعة التي في الجمعة، فهل عندك منها عِلْم؟ فقال: سألنا النبيَّ ﷺ عنها، فقال:"إنِّي كنتُ أعلمُها، ثم أُنسِيتُها كما أُنسيتُ ليلةَ القَدْرِ"، ثم خرجتُ من عنده فدخلت على عبدِ الله بن سَلَام، ثم ذكر الحديث (3) . وهذا شاهد صحيح على شرط الشيخين الحديث يزيد بن الهاد ومحمد بن إسحاق، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1033 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1033 - صحيح
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے جی میں) کہا: اللہ کی قسم! اگر میں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤں اور ان سے اس گھڑی کے بارے میں سوال کروں تو شاید ان کے پاس اس کا کچھ علم ہو، چنانچہ میں ان کے پاس آیا اور کہا: اے ابوسعید! ابوہریرہ نے ہمیں جمعہ کی اس گھڑی کے بارے میں بتایا ہے، کیا آپ کے پاس اس کا کوئی علم ہے؟ انہوں نے کہا: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے وہ گھڑی بتائی گئی تھی پھر مجھے وہ بھلا دی گئی جس طرح مجھے شبِ قدر بھلا دی گئی“، پھر میں ان کے پاس سے نکلا اور عبداللہ بن سلام کے پاس گیا، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
یہ یزید بن الہاد اور محمد بن اسحاق کی حدیث کا صحیح شاہد ہے جو شیخین کی شرط پر ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1046]
یہ یزید بن الہاد اور محمد بن اسحاق کی حدیث کا صحیح شاہد ہے جو شیخین کی شرط پر ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1046]
6. التَّشْدِيدُ فِي تَرْكِ الْجُمُعَةِ
جمعہ کی نماز چھوڑنے پر سخت وعید۔
حدیث نمبر: 1047
حدَّثَناه أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن محمد بن عَمرو، قال: حدثني عَبيدة بن سفيان الحَضرَميّ، عن أبي الجَعْد الضَّمْري -وكانت له صحبة- أنَّ رسول الله ﷺ قال:"من تَرَك ثلاثَ جُمَعٍ تَهاوُنًا بها، طَبَعَ اللهُ على قلبه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1034 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1034 - على شرط مسلم
ابوالجعد ضمری رضی اللہ عنہ -جنہیں صحبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حاصل تھی- سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سستی اور لاپرواہی کی وجہ سے تین جمعے چھوڑ دیے، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1047]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1047]
حدیث نمبر: 1048
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المَحْبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا همّام بن يحيى، حدثنا قتادة، عن قُدامة بن وَبَرةَ الجُعْفي، عن سَمُرة بن جُندُب، عن النبي ﷺ قال:"مَن تَركَ الجمعة من غير عُذرٍ، فليتصدَّق بدينار، فإن لم يَجِدْ فبنصفِ دينار" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرَّج لخلافٍ فيه لسعيد بن بَشير وأيوب بن العلاء فإنهما قالا: عن قتادة عن قُدامةَ بن وَبَرَة عن رسول الله ﷺ مرسلًا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1035 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرَّج لخلافٍ فيه لسعيد بن بَشير وأيوب بن العلاء فإنهما قالا: عن قتادة عن قُدامةَ بن وَبَرَة عن رسول الله ﷺ مرسلًا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1035 - صحيح
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بغیر کسی عذر کے جمعہ چھوڑ دیا تو اسے چاہیے کہ وہ ایک دینار صدقہ کرے، اور اگر اس کی گنجائش نہ ہو تو نصف دینار صدقہ کرے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن سعید بن بشیر اور ایوب بن العلاء کے اختلاف کی وجہ سے اسے (شیخین نے) روایت نہیں کیا، کیونکہ ان دونوں نے قتادہ عن قدامہ بن وبرہ کی سند سے اسے مرسل روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1048]
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن سعید بن بشیر اور ایوب بن العلاء کے اختلاف کی وجہ سے اسے (شیخین نے) روایت نہیں کیا، کیونکہ ان دونوں نے قتادہ عن قدامہ بن وبرہ کی سند سے اسے مرسل روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1048]