🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. كِتَابُ الْوِتْرِ
وتر کی نماز کے بیان کی کتاب۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1130
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب إملاءً، حدثنا محمد بن سِنَان القَزَّاز، حدثنا عبد الله بن حُمْرانَ (1) ، حدثنا عبد الحميد بن جعفر بن عبد الله بن الحَكَم، حدثني أبي جعفرُ بن عبد الله، عن عبد الرحمن بن أبي عَمْرة النَّجّاري، أنه سأل عُبادةَ بن الصامت عن الوتر، فقال: أمرٌ حسنٌ جميلٌ، عَمِلَ به النبيُّ ﷺ والمسلمون من بعده، وليس بواجب (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شواهد، فمنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1117 - على شرطهما
عبدالرحمن بن ابی عمرہ نجاری سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے وتر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: یہ ایک نہایت عمدہ اور خوبصورت عمل ہے جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے بعد مسلمانوں نے عمل کیا ہے، مگر یہ واجب نہیں ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کے شواہد بھی موجود ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الوتر/حدیث: 1130]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1131
ما أخبرناه ميمون بن إسحاق الهاشميُّ ببغداد، حدثنا أحمد بن عبد الجبّار، حدثنا أبو بكر بن عياش. وحدثنا أبو محمد بن عبد الله المزنيُّ، حدثنا محمد بن عبد الله الحضرميُّ، حدثنا أحمد بن يونس والعلاءُ بن عمرو الحنفيّ ومحمد بن يزيد الرِّفاعيّ وعبد الله بن سعيدٍ الكِنْدي، قالوا: حدثنا أبو بكر بن عياش، حدثنا أبو إسحاق، عن عاصم بن ضَمْرةَ، قال: قال عليٌّ: إِنَّ الوِتْر ليس بحَتْم كصلاتكم المكتوبة، ولكنَّ رسول الله ﷺ أوتَرَ ثم قال:"يا أهلَ القرآن أوتِروا، فإنَّ الله وِترٌ يحبُّ الوترَ" (1) . ومن الشواهد لهذا الحديث:
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: بے شک وتر (کی نماز) تمہاری فرض نمازوں کی طرح لازم نہیں ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھے اور پھر فرمایا: اے قرآن والو! وتر پڑھا کرو، کیونکہ اللہ وتر (ایک) ہے اور وہ وتر کو پسند فرماتا ہے۔
اس حدیث کے کئی شواہد موجود ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الوتر/حدیث: 1131]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1132
ما حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أحمد بن يونس الضَّبِّي، حدثنا أبو بَدْر شُجاع بن الوليد، حدثنا يحيى بن أبي حَيَّة، عن عِكرمة، عن ابن عباس، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"ثلاثٌ هنَّ عليَّ فرائضُ ولكم تطوُّع: النَّحْر، والوِتر، وركعتا الفجر" (2) . قال الحاكم: الأصل في
هذا حديثُ (1) الإيمان وسؤال الأعرابيِّ النبيَّ ﷺ عن الصلوات الخمس: هل علي غيرُها؟ قال:"لا، إلّا أن تطوَّع" (2) . وحديث سعيد بن يسار عن ابن عمر في الوتر على الراحلة (3) ، وقد اتفق الشيخان على إخراجهما في"الصحيح".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1119 - ما تكلم الحاكم عليه وهو غريب منكر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں مجھ پر فرض ہیں اور تمہارے لیے نفل (رضاکارانہ) ہیں: قربانی، وتر اور فجر کی دو (سنت) رکعتیں۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس باب میں اصل بنیاد ایمان والی وہ حدیث ہے جس میں ایک اعرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پانچ نمازوں کے بارے میں پوچھا تھا کہ: کیا ان کے علاوہ بھی مجھ پر کچھ واجب ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، الا یہ کہ تم اپنی خوشی سے نفل پڑھو، اور سیدنا سعید بن یسار کی ابن عمر سے مروی وہ حدیث بھی (اصل ہے) جس میں سواری پر وتر پڑھنے کا ذکر ہے، اور شیخین نے ان دونوں کو اپنی صحیح میں روایت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الوتر/حدیث: 1132]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1133
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا يحيى بن إسحاق السَّيْلَحِيني، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن ثابت، عن عبد الله بن رباح، عن أبي قتادة: أنَّ النبي ﷺ قال لأبي بكر:"متى تُوتِر؟" قال: أُوتِرُ قبل أن أنام، وقال لعمر:"متى تُوتِر؟"، قال: أنام ثم أُوتِرُ، فقال لأبي بكر:"أخذتَ بالحَزْم - أو بالوَثِيقة -"، وقال لعمر:"أخذتَ بالقُوّة" (4) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1120 - على شرط مسلم
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم وتر کب پڑھتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: میں سونے سے پہلے وتر پڑھ لیتا ہوں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم وتر کب پڑھتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: میں سو جاتا ہوں پھر (بیدار ہو کر) وتر پڑھتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم نے احتیاط -یا پختگی- کو اختیار کیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم نے قوت (عزیمت) کو اختیار کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا ایک صحیح سند کے ساتھ شاہد بھی موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الوتر/حدیث: 1133]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1134
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ حدثنا الحسين بن محمد بن زياد. وحدثنا عليُّ بن عيسى، حدثنا الحسين بن إدريس الأنصاري؛ قالا: حدثنا محمد بن عبَّاد المكي (1) ، حدثنا يحيى بن سُلَيم، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر: أنَّ النبي ﷺ قال لأبي بكر:"متى تُوتِرُ؟"، قال: أُوتِر ثم أنام، قال:"بالحَزْم أخذتَ"، وسأل عمرَ قال:"متى تُوتِرُ؟" قال: أنام ثم أقوم من الليل فأُوتر، قال:"فِعْلَ القويِّ فعلتَ" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1121 - صحيح
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم وتر کب پڑھتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: میں وتر پڑھ کر سوتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے پختہ ارادے کو اختیار کیا، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم وتر کب پڑھتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: میں سو جاتا ہوں پھر رات کو اٹھ کر وتر پڑھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ایک قوی (مضبوط) شخص کا سا فعل کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الوتر/حدیث: 1134]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1135
أخبرنا حمزة بن العباس العَقَبيُّ ببغداد، حدثنا العباس بن محمد الدُّوريّ، حدثنا أبو عامر العَقَديّ، حدثنا علي بن المبارك، عن يحيى بن أبي كَثير، قال: حدثني أبو نَضْرة، أنَّ أبا سعيدٍ الخُدْري أخبرهم: أنهم سألوا النبيَّ ﷺ عن الوِتر، فقال:"أَوتِرُوا قبل الصُّبح" (3) . تابعه معمر بن راشد عن يحيى بن أبي كثير:
ابونضرہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح (ہونے) سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔
اس کی متابعت معمر بن راشد نے یحییٰ بن ابی کثیر سے کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الوتر/حدیث: 1135]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1136
أخبرَناه أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الأعلى، حدثنا مَعمَر، عن يحيى بن أبي كَثير، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري، أنَّ النبي ﷺ قال:"أَوتِروا قبلَ أن تُصبِحوا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه. وله شاهد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1123 - على شرط مسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے پہلے کہ صبح ہو جائے، وتر پڑھ لیا کرو۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا ایک صحیح شاہد بھی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الوتر/حدیث: 1136]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1137
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذ، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا هارون بن معروف، حدثنا ابن أبي زائدة، حدثني عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال: قال رسول الله ﷺ:"بادِرُوا الصُّبحَ بالوِتر" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1124 - صحيح
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح (ہونے) سے پہلے وتر پڑھنے میں جلدی کرو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الوتر/حدیث: 1137]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1138
أخبرني عَبْدان بن يزيد الدَّقّاق بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين الكِسَائي، حدثنا أبو سَلَمة موسى بن إسماعيل، حدثنا هشام بن أبي عبد الله، عن قتادة، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"مَن أدرَكَ الصُّبحَ ولم يُوتِرْ، فلا وِترَ له" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ بإسناد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1125 - على شرط مسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے صبح (فجر) پالی اور وتر نہیں پڑھے تھے، تو اس کے لیے (اس وقت) کوئی وتر نہیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا ایک صحیح سند کے ساتھ شاہد موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الوتر/حدیث: 1138]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1139
أخبرَنيه أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا محمد بن الفَرَج الأزرق، حدثنا حجاج بن محمد قال: قال ابن جريج: حدثني سليمان بن موسى، حدثنا نافع: أنَّ ابن عمر كان يقول: من صلَّى الليل فليجعل آخرَ صلاته وِترًا، فإنَّ رسول الله ﷺ أمَرَ بذلك، فإذا كان الفجرُ فقد ذهب كلُّ صلاة الليلِ والوترُ، فإنَّ رسول الله ﷺ قال:"أَوتِرُوا قبلَ الفَجْر" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1126 - صحيح
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: جو شخص رات کو نماز پڑھے اسے چاہیے کہ وہ اپنی آخری نماز وتر کو بنائے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا حکم دیا ہے، پس جب فجر طلوع ہو جائے تو رات کی تمام نمازوں اور وتر کا وقت ختم ہو گیا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: فجر سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الوتر/حدیث: 1139]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں